BN

نو شی گیلا نی



اپنی بات


یہ اْن دنوں کی بات ہے جب ہَوا میری سہیلی تھی اور روح کے زرد رخساروں پر اپنے نرم ہاتھ رکھ کر اسمِ آگہی یاد کراتی۔۔ اَن دیکھی اَن کہی کے بھید بتاتی، کہیں خراماں خراماں چلتی ،بل کھاتی تو کبھی بے وجہ ہی ٹھہر جاتی۔۔ عمر کے ماہ و سال گزرتے گئے لیکن یہ رشتہ نہ تو مدھم ہوا اور نہ ہی برہم۔۔ گویا زرد پھولوں کی بارش سے لے کر گلابی روشنیوں کی بشارت تک کا سارا سفر مَیں نے اسی کی سادہ و پہلو داد رفاقت میں طے کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس طویل
منگل 03 دسمبر 2019ء

تعلیمی اداروں کو مقتل گاہ مت بنائیں

اتوار 03 نومبر 2019ء
نو شی گیلا نی
سْنا ہے کہ ایم اے او کالج لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر فرحان عبادتیار خان کو اپنے عہدے سے الگ کر دیا گیا۔ جس کی فوری وجہ اسی کالج کے لیکچرار محمد افضل کی خود کْشی بنی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس خود کشی کا پرنسپل کی برخواستگی سے کیا تعلق نکلتا ہے۔ تو واقعہ یوں ہے کہ مذکورہ کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ زوبیہ نسیم جو مِڈٹرم میں دوسری مرتبہ فیل ہو گئی تھی جس کی حاضریوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر تھی اس نے نمبروں میں اضافہ کے لئے پہلے تو
مزید پڑھیے


عمران خان کی تقریر کا دنیا پر اثر

منگل 22 اکتوبر 2019ء
نو شی گیلا نی
گزشتہ دنوں انگلینڈ کے شاہی خاندان کی ہر دلعزیز شہزادی کیٹ مڈلٹن پاکستان میں تھیں اور پاکستان اس حوالے سے دْنیا بھر کی خبروں میں۔ شہزادی کیٹ اور شہزادہ ولیم کا یہ دورہ اس امر کی دلیل قرار دیا جا رہا تھا کہ پاکستان اب ایک محفوظ مْلک ہے اور سیّاحت کے لیے بہت موزوں۔ دہشت گردی بڑی حد تک ختم کی جا چکی ہے۔ عالمی سطح پر وطنِ عزیز کا یہ پْر امن تاثر اطمینان و عزت کا باعث بنا، ایک طویل عرصہ کے بعد پاکستان خیر کی خبروں کا حصّہ بنا۔ بظاہر یہ خیر سگالی دورہ تھا لیکن
مزید پڑھیے


تارکین وطن

پیر 12 نومبر 2018ء
نو شی گیلا نی
جس طرح ترقی پسندی کو سب سے زیادہ نقصان نام نہاد ترقی پسندوں کے کردار و معیار نے پہنچایا ہے بالکل اسی طرح اسلام اور اس کے ماننے والوں کو سب سے زیادہ دھچکا سیاسی و غیرسیاسی غرض پرست مْلّائیت سے لگا ہے۔ دینِ اسلام وہ عظیم مذہب ہے جو اپنی اعلیٰ اخلاقی تعلیمات کے باعث انتہائی اہم مقام رکھتا ہے۔ جس کی کتاب القران المجید میں ہر قدم پر انسانیت کے ساتھ بہترین روّیہ رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ دشمن سے بھی رواداری برتنے کا کہا گیا ہے جس کی مثالیں نبی پاکؐ کے شب و روز میں
مزید پڑھیے


کشمیر انسانیت کی قتل گاہ

پیر 29 اکتوبر 2018ء
نو شی گیلا نی
کشمیر ایک مدّت سے انسانیت کی قتل گاہ بنا ہوا ہے۔ 17 برس گزر گئے ہیں اور تقریباً تین سے زیادہ نسلیں اپنا جان و مال دے کرآزادی کی اس جدو جہد کوجاری رکھے ہوئے ہیں۔ وادی کشمیر جو ہمیشہ سے اپنے فطری حْسن کے حوالے سے سراہی جاتی رہی اب ظلم و بربریت کی مثال بن چکی ہے۔ یہ بہار رنگ زمین اپنے اندر اتنا لہو جذب کر چکی کہ اب تو اس پر کِھلتے گْل و بْلبل بھی لہو رنگ آنکھیں لیے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ قتلِ بے جا کب ختم ہو گا؟ حیرت تو
مزید پڑھیے




