ڈاکٹر حسین پراچہ



کیا کچھ حسبِ ضرورت ہونے والا ہے؟


کالم کے موضوع پر تو بعد میں آئیں گے پہلے کچھ ذکر 92چینل اور اخبار کا ہو جائے۔ دنیا بھر میں کامیابی کی کوئی داستان اٹھا کر دیکھ لیں، اس کامیابی کی تہہ میں آپ کو تین باتیں ضرور نظر آئیں گی۔ وژن، اعتماد اور محنت۔ جن لوگوں کو اپنے وژن پر یقین کامل ہوتا ہے تو وہ کامیابی و ناکامی سے بے نیازی ہو کر ہرچہ بادا باد کہتے ہوئے کام کا آغاز کر دیتے ہیں۔ یہی بے دھڑک آغاز ان کی کامیابی کا راز ہے۔ وہ لوگ یا ادارے جو گومگو، کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا
هفته 09 فروری 2019ء

لاہور کا کتاب میلہ

جمعرات 07 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
لاہور کے ایکسپو سنٹر کی کھچا کھچ بھری ہوئی کار پارکنگ میں گاڑی کے لیے جگہ تلاش کرتے ہوئے میں نے اپنے ساتھ تشریف فرما استاد گرامی ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب سے عرض کیا کہ ہماری قوم میلوں ٹھیلوں پر فدا ہوتی ہے۔ چاہے وہ فلمی میلہ ہو یا کتابی میلہ۔ وہ کوئی بہت سمجھدار شخص تھا جس نے کتابوں کی نمائش کو کتاب میلے کا نام دیا تھا۔ کسی اچھے بک سٹال یا کتاب میلے میں جا کر میری کیفیت وہی ہوتی ہے جو ایک بچے کی ٹوائے شاپ میں جا کر ہوتی ہے۔ ہر کتاب خریدنے کو دل چاہتا
مزید پڑھیے


آزادیٔ کشمیر کے لیے تیز تر سفارتی جنگ

منگل 05 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اقوام متحدہ اپنی قرار دادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ریفرنڈم کروائے یا نہ کروائے سلامتی کونسل اپنی کمٹمنٹ نبھائے یا نہ نبھائے ‘ عالمی برادری اپنے سوئے ہوئے ضمیر کو جگائے یا نہ جگائے مگر کشمیری مسلمانوں نے اتوار کے روز نہ صرف کشمیر میں ریفرنڈم کا انعقاد کروا دیا بلکہ نتیجہ بھی سنا دیا۔ اتوار کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر سنگھ مودی کے جموں و کشمیر اور لداخ کے دورے کے موقع پر سارے مقبوضہ کشمیر میں متحدہ قومی تحریک مزاحمت کی کال پر بے مثال ہڑتال کی گئی۔ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر اور ٹرینوں
مزید پڑھیے


مہنگا حج اور مسافرانِ حرمین شریفین

هفته 02 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک دو بار حرمین شریفین کی زیارت سے مشتاقانِ دید کی تشنگی کہاں دور ہوتی ہے تبھی تو مدینہ سے بادیدہ تر رخصت ہوتے ہوئے ہر حاجی اور ہر زائر پکار اٹھتا ہے: مجھے پھر در پہ بلانا مدنی مدینے والے مگر یہاں بیچارے ہزاروں پاکستانی عازمین حج کی پہلی حاضری‘ بھی اخراجات میں اضافے کی بنا پر غیر یقینی ہو گئی ہے۔ یہ عجیب روح پرور سفر ہے جس کی لگن ہر شاہ و گدا کو ہوتی ہے۔ غریب ہو یا امیر‘ عالم ہو یا عامی‘ شہری ہو یا دیہاتی‘ جوان ہو یا بوڑھا اور عربی ہو یا عجمی جس کے
مزید پڑھیے


مظلوم کی آہ اور ماں کی فریاد سے بچو!

