BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



مولانا کا آزادی مارچ اور حکومت کی بے اعتنائی


ایک اچھا خطیب اپنے زورِ خطابت سے دلوں کے قفل کھولتا اور دماغوں کو مسخر کر لیتا ہے۔ بخاری شریف کی مستند حدیث ہے کہ ’’ان من البیان لسحرا‘‘ بسا اوقات بیان میں جادو کا اثر ہوتا ہے۔ یقینا مولانا فضل الرحمن ایک بڑے خطیب ہیں۔ وہ فنِ خطابت کی باریکیوں اور نزاکتوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ایک اثر انگیز تقریر کے لیے اس کا دل کش آغاز ضروری ہوتا ہے۔ نیز ایک اچھے مقرر کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقریر کا اختتام کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ تقریر کتنی ہی پر اثر اور پر مغز
بدھ 13 نومبر 2019ء

حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں

منگل 12 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دیکھئے ڈاکٹر خورشید رضوی نے حیات و موت کے طویل فلسفے کے سمندر کو اپنے ایک شعر کے کوزے میں کس خوبصورتی کے ساتھ بند کیا ہے: نہ جانے کب نہ رہیں ہم ہمیں غنیمت جان حیات و موت میں کچھ ایسا فاصلہ بھی نہیں یوں بھی موت زندگی کے تسلسل کا دوسرا نام ہے یا آسان الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیںکہ موت زندگی کے دوسرے فیز کا نام ہے مرشد اقبال نے حیات ابدی و سرمدی کی حقیقت کو شعر کے پیرھن میں یوں سمویا ہے: مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے
مزید پڑھیے


تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

بدھ 06 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج علی الصباح جناب عثمان بزدار کے فیض سے جناب فیض احمد فیض کی ایک نہایت مرصع غزل یاد آئی’’دائرہ سیاست کی تلخی کو غزل کی شیرینی سے دور کرنے کے لیے پہلے کچھ اشعار گنگنا لیتے ہیں۔ رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام موسمِ گل ہے تمہارے بام پر آنے کا نام محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے رندکا، ساقی کا، مے کا، خم کا، پیمانے کا نام ہم سے کہتے ہیں چمن والے، غریبانِ چمن تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام پاکستان و ہندوستان میں انگریزوں کے زمانے سے پٹواری ایک نہایت اہم عہدے یا منصب
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کی اگلی منزل کیا ہو گی؟

منگل 05 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’6تاریخ سے آپ کے لئے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا‘6تاریخ کو میں لاہور جائوں گا اور اسے بند کروں گا۔8تاریخ کو فیصل آباد جائوں گا اسے بند کروں گا۔12تاریخ کو کراچی پہنچوں گا اور اسے بند کروں گا اور 16تاریخ کو پورا پاکستان بند کروں گا‘‘ یہ 2014ء ہے اور یہ تقریر عمران خان نے اسلام آباد میں کی تھی۔سیاست و حکمت اور فہم و فراست کی بات تو بعد میں کرتے ہیں۔ پہلے ذرا مکافات عمل کا تذکرہ ہو جائے۔ اس دھرنے کے دوران عمران خان نے جو دھمکیاں دیں ذرا ان کی کچھ اخباری جھلکیاں بھی ملاحظہ فرما
مزید پڑھیے


دل گرفتگی

هفته 02 نومبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تصور ہی کتنا ہولناک اور خوفناک ہے کہ بھڑکتی ہوئی آگ‘ بھاگتی ہوئی ٹرین‘ نیچے گہری کھائی اور نوکیلی پہاڑیاں‘ ایسے میں جلتے ہوئے انسان اور بچوں کو سینے سے چمٹائے ہوئی مائیں۔ بہنوں کو بچاتے ہوئے بھائی مگر سب کے سب بے بس‘ بے آسرا‘ کچھ سنائی دے رہا ہے، انسانوں کی عرش تک بلند ہوتی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے اور کچھ دکھائی دے رہا ہے تو وہ لپکتے ہوئے شعلوں کی یلغار دکھائی دے رہی ہے۔ بعداز خرابی بسیار لیاقت آباد کے قریب تیز گام رکتی ہے تو اس وقت تک آتشزدگی سے 74زندہ
مزید پڑھیے




