BN

مستنصر حسین تارڑ



’’گناہ ٹیکس ‘اور حقّہ بھی پیتے تھے نال نال‘‘


جب سے حکومت وقت نے ’’سِن ٹیکس‘‘ یعنی ’’گناہ ٹیکس‘‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لوگ باگ گھبرائے گھبرائے پھرتے ہیں۔ ایک سراسیمگی سی پھیل گئی ہے۔ ایک صاحب پارک میں ذرا پوشیدہ سے ہو کر میرے پاس آ کر کہتے ہیں’’تارڑ صاحب پہلے مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے مرغیوں اور کٹّوں وغیرہ کی شامت آئی تھی اب خان صاحب کو کیا سوجھی کہ گناہ ٹیکس عائد کرنے لگے ہیں۔ خود تو موج میلہ کر کے تائب ہو گئے ہیں اور دوسروں نے تو نہ موج کی اور نہ میلہ۔ بس ملا جلا پھسپھسا سا پروگرام ہی رہا
جمعه 14 دسمبر 2018ء

’’عارف نقوی۔ شمیم حنفی اور آخری‘ حسین ‘‘

اتوار 02 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
چنانچہ میرے ناول’’اے غزالِ شب‘‘ جس کا انگریزی میں ترجمہ ’’لینن فار سیل‘‘ کے نام سے ہو چکا ہے اس کا مرکزی کردار عارف نقوی ہے جسے میں بہت مدت پہلے برلن میں ملا تھا اور میرا خیال تھا کہ وہ بھی اب تک مر چکا ہو گا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ گیارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوران ایک خوش شکل گورا چٹا بوڑھا ہاتھ پھیلائے میری جانب چلا آ رہا ہے اور کہتا ہے’’تارڑ صاحب‘‘ میں عارف نقوی ہوں۔ میں یقین نہ کر سکا۔ جس شخص کی شخصیت اور حیات کو بنیاد بنا کر آپ اپنے ایک اہم ناول
مزید پڑھیے


’’چاندی کے آبی پرندے‘ فہمیدہ ریاض اور اردو کانفرنس‘‘

بدھ 28 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
میری بیوی نے آئی پیڈ سے آنکھیں اٹھا کر کہا’’فہمیدہ ریاض مر گئی ہے‘‘ اگر میں یہ کہوں کہ میں ایک گہرے صدمے میں چلا گیا اور فہمیدہ کے ساتھ اس کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے جتنی چاہت جتنا احترام تھا‘ ان سب کی تصویری البم کھولتا ہوں تو تمام تصویریں سیاہ ہو گئی ہیں۔ فنا کے رنگ میں معدوم ہو چکی ہیں تو شاید یہ درست نہ ہو کہ مجھے یکدم یقین نہ آیا۔ تو میں نے مونا سے کہا ’’لیکن… وہ ابھی کیسے مر سکتی ہے‘‘ تو وہ کہنے لگی’’جیسے انتظار حسین‘ عبداللہ حسین اور یوسفی
مزید پڑھیے


’’شاہدرہ کے جہانگیری خواجہ سرا اور کاشغر کے کھسرے‘‘

جمعه 23 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ کالم میں ایسی دو ’’خواتین‘‘ کا تذکرہ ہوا تھا جو ایک محفل کے اختتام پر مجھ سے شکایت کرنے آئی تھیں کہ آپ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں صرف خواتین و حضرات کو مخاطب کیا۔ ہمیں بھول گئے کہ ہم بھی تو تیسری جنس کی صورت پڑے ہیں راہوں میں۔ ان میں ایک گلستان ایم بی اے تھیں اور دوسری صائمہ کسی سکول میں ٹیچر تھیں تو اس حوالے سے میں نے عرض کیا تھا کہ روایت کے مطابق روضہ رسولؐ کی کنجی صرف ایک خاص قبیلے کے پاس نسل در نسل
مزید پڑھیے


خواجہ سرا بہنوں اور بھائیوں کے لیے

بدھ 21 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ان دنوں جب مجھے کسی سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنے ارشادات عالیہ سے عوام الناس کو مستفید کرنا ہوتا ہے تو گفتگو کا آغاز کرنے سے پیشتر میں قدرے جھجک جاتا ہوں۔ پہلے تو ایک روانی میں خواتین و حضرات السلام علیکم کہہ کر تقریر دل پذیر کا آغاز کردیتا تھا لیکن اب ایک نہایت گمبھیر صورت حال درپیش ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کسی ادبی میلے میں حسب عادت خواتین و حضرات سے بسم اللہ کر کے گفتگو شروع کردی۔ تقریب اختتام کو پہنچی تو معزز ’’خواتین‘‘ چلی آئیں، وہ چلی تو آئیں لیکن ان کے چلنے میں ایک
مزید پڑھیے




