BN

مستنصر حسین تارڑ



’’کامران کی شکست خوردہ بارہ دری‘‘


بارہ دری باغ کامران شہر لاہور میں تعمیر کردہ مغلیہ عمارتوں پر قدامت کے حساب سے غالباً سبقت رکھتی ہے۔ مرزا کامران‘ شہنشاہ بابر کا بیٹا اور ہمایوں کا بھائی اس عمارت کا بانی تھا اور تب یہاں صرف بارہ دری نہیں بلکہ اس کے آس پاس ایک شاندار مغل باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔ جج عبدالطیف نے ’’تاریخ لاہور میں اس کا خصوصی تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے’’یہ مستحکم و مضبوط پرانی عمارت اپنی عالی شان اور بلند و بالا محرابوں کے ہمراہ دریائے راوی کے دائیں کنارے پر کھڑی ہے۔ یہ عمارت ایک خوبصورت باغ کے وسط
اتوار 10 مارچ 2019ء

’’سر گنگا رام کی سمادھی اور راوی کی آلودگی‘‘

بدھ 06 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
جن زمانوں میں میری حیات کا تسلسل صبح کی نشریات کی میزبانی تھا ان دنوں میرے پروگرام کیلئے خصوصی طور پر تیار کردہ لاہور ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک ایسی ڈاکومنٹری وصول ہوئی جسے دیکھ کر میں اپنی آنکھوں پر یقین نہ کر سکا کہ یہ خواب ہے کہ سراب ہے۔ سرسبز کھیتوں کے درمیان میں ٹرین کے ڈبے ایک پٹڑی پر چلے جا رہے ہیں۔ ان میں مسافر سوار ہیں اور ان ڈبوں کے آگے ریلوے انجن نہیں ہے۔ بلکہ گھوڑے بندھے ہوئے ہیں جو انہیں کھینچتے چلے جا رہے ہیں۔ یا وحشت یہ کیا شے ہے۔ ایک
مزید پڑھیے


’’ہندوستانی ہاتھی اور پاکستانی چڑیا‘‘

اتوار 03 مارچ 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
بعض اوقات کوئی بہت فضول اور عامیانہ سا لطیفہ کسی صورت حال پر یوں منطبق ہوتا ہے کہ مجبوراً اس کا حوالہ دینا ہی پڑتا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے کہ ایک نامور کبڈی کے کھلاڑی کی بیوی نے عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا کہ حضور میرے خاوند میں وہ خصوصیات مفقود ہیں جو ایک مرد میں ہونی چاہئیں اس لئے میں اس سے طلاق حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ جج نے حیران ہو کر کہا کہ بی بی آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ آپ کا خاوند تو بہت تنومند کبڈی کا کھلاڑی ہے۔ اس پر اس
مزید پڑھیے


’’ایک شاندار حُسن والا گھوڑا…کشمیر‘‘

بدھ 27 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میری امّی جان اور میری دو عدد خالائیں اپنی روز مرہ کی گفتگو میں محاورے بے دریغ استعمال کرتی تھیں‘ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ محاوروں میں کچھ کچھ گفتگو کرتی تھیں۔ ہماری زبان یعنی پنجابی کو ایک تو دیگر زبانوں نے زدو کوب کیا اور اس کے علاوہ خود پنجابیوں نے بھی اپنی مادری زبان سے نفرت کی انتہا کر دی۔ بہرحال مجھے ہمیشہ قلق رہے گا کہ میں نے اپنے گھر میں کثرت سے استعمال کئے گئے محاوروں کو محفوظ کیوں نہ کیا۔ ہماری مائیں‘ خالائیں اور پھوپھیاں گئیں تو ان کے ساتھ پنجابی کے
مزید پڑھیے


’’گوروارجن دیو‘ شاہجہاں کی بیٹی اور شوکت خانم‘‘

اتوار 24 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
شہر لاہور کے بہت سے باسی اکثر موچی دروازے کے اندر واقع ایک قدیم کنویں کے قریب سے گزرتے رہتے ہیں اور وہ اس کنویں سے منسوب دوستی کی ایک لازوال داستان سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ایک مسلمان درویش حضرت میاں میر اور ایک سکھ گورو ارجن دیو کی دوستی کی داستان ۔ یہ کنواں جو ’’لال کھوہ‘‘ کہلاتا ہے البتہ اپنی ذائقہ دار برفی کے لئے دنیا بھر کے لاہوریوں میں معروف ہے اور اس داستان میں یہاں کی برفی بھی ایک تاریخی کردار ہے۔ گورو ارجن دیو حضرت میاں میر کے نہ صرف قریبی دوست تھے بلکہ روائت
مزید پڑھیے




