BN

مستنصر حسین تارڑ



’’شہزادہ زرنونی، قطری شہزادہ اور سلور رولز رائس


ریت میں اَٹا ہوا شہر دوبئی اور میں اجنبی نہ تھے۔ ہماری بہت سی ملاقاتیں ٹھہر چکی تھیں۔ کبھی یورپ سے واپسی پر عارضی قیام اور کبھی اپنے شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی ریکارڈنگ کے دنوں میں اور کبھی کسی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں، پہلی بار دوبئی سے ملاقات ہوئی تو میں ظاہر ہے اس عجوبہ شہر کی جدید حیرت انگیزی سے متاثر ہوا اور وہ سب کچھ کیا جو دوبئی کی سیاحت کا محکمہ کسی غیر ملکی سیاح سے توقع کرتا ہے کہ وہ کرے۔ شاپنگ مالز کی دشت نوردی کی۔ شاپنگ جی بھر کے کی۔ بہترین
بدھ 24 جولائی 2019ء

’’ریت میں اُگا ہوا شہر…دوبئی‘‘

اتوار 21 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم ریت میں اگے ہوئے اس شہر کی جانب پرواز کرتے جاتے تھے جسے عرف عام میں دوبئی کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے نہیں مجبوری سے اس شہر کی جانب چلے جاتے تھے جو اب بھی بہت سے لوگوں کے ،خوابوں کا شہر ہے۔ محنت مزدوری کے خواہش مندوں کا‘ سیاست دانوں کا جنہوں نے یہاں شاہانہ گولڈن گھر تعمیر کر رکھے ہیں تاکہ جب بھی برا وقت نازل ہو جائے تو وہ یہاں نزول فرما جائیں اور بیان دیں کہ دیکھئے ہم نے پاکستان کی سلامتی اور وقار کے لئے ملک بدری قبول کی ہے اور اس
مزید پڑھیے


’’نہ اوہ مومن، نہ اوہ کافر، شاہ حسین‘‘

بدھ 17 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ربا! میرے حال دا محرم توں اندر توں ہیں، باہر تو ہیں، رُوم رُوم وِچ توں توں ہی تانا، توں ہی بانا، سبھ کجھ میرا توں کہے حسین فقیر نمانا، میں ناہیں سبھ توں! محبوب الحق…حضرت شیخ مادھو رحمتہ اللہ علیہ قادری لاہوری ولادت 983ھ…وصال 1054ھ قطب الحق، امام الاوتار …حضرت شاہ حسین مقصود العین المعروف لال حسین قدس سرہُ العزیز…ولادت 940ھ …وصال 30جمادی الثانی 1008ھ عجب شام تھی… شام تو نہ تھی ڈھل چکی رات تھی۔ تقریباً پینتالیس برس پیشتر کی عجب رات تھی۔ اگر مجید امجد ہوتے تو کہتے۔ ’شہر لاہور میں آج چراغاں ہے۔ میلہ چراغاں ہے… ڈھول بجتے ہیں، الائو جلتے ہیں شہر لاہور میں
مزید پڑھیے


’’اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب ۔ جالب جالب‘‘

اتوار 14 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند ادیب یوں بھی اپنی تحریروں سے ہی پہچان لئے جاتے تھے کہ ان کا سیاسی اور سماجی نکتہ نظر کیا ہے۔ آپ کو پریم چند ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ کرشن چندر‘ کیفی اعظمی ‘ اختر الایمان‘ جوش ملیح آبادی‘ احمد ندیم قاسمی یا فیض صاحب سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا کہ آپ کے نظریات کیا ہیں کہ وہ ان کی
مزید پڑھیے


’’کتاب زندہ ہو گئی ہے‘‘

بدھ 10 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پچھلے کچھ عرصے سے ’’کتاب‘‘ باقاعدہ زندہ ہو گئی ہے۔ سانس لینے لگی ہے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ کتاب کے اندر ایک ایسی روح بھی موجود ہے جسے زوال نہیں۔ کتاب ان تمام لوگوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے زندہ ہوئی ہے جو اس کی موت کی پیش گوئیاں مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اشفاق صاحب نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ آئندہ کتاب صرف کیسٹ کی صورت میں ہو گی جسے سنا جائے گا۔ ان دنوں نہ صرف میڈیا
مزید پڑھیے




