BN

مستنصر حسین تارڑ



’’مچھلیاں ٹکیلا اور ویواپاکستان‘‘


احمد فراز کے محبوب کو تو دن میں تتلیاں ستاتی تھیں اور مجھے آبنائے میکسیکو کے سمندر میں مچھلیاں ستاتی تھیں۔ وہ رنگین اور خوش نظر نہ تھیں۔ سرمئی رنگ کی تھیں اور میرے زیر آب بدن کے گرد تیرتی تھیں۔ کبھی ٹانگوں کے درمیان میں سے گزرجاتی تھیں اور کبھی اپنے پوپلے منہ سے میرے جسم کو چیک کرتی تھیں کہ کیا یہ بوڑھا ماس کھایا جا سکتا ہے یا کھا لیا تو کہیں ہمیں فوڈ پوائزنگ تو نہیں ہو جائے گی۔ ابھی سورج طلوع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا جب میں سوئمنگ کاسٹیوم زیب تن کر کے
اتوار 15  ستمبر 2019ء

’’سمندر پر تیرتے جام‘‘

پیر 09  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میکسیکو کے شہر کین کون میں ’’فائنسٹ پلایا مجیرس‘‘ ریزارٹ کی جنت ارضی کی قید میں تھے۔ ہماری جنت میں تو وعدہ ہے کہ ہم جس بھی پھل کی جانب ہاتھ بڑھائیں گے وہ خود بخود آپ کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ یہاں معاملہ قدرے مختلف تھا۔ آپ اگر شغف فرماتے ہیں تو آپ کا دل پسند مشروب اک اشارے سے آپ کے ہاتھ میں آ جائے گا نہ صرف کمرے میں مے خوری نہیں بلکہ مے خواری کے تمام اہتمام تھے کہ جتنی شراب یہاں تھی اسے نوش کرنے کے بعد بندہ خوار ہو جاتا تھا۔ پورے
مزید پڑھیے


’’سورج کے ساتھ ساتھ عابد علی بھی ڈوب گیا‘‘

اتوار 08  ستمبر 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ابھی ایک دو برس پیشتر مجھے کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے وہاں قبرستان ایسی خاموشی محسوس ہوئی حالانکہ رونق بہت تھی۔ چہل پہل تھی لیکن میرے کانوں میں ایک سناٹا اترتا تھا۔ لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریاں سنسان پڑی تھیں۔ مجھے وہاں شائبے سے ہوتے تھے کہ یہ کون تھا جو میرے قریب سے گزر گیا اور مجھ سے ملنے کے لئے ٹھہرا بھی نہیں۔ سلام دعا تک نہیں کی۔خیام سرحدی‘ شفیع محمد‘ جمیل فخری‘ ظل سبحان‘ فاروق ضمیر‘ محبوب عالم‘ بدیع الزماں‘ ایوب خان‘ ایم شریف کون
مزید پڑھیے


’’میکسیکو کا مے خانہ‘کین کُون‘‘

اتوار 25  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم جب کبھی آرلینڈو کا رخ کرتے ہیں توبہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دن ہوتے ہیں اور امریکی سال بھر کی کڑی مشقت کے بعد اپنے بال بچوں سمیت گھروں سے نکل جاتے ہیں۔ کاروں چلتے پھرتے گھروں‘ کاروانوں پر سوار پر فضا مقامات کی طرف نکل جاتے ہیں تاکہ پاپی دنیا سے دور‘ فکر فاقے سے آزاد، فرصت کے رات دن کچھ تو گزار سکیں۔ وہ امریکہ کے مشہور نیشنل پارک کا رخ کرتے ہیں ساحلوں کی جانب سفر کرتے ہیں اور جھیلوں کے کناروں پر عارضی طور پر ہی آباد ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ یورپ اور
مزید پڑھیے


’’آکٹاویو پاز کی شاعری اور جانب میکسیکو‘‘

بدھ 21  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کیا آکٹاویو پاز ایسے شاعر کے لیے کارلوس فونٹس ایسے ناول نگار کے لیے فریدہ کوہلو ایسی خبطی مصور ہ کے لیے، مارلن برانڈو کی فلم ’’ویوا زچال‘‘ کیلیے، ایک سومبریروہیٹ کے لیے، آگ کے ایک بوٹ کے لیے، قدیم مایا تہذیب کے لیے اور ٹکیلاشراب کے ایک گھونٹ کے لیے، میکسیکو کی جانب پرواز کرتے جانا جائز ہے۔ شاعری، ریت، خون اور انقلاب کی سرزمین کی جانب سفر کرنا جائز ہے۔ ہاں جنوبی امریکہ کا رُخ کرنا پہلی بار اور میکسیکو ایسے دھوپ بھرے ویرانے کی جانب چل دینا جائز ہے اگر…آپ کے دل کے صحرا میں شاعری کے ببول
مزید پڑھیے