آزادی مارچ اور پابندیاں

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں میرے لیے سب سے زیادہ پرکشش لفظ آزادی ہے۔ یہ لفظ ’’آزادی‘‘ مجھے زمانہ طالب علمی کی حسین وادیوں میں لے گیا جہاں مجھے اپنا پسندیدہ ناول Jane Eyerیاد آ گیا۔ اس ناول کی مصنفہ شارلٹ برونٹے نے آزادی کے بارے میں ایک دل میں اتر جانے والا جملہ لکھا ہے۔ میں ترجمہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ’’میں کوئی پرندہ نہیں ہوں جسے جال میں پھانسا جا سکتا ہو، میں ایک آزاد انسان ہوں جو اپنی آزاد مرضی کا مالک و مختار ہے‘‘ مولانا کس قسم کی آزادی چاہتے ہیں اس کی تفصیلات تو
مزید پڑھیے


آخری گولی سے کالی پٹی تک

منگل 29 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بیشک 27ستمبر کو عمران خان کی گھن گرج نے عالمی سطح پر زبردست ارتعاش پیدا کر دیا تھا۔نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دردودیوار پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ ایسا اثر انگیز اور درد انگیز خطاب سن کر عالمی کمیونٹی کا خوابیدہ ضمیر بیدار ہو جائے گا اور نہ صرف بیدار ہو گا بلکہ مظلوم و محصور کشمیریوں کی مدد کے لئے برسر پیکار بھی ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ایسا ہو بھی نہ سکتا تھا کیونکہ ہماری امید کا آشیانہ شاخ نازک پر بنا تھا۔ اپنے اپنے مفادات سے وابستہ سنگ
مزید پڑھیے


بے شک انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

هفته 26 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اللہ کی آخری کتاب میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ خلق الانسان ضیعفاً کہ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ نشہ جوانی کا ہو یا نشہ اپنے زور بازو کا یا کسی شعبے میں شہرت کا ہو یا اپنے مال اسباب کا ہو مگر اقتدار کا نشہ سب سے بڑھ کر ہے۔ یہ نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے مگر انسان کواپنے ضعف کا ادراک کب ہوتا ہے جب اس سے وہ طاقت چھن جاتی ہے جس پر وہ اتراتا تھا۔ یاس یگانہ چنگیزی نے شعر کی زبان میں اس حقیقت کو ذہن نشیں کرانے کی نہایت موثر کوشش کی
مزید پڑھیے


استاد کے بارے میں ایک نیم سیاسی کالم

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج سیاست سے دل اچاٹ ہے۔موضوعات میرے سامنے قطار اندر قطار اذن باریابی کے لئے منتظر کھڑے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ قلم و قرطاس کو لبھانے والا موضوع سیاسی آرڈیننس فیکٹری سے یکبارگی ڈھل کر آنے والے ایک دو نہیں پورے آٹھ آرڈیننس ہیں۔ اس کے بعد اسمبلیوں اور سینٹ پر سالانہ اربوں روپے خرچ کرنے کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے۔ اس پر اہل سیاست و اہل ریاست چاہیں تو غور فرما لیں۔ اپنی طبیعت تو آج سیاست کی طرف مائل نہیں۔ دوسرا موضوع ہے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کی ڈوبتی ابھرتی نیا اور اپوزیشن
مزید پڑھیے


مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور حکومتی رویہ

منگل 22 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
برسوں پہلے مولانا فضل الرحمن طائف تشریف لائے تب میں وہیں تھا۔ مولانا کے احباب نے طائف کی بلند ترین چوٹی الھداء کے شیرٹن ہوٹل میں ان کے اعزاز میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ عصرانے میں مولانا نے خطاب کیا اور فقیر نے بھی چند گزارشات پیش کیں۔ تب مولانا کی داڑھی کا غالب حصہ ابھی سیاہ تھا۔ مولانا اس وقت ابھی In the makingاور سیاسی رہگزر میں تھے پس از خطاب انہوں نے سرگوشی میں پوچھا کیوں بھئی خطاب کیسا تھا؟ میں نے عرض کیا مولانا! چھوٹے موٹے خطیب تو ہم بھی ہیں اس لئے ولی راولی می شناسد۔
مزید پڑھیے