Common frontend top

محمد عامر رانا


انتہا پسندی کے خلاف حکومتی عزم


انتہا پسندی کے خلاف جنگ کوئی آسان کام نہیں لیکن ریاستی عزم کی کمی اس کو مزید پیچیدہ اور چیلنجنگ بنا دیتی ہے۔ انتہاپسندی کے خلاف کھڑے رہنے کے عزم کو آئین پاکستان سماجی اور نظریاتی اساس سے تقویت حاصل ہونی چاہیے۔ محض بیانیہ اور لفاظی یا پھر وزیر اعظم عمران کا یہ کہنا کہ حکومتی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی کے اعلان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اس کے لیے ریاست کو سماجی ڈھانچہ پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ حکومت کی طرف سے انتہا پسندی کے مقابلہ کے لیے
اتوار 04 نومبر 2018ء مزید پڑھیے

سی پیک کی سٹریٹجک حدود

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
محمد عامر رانا
پی ٹی آئی کی حکومت کو سمجھ نہیں آ رہی کہ سی پیک کو کس طرح ڈیل کیا جائے۔ ابھی تک یہی سمجھنے کی کوشش ہو رہی ہے کہ سی پیک کی سٹریٹجک ، جغرافیائی اور معاشی اہمیت کو کس طرح جامع پالیسی کے بیانیہ میں تبدیل کیا جائے۔ دوسری طرف سی پیک کے خطہ میں سیاسی اور جغرافیائی اثرات اور سٹریٹجک اہمیت کے بارے میں اس قدر ابہام پیدا کر دیا گیا ہے کہ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ یہ حکومتی بے یقینی کا ہی نتیجہ ہے کہ
مزید پڑھیے


چالو بیانیوں پر قائم حکومتیں

اتوار 14 اکتوبر 2018ء
محمد عامر رانا
حکومتیں مقبول اپنے اقدامات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ لیکن وہ سیاسی قوتیں جو چالو بیانیوں یا عمومی رائے عامہ کو برانگیختہ کر کے اقتدار میں آتی ہیں ان کے لیے اپنے ہی بچھائے ہوئے جال سے نکلنا مشکل ہوتا ہے اور ان میں ایسے اقدامات لینے کی ہمت نہیں ہوتی جو دورس اثرات کے حامل ہوں اور جنہیں زیادہ دیر تک یا د رکھا جا سکے یہ چیلنج دنیا بھر میں ان تمام حکومتوں کو درپیش ہے جو چالو بیانیوں اور بلند و بانگ دعوے کر کے اقتدار میں آئی ہیں۔ ان تمام حکمران جماعتوں میں یہ خصوصیت مشترک
مزید پڑھیے


سماجی ہم آہنگی کے ثمرات

پیر 08 اکتوبر 2018ء
محمد عامر رانا
سماجی اقدار کسی بھی معاشرہ کی سیاسی پختگی کو جانچنے کا اہم ذریعہ ہوا کرتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سماجی رجحان اور چیلنجز کے ادراک کے لیے سماجی انڈیکیٹرز کو تحقیق کے آلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ عالمی کوآپریٹو سیکٹراور سرمایہ کاری ان رجحانات پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سماجی مساوات اور ہم آہنگی بشمول مذہبی اور فرقہ وارانہ اور نسلی ہم آہنگی کسی بھی سوسائٹی معاشرہ اور ملک میں سیاسی استحکام داخلی سکیورٹی اور معاشی ترقی کے بارے میں پیش گوئی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ البتہ
مزید پڑھیے


پاکستان میں مدارس کی بحث

پیر 01 اکتوبر 2018ء
محمد عامر رانا
پاکستان میں مدارس کی بحث میں عمومی طور پر مذہبی اور سکیورٹی معاملات کا ہی ذکر آتا ہے ہمارے پالیسی ساز یہاں تک کہ ماہرین تعلیم مباحثوںمیں مدارس کے تعلیمی پہلوئوں پر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی مدارس پاکستان کی آبادی کی 15فیصد تعلیمی ضرورت پوری کرنے کے باوجود بھی ملک کے تعلیمی نظام میں کوئی خاص مقام نہیں بنا پائے۔ البتہ عظمت عباس نے اپنی کتاب madrassah Mirage-a contemporary history of Islamic Schools in Pakistan میں اس موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے انہوں نے اپنی کتاب میں مدارس کے بارے میںبات
مزید پڑھیے



