ڈاکٹر حسین پراچہ



مولو مصلّی


یہ تحریر مولو مصلّی کے شب و روز سے عبارت ہے۔ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے۔ ایک بار کچھ پولیس افسران نے ایک گھر کی تلاشی لینا چاہی تو جواب ملا۔ ’’خبردار! یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ کسی مولو مصلّی کا نہیں‘‘۔ اس پر پولیس افسران نے ہاتھ جوڑے، معافی مانگی اور یہ کہہ کر واپس لوٹ گئے کہ ’’ہمیں علم نہ تھا کہ یہ چودھریوں کا گھر ہے۔ مولو مصلّی کا گھر ہوتا تو کب کے داخل ہو گئے ہوتے‘‘ مولو مصلّی جس کا یہاں ذکر ہوا کون بدنصیب ہے؟ جناب ڈاکٹر امجد ثاقب اس سوال کا جواب اپنی
منگل 02 جولائی 2019ء

معیشت ‘ آل پارٹیز کانفرنس اور جماعت اسلامی

هفته 29 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مولانا فضل الرحمن اپنی دھن کے پکے اور اپنے ارادے کے سچے نکلے۔ انہوں نے کچھ کر کے دکھا دیا جس کا انہوں نے اعلان کیا تھا۔ مولانا کی کال پر اسلام آباد میں پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتوں کی مرکزی قیادت کانفرنس میں موجود تھیں۔ کچھ لوگوں نے اپوزیشن کے پہلے ہی اجلاس سے نہ جانے کیا کیا توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ اس لئے وہ بقول غالب مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں: تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا سیاسی تحریکیں کوئی ’’تماشا‘‘ نہیں ہوتیں کہ آناً فاناً برپا
مزید پڑھیے


شہرِ اقتدار کی خبر:کنفیوژن

جمعرات 27 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں تقریباً آٹھ دس روز تو سیاست سے دور پہاڑی علاقوں میں حسن فطرت کے نظاروں میں مگن رہا۔ واپسی پر دو روز کے لئے شہر اقتدار اسلام آباد میں اپنے آپ کو اپ ڈیٹ کرنے کے لئے رکا۔ اسی دوران چند ملاقاتیں بھی ہوئیں جن میں کچھ آن دی ریکارڈ اور کچھ آف دی ریکارڈ ہیں۔ اسلام آباد سے واپسی پر دوست احباب پوچھتے ہیں ہو کیا رہاہے؟وہ اس انداز سے پوچھتے ہیں جیسے میں سیدھا بنی گالہ کے مکین اعلیٰ سے ملاقات کر کے آ رہا ہوں جناب عمران خان سے کبھی دو چار بے تکلف ملاقاتیں ہوئی
مزید پڑھیے


حسن فِطرت :کیا یہ پاکستان ہے؟

منگل 25 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میں اس وقت ایک ایسے جھونپڑے میں بیٹھا ہوں جس کی مرشد اقبال نے آرزو کی تھی۔ دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو اس جھونپڑے کے بیک یارڈ سے تا حدِ نگاہ جنگل ہی جنگل ہے۔ اس جنگل میں صنوبر ہی صنوبر ہیں۔ پابہ گل سر بہ فلک صنوبر۔ ان کی مخصوص خوشبو فضا میں رچی بسی ہوئی ہے۔ بندر درختوں کی شاخوں پر اٹھکیلیاں کر رہے ہیں۔ یہ سارا جنگل وادی میں ہے اس فضائے سبزگوں میں پتلی سی مٹیالی پگڈنڈی نیچے تک جاتی ہے۔ سنا ہے وہاں چیتے بھی رہتے ہیں مگر میں نے کبھی نہیں
مزید پڑھیے


پاکستان کے لئے کوئی فرد لازم و ملزوم نہیں

هفته 22 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
چارلس ڈیگال فرانس کے متنازع نہیں محبوب صدر تھے۔ جب کچھ مطلب پرست سیاست دانوں نے نہیں ان کے بہت سے سچے مداحوں نے کہا کہ فرانس اور ڈیگال لازم و ملزوم ہیں تو ڈیگال نے اس پر خوش ہونے کی بجائے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ایک تاریخی جملہ کہا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ناگزیر شخصیات سے قبرستان بھرے پڑے ہیں‘‘ ان کا یہ تاریخی جملہ اب ایک قول کی حیثیت سے مشہور ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے ساتھ ایک دو حوالوں سے نہایت احترام کا رشتہ قائم ہے۔ ان جیسی سینئر سیاست دان نے یہ بیان دے
مزید پڑھیے




