BN

مظفر بخاری



ایک تھی بھینس اور ایک تھی بکری


( پچھلے ہفتے اخبارات میں دو دلچسپ خبریں نظر سے گزریں جو جانوروں کے بارے میں تھیں۔ آج کا کالم میں نے انہی خبروں کو بنیاد بنا کر لکھا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں: ) چشتیاں کے قریب ایک گائوں میں بشیر احمد نامی ایک شخص رہتا ہے جس نے ایک بھینس پال رکھی تھی۔ یہ بھینس روزانہ چھ کلو دودھ دیتی تھی جس سے بشیر احمد کے گھر کی دال روٹی چلتی تھی۔ پھر یوں ہُوا کہ اس بھینس نے چھ کلو کی بجائے ڈیڑھ کلو دُودھ دینا شروع کر دیا۔ بشیر احمد سمجھا کہ مسلسل خشک سردی پڑنے اور بارش نہ
جمعرات 09 جنوری 2020ء

کلچر کلچر ہوتا ہے، مشرقی ہو یا مغربی

پیر 06 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
ہمارے ایک دوست نصیر محمود نقوی عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ پچھلے دِنوں پاکستان تشریف لائے تو ہمیں امریکی طرزِ حیات کے بارے میں بہت کچھ بتا گئے ۔ ایک واقعہ انہی کی زبانی آپ بھی سُنیے۔ "ایک روز مُجھے ایک دعوتی کارڈ موصول ہوا جس کا اُردو ترجمہ کچھ یوں ہے: " مکرمی جناب نقوی صاحب! تسلیمات ! ازدواجی زندگی کے پانچ طویل سال گزارنے کے بعد اب ہم میاں بیوی نے خوش اسلوبی اور اتفاق رائے سے علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلاق کی تقریب رائل پیلس ہوٹل میں بتاریخ 5 جون 2017 ء
مزید پڑھیے


توندوں کی شامت

هفته 04 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
خیال تھا کہ نئے سال کی خوشی میں آئی ۔جی (پولیس ) کی طرف سے اُن اہل کاروں کو خصوصی انعامات اور اعزازات سے نوازا جائے گا جنھوں نے سال 2019 ء میں بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی طرف سے ان اہل کاروں کو جن کی توندیں بڑھی ہوئی ہیں، ایک سخت اور نا پسندیدہ وارننگ دے دی گئی ہے جو کچھ یوں ہے کہ توند یافتہ پولیس اہل کار جب تک اپنی توندوں سے نجات حاصل نہیں کر لیتے، اُنھیں فیلڈ میں تعینات
مزید پڑھیے


اندازِ گفتگو کیا ہے

بدھ 01 جنوری 2020ء
مظفر بخاری
}آج کل اخبارات میں سنجیدہ کالموں کا " ہڑ" آیا ہُوا ہے۔ جنھیں پڑھ کر قارئین رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ میری اور برادرم ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی کوشش ہے کہ قارئین کی خدمت میں سویٹ ڈش کے طور پر طنزیہ اور مزاحیہ تحریر یں پیش کی جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سنجیدگی کے بوجھ تلے دب کر قارئین مسکرانا ہی بُھول جائیں۔ تو یہ لیجئے ایک ہلکی پھلکی تحریر۔{ میرا دوست سلیم عسکری کسی زمانے میں افسانے لکھا کرتا تھا لیکن اب اُس کی افسانہ نگاری قصّہٗ پارینہ بن چکی ہے۔ البتہ اُس کی روز
مزید پڑھیے


چشم دید گواہ

پیر 30 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
ایک شام میں اپنے ایک وکیل دوست اسد للہ شاہ کے دفتر جا نکلا ۔ ان کے بائیں ہاتھ ایک مسکین صورت، سراسیمہ نوجوان بیٹھا تھا۔ شاہ صاحب نے مجھ سے ہاتھ ملا یا،حال احوال پوچھا اور میرا منہ بند کرنے کے لئے سگریٹ پیش کردیا۔ اس نوجوان کے چہرے پر بے چارگی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، اور وہ رحم طلب نظرو ں سے شاہ صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شاہ صاحب نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ سرجھکا کر دائیں ٹانگ ہلانے لگا۔" ٹانگ مت ہلائو!" شاہ صاحب نے اسے ڈانٹا ۔ ڈانٹ سن کر
مزید پڑھیے