جمعرات 31 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سانحہ ساہیوال پر وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا پہلا تاثر وہی تھا جو شدت احساس سے جلنے والے ہر سچے پاکستانی کا تھا مگر اب لگتا یہ ہے کہ عمران خان بھی اس واقعے کو بھول گئے ہیں اور دیگر کاموں میں جت گئے ہیں۔آج ہی ایک خبر آئی ہے یا لائی گئی ہے کہ امکان ہے صدر ٹرمپ جناب عمران خان کو فون کال کرنے والے ہیں کیونکہ پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان چھ روزہ مذاکرات کے لئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کے بقول : اس اعتراف سے رس گل رہا ہے
مزید پڑھیے




کیا امریکہ افغانستان سے چلا جائے گا؟

منگل 29 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زیادہ بغلیں بجانے کی ضرورت نہیں‘ ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ جو حقیقت ایک سپر پاور کو سمجھنے میں 9برس لگے وہ دوسری سپر پاور کو انڈر سٹینڈ کرنے میں 18برس لگ گئے اور ابھی بھی معلوم نہیں کہ آج کی سب سے بڑی سپر پاور امریکہ اس حقیقت کو اس کی تہہ تک سمجھ پایا کہ نہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو حملہ آور سرزمین افغانستان پر چڑھ دوڑے گا وہ بالآخر یہاں سے خوار و زبوں ہو کر نکلے گا۔ مشہور تاریخ دان ٹائن بی کی گواہی بھی یہی ہے۔ دو روز قبل خبر آئی
مزید پڑھیے


منی بجٹ: کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

هفته 26 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تین چار ماہ کے دوران اسد عمر کرپشن کے خاتمے کے نام پر چھوٹے بڑے ہر کاروبار کی حوصلہ شکنی کرتے رہے نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ معیشت کا پیسہ تیزگام ہونے کے بجائے جام ہوگیا جس پر کاروباری حلقوں کی طرف ان پر شدید تنقید کی گئی۔ ’’اصلاحاتی پیکیج‘‘ سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ معیشت کا رکا ہوا پہیہ دوبارہ چل پڑے گا۔ اپنی معاشی تقریر کے دوران اسد عمر جابجا سیاسی طنز و مزاح کا تڑکا لگاتے رہے تاہم اپوزیشن کے احتجاجی نعروں سے وہ بے مزہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی تقریر
مزید پڑھیے


جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

جمعرات 24 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ تو معلوم نہیں کہ جے آئی ٹی کی سانحہ ساہیوال کے بارے میں تفصیلی رپورٹ کیا ہے مگر وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کے بیان میں عجب تضاد ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں ساہیوال آپریشن بالکل درست تھا اور دوسری طرف فرماتے ہیں کہ فیملی بے گناہ تھی۔ گاڑی میں کل سات افراد تھے خلیل اس کی بیوی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ چھ افراد بے گناہ اور ایک شخص کہ جس کے بارے میں ابھی تک معلوم نہیں کہ وہ دہشت گرد تھا یا شریف شہری تھا تو پھر آپریشن درست کیسے ہوا؟ اور آپریشن کا وحشیانہ
مزید پڑھیے


ظلم صریح اور جھوٹ در جھوٹ

منگل 22 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
یہ میری زندگی کا غالباً تیسرا کالم ہے جو میں اس حال میں لکھ رہا ہوں کہ آنسو میری آنکھوں سے رواں ہیں۔کلیجہ غم سے پھٹ رہا ہے‘ دل فگار ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ان پھول سے بچوں کی بے بسی کا اندازہ لگائیے کہ جو خوشی خوشی اچھے اچھے کپڑے پہن کر اپنے چچا کی شادی میں شرکت کے لئے جا رہے تھے کہ آناً فاناً ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بے بس ماں باپ اور بہن کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا۔19جنوری کو رات کی تاریکی میں نہیں دن دہاڑے ساہیوال ٹول پلازہ
مزید پڑھیے


کمال کی باتیں

هفته 19 جنوری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
’’فیض صاحب سے پہلی بار ملنے کا شرف اس وقت حاصل ہوا جب وہ روزنامہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے مدیر ہوتے تھے۔ بڑے لوگوں سے ملنے کا خبط، چھوٹے لوگوں کے دلوں میں پنہاں ہوتا ہے اور فیض صاحب تو پاکستان بھر کے سب سے بڑے شاعر اور آدمی تھے۔ ان سے ملنے کا خبط کیوں نہ رنگ لاتا۔ جب میں پاکستان ٹائمز کے دفتر میں داخل ہوا تو پہلی منزل پر ایک کمرے کے باہر فیض صاحب کے نام کی تختی دیکھی اور دل تیزی سے دھڑکنا شروع ہو گیا۔ پتہ نہیں ان سے ملنے سے زیادہ دیکھنے
مزید پڑھیے