سابق مصری صدر محمد مرسی کی شہادت

جمعرات 20 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سابق مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی مرحوم کی بیوہ نجلاء علی محمود نے یہ کہہ کر ساری اسلامی دنیا کی آنکھوں کو نمناک کر دیا کہ وہ ظالم و غاصب مصری حاکم السیسی سے اپنے شوہر کا جسد خاکی مانگ کر محمد مرسی کو خلد میں شرمسار نہیں کرنا چاہتی۔ محمد مرسی کی یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ شریک حیات 2012ء میں جب مصر کی خاتون اول قرار پائیں تو انہوں نے یہ اعزاز قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ وہی السیسی ہیں جنہیں صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اس وقت کے چیف آف آرمڈ فورسسز محمد حسین طنطاری
مزید پڑھیے


سیاست دان کا تھپڑ

بدھ 19 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران ہم نے ایک دلچسپ بات نوٹ کی کہ دوران حج جس عمارت میں انڈونیشیا اور ملائیشیا کے حجاج کرام رہائش پذیر ہوتے وہاں یوں محسوس ہوتا کہ جیسے یہاں کوئی ذی روح موجود نہیں اور جن عمارتوں میں ہمارے پاکستانی اور مصری بھائی سکونت پذیر ہوتے تو وہاں ہر طرف سے بحث و تکرار کی آوازیں آ رہی ہوتیں اور شور کی شدت سے درو دیوار کانپ رہے ہوتے۔ پاکستانی معاشرہ عدم برداشت کی آخری سٹیج پر ہے۔ یہاں چھوٹی چھوٹی بات پر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور حاکم شہر
مزید پڑھیے


غضبناک وزیر اعظم کا مڈ نائٹ خطاب

هفته 15 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
منگل اور بدھ کی درمیان شب بارہ بجے وزیر اعظم اسلامیہ جمہوریہ پاکستان جناب عمران خان نے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر ایک غضبناک شخص کے روپ میں نمودارہوئے۔ ان کی لینگوئج اور باڈی لینگوئج دونوں سے عیاں تھا کہ وہ شدید الجھن اور پریشانی کا شکار ہیں۔ خطاب کی بے ترتیبی بتا رہی تھی کہ جناب وزیر اعظم نے اپنے دماغ میں آنے والی لہر کو سکینڈ تھاٹ دینا مناسب نہیں سمجھا اور فی الفورغصے کے اظہار کو ضروری سمجھا۔ میں ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہوںکہ آخر آدھی رات کو ایسی کیا آفت آئی تھی کہ وہی پرانا اپوزیشن
مزید پڑھیے


نو ہزار روپے اور ایک شعر کی برکت

جمعرات 13 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک سماجی تقریب میں بھٹی صاحب سے تعارف ہوا۔ ان کی عمر پچاس برس کے لگ بھگ ہو گی۔ ان کی باتوں کی سادگی و سچائی نے میرا دل موہ لیا۔ میں نے ان کی مصروفیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اللہ نے دال روٹی کا باعزت بندوبست کر رکھا ہے۔ انہوں نے مجھے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی جسے میں نے قبول کر لیا۔ انہوں نے لاہور کے جس پلازے کا پتہ دیا وہ شہر کے ایک پوش علاقے میں واقع ہے۔ ’’دال روٹی‘‘ اوریہ پوش علاقہ ؟ میں ایک شام وقت طے کر
مزید پڑھیے


’’عوام دوست بجٹ‘‘

منگل 11 جون 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
لڑکپن کیا بچپن سے ہی اخبار بینی ہمارے روزمرہ معمولات کا حصہ رہی ہے۔ ہم نے گزشتہ نصف صدی میں ہر بجٹ کے بارے میں یہی پڑھا اورسنا کہ یہ ایک عوام دوست بجٹ ہو گا۔ بڑے سے بڑے ’’عوام دشمن‘‘ بجٹ کو بھی عوام دوست کہہ کر ہی پیش کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ کم و بیش وہی الفاظ‘ وہی تراکیب ‘ وہی خوشنما وعدے اور وہی مستقبل کے حسین سپنے سب کچھ یکساں چلا آ رہا ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ البتہ ایک بجٹ مجھے ایسا یاد ہے کہ جو پنجاب کے ایک ادیب‘ شاعر‘
مزید پڑھیے