BN

٩٢ کے نام



ہم اور ہمارے گھوڑے تیار ہیں

اتوار 01  ستمبر 2019ء
مکرمی !پاکستان اور ہندوستان کی مسئلہ کشمیر پر حالیہ صورت حال پر بہت سے اندرونی و بیرونی عناصر یہ گمان باطل کر رہے ہیں کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو ہندوستان بڑی ریاست،وافر اسلحہ اور جنگی جنون میں مبتلا ہونے کی بنا پر خدانخواستہ پاکستان کو جانی،مالی اور عسکری نقصان پہنچا سکتا ہے۔اب اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو کچھ زیادہ دن نہیں چل سکے گی وغیرہ وغیرہ۔مجھے لگتا ہے کہ ہماری سیاسی وملٹری قیادت ایسے انتشار ی اذہان سے پوری طرح سے باخبر ہیں ،جبھی تو انہوں نے گذشتہ روز غزنوی بیلسٹک
مزید پڑھیے


سفارتکاری یا بھارت کیلئے فری ہینڈ؟

اتوار 01  ستمبر 2019ء
مکرمی !کسی کے آنکھیں موند لینے سے حقیقت بدل سکتی ہے اور نہ ہی یہ نوشتۂ دیوارمٹنے والاہے کہ کشمیریوں کی منشاء کے خلاف کشمیر کاکوئی حل بالفرض و قوع پذیر ہو جائے یامسلط بھی کردیاجائے تو دیرپا نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال تو وہاں کرفیو اٹھنے کے بعد سامنے آئے گی تاہم 26 روز سے کشمیری عوام کیلئے عملاً قید خانہ اور دنیا کے لیے بلیک ہول ہے۔ مقبوضہ کشمیر سے مختلف ذرائع کے حوالے سے آنے والی اِکا دُکا اطلاعات کے علاوہ کشمیری رہنمائوں کی مسلم دنیا سے بالعموم اور پاکستان سے بالخصو ص التجا آمیز
مزید پڑھیے


پاک ایران منصوبہ ……

اتوار 01  ستمبر 2019ء
روزنامہ 92نیوز کا مطالعہ ’’ضرورت‘‘ سے زیادہ ’’عادت‘‘ سی بن گئی ہے۔29اگست کی اشاعت میں ہی انکشاف نما خبر صرف92میں پڑھی ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود پاک ایران گیس منصوبہ کی تکمیل کے لئے تیسرا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ایسا معاہدہ کرنا ایران کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی پاکستان کی بھی ہے۔ ماضی میں صدر آصف زرداری کے عہد میں جو پاک ایران گیس معاہدہ ہوا وہ زمینی حقائق سے کچھ ہٹ کر تھا۔ میں واقف حال ہونے کی بنا پر لکھ رہا ہوں کہ یہ معاہدہ شاہ عبداللہ اور صدر آصف زرداری کے
مزید پڑھیے


گر تو برا نہ مانے

اتوار 01  ستمبر 2019ء
مقبوضہ کشمیر میں مودی کے اقدام کے بعد پاکستان مقدور بھر کوشش کر رہا ہے کہ اسکے حوالے سے جو کچھ بھارت کر چکا ہے اس سے ایک تو آگے نہ بڑھے بلکہ اس قدم سے بھی اسکو پسپائی اختیار کرائی جائے دوسرا کشمیریوں کو کرفیو میں رکھ کر انکی نسل کشی نہ ہو پائے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے پاکستان تقریبا ً ہر بین الاقوامی فورم پر جا کر ہر دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ہماری پارلیمنٹ ہو، دفتر خارجہ ہو، پاکستانی تارکین وطن ہوں یا پھر معاشرے کا کوئی بھی طبقہ
مزید پڑھیے


حقیقی تبدیلی کپتان کیلئے ایک چیلنج

هفته 31  اگست 2019ء
مکرمی ! 2018کے عام انتخابات میں نوازشریف اورآصف علی زرداری سے جان چھوٹنے پرجن لوگوں نے تالیاں بجائیں ۔جنہوں نے منوں کے حساب سے مٹھائیاں تقسیم کیں ۔جنہوں نے ڈھول باجے بجائے۔جنہوں نے بھنگڑے ڈالے ۔جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پھول اورمٹھائیاں اٹھاکروزیراعظم عمران خان کااستقبال کیا۔اب وہی لوگ تحریک انصاف کی حکومت سے نجات کی دعائیں مانگنے لگے ہیں ۔ ملک میں پہلے سے موجودکارخانے ،ملز،فیکٹریاں اوردیگرکئی بڑے بڑے کاروباری ادارے بھی بندہوگئے ہیں۔ حالانکہ خان صاحب کہتے تھے کہ ان کی حکومت میں عوام کا معیار زندگی بہتر ہو گا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن
مزید پڑھیے




