ڈاکٹر حسین پراچہ



جناب چیف جسٹس کا انتباہ


جناب عمران سے ہر کسی نے اپنے ذوق اور اپنے اپنے اعتماد کے حوالے سے امیدوں کے شیش محل وابستہ کر رکھے تھے۔ مجھے یہ امید تو نہ تھی کہ جناب عمران خان برسر اقتدار آ کر آسمان سے تارے توڑ لائیں گے نہ ہی مجھے یہ توقع تھی کہ وہ آتے ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیں گے۔ نہ ہی یہ امید تھی کہ عمران خان بے روزگاری‘ مہنگائی اور بدحالی کا مکمل خاتمہ کر دیں گے۔ البتہ مجھے یہ یقین ضرور تھا کہ کچھ ہو یا نہ ہو ظلم نہیں ہو گا۔ عمران خان کے دور
هفته 14  ستمبر 2019ء

بیٹیاں اور بیٹے

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
برطانیہ میں الیکس کے ہاں ایک کے بعدایک بیٹا پیدا ہوتا چلا گیا۔ وہ اور اس کا خاوند ڈیوڈ ان لڑکوں کو خوش آمدید کہتے چلے گئے۔ بچوں کی کثرت سے وہ ذرا نہیں گھبرائے۔ انہیں بچوں کی پرورش کے لئے حکومتی امداد مل سکتی تھی مگر الیکس نے کہا کہ ڈیوڈ کی آمدنی کافی ہے اس لئے ہم امداد کیوں لیں، سب سے بڑے بیٹے کی عمر 17سال اورسب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 2سال ہے۔ مسلسل دس بیٹوں کے بعد الیکس کے ہاں گیارہویں بچے کی پیدائش متوقع تھی۔ دونوں میاں بیوی نے ایک بار بھی الٹرا سائونڈ
مزید پڑھیے


انسانیت کے نام حسینیت کا پیغام

منگل 10  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج 10محرم 61ھجری ہے۔ یہ میدانِ کربلا کا منظر ہے، سامنے فوجوں کا بحر بیکراں ہے۔ گردوپیش ویرانی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔ عزیزوں، بھائیوں، بھتیجوں اور اولاد کے دلکش چہرے امام عالی مقام حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے تھے۔ اندر خیمے میں پردہ دار عورتیں اور بچے بھی تھے۔ دریا پر یزیدی فوج کا پہرہ تھا اور حسین کے ساتھیوں تک ایک قطرۂ آب پہنچنے کی اجازت نہ تھی۔ بے زبان بچے پیاس کی شدت سے بے تاب نظر آ رہے تھے مگر غرورِ طاقت کے تمام حربے اور ایذا رسانی کی شدید سے شدید
مزید پڑھیے


خدا کی بستی میں پولیس کا راج

هفته 07  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جس دور میں بے آسرا لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھا جائے اور اہل اختیار جب چاہیں انہیں مسل کر پھینک دیں اس دور کے سلطان سے چھوٹی موٹی نہیں بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔ آج کے سلطان سے سب سے بڑی بھول یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے بڑے بلکہ بہت بڑے بڑے بول بولے تھے اور بطورمثال حضرت عمرؓ بن خطاب کے سنہری دور کا بارہا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے عمر بنؓ خطاب جیسے جلیل القدر خلیفہ کا یہ قول بھی بار بار دہرایا تھاکہ اگر فرات کے اس کنارے پر کوئی کتا بھی مر جائے تو عمر
مزید پڑھیے


کیا ایک اور جنگ ستمبر ہو گی؟

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چند خوش قسمت لوگوں کو خبر اور نظر کی نعمتیں بیک وقت عطا ہوتی ہیں۔ ایک ایسے ہی اہل خبر اور اہل نظر سے ہماری یاد اللہ ہے۔میں گزشتہ دو تین روز سے ان کی تلاش میں تھا وہ ہمیشہ کال کا جواب دیتے ہیں‘ مصروفیات کی بنا پر بعض اوقات قدرے تاخیر سے۔ گزشتہ شب اسلام آباد سے ان کی کال آ گئی۔ وہ بات کو چبا چبا کر یا گھما پھرا کر کرنے کے عادی نہیں۔ سوال کا سیدھا جواب دیتے ہیں۔ میں نے دعا سلام کے بعد بغیر کسی تمہید کے پوچھا؟ کیا جنگ ہو گی؟ ان کا
مزید پڑھیے




