BN

مستنصر حسین تارڑ



’’میکسیکو کا مے خانہ‘کین کُون‘‘


ہم جب کبھی آرلینڈو کا رخ کرتے ہیں توبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دن ہوتے ہیں اور امریکی سال بھر کی کڑی مشقت کے بعد اپنے بال بچوں سمیت گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ کاروں چلتے پھرتے گھروں‘ کاروانوں پر سوار پر فضا مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں تاکہ پاپی دنیا سے دور‘ فکر فاقے سے آزاد، فرصت کے رات دن کچھ تو گزار سکیں۔ وہ امریکہ کے مشہور نیشنل پارک کا رخ کرتے ہیں ساحلوں کی جانب سفر کرتے ہیں اور جھیلوں کے کناروں پر عارضی طور پر ہی آباد ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ یورپ اور
اتوار 25  اگست 2019ء

’’آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو‘‘

بدھ 21  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ’’ویوا زچال‘‘ کیلیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم مایا تہذیب کے لیے اور ٹکیلاشراب کے ایک گھونٹ کے لیے، میکسیکو کی جانب پرواز کرتے جانا جائز ہے۔ شاعری، ریت، خون اور انقلاب کی سرزمین کی جانب سفر کرنا جائز ہے۔ ہاں جنوبی امریکہ کا رُخ کرنا پہلی بار اور میکسیکو ایسے دھوپ بھرے ویرانے کی جانب چل دینا جائز ہے اگر…آپ کے دل کے صحرا میں شاعری کے ببول
مزید پڑھیے


امریکی ہرن اور پاکستانی بکرے عید مبارک

اتوار 18  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
دیار غیر میں عید کا دن بسر کرنا اور اپنے وطن میں عید منانے میں صرف ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ اپنے وطن کی عید کی سویر کو بیدار ہوتے ہیں تو آپ کے بدن کے اندر ایک عجیب مسرت بھری چراغاں جگمگاتی ہے۔ جس کی روشنی روح میں شامل ہو کر آپ کو خوشیوں کے مہک آور ہار پہنا دیتی ہے۔ یہی موسم جو آپ کے بدن کے اندر دمکتے جھلملاتے ہیں، آپ کے چاروں طرف باغ بہاراں کی مانند کھلے ہوتے ہیں۔ کیا بچے کیا بڑے یہاں تک کہ تانگوں کے گھوڑے بھی عید کے خمار میں سرشار
مزید پڑھیے


’’گیم آف تھرونز…تخت نہ ملدے منگیاں‘‘

جمعه 16  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آئی پیڈ، ایک مختصر سکرین، ایک عجیب و غریب دریافت ہے۔ بیک وقت ایک لعنت بھی اور نعمت بھی…آئی پیڈ نے لوگوں کو ایک دوسرے سے بیگانہ کر دیا ہے۔ انسانی اور معاشرتی سطح پر جو مسائل جنم لیتے ہیں ہم ان کے بارے میں دوسروں سے تبادلہ خیال کرنے کی بجائے اپنے اپنے آئی پیڈ پر جھکے فلمیں، سیریل، ڈاکومینٹریز اور گیمز وغیرہ کھیلنے میں غرق رہتے ہیں۔ آس پاس کی کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ آئی پیڈ کی سکرین سے آنکھیں جڑ چکی ہیں۔ بچے کہیں بھی جا رہے ہوں۔ اپنا آئی پیڈ نہیں
مزید پڑھیے


’’یہ حُب الوطنی کیا شے ہے؟‘‘

بدھ 07  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں نے گزشتہ کالم میں بابا فرید کا حوالہ دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ دُکھ سجھائے جگ۔ ان خطوں میں دو بڑے دکھ ہیں۔ وطن سے دوری کا دکھ اور تنہائی کا دکھ۔ آخر یہ حب الوطنی کیا ہے۔ ایک بیماری ہے۔ ایک روگ ہے کیا ہے۔ کیا وطن کے خدا کی پرستش جائز ہے یا انسان کو اس سے ماورا ہو کر ایک کائناتی سچ کا حصہ بن جانا چاہیے۔ انگلستان میں ایتھوپیا کا رہنے والا ایک افریقی میرا دوست تھا اور وہ دن رات اپنے کسی اجاڑ سے کچے گائوں کی یاد میں آہیں بھرتا رہتا
مزید پڑھیے




