مستنصر حسین تارڑ


’’یہ حُب الوطنی کیا شے ہے؟‘‘


میں نے گزشتہ کالم میں بابا فرید کا حوالہ دیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ دُکھ سجھائے جگ۔ ان خطوں میں دو بڑے دکھ ہیں۔ وطن سے دوری کا دکھ اور تنہائی کا دکھ۔ آخر یہ حب الوطنی کیا ہے۔ ایک بیماری ہے۔ ایک روگ ہے کیا ہے۔ کیا وطن کے خدا کی پرستش جائز ہے یا انسان کو اس سے ماورا ہو کر ایک کائناتی سچ کا حصہ بن جانا چاہیے۔ انگلستان میں ایتھوپیا کا رہنے والا ایک افریقی میرا دوست تھا اور وہ دن رات اپنے کسی اجاڑ سے کچے گائوں کی یاد میں آہیں بھرتا رہتا
بدھ 07  اگست 2019ء

’’آر لینڈو میں زندگی‘اور ایک موت‘‘

اتوار 04  اگست 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
آرلینڈو کو مگرمچھوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے جہاں اگر مگر مچھ ہیں تو وہ صرف مقامی لوگوں کو ہی نظر آتے ہیں۔ اس شہر میں جھیلیں‘ جنگل اور ہریاول بہت ہے اور انسان کم کم ہیں۔ ان جھیلوں میںمبینہ طور پر مگرمچھ پائے جاتے ہیں۔ اگر ہیں تو جانے کیوں وہ مجھے اپنا رخ زیبا دکھانے سے جھجکتے ہیں۔ پچھلے پندرہ برس میں مجھے تو آرلینڈو میں ایک مگرمچھ بھی نظر نہیں آیا۔ بہت خواہش تھی کہ کم از کم ایک مگرمچھ ہی نظر آ جائے۔ دیکھیں تو سہی کہ ان کے آنسو کیسے ہوتے ہیں۔ صرف
مزید پڑھیے


’’ڈاکٹر خالد حسن کی حیرت انگیز مسافت‘‘

بدھ 31 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ اُن زمانوں کا قصہ ہے جب ہم لاہور کے تین انگریزی کے لیے مخصوص سینما گھروں ریگل، اوڈین اور پلازا میں ہالی وڈ کی فلمیں نہایت باقاعدگی سے دیکھا کرتے تھے۔ 1966ء میں ایک فلم ’’فنٹاسٹک وائج‘‘ نام کی پلازا سینما میں نمائش کی گئی جس کے مرکزی کرداروں میں بن حُر والے سٹیفن بانڈ اور ہم سب کے ہوش اڑا دینے والی دراز قامت متناسب بدن اداکارہ راکوئل ویلش شامل تھے۔ یہ ’’حیرت انگیز مسافت‘‘ ایک سائنس فکشن فلم تھی جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی۔ یہ فلم آج نصف صدی کی مدت کے بعد
مزید پڑھیے


’’صحرا سفاری‘ بیلے ڈانسر اور ایک بشارت‘‘

پیر 29 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
دوبئی میں ہم جیسے شریف النفس اور ڈرپوک سیاحوں کے لئے جن کے دل میں ناجائز امنگیں تو بہت ہوتی ہیں لیکن ان کی تکمیل کے لئے جرأت کا فقدان ہوتا ہے ان کے لئے اس شہر کی سب سے بڑی کشش’’صحرا سفاری‘‘ ہوتی ہے جس کے دوران محکمہ سیاحت کے بقول آپ آبادی سے دور صحرائوں میں چلے جاتے ہیں۔ اونٹوں کے قافلوں کے ہمراہ سفر کرتے ہیں جو شاید سمر قند اور خوقند وغیرہ کی جانب چلے جاتے ہیں۔ ایک طاقتور لینڈ روور میں سوار ہو کر صحرا کے ٹیلوں پر نہایت خطرناک سفر کرتے قلا بازیاں کھاتے
مزید پڑھیے


’’شہزادہ زرنونی، قطری شہزادہ اور سلور رولز رائس

بدھ 24 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ریت میں اَٹا ہوا شہر دوبئی اور میں اجنبی نہ تھے۔ ہماری بہت سی ملاقاتیں ٹھہر چکی تھیں۔ کبھی یورپ سے واپسی پر عارضی قیام اور کبھی اپنے شو ’’شادی آن لائن‘‘ کی ریکارڈنگ کے دنوں میں اور کبھی کسی تقریب میں شرکت کے سلسلے میں، پہلی بار دوبئی سے ملاقات ہوئی تو میں ظاہر ہے اس عجوبہ شہر کی جدید حیرت انگیزی سے متاثر ہوا اور وہ سب کچھ کیا جو دوبئی کی سیاحت کا محکمہ کسی غیر ملکی سیاح سے توقع کرتا ہے کہ وہ کرے۔ شاپنگ مالز کی دشت نوردی کی۔ شاپنگ جی بھر کے کی۔ بہترین
مزید پڑھیے



