BN

ڈاکٹر حسین پراچہ

اپ سیٹ یا لمحۂ فکریہ


جب ہارٹ ٹو ہارٹ باتیں ہوں تو دل کی بات زباں پر آ ہی جاتی ہے۔ دل سے لب تک آتے آتے بالعموم سونا پیتل میں بدل جاتا ہے۔ تبھی تو ڈاکٹر خورشید رضوی نے کہا ہے کہ لٹ گیا سو بار لب تک آتے آتے ہر سخن ورنہ جب دل سے چلا تھا اک عجب گنجینہ تھا میرا حسنِ ظن ہے کہ اس روز اسلام آباد میں شعروادب کا ذوق رکھنے والے اور شائستہ لب و لہجے اور شستہ اردو میں گفتگو کرنے والے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کے ساتھ ایک بے تکلف تبادلۂ خیال کی نشست میں دل
منگل 16 اکتوبر 2018ء

عمران خان آگے چلیں

هفته 13 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عمران خان کو کیا کرنا چاہیے؟صرف دو کام۔ مزید سنجیدگی اور اہل الرائے سے مشورہ۔ یہ اہل الرائے کون ہوتے ہیں جنہیں کسی حکمران کا ڈر ہوتا ہے اور نہ اس سے کوئی لالچ۔ وہ اپنی عقل و فکر اور اپنے ضمیر کے مطابق مشورہ دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نیک و بد حضور کوسمجھائے دیتے ہیں۔ اگوں تیرے بھاگ لچھیئے۔ اپوزیشن کیا کہہ رہی ہے۔ میڈیا کیا چیخ و پکار کر رہا ہے اس کو تو چھوڑیئے۔ چیف جسٹس کی بات سنیئے جنہوں نے خود تبدیلی کے خوش نما نعرے سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی
مزید پڑھیے


عمر بھر کی تعلیمی خدمات کا صلہ…ہتھکڑیوں کے ساتھ پیشی

جمعرات 11 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مرحوم اشفاق احمد ہمیں یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ روم کی عدالت میں وہ اپنی موٹر سائیکل کے چالان کے سلسلے میں پیش ہوئے۔ جب جج کو یہ معلوم ہوا کہ میں استاد ہوں تو وہ یہ کہتے بلکہ باربار دوہراتے ہوئے تعظیماً اٹھ کھڑا ہوا کہ A Teacher in Court A Teacher in Court وہ روم تھا یہ لاہور ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دل لاہور۔ جہاں گزشتہ روز نیب نے اپنی احتساب عدالت میں ممتاز استاد اور یونیورسٹی آف سرگودھا کے سابق وائس چانسلر کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا۔ اُن پر خدانخواستہ کسی غبن یا مالی کرپشن
مزید پڑھیے


ٹرمپ کی سعودی عرب کو دھمکی… خیرانشاء اللہ

منگل 09 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
قیام سعودی عرب کے دوران مجھے اندازہ ہو ا کہ عربی کے یہ دو لفظ ’’خیرانشاء اللہ‘‘ میجک ورڈز ہیں۔ کوئی بڑی مشکل درپیش ہو یا قومی سطح پر پیچیدہ و سنجیدہ مسئلہ آن پڑے، معاملہ فہم سعودیوں کے منہ سے جو پہلے دو لفظ ادا ہوتے ہیں وہ یہی ہیں کہ اللہ خیر کرے گا۔ امریکہ کی سعودی عرب کو دھمکی کوئی نئی دھمکی نہیں۔ 1973ء میں جب شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی قیادت میں عربوں نے امریکہ کی اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اس سے امریکہ بہت چیں بہ جبیں ہوا۔
مزید پڑھیے


آئی ایم ایف کے کوئے ملامت جانا ہی پڑے گا

هفته 06 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سیانے کہہ گئے ہیں کہ راہ پیاں جانڑے یا واہ پیاں جانڑے یعنی جب تک براہ راست واسطہ نہ پڑے اس وقت تک راستے کی مشکلات کا پتہ نہیں چلتا۔ اب ہماری نئی نویلی حکومت کہ جو اب اتنی نئی بھی نہیں رہی کوئی قدم اٹھاتی ہے تو ادھر یاران نکتہ داں انہیں یاد دلاتے ہیں کہ آپ تو یوں کہتے تھے مگر اب آپ بالکل اس کے برعکس کر رہے ہیں اور بقول شاعر کہیے تو اب وہ قوت بازو کہاں گئی موجودہ دور کی ایک مشکل یہ بھی ہے کہ حکمرانوں کے بیانات کوئی آب پر لکھی تحریریں یا اخباروں میں چھپی ہوئی
مزید پڑھیے