دیارِ مجددؒ سے داتا نگرؒ تک

منگل 03  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زندگی صرف ایک بار ملتی ہے صرف ایک بار اسے ہر انسان نے گزارنا ہوتا ہے۔ زندگی نے بہرطور گزرنا ہوتا ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے یہ کٹتی رہتی ہے۔ بقول ڈاکٹر خورشید رضوی: غم حبیب! شکایت ہے زندگی سے مجھے ترے بغیر بھی کٹتی رہی‘ ذرا نہ رکی کون زندگی کو کیسے گزارتا ہے۔ یہ بات اہم ہے بعض لوگ نشان عبرت بن کر اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور بعض اپنے پیچھے ایسے نقوش پا چھوڑ جاتے ہیں جو ان کے بعدآنے والے افرادہی نہیں کئی نسلوں اور کئی قافلوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں۔ مجھے
مزید پڑھیے


امتحان

هفته 31  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اندرون اور بیرون ملک سے پرجوش قارئین فون کالز اور ای میلز کے ذریعے پوچھتے ہیں کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہے؟ میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ پالیسی کا مجھے علم نہیں البتہ یہ بات میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کی تحریک آزادی کو ہندوستان دبا سکتا ہے اور نہ پاکستان چھوڑ سکتاہے۔ پاکستانی اور کشمیری عوام حکومت پاکستان سے بڑے عملی اقدامات کی توقعات باندھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک پاکستان دنیا کو اپنا ایک سافٹ امیج اور اپنی امن پسندی اور قانون پسندی کا تاثر دے رہا ہے۔ توقع کے بارے
مزید پڑھیے


روٹی

جمعرات 29  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
منظر انقلاب فرانس کا ہو‘ ہندوستان کا ہو یا آج کے پاکستان کا ‘ انسانوں کی ساری دوڑ دھوپ ایک شے کے لئے ہوتی ہے جسے ’’روٹی‘‘ کہتے ہیں۔ جب اٹھارویں صدی کے آواخر میں فرانس کے عوام بادشاہ اور کلیسا کے گٹھ جوڑ کے خلاف پارلیمنٹ سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے تھے تب ایک فرانسیسی شہزادی نے ایک جملہ کہہ کر عوام کے غیظ و غضب میں مزید شدت پیدا کر دی تھی۔ شہزادی نے کہا تھا کہ ان لوگوںکو روٹی نہیں ملتی تو یہ کیک کھائیں۔ عین اسی زمانے میں ہندوستان کے شاعر نظیر اکبر آبادی
مزید پڑھیے


سید کی پکار اور مودی کے لئے ایوارڈ

منگل 27  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اللہ نے عربوں کو اسلام کے ذریعے دنیا میں سربلند کیا تھا اور انہیں اقوام عالم کی سربراہی کا اعزاز بخشا تھا۔ اب عربوں کے پاس دولت ہے مگر سیادت نہیں۔ آج عرب عوام کے دل امت مسلمہ کے ساتھ جبکہ عرب حکمرانوں کے دل امریکہ و انڈیا کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ بات لمحہ موجود کی ہو رہی ہے مگر چند لمحوں کے لئے مجھے عظمت رفتہ کو آواز دینا ہو گی۔ محسن انسانیت ﷺ کے ظہور سے پہلے پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب پر دور وحشت کی تاریک رات چھائی ہوئی تھی ہر طرف انتشار ہی انتشار
مزید پڑھیے


آزادی کشمیر: عوام کو کیوں نہیں شامل کیا جا رہا؟

هفته 24  اگست 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چاہئے تو یہ تھا کہ آج جب مقبوضہ کشمیر میں بھوکے پیاسے کشمیری اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر کرفیو توڑتے ہوئے باہر نکلتے تو اس وقت کراچی تا خیبر اور اسلام آباد تک مظفر آباد ان سے اظہار یکجہتی کے لئے ساری پاکستانی قوم سڑکوں پر ہوتی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ہندوستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔عمران خان نے امریکی صدر ٹرمپ کو بھی خبردار کیا ہے کہ دو ایٹمی طاقتیں آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے آمنے سامنے کھڑی ہیں اور کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے آرمی چیف دو ٹوک الفاظ میں
مزید پڑھیے