BN

ڈاکٹر حسین پراچہ



کیا حکومت ڈول رہی ہے؟


مجھے اعتراف ہے کہ میں محرم رازِدرون مے خانہ نہیں اور نہ ہی میری کسی ایسے میکدے تک رسائی ہے۔ جہاں سے فیض حاصل ہوتا ہو۔ البتہ یکدم حکمرانوں کی غضبناکی اور کچھ وزیروں کی دشنام طرازی اور گرم گفتاری دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی اقتدار کی کشتی ڈانواں ڈول ہے۔ بقول اظہار الحق : غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسمان جیسے خدا نہ کرے کہ حکومت کے محل پر کوئی آفت آئے مگر حکومتی کارندے جس طرح سے کبھی ایک اتحادی جماعت اور کبھی دوسری جماعت کے در پہ دوڑے چلے
جمعرات 16 جنوری 2020ء

نیب اوراسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

منگل 14 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز سے ہماری پرانی یاداللہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تقرری اس ادارے کے شایان شان ہے۔ ڈاکٹر صاحب تحقیق و تصنیف کے آدمی ہیں اور مسالک سے ماورا ہیں۔ دلیل سے بات کرتے ہیں اور اگر دلیل سے ان کی رائے سے اختلاف کیا جائے تو وہ کسی ضد اور انا پرستی سے کام بھی نہیں لیتے۔ دو روز قبل میں نے انہیں نیب قانون کے بارے میں حق گوئی اور جرأت مندانہ سفارشات مرتب کرنے پر مبارکباد دی تو ڈاکٹر صاحب نے نہایت عاجز و انکساری سے جواب دیا کہ ہم نے
مزید پڑھیے


اتفاق رائے اور جماعت اسلامی کا اصولی موقف

جمعرات 09 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مشہور انگریزی محاورے کا آسان اردو ترجمہ یہ ہے کہ وہ کام اچھا ہے کہ جس کا اختتام اچھا ہے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ بطریق احسن طے پا گیا۔ آرمی‘ ایر فورس اور نیوی کے ترمیمی بلز کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے۔ یہ بل اس شان سے منظور کئے گئے کہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف‘ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سب ایک پیج پر دکھائی بھی دیے اور سنائی بھی دیے۔ منگل کے روز قومی اسمبلی کا منظر نامہ ڈیڑھ سالہ منظر سے بالکل مختلف تھا۔ ایک طرف ووٹ کو عزت
مزید پڑھیے


کیا ایران سے تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو گا؟

منگل 07 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جنرل قاسم سلیمان کون تھے؟اس سوال کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کے بعد سلیمانی اپنے ملک کی سب سے اہم شخصیت تھے۔ 1980ء سے لے کر 1988ء تک عراق‘ ایران جنگ میں ایک نوجوان آفیسر کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔ پھر وہ 1998ء میں پاسداران انقلاب کے اہم ترین ونگ قدس فورس کے سربراہ مقرر کئے گئے۔ جنرل سلیمانی ایرانی قیادت کی نگاہ میں ہیرو ہیں جبکہ امریکی صدر کے نزدیک وہ ولن تھے۔ ایران کے رہبر اعلیٰ نے جنرل سلیمانی کے لئے سب سے بڑے ایرانی اعزاز
مزید پڑھیے


یہ سال بھی کٹ گیا ہے!

جمعرات 02 جنوری 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ادھر مرا دل دھڑک دھڑک کر عجب عبرت بھر ی ندامت سے سوچتا تھا کہ یہ سال بھی کٹ گیا ہے 2019ء کے حوالے سے اپنا محاسبہ کروں تو سوائے ندامت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ کتنے عہد پیماں باندھے تھے۔ اپنے آپ سے سال گزشتہ کے بارے میں۔ مگر اب سینے کے نہاں خانے میں سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے خالق کی عبادت اور مخلوق کی خدمت کے بارے میں بہت کچھ سوچا تھا۔ کئی تفاسیر‘ امریکہ و یورپ میں چھپنے والی چند نئی مطبوعات کے مطالعے اور بہت سی ایسی پرانی کتابوں کی ورق گردانی کا ارادہ تھا کہ جنہیں کبھی
مزید پڑھیے