’’حضرت میاں میر‘ چھجو بھگت اور داراشکوہ‘‘

بدھ 20 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لاہور تاریخ کے نگار خانے میں ایک عجائب ہے۔ بہت دیوانگی‘ عبادت‘ ریاضت پاکیزگی اور روحانیت کا۔ اس نگارخانے میں ایسی ایسی محیرالعقول داستانیں رقم ہیں کہ انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ یقین کس کا کرے۔ تعصب ‘ مذہبی تنگ نظری کا یا فراخ دلی اور انسانیت کے اعلیٰ پیمانوں کا۔ مجھے آج تین الگ الگ داستانیں سنانی ہیں۔ تاریخ اور عقیدے کے تین سب سے بڑے جری اور شاندار کردار اور تینوں کی عظمت اور پارسائی میں کچھ شک نہیں۔ حیرت یہ ہے کہ یہ تینوں اگرچہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ مسلمان ہندو اور
مزید پڑھیے


’’بائے بائے بسنت۔ ویلکم ویلنٹائن‘‘

اتوار 17 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
اِک دن رہیں بسنت میں اِک دن جئیں بہار میں اِک دن پھریں بے انت میں اِک دن چلیں خمار میں دو دن رکیں گرہست میں اِک دن کسی دیار میں (منیر نیازی) آپ مشہور پنجابی لوگ گیت’’جگنی‘ کے ان مصرعوں سے تو آگاہ ہوں گے کہ ‘جگنی جاوڑی وچ روہی۔ اوتھے رو رو کملی ہوئی۔ اوہدی وات نہ لیندا کوئی۔ یعنی جگنی روہی کے ویرانے میں چلی گئی اور وہاں رو رو کر کملی ہو گئی اور پھر بھی کسی نے اس کی خبر نہ لی۔ ان دنوں بے چاری بسنت بھی جگنی ہو چکی ہے۔ دشمنوں کے نرغے میں آ گئی ہے۔ روتی ہے فریادیں
مزید پڑھیے


’’گورنر ہائوس سندھ میں ادب فیسٹول کا مور ناچا‘‘

بدھ 13 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سندھ کے گورنر ہائوس کے سبزہ زاروں اور چمن زاروں میں کچھ ادیب گمشدہ بھیڑوں کی مانند پھرتے تھے اور انہیں اپنی شکل کی کوئی بھیڑ نظر نہ آتی تھی اور سندھ کے گورنر ہائوس میں ’’ادب فیسٹول پاکستان کراچی‘‘ کا امتیازی نشان یعنی مور ناچتا پھرتا تھا اور اسے کل دنیا دیکھتی تھی۔ اور یہ مور بھی ناچتا پھرتا تھا اور شناسا چہروں والے ادیبوں کو تلاش کرتا پھرتا تھا اور وہ دکھائی ہی نہ دیتے تھے۔ یہ ادب فیسٹول دراصل آکسفورڈ لٹریری فیسٹول کی پسلی میں سے پیدا ہوا تھا۔ تقریباً دس برس پیشتر برادر آصف فرخی اور محترمہ
مزید پڑھیے


’’پنجاب کی آخری شہزادی‘ بمباں سدر لینڈ کی ویران قبر‘‘

اتوار 10 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
فرق شاہی و بندگی برخاست چوں قضائے نوشتہ آید پیش گر کسے خاک مردہ باز کند نہ شناسد تونگر از درویش پنجاب کی آخری شہزادی‘ شہزادی بمباں سدر لینڈ۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پڑپوتی۔ مہاراجہ دلیپ سنگھ کی پوتی کی قبر پر اس روز بھی کوئی پھول کوئی گلدستہ نہ تھا جس روز پورے قبرستان میں غریب ترین اور گمنام ترین شخص کی قبر پر پھول بکھرے ہوئے تھے۔ مندرجہ بالا رباعی گویا شہزادی کی اس حالت زار کی گواہی دیتی تھی کہ ہاں آج تو بادشاہ اور درویش میں کچھ فرق باقی نہیں رہا۔ موت نے شاہی و بندگی کے فرق مٹا دئیے…’’نے
مزید پڑھیے


’’لاہور کا قدیم ترین گورا قبرستان…1841ئ‘‘

بدھ 06 فروری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
عام طور پر قبرستان کو ہمارے ہاں شہر خموشاں کہا جاتا ہے لیکن شہر تو کبھی خاموش نہیں ہوتے کہ جہاں لوگ آباد ہوں گے وہاں ان کی باتوں کا شورتو ہو گا‘ آوازیں تو ہوں گی۔ چنانچہ جیسے شہر بولتے ہیں ایسے قبرستان بھی بولتے ہیں اگرچہ سرگوشیوں میں اور یہ سرگوشیاں خاص طور پر انہیں سنائی دیتی ہیں جن کے پیارے وہاں دفن ہوتے ہیں۔ کیا ہم اپنے عزیزوں کی ڈھیریوں کو چھوتے ہی دل ہی دل میں ان سے مخاطب نہیں ہوتے۔ ان سے کلام نہیں کرتے۔ کبھی آپ کو کوئی خوشی ملتی ہے‘ کوئی خاص عنائت
مزید پڑھیے