BN

مستنصر حسین تارڑ



’’ہراموش اور نانگا پربت کے جنگل روتے ہیں‘‘


یہ جولائی 1975ء کا قصہ ہے جب سوئٹزر لینڈ کے دارالحکومت برن میں مجھے اطلاع ملی کہ میرا خالہ زاد بھائی والدین کی اکلوتی اولاد کیپٹن پائلٹ ساجد نذیر کوئٹہ میں اپنے جہاز کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے۔ ساجد میرے بہت ہی قریب تھا اور عمر میں بڑا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ میری گہری دوستی بھی تھی۔ حادثے میں وہ بری طرح جھلس گیا تھا اور اسے ایک خصوصی ٹینٹ میں رکھا گیا تھا۔ اس نے اس دنیا سے منہ موڑنے سے پہلے اپنی نرس کو کہا تھا کہ میرے بھائی جان ان دنوں یورپ میں
اتوار 13 اکتوبر 2019ء

’’تنہائی کے سو رُوپ ہیں‘‘

بدھ 09 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
تنہائی کے سو روپ ہیں۔ اس کا ایک روپ ایسا ہے جس میں انسان خود ایک اداسی گھولتا ہے اور اس کیفیت کو اپنے اوپر طاری کر کے ایک لطف سے آشنا ہوتا ہے جیسے آج تنہائی کسی ہمدمِ دیرینہ کی طرح کرنے آئی ہے میری ساقی گری شام ڈھلے…چنانچہ تنہائی کا یہ رُوپ کسی حد تک رومانوی ہوتا ہے۔ اس میں مجبوری کا عمل دخل نہیں ہوتا، ایک تنہائی رُوح کی ہوتی ہے اور یہ سانس کی عطا کے ساتھ آپ کے نصیب میں لکھ دی جاتی ہے۔ اس پر اختیار نہیں ہوتا، یہ ودیعت کردہ ہوتی ہے اور
مزید پڑھیے


’’کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی‘‘

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
اس کے وجود سے لا علم رہتے ہیں اور اس ٹیلی ویژن سکرین کو گھورتے رہتے ہیں جس میں بارش ہو رہی ہے اور کرکٹ کا کھیل رک چکا ہے۔ یہ تقریباً باسٹھ برس پیشتر کی بھولی ہوئی داستان ہے جب میں گورنمنٹ کالج لاہور کی جانب سے رتی گلی کی چوٹی سر کرنے کے لیے جو ٹیم منتخب ہوئی اس کا سب سے کم عمر ممبر تھا۔ یہ دراصل پاکستان بھر میں کوہ پیمائی کے لیے ترتیب دی جانے والی پہلی مہم تھی۔ واپسی پر ہم سب کو کالج کے پرنسپل نے ’’مائونٹینئرنگ کلر‘‘ عطا کرنے کا اعلان
مزید پڑھیے


’’کرکٹ کی ڈائن بقیہ کھیلوں کو کھا گئی‘‘

بدھ 02 اکتوبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سلمان نے نہایت اشتیاق سے اخبار کے پہلے صفحہ کی سرخیوں پر نظر دوڑائی اور ویٹر کو کہنے لگا اوئے پرانا اخبار لے آتے ہو! ویٹر نے قسم کھا کرکہا کہ صاحب آج کا اخبار ہے۔ سلمان نے بہ نظر غائر اخبار کی پیشانی پر درج تاریخ پڑھی۔ واقعی آج کا اخبار ہی تھا۔ ہماری غیر حاضری میں ملکی صورت حال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ تمام خبریں خاص طور پر سیاسی اور سماجی بالکل وہی تھیں جو ہم دو ہفتے پیشتر پڑھ کر گئے تھے۔ اسی لئے سلمان کو گمان ہوا تھا کہ اخبار آج کا نہیں
مزید پڑھیے


’’شمال کے شیدائی‘ سودائی‘‘

اتوار 29  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کم از کم میں تو اس حقیقت سے انکار کر کے کافر نہیں ہونا چاہتا کہ پاکستانی شمال ایک سحر انگیز خطہ ہے جس کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ یہ بندے کو سودائی کر دیتاہے۔ شیدائی کر دیتا ہے۔ جونہی موسم گرما کا آغاز ہوتا ہے۔ فیئری میڈو کی برفوں میں سے سٹرابیری کا پہلا پھول نمودار ہوکر بہار کی نوید دیتا ہے۔ کرومبر جھیل پر چلتے ہوئے یاکوں کے قافلے محسوس کرتے ہیں کہ ان کے سموں تلے جو منجمد برف تھی اس کے پگھلنے کے دن آ گئے ہیں۔ پھنڈر جھیل کے پانیوں میں ٹرائوٹ مچھلیاں
مزید پڑھیے




’’عذرا کی واپسی‘‘

هفته 28  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
گئے زمانوں میں دو قسم کی ’’واپسیاں‘‘ بہت مشہور ہوا کرتی تھیں بلکہ المشہور ہوا کرتی تھیں۔ ایک ٹارزن کی واپسی اور دوسری عذرا کی واپسی۔ لون رینجر کے علاوہ ٹارزن ہی پسندیدہ ہیرو ہوا کرتا تھا اور ہم اس کی فلمیں اکثر چوری چھپے دیکھا کرتے تھے۔ ٹارزن کا کردار ادا کرنے والے اداکار اور اس کی گرل فرینڈ جین کا کردار نبھانے والی خواتین بدلتی رہتی تھیں۔ اولین ٹارزن جانی وزملر نام کا ایک اداکار تھا جو ذاتی زندگی میں ایک سوئمنگ چمپئن ہوا کرتا تھا۔ ٹارزن کی ہر نئی فلم کا نام تو کچھ اورہوتا تھا یعنی’’ٹارزن
مزید پڑھیے


’’ٹیرر ٹکیلا اور چچن اِتزا کا عظیم اہرام‘‘

اتوار 22  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرے تصور میں اک تصویر تھی کہ بہت گھنے جنگل دکھائی دیں گے اور ان کی ہر بادل میں سے سر بلند ہوتا مایا تہذیب کا عظیم اہرام چچن اتزا دور سے نظر آنے لگے گا پر ایسا نہ ہوا۔ حسب معمول ہم ایک ایسی پارکنگ لاٹ میں داخل ہو گئے جہاں درجنوں کوچیں اپنے اپنے مسافر اگل کر استراحت فرما رہی تھیں۔مقامی مصنوعات کی ایک جدید مارکیٹ اور ریستورانوں سے پرے ایک ناہموار راستہ تھا جس کے دونوں جانب سوونیئرز کے کھوکھے سجے تھے اور قریب سے گزرتے سیاحوں کو ورغلایا جا رہا تھا۔ یہ مایا بازار ختم
مزید پڑھیے


’’ٹیرر ٹکیلا اور چچن اِتزا کا عظیم اہرام‘‘

بدھ 18  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مایا تہذیب کے زمانوں کے زمین کی گہرائی میں پوشیدہ ’’سنوتے‘‘ تالاب کے یخ بستہ پانیوں میں اترنا گویا ایک آبی خواب میں اترنا تھا۔ تالاب کے گرد اٹھتے گنبد نما حصار کی کچی دیواروں میں سے آبی خود رو بوٹے پھوٹ رہے تھے اور اس گنبد میں جو شگاف تھا اس میں سے دھوپ ایک روپہلی چادر کی صورت نیم تاریکی میں اترتی تھی اور اس کے ہمراہ ایک آبشار کے پانی تالاب کی سطح پر بلندی سے گرتے جاتے تھے اور سیاحوں کی آوازوں کی ایک گونج تھی جو ماحول کو عجب بے یقینی سے بھرتی تھی۔ زرد
مزید پڑھیے


’’مچھلیاں ٹکیلا اور ویواپاکستان‘‘

اتوار 15  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
احمد فراز کے محبوب کو تو دن میں تتلیاں ستاتی تھیں اور مجھے آبنائے میکسیکو کے سمندر میں مچھلیاں ستاتی تھیں۔ وہ رنگین اور خوش نظر نہ تھیں۔ سرمئی رنگ کی تھیں اور میرے زیر آب بدن کے گرد تیرتی تھیں۔ کبھی ٹانگوں کے درمیان میں سے گزرجاتی تھیں اور کبھی اپنے پوپلے منہ سے میرے جسم کو چیک کرتی تھیں کہ کیا یہ بوڑھا ماس کھایا جا سکتا ہے یا کھا لیا تو کہیں ہمیں فوڈ پوائزنگ تو نہیں ہو جائے گی۔ ابھی سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا جب میں سوئمنگ کاسٹیوم زیب تن کر کے
مزید پڑھیے


’’سمندر پر تیرتے جام‘‘

پیر 09  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میکسیکو کے شہر کین کون میں ’’فائنسٹ پلایا مجیرس‘‘ ریزارٹ کی جنت ارضی کی قید میں تھے۔ ہماری جنت میں تو وعدہ ہے کہ ہم جس بھی پھل کی جانب ہاتھ بڑھائیں گے وہ خود بخود آپ کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ یہاں معاملہ قدرے مختلف تھا۔ آپ اگر شغف فرماتے ہیں تو آپ کا دل پسند مشروب اک اشارے سے آپ کے ہاتھ میں آ جائے گا نہ صرف کمرے میں مے خوری نہیں بلکہ مے خواری کے تمام اہتمام تھے کہ جتنی شراب یہاں تھی اسے نوش کرنے کے بعد بندہ خوار ہو جاتا تھا۔ پورے
مزید پڑھیے