پندار کا صنم کدہ

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اگر دل کسی کا فرادا پر فدا ہو جائے تو پھر پندار کا صنم کدہ ویران کرنا ہی پڑتا ہے۔ اسی لیے صوفیاء پندار کا صنم کدہ آباد کرنے سے منع فرماتے ہیں کیونکہ دل پھر طواف کو کوئے ملامت کو جائے ہے پندار کا صنم کدہ ویراں کئے ہوئے اور اگر اقتدار اور اقتدار ہی ہدف ہو تو پھر طرح طرح کے پاپڑ تو بیلنے پڑتے ہیں۔ رانا مشہود نے یہی تو کیا ہے کہ ہم سول بالادستی کا بیانیہ چھوڑ کر اسٹیبلشمنٹ کی وادی میں پھر جا پہنچے اور وہاں سے شاد کام اور بامراد لوٹے ہیں۔ ایک بات سمجھ لیجئے
مزید پڑھیے


’’مے کدے آباد کرو‘‘

منگل 02 اکتوبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ڈاکٹر خورشید رضوی کہتے ہیں: یہ بادہ و جام و مینا تو سب دلاسے ہیں لبوں کو دیکھ وہی عمر بھر کے پیاسے ہیں مگر ہمارے ایک قابل احترام بزرگ دانشور تو جام و مینا کو علاج غم اور دکھوں کا مداوا بتاتے ہیں اور مصائب و مشکلات کو بھول کر میکدے آباد کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ وہ بڑی حسرت سے میکدوں کی ویرانی پر آنسو بہاتے رہتے ہیں۔ یہ محترم کالم نگار اور تجزیہ کار بڑے جاندار تجزیے اور تبصرے کرتے ہیں مگر ہر دوسرے چوتھے روز قوم کو یہ باور کرانا نہیں بھولتے کہ میکدوں کی آبادی سے ہماری خانہ
مزید پڑھیے


جنرل اسمبلی میں قہقہہ

هفته 29  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
شاعر نے تو کہا تھا کہ ع کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بات بنانے کی اپنے تئیں ایک کامیاب کوشش کی۔ یہ الگ بات کہ اس پر ایک اور قہقہہ بلند ہوا۔ جنرل اسمبلی کے کئی روزہ سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونے والے اجلاسوں میں بالعموم ایک سنجیدہ اور بسااوقات ایک رنجیدہ رنجیدہ سا ماحول ہوتا ہے۔ خاص طورپر اس وقت جب تیسری دنیا کی مظلوم اقوام اپنے اوپر دوسری قوموں بالخصوص سپر پاور امریکہ کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور ناانصافی کی المناک داستانیں بیان
مزید پڑھیے


ہمیں بھی تھوڑا سا وقت دیں

جمعرات 27  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بلھے شاہ نے فرمایا تھا: پڑھ پڑھ، لکھ لکھ لاویں ڈھیر ڈھیر کتاباں چار چوپھیر پچھو راہ تے خبر نہ سار گردے چانن، وچ انھیر علموں بس کریں اویار آج ہمارے اندر سے بھی اس سے ملتی جلتی آواز آ رہی ہے سیاست توں بس کریں اویار بعض شہر اور اہل ذوق کو یہ سطر پڑھ کر اگر عروض یا وزن کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ یہ سوچ کر درگزر فرمائیں اور اپنے دل کو تسلی دے لیں کہ یہ محض ایک جملہ ہے کوئی مصرع نہیں۔ لہٰذا آج ہلکی پھلکی غیر سیاسی گفتگو کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہیمبرگ، جرمنی کا ایک حسین و جمیل شہر ہے
مزید پڑھیے


جنگ یا امن

منگل 25  ستمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یاد رکھیے‘ دلیل کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ گزشتہ روز ایک ملاقات کے دوران سابق وزیر خارجہ پاکستان خورشید محمود قصوری سے میں نے پوچھا کہ بھارت جنگ چاہتا ہے یا امن؟ دلیل کے پیمانے میں نپا تلا ان کا جواب تھا کہ بھارت جنگ چاہتا ہے نہ امن‘ وہ حالات کو جوں کا توں رکھنا چاہتا ہے۔ آج کل ہر کوئی ایک ہی سوال پوچھ رہا ہے کہ بھارت نے پہلے امن کے لیے ہماری خواہشات کو خوش آمدید کہا اور بھارت کے دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے تصدیق کی کہ اقوام متحدہ کی
مزید پڑھیے