امریکی ہرن اور پاکستانی بکرے عید مبارک

اتوار 18  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
دیار غیر میں عید کا دن بسر کرنا اور اپنے وطن میں عید منانے میں صرف ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ اپنے وطن کی عید کی سویر کو بیدار ہوتے ہیں تو آپ کے بدن کے اندر ایک عجیب مسرت بھری چراغاں جگمگاتی ہے۔ جس کی روشنی روح میں شامل ہو کر آپ کو خوشیوں کے مہک آور ہار پہنا دیتی ہے۔ یہی موسم جو آپ کے بدن کے اندر دمکتے جھلملاتے ہیں، آپ کے چاروں طرف باغ بہاراں کی مانند کھلے ہوتے ہیں۔ کیا بچے کیا بڑے یہاں تک کہ تانگوں کے گھوڑے بھی عید کے خمار میں سرشار
مزید پڑھیے


’’گیم آف تھرونز…تخت نہ ملدے منگیاں‘‘

جمعه 16  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آئی پیڈ، ایک مختصر سکرین، ایک عجیب و غریب دریافت ہے۔ بیک وقت ایک لعنت بھی اور نعمت بھی…آئی پیڈ نے لوگوں کو ایک دوسرے سے بیگانہ کر دیا ہے۔ انسانی اور معاشرتی سطح پر جو مسائل جنم لیتے ہیں ہم ان کے بارے میں دوسروں سے تبادلہ خیال کرنے کی بجائے اپنے اپنے آئی پیڈ پر جھکے فلمیں، سیریل، ڈاکومینٹریز اور گیمز وغیرہ کھیلنے میں غرق رہتے ہیں۔ آس پاس کی کچھ خبر نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ آئی پیڈ کی سکرین سے آنکھیں جڑ چکی ہیں۔ بچے کہیں بھی جا رہے ہوں۔ اپنا آئی پیڈ نہیں
مزید پڑھیے


’’یہ حُب الوطنی کیا شے ہے؟‘‘

بدھ 07  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں نے گزشتہ کالم میں بابا فرید کا حوالہ دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ دُکھ سجھائے جگ۔ ان خطوں میں دو بڑے دکھ ہیں۔ وطن سے دوری کا دکھ اور تنہائی کا دکھ۔ آخر یہ حب الوطنی کیا ہے۔ ایک بیماری ہے۔ ایک روگ ہے کیا ہے۔ کیا وطن کے خدا کی پرستش جائز ہے یا انسان کو اس سے ماورا ہو کر ایک کائناتی سچ کا حصہ بن جانا چاہیے۔ انگلستان میں ایتھوپیا کا رہنے والا ایک افریقی میرا دوست تھا اور وہ دن رات اپنے کسی اجاڑ سے کچے گائوں کی یاد میں آہیں بھرتا رہتا
مزید پڑھیے


’’آر لینڈو میں زندگی‘اور ایک موت‘‘

اتوار 04  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آرلینڈو کو مگرمچھوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے جہاں اگر مگر مچھ ہیں تو وہ صرف مقامی لوگوں کو ہی نظر آتے ہیں۔ اس شہر میں جھیلیں‘ جنگل اور ہریاول بہت ہے اور انسان کم کم ہیں۔ ان جھیلوں میںمبینہ طور پر مگرمچھ پائے جاتے ہیں۔ اگر ہیں تو جانے کیوں وہ مجھے اپنا رخ زیبا دکھانے سے جھجکتے ہیں۔ پچھلے پندرہ برس میں مجھے تو آرلینڈو میں ایک مگرمچھ بھی نظر نہیں آیا۔ بہت خواہش تھی کہ کم از کم ایک مگرمچھ ہی نظر آ جائے۔ دیکھیں تو سہی کہ ان کے آنسو کیسے ہوتے ہیں۔ صرف
مزید پڑھیے


’’ڈاکٹر خالد حسن کی حیرت انگیز مسافت‘‘

بدھ 31 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ اُن زمانوں کا قصہ ہے جب ہم لاہور کے تین انگریزی کے لیے مخصوص سینما گھروں ریگل، اوڈین اور پلازا میں ہالی وڈ کی فلمیں نہایت باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ 1966ء میں ایک فلم ’’فنٹاسٹک وائج‘‘ نام کی پلازا سینما میں نمائش کی گئی جس کے مرکزی کرداروں میں بن حُر والے سٹیفن بانڈ اور ہم سب کے ہوش اڑا دینے والی دراز قامت متناسب بدن اداکارہ راکوئل ویلش شامل تھے۔ یہ ’’حیرت انگیز مسافت‘‘ ایک سائنس فکشن فلم تھی جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی۔ یہ فلم آج نصف صدی کی مدت کے بعد
مزید پڑھیے