آخری ہتھیار

منگل 31 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
رومانی مزاج رکھنے والی قوم ہرآن مردے از غیب کے انتظار میں رہتی ہے۔ لہٰذا جو شخص ان کے دکھوں کی نشاندہی کرتا ہے اور عطائی حکیموں کی طرح ان کے جملہ امراض کا کافی و شافی علاج اپنی ذات کو قرار دیتا ہے اس کے ساتھ لوگ اپنی ساری امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی: دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے اس کو افسانہ سنا ڈالا تصویر دکھا ڈالی اس وقت میرا موضوع ادب میں رومانیت کی تحریک نہیں کہ یہ تحریک یورپ میں کب چلی اور پھر ہمارے ہاں 19ویں صدی میں اس کا کب غلغلہ
مزید پڑھیے


میں وہ محروم کہ پایا نہ زمانہ تیرا

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
قائد اعظم ؒ کی وفات سے لے کر آج تک قدم قدم پر قوم اپنے محسن کو یاد کرتی اور شدید محرومیت محسوس کرتی ہے۔ میں بھی خود کو بہت محروم محسوس کرتا ہوں مگر میرا احساس قدرے مختلف ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ یہاں طاقت کے سرچشموں اور اقتدار کی غلام گردشوں سے پنپنے والی سرگرمیوں اور سازشوں سے شاید بابائے قوم بھی محفوظ نہ رہتے، جیسے ان کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان مشکلات سے گزرنا پڑا۔ انتخاب میں انہیں 1964ء کے بالواسطہ شکست دی گئی اور انہیں نہایت ہی ناروا القابات سے نوازا
مزید پڑھیے


’’صدر نہیں قانون بادشاہ ہے‘‘

منگل 24 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ

میرے ایک بزرگ ڈاکٹر حافظ عبدالحق مرحوم برس ہا برس طائف کے سرکاری ہسپتال میں طبی خدمات انجام دیتے رہے پھر ریٹائر ہو کر کئی دہائیوں تک مکتہ المکرمہ میں مقیم رہے۔ بڑے اللہ والے تھے۔ حکیمانہ نصیحت نہایت دل نشیں انداز میں کیا کرتے تھے۔ گزشتہ برس ان کا انتقال ہوا۔ ان کی زندگی کی آخری ساعتوں تک ان سے رابطہ رہا۔ مجھے مخاطب کر کے فرمایا کرتے کہ کبھی کسی ایونٹ یا خبر کے بارے میں چٹاخ پٹاخ فی الفور بات نہ کیا کرو۔ خوب غور و فکر اور زیر بحث موضوع کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے
مزید پڑھیے


سرخ سویرا اور طلبہ یونین

بدھ 04 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مجھے اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ پہلے لاہور کے فیض امن میلے اور پھر 29نومبر کو ملک کے مختلف شہروں میں ایشیا کو سرخ بنانے کے خواہش مند طلبہ و طالبات مٹھی بھر تھے یا چند سو تھے‘ اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ کی داخلی دنیا تک خود کو محدود کرنے والے نوجوان منظر عام پر تو آئے۔ لب بام تو آئے اور ہمیں یہ معلوم ہوا کہ محدود ہی سہی مگر کچھ نوجوان سماج کی بعض اقدار سے گھٹن محسوس کر رہے ہیں۔ یہ تو بعد میں دیکھتے ہیں کہ ان طلبہ و طالبات کو سرخ
مزید پڑھیے


پنجاب: بغیر کپتان کے ٹیم

منگل 03 دسمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب عمران خان کا طرزِ سیاست بڑا دلچسپ ہے۔ بعض لوگ اسے پیچیدہ سمجھتے ہیں مگر دراصل یہ اندازِ حکمرانی بڑا سادہ ہے۔ اپنے اعتراض کریں یا نہ کریں اپنی کابینہ کے لوگ دبی زبان میں فریاد پیش کریں یا اپوزیشن نالائقی کے علی الاعلان طعنے دے، خان صاحب ایک تابڑ توڑ جواب دے کر مخالفین کی زبانیں گنگ کروا دیتے ہیں۔ اپنے ہوں یا ’’پرائے‘‘ سب یک زبان ہیں کہ پنجاب میں گورننس نام کی کوئی شے نہیں، ترقیاتی کام نہیں ہو رہے، کئی ماہ سے لاہور اور دوسرے شہروں میں ڈینگی نے اودھم مچا رکھا ہے۔ لاہور شہر
مزید پڑھیے