’’آر لینڈو میں زندگی‘اور ایک موت‘‘

اتوار 04  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آرلینڈو کو مگرمچھوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے جہاں اگر مگر مچھ ہیں تو وہ صرف مقامی لوگوں کو ہی نظر آتے ہیں۔ اس شہر میں جھیلیں‘ جنگل اور ہریاول بہت ہے اور انسان کم کم ہیں۔ ان جھیلوں میںمبینہ طور پر مگرمچھ پائے جاتے ہیں۔ اگر ہیں تو جانے کیوں وہ مجھے اپنا رخ زیبا دکھانے سے جھجکتے ہیں۔ پچھلے پندرہ برس میں مجھے تو آرلینڈو میں ایک مگرمچھ بھی نظر نہیں آیا۔ بہت خواہش تھی کہ کم از کم ایک مگرمچھ ہی نظر آ جائے۔ دیکھیں تو سہی کہ ان کے آنسو کیسے ہوتے ہیں۔ صرف
مزید پڑھیے


’’ڈاکٹر خالد حسن کی حیرت انگیز مسافت‘‘

بدھ 31 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ اُن زمانوں کا قصہ ہے جب ہم لاہور کے تین انگریزی کے لیے مخصوص سینما گھروں ریگل، اوڈین اور پلازا میں ہالی وڈ کی فلمیں نہایت باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ 1966ء میں ایک فلم ’’فنٹاسٹک وائج‘‘ نام کی پلازا سینما میں نمائش کی گئی جس کے مرکزی کرداروں میں بن حُر والے سٹیفن بانڈ اور ہم سب کے ہوش اڑا دینے والی دراز قامت متناسب بدن اداکارہ راکوئل ویلش شامل تھے۔ یہ ’’حیرت انگیز مسافت‘‘ ایک سائنس فکشن فلم تھی جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی۔ یہ فلم آج نصف صدی کی مدت کے بعد
مزید پڑھیے


’’صحرا سفاری‘ بیلے ڈانسر اور ایک بشارت‘‘

پیر 29 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
دوبئی میں ہم جیسے شریف النفس اور ڈرپوک سیاحوں کے لئے جن کے دل میں ناجائز امنگیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن ان کی تکمیل کے لئے جرأت کا فقدان ہوتا ہے ان کے لئے اس شہر کی سب سے بڑی کشش’’صحرا سفاری‘‘ ہوتی ہے جس کے دوران محکمہ سیاحت کے بقول آپ آبادی سے دور صحرائوں میں چلے جاتے ہیں۔ اونٹوں کے قافلوں کے ہمراہ سفر کرتے ہیں جو شاید سمر قند اور خوقند وغیرہ کی جانب چلے جاتے ہیں۔ ایک طاقتور لینڈ روور میں سوار ہو کر صحرا کے ٹیلوں پر نہایت خطرناک سفر کرتے قلا بازیاں کھاتے
مزید پڑھیے


’’شہزادہ زرنونی، قطری شہزادہ اور سلور رولز رائس

بدھ 24 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ریت میں اَٹا ہوا شہر دوبئی اور میں اجنبی نہ تھے۔ ہماری بہت سی ملاقاتیں ٹھہر چکی تھیں۔ کبھی یورپ سے واپسی پر عارضی قیام اور کبھی اپنے شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی ریکارڈنگ کے دنوں میں اور کبھی کسی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں، پہلی بار دوبئی سے ملاقات ہوئی تو میں ظاہر ہے اس عجوبہ شہر کی جدید حیرت انگیزی سے متاثر ہوا اور وہ سب کچھ کیا جو دوبئی کی سیاحت کا محکمہ کسی غیر ملکی سیاح سے توقع کرتا ہے کہ وہ کرے۔ شاپنگ مالز کی دشت نوردی کی۔ شاپنگ جی بھر کے کی۔ بہترین
مزید پڑھیے


’’ریت میں اُگا ہوا شہر…دوبئی‘‘

اتوار 21 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم ریت میں اگے ہوئے اس شہر کی جانب پرواز کرتے جاتے تھے جسے عرف عام میں دوبئی کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے نہیں مجبوری سے اس شہر کی جانب چلے جاتے تھے جو اب بھی بہت سے لوگوں کے ،خوابوں کا شہر ہے۔ محنت مزدوری کے خواہش مندوں کا‘ سیاست دانوں کا جنہوں نے یہاں شاہانہ گولڈن گھر تعمیر کر رکھے ہیں تاکہ جب بھی برا وقت نازل ہو جائے تو وہ یہاں نزول فرما جائیں اور بیان دیں کہ دیکھئے ہم نے پاکستان کی سلامتی اور وقار کے لئے ملک بدری قبول کی ہے اور اس
مزید پڑھیے