’’اندھی ڈولفن فورس کے قصے‘‘

اتوار 18 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
گزشتہ کالم میں میں نے قومی بچت کے لیے نہائت سوچ بچار کے بعد‘ جذبہ حب الوطنی سے مغلوب ہو کر موجودہ حکومت کی سادگی اور کفائت شعاری کی مہم سے مرعوب ہو کر نہائت گراں قدر مشورہ جات کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا اور ایسے اداروں کی جانب توجہ مبذول کروائی تھی جنہیں بینڈ باجا بجا کر رخصت کر دینے سے لاکھوں کروڑوں کانہیں اربوں کا زرمبادلہ ہمارے قومی خزانے کو چار چاند لگا دے گا۔ پہلا چاند جو میں نے چڑھایا تھا وہ رویت ہلال کمیٹی کا تھا اگرچہ اس ملک میں سوائے ان علماء کرام کے
مزید پڑھیے


’’میں رویت ہلال کمیٹی کا چاند، تو میری چاندنی‘‘

بدھ 14 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
میں بہ قائمی ہوش و حواس یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں ایک عدد محب الوطن پاکستانی ہوں اگرچہ میرے پاس حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔ نہ ہی میں فخر سے اعلان کرسکتا ہوں کہ میں نے ملک و قوم کی بے حد خدمت کی ہے اور میری کوئی قدر نہیں کی گئی اور میری شرافت کا کوئی مول نہیں پڑا۔ اگرچہ میں سفیررہا، وزیر رہا، شاعر رہا، ادیب رہا تو ایک محب الوطن کے طور پر میرے پاس کچھ نادر مشورے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم اس ملک کو معاشی بحران سے باہر لاسکتے
مزید پڑھیے


’’مجھے ننگے پائوں چلنے والے‘ رونے والے اچھے لگتے ہیں‘‘

اتوار 11 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا بھینسیں فروخت کرنے سے ملک میں ڈیم بن سکتے ہیں؟ نہیں بن سکتے‘ لیکن بھینسیں نہ فروخت کرنے سے بھی تو ڈیم نہیں بن سکے‘ تو پھر کیا پتہ بھینسیں فروخت کرنے سے ہی ڈیم بن جائیں۔ ان بھینسوں کی فروخت پر بہت واویلا کیا گیا تھا کہ ہائے ہائے ہمارے صاحب ان کا دودھ تھوڑا پیتے تھے۔ وہ تو ان کے سامنے بیٹھ کر بین بجایا کرتے تھے۔ ویسے ان دنوں جو ایک سادگی اور کفائت شعاری اختیار کی جا رہی ہے یعنی وزیر اعظم ہائوس کے اخراجات کم کئے جا رہے ہیں یہاں تک کہ وہاں
مزید پڑھیے


’’ہائے میری بھنڈیاں اور وہ جو دکان اپنی بڑھا گئے‘‘

بدھ 07 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
خواتین و حضرات! میرے ساتھ کچھ ہمدردی کے بول بولئے کہ میرے ساتھ ایک ہاتھ ہو گیا ہے۔ یوں کہیے بہت زیادتی ہو گئی ہے۔ پچھلے دنوں جو کھلی بغاوتیں ہوئیں۔ شورش پسندوں نے پورے پاکستان میں ناکے لگا کر ناک میں دم کر دیا۔ شاہراہیں بند‘ سکول بند اور عوام الناس گھروں میں بند۔ پٹرول کی نایابی اور دھندے والے حضرات کی کامیابی ۔ یہاں تک کہ سبزیاں کمیاب۔ دنگا کرنے والے اتنے کامیاب اگر معاملہ یہیں تک رہتا تو شاید برداشت جواب نہ دیتی لیکن آہنی راڈوں سے مسلح جانثاروں نے بسیں نذر آتش کر دیں۔ بچوں اور
مزید پڑھیے


’’اس گھر کو آگ لگ رہی ہے گھر کے چراغ سے‘‘

اتوار 04 نومبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
پچھلے دو تین روز سے میں سہم گیا ہوں۔ جیسے میں ایک کبوتر ہوں اور ایک سیاہ بلی غراتی ہوئی میری جانب بڑھ رہی ہے اور میں سہم گیا ہوں۔ میرے اندر نامعلوم کے ایک خوف نے جڑیں پکڑلی ہیں۔ میری سرزمین کا خون پی جانے والی سیاہ چمگادڑیں میرے بدن میں پھڑپھڑاتی پھرتی ہیں۔ مجھے کچھ جلنے کی بو آ رہی ہے‘ جیسے گوشت جل رہا ہو اس کی ناگوار بو سارے میں پھیل جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو سونگھتا ہوں کہ کہیں یہ میرا اپنا ماس تو نہیں جو جل رہا ہے۔ کہیں گھر کے چراغ
مزید پڑھیے