Common frontend top

نعیم قاسم


زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ


میرا جس کوہکن سے اوائل عمری میں تعلق خاطر استوار ہوا وہ غالب کے کوہکن کی طرح سر گشتہ خمار رسوم و قیود نہ تھا۔ میرے ہیرو اور مربی کی شیریں اسکا وطن عزیز تھا اور آج بھی ہے ،مگر دشمنان جاں نے کوئی دقیقہ فرو گزشت نہیں چھوڑ ا کہ وہ شیریں کے عشق جاں پرسوز کا خیال دل سے نکال دے مگر وہ شیریں کے عشق لازوال کا اسیر ہو کر سنگلاخ چٹانوں پر تیشہ زنی کئے جا رہا ہے اور بضد ہے کہ وہ جوئے شیر کو ہر حال میں حقیقت کا روپ دے گا مگر
هفته 24 فروری 2024ء مزید پڑھیے

"جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے، وہ نظر کیا"

هفته 17 فروری 2024ء
نعیم قاسم
فافن، دولت مشترکہ اور غیر ملکی مبصرین نے آر، او آفسز میں دھاندلی کو بے نقاب کرتے ہوئے اس چیز پر شدید اعتراض کیا کہ رزلٹ منتج کرتے وقت میڈیا اور امیدواروں کے سامنے گنتی نہیں کی گئی اور انہیں دفاتر سے نکال دیا گیا اور بعد میں رزلٹ خود سنانے کی بجائے کئی گھنٹے نتائج روک کر رزلٹ الیکشن کمیشن نے اناؤنس کئے ۔ پنجاب میں چا لیس سے زائد نشستوں پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار اپنے ریٹرنگ آفیسرز کی تلاش میں ہیں مگر پولیس کے ذریعے ان کی رسائی نا ممکن بنا دی گئی
مزید پڑھیے


متنازع انتخابات اور جمہوریت

هفته 10 فروری 2024ء
نعیم قاسم
تحریک پاکستان کی ایک اہم ترین بنیاد جمہوریت تھی اور جمہوریت کی بنیاد منصفانہ انتخابات ہوتے ہیں تاکہ پارلیمنٹ میں عوام کے حقیقی نمائندے ان کے جائز حقوق کا تحفظ کریں۔ قائداعظم بر صغیر کی سیاسی قیادت میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار سے وابستگی کے لحاظ سے ایک نمایاں مقام کی حامل شخصیت تھے وہ جب تک قبل آزادی کی مرکزی مجلس قانون ساز کے رہے تو انہوں نے ہر مسئلے پر وہی مؤقف اختیار کیا جو دستور، قانون اور جمہوریت کے ارفع اصولوں کا تقاضا تھا۔ قائد اعظم کہا کرتے تھے کہ جمہوریت ہمارے خون میں ہے
مزید پڑھیے


ہمارا قومی المیہ!

هفته 03 فروری 2024ء
نعیم قاسم
آشوب آگہی کا شکار باشعور پاکستانی جب اپنے گرد و پیشدیکھتا ہے تو اسے اپنے المیے کا طول و عرض کچھ یوں دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے جن مقاصد کے لیے یہ وطن حاصل کیا تھا ان میں سے سوائے ہندو اکثریت کے غلبے سے نجات کے کوئی ایک بھی مقصد پورا نہیں ہوا۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارا حکمران طبقہ اسلام سے مخلص نہ ہی جمہوریت اور عدل اجتماعی کے تصورات کے ساتھ سنجیدہ ۔ فوجی آمریت براہ راست اور بالواسطہ طور پر پچاس سال سے زائد عرصہ قائم رہی۔
مزید پڑھیے


اصلاح معاشرہ کا خبط

اتوار 28 جنوری 2024ء
نعیم قاسم
آج کل مذہبی، سیاسی، صحافتی، سماجی حضرات کے علاوہ حکومتی بزرجمہروں کے ذہن پر اصلاح معاشرہ کا خبط سوار ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک لیڈر نے بارہ کروڑنوجوان نسل کوغیر مہذب اور بے راہرو بنا دیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری دانشوروں کے ذریعے یونیورسٹیوں میں سیمینارز کے ذریعے ان نوجوانوں کی اصلاح کی جائے اور اگر وہ ناصح کے قول و فعل میں تضاد کی نشاندہی کریں تو پھر اپنے ہمنوا ؤں کے ذریعے ان نوجوانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے حالانکہ عوام خصوصاً نوجوان نسل کا فہمیدہ طبقہ کیسے ان
مزید پڑھیے