’’غزہ میں شادی اور موت‘‘

اتوار 07 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں اپنی حیات کے تجربوں میں سے کوئی ایک تجربہ جسے میں بیان کر چکا ہوں،اسے پھر سے اپنے کالم کے سپرد کر دیتا ہوں کہ جنوںمیں جتنی بھی گزری اگرچہ بے کار گزری ہے لیکن میں نے وہی بیان کرنا ہے جو کہ مجھ پر گزری۔ میں اپنے نکتہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے نئے قصے نہیں گھڑتا۔ نہ ہی مقدس حوالوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس وہی بار بار لکھتا ہوں جو لکھ چکا۔ اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ وہ مکررلکھنے کے لائق اس لئے ہوتا
مزید پڑھیے


’’مسٹر ٹوبی اور راکا پوشی کے سریلے گدھے‘‘

بدھ 03 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میں تذکرہ کر رہا تھا آج سے ساٹھ برس پیشتر کے انگلستان کے شہر مانچسٹر کا جہاں 14باربرا سٹریٹ کے ایک بوسیدہ وکٹورین گھر میں میرا عارضی قیام تھا۔ گھر کے مالک میرے دور پار کے عزیز حلال گوشت کے سلسلے میں شہر سے باہر کسی کسان سے متعدد مرغیاں خرید لاتے اور انہیں کوئلے کے لیے وقف تہہ خانے کے اندھیرے میں روپوش کر دیتے۔ چوری چھپے پائیں باغ میں انہیں حلال کرتے اور ان کے بال و پر زمین میں دفن کر دیتے کہ جانوروں کو یوں ’’ہلاک‘‘ کرنا ایک قابل تعزیر جرم تھا۔ شومئی قسمت کہ ایسے
مزید پڑھیے


’’فرانس میں مُرغ انقلاب‘‘

اتوار 30 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یہ اقرار کرنے میں کچھ تامل نہیں کہ میرے انسانی نظام میں کچھ ایسا خلل ہے کہ مجھے انسانوں کی نسبت جانور زیادہ پسند ہیں۔ نہ صرف ان کی خصلت‘ طرز زندگی بلکہ ان کی شکلیں زیادہ پسند ہیں۔ مجھے ہرگز کسی کی دل آزاری مقصود نہیں لیکن آپ خود انصاف کیجیے کیا آج کے سیاسی سربراہوں اور ان کے حواریوں کی نسبت کچھ جانور اور پرندے وغیرہ زیادہ خوش شکل نہیں ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سفید برفانی الو دیکھا ہے۔ سبحان اللہ کیا آنکھیں ہیں اور کیسی متنانت بھری شکل ہے۔ کسی بھی لیڈر سے موازنہ کر
مزید پڑھیے


’’مہان سنگھ کی سمادھی۔گوجرانوالہ‘‘

جمعرات 27 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ایک بے آرام تنگ سی گلی جس کے دونوں جانب کے بھدے سے مکان پہلوانوں کی مانند ماتھے قریب کرتے ہوئے اک دوجے کے ساتھ بھڑ جانے کو تیار۔ ایک ایسی گلی جس میں داخل ہو کر انسان خود بھی اس گلی کی مانند تنگ اور بے آرام ہو جائے اور جب پلٹ جانے کو جی چاہے تو اس گلی کے آخر میں مکانوں میں پھنسا ہوا ایک کھنڈر ہوتا گنبد، ایسا نظر آئے کہ اس پر اصفہان کے کسی پرشکوہ گنبد کا گمان ہو۔ ایک ایسی شکستہ عمارت جس کی برباد ہو چکی خوش نمائی میں اب تک اتنی
مزید پڑھیے


’’زیدی فوٹو گرافرز اور شاہد زیدی کا کمال فن‘‘

اتوار 23 جون 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
چلئے آپ بھی کیا یاد کریں گے ہم آج کی بات نہیں کرتے۔ آج سے تقریباً ستر برس پیشتر کے زمانوں کا قصہ چھیڑتے ہیں۔ ہم ان دنوں کافی نابالغ ہوا کرتے تھے یعنی ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے اور کافی لاڈلے بھی ہوا کرتے تھے کہ سب سے بڑے بیٹے تھے۔ کیا ہوا جو ہماری رنگت قدرے مشکی ہوا کرتی تھی۔ یعنی ہم کالے شاہ کالے بھی نہیں تھے اور گورے وغیرہ تو ہرگز نہیں تھے۔ بس بین بین معاملہ تھا۔ کرائون پرنس کے لئے کہاں لکھا ہے وہ گورا ہو۔ ابھی پچھلے دنوں برطانوی شاہی خاندان میں بی
مزید پڑھیے