پاک افغان مذہبی سفارتکاری

پیر 24  ستمبر 2018ء
محمد عامر رانا
آئندہ چند ہفتوں میں افغانستان سے اسلامی سکالرز کا ایک وفد پاکستان آنے کی توقع ہے۔ یہ وفد دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کے اقدامات کی حمائت کے لیے دورہ کر رہا ہے۔ وفد ابتدائی طور پر اپنی توجہ پاکستان کے دینی مدارس پر مرکوز رکھے گا تاہم دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات میں جو اعتبار کھو چکے ہیں اسے بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ رواں برس کے وسط میں دونوں ملک افغانستان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سولیڈیرٹی کی تشکیل پر رضا مند ہوئے تھے۔ تاہم مذہبی سفارت کاری‘ جو اس معاملے میں انوکھی بات نہیں
مزید پڑھیے


خوابوں کی سوداگری

پیر 17  ستمبر 2018ء
محمد عامر رانا
عمران خان نے خوابوں کی سوداگری کی ہے۔ پاکستان کے نئے متوسط طبقے نے اپنی تمام سیاسی، سماجی، معاشی اور حتیٰ کہ روحانی توقعات عمران خان سے وابستہ کی ہیں۔ عران خان کیلئے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ جن خوابوں کی بنیاد پر اس نے سیاسی سرمایہ اکٹھا کیا ہے، انہیں کس طرح پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ پاکستان کا نیا متوسط طبقہ چاہتا کیا ہے؟ اس کی تفصیل میں جانے سے پیشتر یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نئے طبقے کی ساخت کیا ہے جس کے سیاسی تحرک نے پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ایک نئی کروٹ دی ہے۔ پاکستان
مزید پڑھیے


سب کا پاکستان ایک خواب

اتوار 09  ستمبر 2018ء
محمد عامر رانا
گوجرہ ہنگاموں‘ جن میں عیسائی برادری کو ٹارگٹ کیا گیا تھا‘ کے بعد کچھ مسلمان دانشوروں نے اس معاملہ پر قابو پانے کے لیے آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ فیصل آباد واقعہ نے ملک کا بین الاقوامی سطح پر تاثر بری طرح متاثر کیا تھا۔2009ء تو ایسا سال تھا جس میں اقلیتوں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے۔ ماہرین اس بات پر گہرائی سے غور و فکر کر رہے تھے کہ ایک ایسا ملک جس کے پاس مذہبی قومی نسلی تعصبات سے بالاتر ہو کر شہریوں کو باہم شیر و شکر کرنے والا آئین ہو
مزید پڑھیے


ایک ہی کتاب میں گم

پیر 03  ستمبر 2018ء
محمد عامر رانا
تاریخ میں ایسا کم ہی ہوا ہے کہ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت ایک ہی کتاب میں گم ہو گئی ہو۔ گزشتہ حکومتیں عسکری قیادت کے ساتھ ایک صفحے پر آنے کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں اور بہت کم ایسا ہوا کہ ایک صفحے پر آنے کے بعد دونوں اطراف نے اکٹھے ایک صفحہ بھی پلٹا ہو۔ یہ عمران خان کی کرشماتی شخصیات ہے یا پھر عسکری قیادت کا ان پر اعتماد کہ جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آٹھ گھنٹے طویل بریفنگ ہوئی اور اگلے ہی روز نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کی سمت متعین ہو گئی۔ عسکری قیادت کی
مزید پڑھیے


دہشت گردی کا خطرہ بدستور موجود ہے!

پیر 27  اگست 2018ء
محمد عامر رانا
باوجود اس کے کہ 2018ء میں بھی دہشت گردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے پھر بھی گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے البتہ دہشت گردی کے واقعات میں کمی سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ حال ہی میں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کا آڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے پیروکاروں کو جنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ کم ضرور ہوا ہے مکمل
مزید پڑھیے








اہم خبریں