بدقسمت

پیر 23 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
خان صاحب ہمارے عزیز دوستوں میں سے ہیں۔ آپ اُن کی داستانِ غم سنیں گے تو کلیجہ مُنہ کو آئے گا۔ دُنیا میں یوں تو بڑے بڑے بدقسمت لوگ پیدا ہوئے ہیں لیکن خان صاحب جیسا بدقسمت انسان آپ کو خوش قسمتی ہی سے ملے گا۔ اُن کی پہلی اور بنیادی بدقسمتی تو یہ ہے کہ اِس برِّ صغیر میں پیدا ہوگئے جہاں جہالت ہے، بھوک ہے، بیماری ہے اور جہاں کے رہنے والے ہر لحاظ سے جانوروں سے بھی بدتر ہیں اور پھر ایسے گھر میں پیدا ہوئے جہاں دولت کی ریل پیل تک نہ تھی۔ اُن کے والد
مزید پڑھیے


جمہوریت پسند بدمعاش

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
جمہوریت ایک ایسا طرز ِ حکومت ہے جس کے ثمرات سے نہ صرف شرفا بلکہ بدمعاش لوگ بھی مستفید ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات تو شرفا مُنہ دیکھتے رہ جاتے ہیں اور جمہوریت کی ساری برکتیں بدمعاشوں کے لیے مخصوص ہوجاتی ہیں۔ چند ہفتے پیشتر جاپان کے سب سے بڑے سنڈیکیٹ یعنی ادارۂ ترویج و تر قی جرائم کے سربراہ اِس جہا ن فانی سے کوچ کر گئے۔ اُن کی وفات پر جاپان کے جمہوریت پسند بدمعاشوں میں غم و اَندوہ کی لہر دوڑ گئی۔ آنجہانی کے سوگ میں تمام بدمعاشوں نے تین منٹ تک مجرمانہ سرگرمیوں سے
مزید پڑھیے


شہباز شریف۔ زرداری۔ علی بابا۔ زر بابا

پیر 16 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
آج کل مجھے سابق خادمِ اعلیٰ جناب شہباز شریف کی یاد بُری طرح ستا رہی ہے۔ آپ حیران نہ ہوں، میرا اُن کا تعلق تب سے ہے جب وُہ گورنمنٹ کالج لاہور میں بی۔اے کے طالب علم تھے اور میں وہاں ینگ لیکچرار تھا۔ میرے علاوہ ان کے اکنامکس کے اُستاد بھی بخاری تھے۔ سجاد بخاری مرحوم۔ ان سے دوسرا تعلق تو بہت ہی مضبوط ہے یعنی ہم 1972 ء سے ہمسائے ہیں۔ اُن دنوں میاں صاحب کی رہائش اتفاق فیملی کی کوٹھی نمبر ایک میں تھی، جہاں اب نواز لیگ کا دفتر ہے۔ چند سال پہلے انھوں
مزید پڑھیے


"میرے مرحوم سُسر"

بدھ 11 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
میرے مرحوم سُسر(father-in-law) سے میری پہلی ملاقات 1968 ء میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں مجھے ان کا son-in-law بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ شاہ صاحب ماضی بعید میں سیالکوٹ کے ایک قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے مقامی ہائی سکول سے بڑے اعزاز کے ساتھ میٹرک کا امتحان تھرڈ ڈویژن میں پاس کیا۔ تھرڈ ڈویژن آنے کی وجہ یہ تھی کہ آگے فورتھ ڈویژن نہیں تھی جس کی وجہ سے وُہ تھرڈ ڈویژن سے آگے ترقی نہ کر سکے۔ میٹرک کرنے کے چند ماہ بعد وُہ پولیس میں بھرتی ہوگئے
مزید پڑھیے


نئی نسل اور اُردو غزل

پیر 09 دسمبر 2019ء
مظفر بخاری
ارسلان میرا بھتیجا ہے۔ پیدائش سے لے کر او لیول (O Level)تک وہ انگلینڈ میں رہا۔ 2018 میں والدین کے ہمراہ پاکستان آگیا اور لاہور کے ایک کالج میں فرسٹ ائیر میں داخل ہو گیا۔ اس کی اردو مناسب ہے کیونکہ گھر میں اردو ہی بولی جاتی ہے۔ ایک روز بھابی ( ارسلان کی والدہ) نے فون پر مجھے کہا "بھائی جان ارسلان آپ کے پاس آرہا ہے۔ اس کو اردو کا ہوم ورک ملا ہے۔ اسے کروا دیجئے۔" تھوڑی دیر بعد ارسلان میاں تشریف لے آئے۔ کہنے لگے ـ"انکل! اردو کے ٹیچر
مزید پڑھیے