BN

مستنصر حسین تارڑ



’’داتا گنج بخش اور سِکھ سردار کی منت‘‘


میں داتا گنج بخش کے مزار کے برابر والی گلی میں لنگر تقسیم کر رہا ہوں۔ میرے سامنے چنے کے پلائو کی تین دیگیں دھری ہیں۔ آگے بڑھے ہوئے ہاتھ ہیں۔ جھولیاں اور شاپر ہیں اور میں انہیں بھرتا جا رہا ہوں۔ یہ 25دسمبر کے بڑے دن کی ایک دھندلی سویر ہے۔ چاول تقسیم کرتے میرا ہاتھ دکھنے لگتا ہے لیکن میں رک نہیں سکتا۔ سوال کرتی‘ بھیک مانگتی‘ غربت زدہ آنکھیں ہیں جو مجھے اس آس میں تک رہی ہیں کہ میں ایک جعلی سخی بابا ان کی جھولی بھر دوں‘ ان کی بھوک کا مداوا کر دوں۔ یہ
بدھ 30 جنوری 2019ء

’’جھلّی چلی گئی۔ رُوحی بانو‘‘

اتوار 27 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
’’کتاب عُمر کا ایک باب ختم ہوا شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا‘‘ روحی بانو کے بھی سب عذاب ختم ہوئے۔ سب آزمائشیں ‘ سب امتحان‘ سب نارسائیاں سب دُکھ درد ختم ہوئے۔ کسی کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ کہاں کس ماحول میں پیدا ہو جائے۔ اس کے بس میں یہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ماحول سے فرار ہو جائے۔ اپنا پس منظر پوشیدہ کر کے ’’مہذب‘‘ معاشرے میں شامل ہو جائے۔ روحی بانو بیک وقت دو دُنیائوں میں سانس لیتی تھی ایک وہ دنیا جہاں ادب ‘ فلسفے ‘ نفسیات اور فنون لطیفہ کی باتیں ہوتی
مزید پڑھیے


’’علاقے کا نیا تھانیدار‘‘

بدھ 23 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
’’بیگم بیگم…کیا زلزلہ آ رہا ہے’’میں نے کار کے سٹیرنگ پر ہاتھ مار کر کہا‘‘ ذرا باہر دیکھو۔ دائیں بائیں جتنی بھی عمارتیں گزر رہی ہیں وہ سب کی سب لرزش میں ہیں۔ لگتا ہے کہ ابھی ابھی کڑم دھم گر جائیں گی۔ بیگم قیامت آنے والی ہے۔ مجھے اس ملک کی تباہی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ بیگم کچھ تو بولو’’بیگم نے حسب معمول میری جانب خشمگیں نظروں سے دیکھا‘‘ یہ کیا ہو گیا ہے تمہیں۔ کچھ دنوں سے لگتا ہے کہ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہو۔ باہر گزرتی عمارتیں ہرگز لرزش میں نہیں ہیں اور یہ
مزید پڑھیے


’’آوارگی میں ہم نے کتابوں کی سیر کی‘‘

اتوار 20 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لائبریری کے سوا ایک اور مقام ایسا ہے کہ آپ میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے لے جائیے اور میں کچھ دیر کے بعد آپ کو بتا دوں گا کہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں۔ انارکلی ‘ مال روڈ اور پاک ٹی ہائوس کے باہر فٹ پاتھوں پر پرانی کتابوں کا جو جہان ہر اتوار سجتا ہے اپنی زوال پذیر مہک اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ایک زمانہ میں میری اتوار کی سویریں اس جہان میں گزرتی تھیں۔ یہ جو فٹ پاتھوں پر بکھرا پرانی کتابوں کا جہان ہوتا ہے اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے
مزید پڑھیے


’’کتاب کی خوشبو…مورا کامی اور حنیف کے نئے ناول‘‘

بدھ 16 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
یہ کتاب کی شائع شدہ حرف کی خوشبو ہے جس نے سب سے پہلے میرے بدن کی مساموں میں سرایت کیا۔ میں ابھی موسموں‘ بدنوں اور منظروں کی مہک سے آشنا نہ ہوا تھا جب کتاب کی مہک نے مجھے اپنا اسیر کیا۔ میرے والد صاحب نے زراعت کے بارے میں باقاعدہ درجنوں تحقیقی کتب تصنیف کیں اور تقریباً تیس برس تک’’کاشتکار جدید‘‘ کے نام سے فن زراعت کے بارے میں ایک پرچہ ترتیب دیتے رہے۔ وہ ہمیشہ چارپائی پر بیٹھ کر تہبند اور قمیض زیب تن کئے، حقے کی نال منہ میں دبائے کتابیں لکھتے کہ چارپائی کی ادوائن
مزید پڑھیے