قومی سلامتی کے تصورات

هفته 20 جنوری 2024ء
نعیم قاسم
اگر ہم قومی سلامتی کے مختلف تصورات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس ضمن میں جہاں مختلف سیاست دانوں کا الگ الگ نقطہ نظر رہا ہے، وہیں فوجی نظریہ ہمیشہ سے یکساں رہا ہے نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے قومی سلامتی کے تصور کو قومی معیشت میں غیر ملکی قرضوں کے حوالے سے پیش کرتے ہوئے اس کا حل ایک ایسی قومی حکومت کو قرار دیا جو ایک طویل المدت معاشی روڈ میپ تجویز کرے اور اس میں فوج، ایجنسیاں اور مخالف سیاسی پارٹیاں بھی آن بورڈ ہوں آصف علی زرداری
مزید پڑھیے


'' پوسٹ ماڈرن ازم اور سیاسی رجحانات"

پیر 15 جنوری 2024ء
نعیم قاسم
1979 میں فرینکوس لیٹارڈ نے پہلی دفعہ پوسٹ ماڈرن ازم کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیاسی، مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی رجحانات کی تغیر پذیری، مختلف النوع توجیہات اور کثیر الجہتی نظریاتی بافتوں کی بنیاد پر ماڈرن ازم کی قائم کردہ تھیوریز کو مکمل طور پر رد کیا جا سکتا ہے، اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے عقلیت پسندی اور کلیاتی سچائی پر مبنی مفروضات اور اس سے اخذ کردہ معاشرتی بہبود کے قوانین کا اطلاق آج کے دور میں ممکن نہیں ہے۔ پوسٹ ماڈرن ازم کے مطابق آج کے جدلیاتی ارتقاء پزیر سماج میں مکمّل طور پر معروضی
مزید پڑھیے


گرین پاکستان پروگرام

اتوار 07 جنوری 2024ء
نعیم قاسم
یہ بات بے حد قابل تحسین ہے کہ جنرل عاصم منیر پاکستان کی ہمہ جہتی معاشی اصلاح کا ایک واضح روڈ میپ کا خاکہ اپنے ذہن میں ترتیب دے چکے ہیں اور اس کو عملی جامہ پہنانے پر گزشتہ چند ماہ سے عملی اقدامات بھی اٹھا رہے ہیں اور ان کے مثبت اثرات بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ سب سے اہم بات کرنسی مارکیٹ میں سٹہ بازی اور حوالہ مارکیٹ کے ذریعے فارن ایکسچینج کی بلیک مارکیٹ کو ختم کرنا ہے اور کچھ ماہ سے ڈالر کا روپے کے ساتھ شرح مبادلہ مستحکم ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور مغربی بارڈر
مزید پڑھیے


ریاست کا ادارہ جاتی بحران

هفته 30 دسمبر 2023ء
نعیم قاسم
کوئی باشعور پاکستانی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ریاست کے اداراتی ڈھانچہ کا مکمل بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ ہر ادارہ اعلی عدلیہ کے فیصلوں کو درخور اعتنا سمجھتے ہوئے اپنے اپنے ایجنڈوں پر کام کر رہا ہے۔ نگران حکومتیں مکمل طور پر قانون، آئین اور انسانی حقوق کو نظرانداز کر رہیہیں اگر کوئی کام کر رہا ہے تو وہ میڈیا آپٹکس ہیں۔ قانون اور آئین کی پہلی خلاف ورزی الیکشن کمیشن نے کی کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں ٹوٹنے پر سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود الیکشن نہ کرائے۔
مزید پڑھیے


تعلیم سے محروم بچے!!

هفته 23 دسمبر 2023ء
نعیم قاسم
گزشتہ ہفتے سلطانہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سکول سے باہر بچوں کے متعلق ایک سمینار میں شرکت کا موقع ملا جہاں ڈھائی کڑور سے زائد بچوں کی تعلیم سے محرومی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات پر غور کیا گیا۔ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر مل کر اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں؟ مخیر اور پڑھے لکھے لوگوں کو کیا کردار ادا کر نا ہے؟ ان سب پہلوؤں پر ماہرین تعلیم نے سیر حاصل گفتگو کی۔ امید فورم کے مدار المہام بیگ راج نے بتایا کہ کہ پاکستان میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد اس
مزید پڑھیے








اہم خبریں