BN

ناصرمحمود ملک


باتیں پطرس بخاری کی !


پروفیسراحمد شاہ بخاری (پطرس ) محض ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رُخصت ہو گئے لیکن اس نسبتاً مختصر عرصہ حیات میں وہ ایسی غیر معمولی اور قابل قدر خدمات انجام دے گئے جنہیں جان کر حیرت گُم ہو جاتی ہے ۔ وہ جس طرف سے بھی گزرے اپنے انمٹ نقش اپنے پیچھے چھوڑتے گئے۔ جہاں بھی گئے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے گئے ۔ پطرس محفل کے آدمی تھے ۔ ہر محفل پہ چھا جانا ان کا شوق بھی تھا اور عادت بھی ۔ وہ جس بزم میں بھی ہوتے ان کی خواہش ہوتی کہ یہاں صرف اُن کی
منگل 23  اگست 2022ء مزید پڑھیے

باکو ، حسن و جمال اور پروفیسر خوشحال

اتوار 24 جولائی 2022ء
ناصرمحمود ملک
باکو ، آذربائیجان میں ہوٹلوں کی درجہ بندی بھی خوب دیکھی ۔کئی دیگر معاملات کی طرح یہاں ہوٹلز کی درجہ بندی بھی انہوں نے خود ہی وضع کی ہوئی ہے ۔ یہاں کسی ہوٹل میں آٹھ نو کمرے ہوں تو اُسے یہ لوگ تھری سٹار ہوٹل کہتے ہیں ۔میرا ہوٹل بھی اسی علاقے میں تھا اور اس کے چونکہ دس بارہ کمرے تھے لہذا یہاں کی انتظامیہ اسے فور سٹار ہوٹل قرار دے رہی تھی ۔ مجھے اس پہ بالکل اعتراض نہیں تھا میں اُن سے صرف یہ کہہ رہا تھا کہ فور سٹار ہوٹل کے کمروں میں عموماً گرم
مزید پڑھیے


آذربائیجان۔۔ پرستان

بدھ 13 جولائی 2022ء
ناصرمحمود ملک
کچھ دن پہلے میرا آذربائیجان جانے کا پروگرام بنا ۔روانگی سے قبل میں نے کچھ ا حباب سے ا س بارے میں مشورہ کرنا بہتر سمجھا ۔ اس دوران میں نے ایک چیز نوٹ کی کہ آذربائیجان جانے کے پروگرام کے بارے میں جس بھی صاحبِ نظر شخص کو بتایا اس کے چہرے پہ پہلے تو عجیب شرارتی سی مسکراہٹ آئی اور پھر اُس نے یہ ضرور پوچھا کہ ، ’’ جناب خیر تو ہے ! آپ جیسے بھلے آدمی کا وہاں کیا کام ‘‘ ؟۔ان میں سے کسی نے اگر یہ واہیات
مزید پڑھیے


پطرس ، احباب اور لاہور

جمعرات 02 جون 2022ء
ناصرمحمود ملک
پطرس بخاری 1917ء میں لاہور آئے اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے ۔ اس کے بعد یہ جہاں بھی گئے لاہور ان میں سے نہیں نکل سکا۔پطرس کے جگری یار امتیاز علی تاج لکھتے ہیں کہ پطرس اٹھارہ انیس سال کے تھے جب وہ پشاور سے لاہور آئے جب اُن سے ملاقات ہوئی ۔ پھر اگلے اٹھارہ انیس سال کا کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب پطرس لاہور میں ہوں اور اُن دونوں نے سہ پہر سے لے کر رات تک کا وقت اکٹھے نہ گزارا ہو ۔ بخاری یار باش آدمی تھے ۔ دوستوں کی محفلیں
مزید پڑھیے


’’میزباں ‘‘ کیسے کیسے

جمعرات 28 اپریل 2022ء
ناصرمحمود ملک
میں سمر قند سے بذریعہ بلٹ ٹرین واپس تاشقند آ رہا تھا ۔ ان دونوں تاریخی شہروں کا فاصلہ قریب لاہور سے اسلام آباد جتنا ہے ۔ ازبکستان کی سیر کے دوران صرف اس بلٹ ٹرین پر ہی ،جسے وہاں ’ افراسیاب ‘ کہتے ہیں ، سفر کا موقع مل جائے تو بندے کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں۔ یہ جدید سہولتوں سے آراستہ ایک شاندار ٹرین تھی اور اس کا سفر بڑا آرام دہ اور پُرلطف تھا ۔ ٹرین پر میرے ساتھ والی سیٹ پر تیس بتیس سال کاایک اُزبک جوان بیٹھا تھا ۔ ٹرین روانہ ہوئی تو میں
مزید پڑھیے



یادش بخیر !