نزاکت اور محنت کی تصویر کشی

اتوار 21 اکتوبر 2018ء
نو شی گیلا نی
وِچ روھی دے رَہندیاں نازک نازو جَٹّیاں راتیں کرن شکار دِلیں دے،ڈیہاں ولوڑنڑ مَٹّیاں سرائیکی زبان کے صوفی شاعر حضرت خواجہ فرید کی یہ کافی روھی چولستان میں بسنے والی عورت کی نزاکت اور محنت کش طبیعت کی تصویر کشی کرتی ہے اور ساتھ ہی اس صنفِ نازک نازو سے محبت اور احترام کی دعوت دیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ شاید سیّد خانوادے سے تعلق ہونے کے باعث،ہمارے گھر میں ہمیشہ سے صْوفیا و اولیائے کرام سے عقیدت کا خاص ماحول رہا ہے۔میرے سرائیکی وسیب میں تو یوں بھی خواجہ صاحب کی شاعری منّتوں مْرادوں کی شاعری مانی جاتی ہے۔ میرے ابوجی
مزید پڑھیے


عمران خان کو کام کرنے دیں

هفته 13 اکتوبر 2018ء
نو شی گیلا نی
کئی دنوں سے حرف و معنی کی دْنیا پہ خْشک سالی سی تھی یا پھر شاید ہنگامہ ہائے زندگی میں تخلیقی یکسوئی کی کیفیت پیدا ہی نہیں ہو رہی تھی سو کالم تعطل کا شکار ہوتا چلا گیا۔ بس یونہی بے سود و ثمر مصروفیات کا انبار اپنی گرفت میں لیے رہا ، اک گردشِ بے مایہ تھی جو گھیرے میں لیے رہی۔ کبھی کبھی تو انسان سلسلہ ہائے روز وشب میں ایسے الجھتا ہے کہ حکایت کیا شکایت کا موقع نہیں ملتا۔ ایسے میں ہم ہجرت زدوں کو سر سبز درختوں کے درمیان بل کھاتے راستوں پر گاڑی دوڑاتے
مزید پڑھیے


نو واٹر ، نو ووٹ

منگل 26 جون 2018ء
نو شی گیلا نی
مشتاق احد یوسفی صاحب بھی رخصت ہوگئے۔۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔ ستانوے برس کی عمر میں اس جہانِ بے ثبات سے یہ ہجرت ان سے محبت کرنے والوںکے لئے ایک بڑا صدمہ ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ خلا کبھی پْر نہیں ہوسکے گا۔ ہمیں توکئی دہائیوں سے اْردو زبان و ادب کے منظر نامہ کو یوسفی صاحب کے بغیر دیکھنے کی عادت ہی نہیں رہی تھی۔ لیکن غور کیا جائے تو بے شک اْن کا وجود ہمارے درمیان نہیں ہوگا لیکن وہ اپنی تحریروں میں سدا مْسکراتے ہوئے زندہ و جاوید دکھائی دیں گے
مزید پڑھیے


ادب کی داستانِ سرائے

جمعه 01 جون 2018ء
نو شی گیلا نی
یوں تو بہت دن سے اچھی خاصی سیاسی اْٹھا پٹخ جاری ہے۔۔ ہم بھی اس میں رتّی بھر اپنا حصہ ڈالتے رہے ہیں لیکن آج اس حوالے سے طبیعت کچھ بے دلی کا شکار ہے۔۔ ایسے میں دل چاہا کہ کیوں نہ آج ادب کے حوالے سے بات کر لی جائے، آخر ہم شاعر بھی ہیں۔۔ باقاعدہ یا بے قاعدہ۔۔۔ !اور یہ بھی ایک طرح کی سیاست ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ہم نے ادب کی داستان سرائے میں قدم رکھا تو سادگی کی حد تک کم عمر تھے۔ ادبی دْنیا کے ہر رْخ کو اپنی سادہ و بے ساختہ سوچ کے
مزید پڑھیے


پانی کے دھوکے میں ریت پر کشتیاں!

جمعه 18 مئی 2018ء
نو شی گیلا نی
چاروں طرف سے بلند ہوتی آوازوں کا شور حد سے بڑھ جائے تو بعض اوقات سناٹے جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ آوازیں نہ کوئی امکان بنتی ہیں ، نہ پیغام اور نہ ہی نوحہ۔ ان کے گھیرائو میں نہ تو اپنائیت کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اجنبیت کا ۔بس ایک بے دلی سی محصور کئیے رکھتی ہے۔ آج کل ایسا ہی عالم پاکستان کا ہے، عجیب متذبذب و مبہم معاشرتی و سیاسی فضا ہے۔ ہر طرف اعلان ناموں کے ڈھیر لگے ہیں لیکن انہیں ترتیب دے کر دیکھو تو نہ آئین کے ضابطے بنتے ہیں
مزید پڑھیے