BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



تجاوزات


سماوی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں سے خوب استفادہ کرو، مگر اپنی حد سے نہ بڑھو۔ اپنی حدود کے اندر رہنا ہی زندگی کا حسن ہے۔ انسانی سوچ وبچار بھی کئی ٹھوکریں کھا کر بالآخر اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ اپنی حدود کے اندر رہو۔ جہاں جہاں زندگی کا کوئی شعبہ ان حدود سے تجاوز کرتا ہے، وہاں وہاں خوب صورتی بدصورتی میں بدل جاتی ہے۔ گزشتہ روز کراچی میں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے نیب کراچی کی طرف سے سابق جج سلمان حامد جاری کردہ نوٹس کے خلاف مقدمے کی سماعت
جمعرات 13 دسمبر 2018ء

ایک پیج پر مگر کام اپنا اپنا

منگل 11 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ملک ترقی یافتہ دنیا کا ہویاتیسری دنیا کا اس کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہوتی ہے کہ تمام ادارے ایک پیج پر ہوتے ہوئے کام اپنا اپنا کریں۔ ایک منتخب جمہوری حکومت کا اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ جمہوریت اور جمہوریت کی سب سے بڑی علامت پارلیمنٹ کو مضبوط سے مضبوط تر کرے اور دستور کو ایک مقدس دستاویز گردانتے ہوئے اس کی بالادستی کو یقینی بنائے۔ دستور کے اندر ہر ادارے کی حدود کار کا تحفظ بھی جمہوری حکومت کے وزیر اعظم کا فرض اولین ہے۔ چند روز پہلے وزیر اعظم نے اسلام آباد کے چند
مزید پڑھیے


نیا پاکستان‘ پرانی پولیس

هفته 08 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جمعۃ المبارک کے بعض اخبارات میں ایک تصویر نظر سے گزری۔ اس تصویر کے نیچے اگر کوئی کیپشن نہ ہو تو پھر آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ یہ پاکستان کے کس دور کی تصویر ہے۔ تصویر میں پنجاب پولیس احتجاج کرنے والے مجمعے پر وحشیانہ انداز میں لاٹھیاں اور ڈنڈے برسا رہی ہے۔ ایک شخص تقریباً بے ہوش نیچے گرا پڑا ہے اور اوپر سے پنجاب پولیس کے شیر دل تین چار جوان اس پر بے تحاشا لاٹھیاں برسا رہے ہیں۔ اگر تصویر کے نیچے کچھ نہ لکھا ہو تو آپ کے لئے فیصلہ کرنا تقریباً ناممکن ہو گا
مزید پڑھیے


اردو کا سدا بہار مزاح نگار

جمعرات 06 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یوں تو ہمارے ممدوح جناب عمران خان روز کوئی نہ کوئی مصرع طرح پیش فرما دیتے ہیں جس پر خواہی ناخواہی گرہ لگانا پڑ جاتی ہے۔ کیونکہ بقول اسداللہ غالب: بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر تاہم روز روز کی سیاست اور معیشت کے تذکروں سے دل اکتا جاتا ہے۔ ہمارا دل ہی کیا خود قارئین بھی اکتا اور گھبرا جاتے ہیں۔ من و سلویٰ سے بڑھ کر کون سا کھانا مرغوب تھا۔ اس سماوی کھانے میں بھنے ہوئے تیتر اور بٹیر تھے۔ مگر اسے روز روز کھا کر بنی اسرائیل کے لوگ بھی اکتا گئے تھے۔ ہمیں بھی آج سیاست
مزید پڑھیے


کیوں دیوار گرائی جائے؟

منگل 04 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اقتدار کے پہلے سو دنوں میں عمران خان نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو مگر انہوں نے ایک بات ثابت کر دی ہے کہ وہ آل پاور فل ہیں۔ جو اُن کا دل چاہتا ہے وہ کر گزرتے ہیں۔ اگر زیادہ واویلا ہو جائے تو موصوف اپنا فیصلہ واپس لے لیتے ہیں، جسے کوتاہ فہم ناقدین و مخالفین یوٹرن کہتے ہیں۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ خادمِ پنجاب میاں شہباز شریف نے بیک جنبش قلم لاہور کے سرکاری و تاریخی اداروں کے گرد دیواریں گرا کر ان کی بجائے جنگلے لگانے کا حکم صادر
مزید پڑھیے