وزیراعظم عمران خان کے نام

هفته 31  اگست 2019ء
مکرمی !صوبہ سندھ کا چوتھا بڑا تاریخی ڈویژن میرپورخاص جس کی حالیہ مردم شماری کے اعدادوشمار کے مطابق چالیس لاکھ سے زائد آبادی ہے۔ دوسری جانب اس کے برعکس نوابشاہ، خیرپور،گمبٹ اور دیگر شہر جو آبادی کے لحاظ سے میرپورخاص سے چھوٹے شہر ہیں مگر وہاں میڈیکل کالج اور ہائر ا یجوکیشن انسٹیٹیوٹ کا ہونا میرپورخاص کے طلبہ طالبات کے ساتھ بہت بڑی زیادتی اور امتیازی رویہ برتنے کے زمرے میں آتا ہے۔ میرپورخاص میں موجود نجی کالجز کی زیادہ فیس کی وجہ سے وہاں تعلیم حاصل کرنا غریب طلبہ و طالبات کے بس کی بات نہیں، میرپورخاص ڈویژن
مزید پڑھیے


عوام کی مایوسی بڑھتی جا رہی ہے

هفته 31  اگست 2019ء
مکرمی! 2018 ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان برسراقتدار آئے تو اُن کا دعویٰ تھا کہ وہ محدود کابینہ کے ساتھ موثر طرز حکمرانی متعارف کروا کے عوام کو معاشی آسودگی اور بہتر معیار زندگی فراہم کریں گے،تبدیلی کے علم بردارعمران خان کی سربراہی میںپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کاپہلاسال مکمل ہوچکا،مجموعی طورپریہ سال گرفتاریوں،مہنگائی،سیاسی عدم استحکام،معاشی بحران،ڈالر،پیٹرولیم مصنوعات کی اونچی اڑان،کاروباری مندی ،کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں شدید اضافے کی نظر ہوگیا۔فقط گرفتاریاں کافی نہیں عوام تیزی کے ساتھ برآمدگیاں ہوتی دیکھنے کے منتظرہیں یعنی تبدیلی سرکاراپنے پہلے سال میں عوام کامعیارزندگی بہتربنانے
مزید پڑھیے


ہندو ذہن بدل گیا ہے؟

هفته 31  اگست 2019ء
کیا ہندو ذہن 2014ء کے بعد یکایک بدل گیا ہے؟ کیا انڈیا عنقریب’ہندو راشٹر‘ بن جائے گا؟ لوک سبھا انتخابات 2019ء میں بی جے پی کو 303 نشستوں کیساتھ دوبارہ اقتدار ملنے کے بعد گزشتہ تین ماہ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی جوڑی نے جس طرح کی حکمرانی فراہم کی ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہی لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمارے ملک کا موجودہ دستور کے بالکل برعکس ’ہندو راشٹر‘ (موجودہ ’سکیولر‘ نہیں بلکہ ’ہندو ملک‘) بن جانا کچھ عجب نہیں۔ وہ اس لئے کہ جس شخص نے پانچ سال ملک کے مفاد
مزید پڑھیے


کشمیر : دنیا خطرے میں ہے!

هفته 31  اگست 2019ء

 گزشتہ سال اگست میں پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد میری سب سے اولین ترجیح یہ تھی کہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لئے کام کیا جائے۔ اپنی مشکل تاریخ کے باوجود پاکستان اور بھارت کو غربت ‘ بے روزگاری اور ماحول کی تبدیلی خصوصاً گلیشیرز کے پگھلنے کے خطرات اور پانی کی قلت کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ میری خواہش تھی کہ بھارت کے ساتھ تجارت اور تنازع کشمیر کے حل کے ذریعے تعلقات کو معمول پر لایا جائے۔ انتخابات جیتنے کے بعد 26جولائی 2018ء کو میں نے ٹیلی ویژن پراپنے پہلے خطاب میں
مزید پڑھیے


”کچرا سیاست“

جمعه 30  اگست 2019ء
مکرمی!اگر میئر کراچی کے پاس شہر میں کچرا صاف کرنے کا اختیار بھی نہیں ہے تو وہ کس جواز سے مئیر کی سیٹ پر براجمان ہیں ان کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے کراچی شہر میں گندگی اور غلاظت سے بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے کراچی کے عوام وزیر اعظم عمران خان کو پکار رہے ہیں جنہوں نے الیکشن سے پہلے کراچی کے عوام سے بڑے بڑے دعوے کیے تھے اور اب وزیراعظم بننے کے بعد وہ کراچی کو بھول گئے ہیں شہر کی بدترین صورتحال پر وزیراعظم نے ایک نوٹس تک نہیں لیا
مزید پڑھیے