’’ریت میں اُگا ہوا شہر…دوبئی‘‘

اتوار 21 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم ریت میں اگے ہوئے اس شہر کی جانب پرواز کرتے جاتے تھے جسے عرف عام میں دوبئی کہا جاتا ہے۔ ہم اپنی مرضی سے نہیں مجبوری سے اس شہر کی جانب چلے جاتے تھے جو اب بھی بہت سے لوگوں کے ،خوابوں کا شہر ہے۔ محنت مزدوری کے خواہش مندوں کا‘ سیاست دانوں کا جنہوں نے یہاں شاہانہ گولڈن گھر تعمیر کر رکھے ہیں تاکہ جب بھی برا وقت نازل ہو جائے تو وہ یہاں نزول فرما جائیں اور بیان دیں کہ دیکھئے ہم نے پاکستان کی سلامتی اور وقار کے لئے ملک بدری قبول کی ہے اور اس
مزید پڑھیے


’’نہ اوہ مومن، نہ اوہ کافر، شاہ حسین‘‘

بدھ 17 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ربا! میرے حال دا محرم توں اندر توں ہیں، باہر تو ہیں، رُوم رُوم وِچ توں توں ہی تانا، توں ہی بانا، سبھ کجھ میرا توں کہے حسین فقیر نمانا، میں ناہیں سبھ توں! محبوب الحق…حضرت شیخ مادھو رحمتہ اللہ علیہ قادری لاہوری ولادت 983ھ…وصال 1054ھ قطب الحق، امام الاوتار …حضرت شاہ حسین مقصود العین المعروف لال حسین قدس سرہُ العزیز…ولادت 940ھ …وصال 30جمادی الثانی 1008ھ عجب شام تھی… شام تو نہ تھی ڈھل چکی رات تھی۔ تقریباً پینتالیس برس پیشتر کی عجب رات تھی۔ اگر مجید امجد ہوتے تو کہتے۔ ’شہر لاہور میں آج چراغاں ہے۔ میلہ چراغاں ہے… ڈھول بجتے ہیں، الائو جلتے ہیں شہر لاہور میں
مزید پڑھیے


’’اِک حسیں گائوں تھا کنارِ آب ۔ جالب جالب‘‘

اتوار 14 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
پاکستان کے وجود میں آنے سے پیشتر اردو ادب میں جتنے بھی بڑے ادیب اور شاعر تھے انہیں پسند کرنے والے اور پڑھنے والے ان کے ادب کے علاوہ اُن کے سیاسی اور سماجی رویوں سے آگاہ تھے۔ ترقی پسند ادیب یوں بھی اپنی تحریروں سے ہی پہچان لئے جاتے تھے کہ ان کا سیاسی اور سماجی نکتہ نظر کیا ہے۔ آپ کو پریم چند ‘ راجندر سنگھ بیدی‘ کرشن چندر‘ کیفی اعظمی ‘ اختر الایمان‘ جوش ملیح آبادی‘ احمد ندیم قاسمی یا فیض صاحب سے پوچھنا نہیں پڑتا تھا کہ آپ کے نظریات کیا ہیں کہ وہ ان کی
مزید پڑھیے


’’کتاب زندہ ہو گئی ہے‘‘

بدھ 10 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پچھلے کچھ عرصے سے ’’کتاب‘‘ باقاعدہ زندہ ہو گئی ہے۔ سانس لینے لگی ہے اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور مجھے تو لگتا ہے کہ کتاب کے اندر ایک ایسی روح بھی موجود ہے جسے زوال نہیں۔ کتاب ان تمام لوگوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے زندہ ہوئی ہے جو اس کی موت کی پیش گوئیاں مسلسل کرتے رہے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ اشفاق صاحب نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ آئندہ کتاب صرف کیسٹ کی صورت میں ہو گی جسے سنا جائے گا۔ ان دنوں نہ صرف میڈیا
مزید پڑھیے


’’غزہ میں شادی اور موت‘‘

اتوار 07 جولائی 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
کبھی کبھار ایسا ہو جاتا ہے کہ میں اپنی حیات کے تجربوں میں سے کوئی ایک تجربہ جسے میں بیان کر چکا ہوں،اسے پھر سے اپنے کالم کے سپرد کر دیتا ہوں کہ جنوںمیں جتنی بھی گزری اگرچہ بے کار گزری ہے لیکن میں نے وہی بیان کرنا ہے جو کہ مجھ پر گزری۔ میں اپنے نکتہ نظر کو ثابت کرنے کے لئے نئے قصے نہیں گھڑتا۔ نہ ہی مقدس حوالوں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ بس وہی بار بار لکھتا ہوں جو لکھ چکا۔ اس کا اعادہ کرتا ہوں کہ وہ مکررلکھنے کے لائق اس لئے ہوتا
مزید پڑھیے