خوابوں کا ایک اور جہاں

هفته 01 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مجھے خواب دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے اور جاگتے ہوئے خواب دیکھنے کا لطف نیند والے خوابوں سے کہیں بڑھ کر ہے، تبھی تو استاد الاساتذہ احمد ندیم قاسمی نے کہا تھا ؎ پھر یوں ہوا کہ نیند نہ آئی تمام عمر دیکھا تھا ایک خواب کبھی جاگتے ہوئے کل شام جناب عمران خان کا خطاب اتنا سحر انگیز تھا کہ میں گویا کرسی سے چسپاں ہوگیا اور ہمہ تن گوش ہو کر ان کی تقریر دل پذیر تادیر سنتا رہا۔ تقریر اپنے اختتام کو پہنچی اور میں اس پرکشش گفتگو کے سحر سے باہر آیا تو میں نے سوچا
مزید پڑھیے


خودکشی

جمعرات 29 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جب کوئی بارہ چودہ سال کا بچہ یا اٹھارہ بیس برس کی ہنستی مسکراتی لڑکی اچانک اپنے ہاتھوں سے زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے تو یہ ایک فرد کی موت نہیں سارے معاشرے کے شعور و احساس کی موت کا اعلان ہوتا ہے۔ دو تین روز پہلے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے شعبہ آرٹس اینڈ ڈیزائن کے پانچویں سمسٹر میں زیر تعلیم طالبہ روشان فرخ نے یونیورسٹی کی زیرتعمیر عمارت کی چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ روشان کی خودکشی کا سبب تو معلوم نہیں ہوا مگر سوشل میڈیا پر اس کا آخری
مزید پڑھیے


حکومت کے پہلے 100دن

منگل 27 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کرشماتی لیڈر جب عوام کو خواب دکھاتے ہیں تو یہ قابل تنقید نہیں قابل تحسین بات ہے۔ خوابوں سے ہی تو کسی لیڈر کے وژن کا اندازہ ہوتا ہے اور جب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں جو کچھ ہے وہی ان کے لیڈر کے دل میں بھی ہے۔ تو وہ خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔لوگوں کو یہ اطمینان ہو جاتا ہے کہ لیڈر ان کی تلخیٔ ایام کا پورا پورا ادراک رکھتا ہے۔ یہ تو عمران خان کے خوابوں کی کشش تھی جس نے ووٹروں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کیا۔ گزشتہ روز
مزید پڑھیے


بلاول کی الگ اڑان

هفته 24 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سنجیدگی اور سمجھداری کا اتنا تعلق مہ وسال سے نہیں جتنا تعلیم و تربیت اور شخصیت کے طبعی میلان سے ہے۔ انتخابی مہم کی شعلہ بیانی، دشنام طرازی اور الزام تراشی کی گرم بازاری کے دوران بھی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پہچان الگ رکھی۔ بلاول اس عرصے میں اپنے بارے میں یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے کہ وہ ایک مغلوب الغضب شخص نہیں اور نہ ہی انہیں دوسروں کی کردار کشی میں زیادہ دلچسپی ہے۔ موجودہ ملکی حالات کے حوالے سے گزشتہ روز بلاول بھٹو نے گلگت میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے کئی فکر
مزید پڑھیے


مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والےؐ

منگل 20 نومبر 2018ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دنیا کے سارے پیمانے اس کشش کو ناپنے سے عاجز ہیں جو کشش مدینہ اور مدینے والےؐ کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں ہے۔ مدینہ آ کر پیاسے کو تسکین تو ملتی ہے مگر ہر زیارت کے بعدتشنگی کم ہونے کی بجائے اور بڑھتی ہے اور شوقِ آرزو کم ہونے کے بجائے فزوں تر ہو جاتا ہے۔ رحمت دو عالم کی وسعتوں کا ذرا اندازہ کیجیے کہ اس کی محبت کا دیا ہر دلِ مسلم میں روشن ہے۔ شاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب، حاکم ہو یا محکوم، پرہیز گار ہو یا گنہگار، عاصی ہو یا متقی، عالم
مزید پڑھیے