Common frontend top

مریم ارشد


یادوں میں بسی خوشبو کا سفر


خوشبو بھی کتنی عجیب اور دل کش چیز ہے۔ ہواؤں اور فضاؤں میں اْڑتی ہوئی ایک دوسرے تک پہنچ جاتی ہے۔ آپ اداس بیٹھے ہوں یا مغموم ہوں قریب سے کوئی خوشبو سے بھرا ہوا جھونکا گزرے تو طبیعت سرشار ہو جاتی ہے۔ خوشبوؤں کے ساتھ بہت سے جذبات جڑے ہوتے ہیں۔ خوشبو کے آنچل سے یادوں کی ایک بارات نکلتی ہے۔ خوشبو وہ مسافر ہے جو محبت کی راہ پر پیدل چلتی ہے۔ خوشبو کے مختلف رنگ ہوتے ہیں مگر اس کا دل ایک ہی الگ ہوتا ہے۔ خوشبو تو بند دروازوں میں سے بھی داخل ہو جاتی ہے۔
هفته 24 فروری 2024ء مزید پڑھیے

ایک قابلِ تقلید آہنی ماں!

جمعه 16 فروری 2024ء
مریم ارشد
ایک ماں ہے جو تقریباً 75برس کی ہے۔ زندگی کے مختلف اتار چڑھاؤ اس نے دیکھے۔ سیدھی سادی اللہ کے رستے پر چلنے والی عورت ہے۔ میک اپ اور بناوٹ سے مبّرا ایک خالص ماں۔ بالکل ویسے جیسے ہم سب کی مائیں ہوتی ہیں۔ جی ہاں! آپ سمجھ تو گئے ہوں گے میں شہر سیالکوٹ کی اس ماں کا ذکر کر رہی ہوں جو محترمہ ریحانہ امتیاز ڈار کے نام سے اب ایک انقلابی عورت کی پہچان بن چکی ہیں۔ یہ وہ ماں ہے جنہیں ناکردہ گناہوں کی سزا دی گئی۔ مبینہ طور پر ان کی بہوؤں بیٹیوں کے سروں
مزید پڑھیے


حکومت تو امانت ہے!

پیر 12 فروری 2024ء
مریم ارشد
جمہوریت کا سفر اپنے آزاد پنکھوں پر ہوتا ہے۔ جب پرندوں کو پنجروں میں رکھا جاتا ہے تو لا شعوری طور پر وہ پنجرے دراصل دلوں میں بن جاتے ہیں۔ پنجروں کی دیواروں سے سر ٹکرا ٹکرا کر لہو رسنے لگتا ہے۔ جب قید انتہاؤں پر پہنچ جائے تو پھر ٹوٹے ہوئے کمزور پَر پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ جب قیدی پرندوں کی ڈاریں نکلتی ہیں تو فضاؤں میں رنگ اور آزادی بکھرنے لگتی ہے۔ کچھ ایسا ہی ماحول اس دفعہ آٹھ فروری کے انتخابات میں دکھائی دیا۔ جمہوریت کا مطلب شہریوں سے ہے۔ کسی بھی ملک کے ہر شہری کا
مزید پڑھیے


بوتل کا جن

هفته 03 فروری 2024ء
مریم ارشد
کہتے ہیں فن کار کسی بھی ملک کا سفیر اور پیام بَر ہوتا ہے۔ فن کار خواہ شاعر ہو، ادیب ہو، لکھاری ہو، چِتر کار ہو، گلو کار ہو، موسیقار ہو یا گیت کار ہو وہ بادِ نسیم کی طرح فضاؤں میں اپنے فن سے معطر خوشبوئیں بکھیرتا ہے۔ فن کار ایک سماج میں بستا ہے۔ وہاں کی مٹی میں نہ صرف امن کے بیج بَوتا ہے بلکہ اس کو پانی بھی دیتا ہے تاکہ بہار کے موسم میں محبت کے بْوٹوں پر پیار کی کلیاں کھلیں۔ مگر پتہ نہیں وطنِ عزیز میں کیسا جورو ستم کا موسم چل رہا
مزید پڑھیے


اْداسی، ٹھنڈ اور جبر سے بھرے دن!

هفته 27 جنوری 2024ء
مریم ارشد
پچھلے دو دن سے دل کچھ مغموم، اداس اور بے سمت سا ہے۔ بے نام سی اداسی سے طبیعت بوجھل ہو رہی ہے۔ کسی کام میں دل نہیں لگ رہا۔ مختلف اوقات میں بہت سی کتابیں بھی پڑھنا شروع کیں۔ مگر ذہن میں بے ہنگم سے خیالات آتے چلے گئے۔ دل موسم کی دْھند، ٹھنڈ اور اداسی میں ڈوبا ہوا ہے مگر وہ دل ہی کیا جو آسانی سے مان جائے۔ لہذا ہم نے دل کی باگیں کسیں۔ کچھ سختی کے چھانٹے مارے اور لکھنے کے لیے کاغذ قلم سنبھال لیا۔ سب سے پہلے چند کتابیں ذہن میں آئیں جیسے
مزید پڑھیے



انتخابات کی جانب دیکھتے ہوئے عوام!