’’دستک نہ دو‘ الطاف فاطمہ‘‘

اتوار 13 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
میرا خیال ہے کہ لونئیل عہد کی وہ رہائش گاہ ‘ وہ کوٹھی‘ جس کے برآمدے بیلوں سے ڈھکے ہوئے تھے اور بیلوں پر سارا دن دھوپ ٹھہری رہتی تھی اور ایک وسیع اجاڑ سا باغ اس کے گرد پھیلا ہوا تھا۔ چند شجر تھے لیکن ان میں پرندے بہت تھے۔ وہ رہائش گاہ میرا خیال ہے کہ اب تک لاہور کی دیگر قدیم عمارتوں کی مانند ایک کھنڈر ہو چکی ہو گی۔ سینٹ انتھونی چرچ کے تقریباً پہلو میں۔ لارنس روڈ پر واقع وہ طویل برآمدوں والی کوٹھی آج سے تقریباً نصف صدی پیشتر آباد تھی۔ بیلوں پر پھول
مزید پڑھیے


’’قطرہ قطرہ دل میں آنسو گرتے ہیں‘‘فہمیدہ ریاض

بدھ 09 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
سب شیشے سب شیشے‘ ساغر ‘ لعل و گہر دامن میں چھپائے بیٹھی ہوں سب ثابت و سالم ہیں اب تک اک رنگ جمائے بیٹھی ہوں ٭٭٭ یہ نازک موتی عزت کا اور ایماں‘ کانچ کا یہ پتلا یہ ساغرِ دل کا سرخ کنول لبریز میٔ احمر سے سدا چٹخے نہ خراش آئی اِن پر تم ان کی صفا دیکھو تو ذرا ہے جھل جھل ان کی آب وہی اور جگ مگ ان کی وہی ضیا ٭٭٭ پتھرائو تھا چومکھ ان پر بھی ٹکرائی تھی ان سے بھی دنیا دو نسوانی بانہوں نے مگر دیکھو ہر پتھر جھیل لیا (فہمیدہ ریاض) موت کی درانتی کاٹتی چلی جاتی ہے۔ بے جان کرتی چلی جاتی ہے‘ کچھ لحاظ نہیں کرتی کہ
مزید پڑھیے


’’موراں سرکار‘ لاہور کی امرائو جان ادا‘‘

اتوار 06 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
لاہور کے لوہاری دروازے کے اندر ‘ سارنگی سکول سے آگے۔ کفن دفن کی شاید واحد دکان سے کچھ فاصلے پر۔ چوک چکلا کے نواح میں ایک ایسی قدیم تاریخی حویلی جس کے تمام کمرے‘ خواب گاہیں‘ مہمان خانے‘ سب کے سب اندھے تھے ان میں سے کسی ایک میں بھی نہ کوئی کھڑکی تھی‘ نہ کوئی روزن نہ روشنی کا کوئی در۔ اسی لئے وہ’’اندھی حویلی‘‘ کے نام سے جانی گئی۔ کوئی نہیں جانتا کہ اسے تعمیر کرنے والا شخص کون تھا۔ کوئی سِکھ سردار‘ کوئی مُغل شہزادہ یا کوئی سوداگر بے پناہ وسائل والا ‘ بہر طور یہ
مزید پڑھیے


’’طوطا کہانی اور اندھی حویلی کے اسرار‘‘

بدھ 02 جنوری 2019ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم سب چھجو بھگت کا چوبارا ‘ ایبک کا مزار اور لاہور کا قدیم ترین پُرتگالی کلیسا دیکھنے کے بعد جہاں کبھی ’’مکتبہ جدید ‘‘ ہوا کرتا تھا اور میں بچپن میں حنیف رامے صاحب سے کتابیں خریدنے آیا کرتا تھا اور اس کے آگے جو فٹ پاتھ تھا‘ وہاں ساغر صدیقی کا ڈیرہ ہوا کرتا تھا‘ میں اور یوسف کامران اکثر ساغر کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ کر گپیں لگایا کرتے تھے‘ اس فٹ پاتھ کے پار سرکلر روڈ کو عبور کرنے کے بعد‘ گل فروشوں کے کھوکھوں سے ذرا آگے جب ہم اندرون شہر میں آوارگی کے
مزید پڑھیے


’’ہسپتال روڈ کے فوٹو گرافر اور قطب الدین ایبک کا مزار‘‘

اتوار 30 دسمبر 2018ء
مستنصر حسین تارڑ
ہم میو ہسپتال سے باہر آ کر ہسپتال روڈ پر چلتے ایبک روڈ کی جانب رواں ہو گئے جہاں ہم نے قطب الدین ایبک سے ملنا تھا‘ ہو سکتا ہے وہ چوگان کھیلتا ابھی تک گھوڑے سے نہ گرا ہو۔ ایک روائت ہے کہ اس نے کسی خاتون سے بدسلوکی کی تھی اور یہ اس کی بددعا تھی جس کے نتیجے میں وہ پولو کھیلتا گھوڑے سے گر کر مر گیا۔ مجھے اس روائت کو تسلیم کرنے میں کچھ تامل ہے۔ اگر کوئی خاتون بدسلوکی کی وجہ سے کسی مرد کو بددعا دے اور وہ فوت ہو جائے تو اس
مزید پڑھیے