جمعه 08 اپریل 2022ء
ناصرمحمود ملک
بچوں کو سکول لیجانے والی گاڑی کا ڈرائیور چھٹی پہ تھا دوسرا کوئی انتظام نہ ہو سکا تو میں نے بچوں سے درخواست کی کہ وہ آج ایک دن چھٹی کر لیں ۔ بچوں نے سکول نہ جانے پر شدید احتجاج کیا ۔ایک بچہ کہہ رہا تھا کہ آج اُ س کا کوئی ضروری ٹیسٹ ہے جس میں Appear ہونا لازمی ہے ۔دوسرے بچے کو آج کوئی بڑی اہم اسائنمنٹ جمع کروانی تھی ۔جبکہ تیسرے بچے نے آج کسی Debate Competition میں حصہ لینا تھا۔ تینوں بچے چھٹی کا سُن کر تقریباً سکتے
مزید پڑھیے


ہر بوالہوس نے حُسن پرستی شعار کی

جمعرات 17 مارچ 2022ء
ناصرمحمود ملک
اگلے دن استاد غالب ؔ کا یہ شعر یاد آیا تو دل میں کئی خیالات اُبھرے : ہر بوالہوس نے حُسن پرستی شعار کی اب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی استاد اپنے اس شعر میں گلا کر رہے ہیں کہ اب کاروبارِ شوق کم ظرف اور بد ذوق لوگوں کے ہاتھ میں آگیا ہے ۔ چنانچہ حسِ جمال اور ذوق ِ سلیم رکھنے والے نفیس طبع لوگوں کی قدروقیمت کم ہوتی جارہی ہے ۔ مرزا کے اس شعرسے معلوم ہوتا ہے کہ اُن سے پہلے کسی زمانے میں محبت اور اظہارِ محبت میں باقاعدہ کوئی طور طریقے اور مہذبانہ اقدار کا خیال
مزید پڑھیے


تیشئہ نثر

جمعرات 03 مارچ 2022ء
ناصرمحمود ملک
درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفہیم میں دِقّت کا اعتراض ہے ۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیش خدمت ہیں ۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقت کا سامنا رہتا ہے جس کا اظہار قارئینِ محترم کرتے رہتے ہیں ۔ اور کئی دفعہ انتہائی کوشش کے باوجود خود یہ طالبِ علم بھی اپنی تحریر کا مطالعہ اردو لغت کی مددکے بغیر نہیں کر سکا ۔ ایسے میں کسی دوسرے کا گلہ چہ
مزید پڑھیے


ایسے استاد اب کہاں۔۔۔

بدھ 02 فروری 2022ء
ناصرمحمود ملک
پروفیسر جمالیؔ صاحب کا لیکچر شروع ہوتا اور حسبِ معمول کلاس کے اکثر طلباء پورے انہماک اور مکمل خلوص کے ساتھ سو جاتے ۔پروفیسر صاحب کے لیکچر کے دوران طلباء کا سونا ایک روٹین تھی جس میں لڑکوں کی خواہش کے علاوہ پروفیسر صاحب کی مرضی بھی شامل تھی ۔ لڑکے سو رہے ہوتے تو پروفیسر صاحب کا لیکچر اپنے عروج پہ ہوتا ۔ کلاس جاگ رہی ہوتی تو دونوں طرف مایوسی ہوتی ۔۔پروفیسر صاحب کا تسلسل ٹوٹ جاتا اور ان کی زبان لڑکھڑانا شروع ہو جاتی ۔ کچھ لوگوں کو نیند میں بولنے کی عادت
مزید پڑھیے


جعلی مرید

منگل 18 جنوری 2022ء
ناصرمحمود ملک
مجھے چند ایسے مہربانوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے جو بات بات پہ جناب واصف علی واصفؔ ، بابا اشفاق احمد اور اس طرح کے دیگر صوفی بابوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔یہ ہر موقع پر ان لوگوں کی زندگیوں سے مثالیں اور حوالے دیتے رہتے ہیں ۔ اور ان اقوال اور مثالوں کے زور پر یہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ ہر دوسری بات کا آغاز اس طرح کریں گے کہ ، ’’ بابا جی فرما گئے ہیں کہ ‘‘ اور اس کے بعد لمبی چوڑی گفتگو شروع کر دیں گے ۔دوسری طرف
مزید پڑھیے








اہم خبریں