جمعه 19 جنوری 2024ء
مریم ارشد
کیمبرج کی لْغت یعنی ڈکشنری کے مطابق لیول پلیئنگ فیلڈ ایسی صورتِ حال کو کہتے ہیں جس کے اندر سب کو برابر فائدے اور نقصانات مہیا کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسا موقع جو سب کھلاڑیوں کو کھیل میں حصّہ لینے اور جیتنے کے لیے یکساں مہیا ہو۔ مگر ہمارے وطنِ عزیز میں یوں لگتا ہے جیسے یہ سب باتیں فرضی ہیں یا ایک واہمہ۔۔۔! ایک مشہور محاورہ ہے: ’’یہ گھوڑا اور یہ گھوڑے کا میدان‘‘ یعنی جیسے ہی گھوڑا میدان میں اترے گا تو پتہ چل جائے گا کہ گھوڑے میں کتنا دم ہے؟ لیکن اگر دوسرے کے مقابلے پر
مزید پڑھیے


میں ہوں جہاں گرد!

جمعرات 11 جنوری 2024ء
مریم ارشد
’’روایت شکن ہی روایت ساز ہوتا ہے۔‘‘ یہ پہلا جملہ تھا فرخ سہیل گوئندی صاحب کا اپنی کتاب ’’میں ہوں جہاں گرد‘‘ کی تقریب رونمائی پر جو ہمارے تو دل میں اتر گیا۔ تقریب مکمل ہونے کے بعد ہم نے چائے پینے کے دوران انہیں کہا کہ آپ کا یہ جْملہ تو میں چْرا چکی ہوں۔ فرخ صاحب زور سے ہنسنے لگے۔ شاہی قلعہ میں مکاتب خانہ میں فروری 2021 کی ایک ڈھلتی ہوئی شام کو جب مدھم ہوتی ہوئی دھوپ دیواروں پر بیٹھی مسکرا رہی تھی، وہاں اس کتاب کی رونمائی تھی۔یہ نادر، انوکھی اور شاندار کتاب اپنے
مزید پڑھیے


قائد اعظم ؒ کی سیاسی و نجی زندگی(2)

هفته 06 جنوری 2024ء
مریم ارشد
رتی اور جناح صاحب منزل پر پہنچ گئے تب بھی حالات بہتر نہیں ہوئے۔ رتی کو انہوں نے اپنے وقتی گھر میں ٹھہرایا اور خود جلد ہی اپنی مصروفیات میں مصروف ہو گئے۔ ادھر رتی (مریم) یہ محسوس کرتی تھیں کہ ایک قیدِ تنہائی سے نکل کر وہ دوسری قید میں منتقل ہو گئی ہیں۔ ان کی اکلوتی بیٹی دینا کی پیدائش 14 اگست کی آدھی رات کو ہوئی۔ جناح صاحب نے نومولود کے لیے بہترین نرسوں کا بندوبست کر کے زچہ و بچہ کو ان کے حوالے کیا اور اپنے معاملات کی جانب بڑھ گئے۔ قائدِ اعظمیقیناََاپنے دور کے
مزید پڑھیے


قائد اعظم ؒکی نجی و سیاسی زندگی

اتوار 31 دسمبر 2023ء
مریم ارشد
سروجنی نائیڈو جو شاعرہ بھی تھیں اور سماجی کارکن بھی نے ،رتی کو ’’بمبئی کا گلاب‘‘ یعنی Rose of Bombay قرار دیا تھا۔ رتی ایک کروڑ پتی سر ڈنشا پٹیٹ اور لیڈی دینا بائی کی پہلوٹھی کی اولاد اور اکلوتی بیٹی تھیں۔ ڈنشا پٹیٹ اتنے امیر تھے کہ ہر سال گرمیوں میں فرانس اور انگلستان جایا کرتے تھے۔ رتی کو اپنی ماں کی طرف سے منفرد اور شاہانہ ذوقِ زندگی ملا تھا۔ رتی کو کتب بینی، بہترین ملبوسات اور پالتو جانوروں سے محبت تھی۔ وہ کسی بھی انسان یا جانور کو اذیت میں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔ چودہ سال
مزید پڑھیے


ہم آواز الفاظ اور سیاسی نعرے

جمعرات 21 دسمبر 2023ء
مریم ارشد
آج ذہن میں چند الفاظ جو ہم آواز بھی ہیں اچانک سے آکر کسی کونے میں بیٹھ گئے۔ قارئین! آپ بھی پڑھیے اور لطف اٹھائیے! کہ اگر ان الفاظ کو جوڑا جائے تو موجودہ ملکی حالات کی بہترین عکاسی ہو گی۔ کیئر ٹیکر۔ چیئر میکر۔ الیکشن۔ سلیکشن۔ ووٹ۔ نوٹ۔ عوامی۔ غلامی۔ رسائی۔ رہائی۔ کھیل۔ جیل۔ ڈیل۔ ڈھیل۔ آزادی۔ بربادی۔ انسانیت۔ جمہوریت۔ سیاست۔ عداوت۔ ریاست۔ سیاست۔ رفقائ۔ وزرائ۔ مذاکرات۔ مقبوضات۔ عمل۔نمل۔میثاق۔ اتفاق۔ سوگوار۔ ناگوار۔ بازی۔ ماضی۔ ڈور۔ شور۔ سزا۔ جزا۔فرمان۔ ارمان۔ تقدیر۔ تدبیر۔ فرضی۔ عرضی۔ انتظار۔ بہار۔ امیدوار۔ اعتبار۔ اقتدار۔ ادھیکار۔ خاکسار۔ مردار۔ کاروبار۔ ہدایت کار۔ باربار۔ بیمار۔ سرکار۔ تلوار۔ اوقات۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں