BN

مستنصر حسین تارڑ



’’موٹر سائیکل چلانے والی ڈولفن مچھلیاں‘‘


ان دنوں تو ہر جانب ڈالر کی ہاہا کار مچی ہے اور ڈالر ہے کہ ادھر ڈوبا ادھر نکلا کبھی ڈوبا اور پھر نکلا تو گویا پرندہ ہو گیا معیشت کی فضائے بسیط میں پرواز کرنے لگا اور اب ماہرین اپنی اپنی معاشی قابلیت کے کوٹھوں پر چڑھ کر اسے پچکارتے ہیں۔ سیٹیاں بجا کر متوجہ کرتے ہیں جیسے کبوتر باز اپنے کبوتروں کو واپس ٹھکانے پر لانے کے لئے عجب عجب آوازیں نکالتے ہیں کہ آ لوٹ کے آ جا میرے میت تجھے میرے گیت بلاتے ہیں اور ڈالر ہے کہ پرواز کرتا چلا جاتا ہے۔ نخرے دکھاتا ہے
اتوار 26 مئی 2019ء

’’کائرہ کے دُکھ اور بچھڑ جانے والے بیٹے‘‘

بدھ 22 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں جب لکھتے لکھتے تھک گیا تو اپنی سٹڈی سے اُٹھ کر لائونج میں چلا گیا۔ وہاں حسب معمول ٹیلی ویژن چل رہا تھا اور میری بیگم اس کے سامنے بت بنی بیٹھی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی’’کائرہ کا جوان بیٹا مر گیا ہے‘‘ ’’کونسے کائرہ کا؟ مجھے یکدم سمجھ نہ آئی کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ ’’اپنے پیپلزپازٹی والے کائرہ صاحب کا۔‘‘ اُس کی آنکھوں میں نمی اتر رہی تھی اور وہ ایک سناٹے میں آئی ہوئی تھی۔ ’’دیکھ لو‘‘ ٹیلی ویژن سکرین پر کائرہ صاحب کے برابر میں ایک ایسا نوجوان کھڑا تھا جو شباہت میں ان جیسا
مزید پڑھیے


’’علامہ اقبال کی’’ قصرِ شرف النسائ‘‘ ایک یادگار نظم‘‘

اتوار 19 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آخر جب مغلیہ سلطنت جاتی رہی اور سِکھی زمانہ آیا تو سکھوں نے اس تلوار و قرآن کو اندر سے نکالا۔ کہتے ہیں کہ کئی ہزار روپے کی مالیت کا وہ قرآن اور تلوار تھی‘‘ تو کیا شرف النساء کی داستان پر ایک دیو مالائی کہانی کا گمان نہیں ہوتا کہ گئے زمانوں کا قصہ ہے شہر لاہور کے گورنر کی بیٹی اپنے لئے ایک برج نما مقبرہ تعمیر کروایا۔ اس کی چوکور طرز تعمیر کے چاروں اور چار چار سرو کے درختوں کی تزئین کروائی کہ سرو کا درخت چمن زاروں کی زینت ہوتا ہے وہاں یہ قبرستانوں میں
مزید پڑھیے


’’سرو والا مقبرہ، ایک تاریخی بھید‘‘

بدھ 15 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چہروں کی مانند بعض تصویریں، سکیچ یا نقش اپنے اندر کوئی ایسی دل کشی رکھتے ہیں کہ وہ یاد رہ جاتے ہیں۔ بے انت چہرے۔ تصویریں، سکیچ یا نقش بھول جاتے ہیں اور کچھ دل کے نہاں خانوں میں کہیں ثبت ہو جاتے ہیں، یاد رہ جاتے ہیں۔ جیسے شفیق الرحمن نے مجھے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ کا ایک قدیم نسخہ تحفے کے طور پر بھیجا جس میں قصر الحمراء کے ایوانوں، محرابوں اور باغوں کے پین اینڈانک کے بلیک اینڈ وہائٹ سکیچ پر باب کے آغاز میں نظر نواز ہوتے تھے اور ان میں ایک سکیچ ایسا تھا جس میں
مزید پڑھیے


’’درس میاں وڈّا کی قبر کی گھاس‘‘

اتوار 12 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ ایک اور دن تھا نِمی نِمی دھوپ والا‘ ٹھنڈک بھری ہوائوں والا، جب میں ایک مرتبہ پھر لاہور آوارگی پر مائل ہوا اور میرے ہمراہ دائیں بائیں دو مُنکر نکیر تھے۔ صدیق شہزاد اور فرید احمد جو میرے نائب آورہ گرد تھے اور ہم اس سویر نکلے تھے ان آثار کی تلاش میں جو اس شہر میں جگہ جگہ بکھرے۔ کہیں ظاہر ہوتے اور کہیں نیم پوشیدگی میں تاریخ کو اپنی پرانی اینٹوں پرنقش کئے ہماری آنکھوں کے منتظر تھے۔ وہ سراسر گمنام تو نہ تھے۔ کچھ تو بہت نامور تھے لیکن بیشتر کے بارے میں ہم نے صرف
مزید پڑھیے




’’کتاب کائنات کا سفر نامہ‘‘

بدھ 08 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میں سے وہ لوگ جو تاریخ کی گتھیاں سلجھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یقیناً ولیم ڈیل رمپل کے نام سے واقف ہوں گے۔ اس نے اپنی پہلی کتاب ’’ذی ناڈو کی تلاش میں‘‘ صرف بائیس برس کی عمر میں تحریر کی اور پوری دنیا میں ایک سفرنامہ نگار اور تاریخ دان کے طور پر متعارف ہو گیا۔ یہاں تک کہ لنڈن کے ٹائمز نے اس کی توصیف میں لکھا کہ اتنی کم عمری میں اتنی بڑی کتاب لکھنا کچھ معیوب سا لگتا ہے۔ ذی ناڈو دراصل قبلائی خان کا وہ شاندار دارالسلطنت تھا جس کے محلات اور پر شکوہ
مزید پڑھیے


’’بڑا ادب صرف ابنارمل لوگ لکھ سکتے ہیں؟‘‘

اتوار 05 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرا گزشتہ کالم کتابوں کے مجذوبوں کے بارے میں تھا تو بارے کتابوں کے بھی کچھ بیاں ہو جائے تو چنداں مضائقہ نہیں البتہ کوئی سو جھوان یعنی فلسفی نما شخص بجا طور پر معترض ہو سکتا ہے کہ اگر یہ ادیب حضرات کتابیں نہ لکھیں تو ایسے کتابوں کے مارے لوگ مجذوب ہونے سے بچ جائیں اور وہ بھی دیگر لوگوں کی مانند نہائت کامیاب اور باشعور حیات بسر کر سکیں تو سارا قصور ادیبوں کا ہے کہ یہ کتابیں نہ لکھیں تو لوگ پاگل نہ ہوں اور سکھ چین کی زندگی کے مزے لوٹیں ۔ اس سلسلے میں
مزید پڑھیے


’’کتابوں کے مجذوب‘‘

بدھ 01 مئی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لوگ تو کہتے ہیں کہ دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے اور یہ کہ ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے لیکن میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے کتابوں کی باتیں کرنا اچھا لگتا ہے اور میں پاگل ہو جائوں گا نہیں بلکہ ہو چکا ہوں ایسا لگتا ہے… میں جانتا ہوں کہ کتابوں سے دلچسپی رکھنے والے لوگ کم کم ہیں۔ اقلیت میں ہیں لیکن اقلیتوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں تو کتابوں کے کالم اس اقلیت کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش ہے جو کتابوں سے اُلفت کے رشتے استوار کیے ہوئے ہے۔ کتابوں
مزید پڑھیے


’’جلیانوالہ باغ بھگت سنگھ اور قیام پاکستان‘‘

اتوار 28 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ پاکستان کے قیام کی پچاسویں سالگرہ کے دن تھے جب پاکستان ٹیلی ویژن نے تحریک پاکستان کے حوالے سے خصوصی ڈراموں کا ایک سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ وہ دن تھے جب پی ٹی وی میں کچھ جان باقی تھی اور اس کی سکرین پر پاکستانی ثقافت ‘ ادب اور موسیقی کے حوالے سے خصوصی پروگرام دیکھنے کو مل جاتے تھے۔ یہ ابھی ایک مردہ گھوڑا نہ ہوا تھا جو صرف حکومت وقت کی تھپکی سے عارضی طور پر زندہ ہو کر خوشامد اور چاپلوسی سے ہنہناتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ مجھے بھی ہیڈ
مزید پڑھیے


’’سکندربخار،وادیٔ کالاش اور یونانی دواخانے‘‘

بدھ 24 اپریل 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چنانچہ ہم جیسے عام لوگوں تک وہی تاریخ پہنچتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں درباری خوشامدیوں سے لکھوائی جاتی ہے…اور اس تاریخ میں صرف بادشاہ کی بے مثال فتوحات کا تذکرہ ہوتا ہے۔ مجال ہے کسی ایک شکست کا بھی ذکر ہو۔ اس طرح سکندر اعظم اور پورس کے درمیان جو جنگ ہوئی اسے لکھنے اور بیان کرنے والے وہ تاریخ نویس تھے جو سکندر کی مہم میں اس کے ساتھ آئے تھے۔ وہ کیسے تحریر کر سکتے تھے کہ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی سکندر کو پورس ایسی بلا کا سامنا کرنا پڑا اور وہ شاید پہلی بار
مزید پڑھیے