ڈاکٹر حسین پراچہ



کیا امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے؟


وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی ایک خوشگوار شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ایچی سن اور کیمبرج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ اردو زبان اور اہل زبان کا سا لب و لہجہ انہیں والدہ کی طرف سے ورثے میں ملا۔ وہ پہلے بھی پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خارجہ رہے۔ مجھے حیرت ہے کہ امریکی جنگ کے سیاہ بادل ہمارے برادر پڑوسی ملک ایران پر منڈلا رہے ہیں اور پاکستانی وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی اس بارے میں فکر مند دکھائی دیتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں میڈیا اور اہل دانش و صحافت کے ساتھ
منگل 14 مئی 2019ء

حکومت کرنا بڑا آسان ہے

هفته 11 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
حضرت عمر بن عبدالعزیز جب بار خلافت اپنے کندھوں پر لاد کر گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی داڑھی آنسوئوں سے بھیگی ہوئی تھی۔ آپ کی بیوی نے گھبرا کر پوچھا کہ کیوں خیریت ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ خیریت کہاں ہے۔ میری گردن میں امت محمدیؐ کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ ننگے‘ بھوکے‘ بیمار‘ غلام‘ مسافر‘ قیدی‘ بچے‘ بوڑھے ‘ کم حیثیت، عیال دار وغیرہ سب کا بوجھ میرے سر آن پڑا ہے۔ اسی خوف میں رو رہا ہوں کہ کہیں قیامت میں مجھ سے پرسش ہو اور میں جواب نہ دے سکوں۔ حضرت عمرؓ بن
مزید پڑھیے


واپسی

جمعرات 09 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پردیسی ہو یا پنچھی گھروں اور آشیانوں کو خوشی خوشی لوٹتے ہیں۔ اسی لئے گھروں کو جاتی ہوئی گزرگاہیں‘ کہکشاہیں بن جاتی ہیں۔ غالباً عطاء الحق قاسمی نے کہا تھا ؎ گھر کو جاتے رستے اچھے لگتے ہیں جیسے زخم پرانے اچھے لگتے ہیں نشمین کو پلٹتے طائر کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا نے کیا خوب کہا تھا ؎ دن ڈھل چکا تھا اور پرندہ سفر میں تھا سارا لہو بدن کارواں مشت پر میں تھا کوٹ لکھپت جیل سے جاتی امرا آتے ہوئے میاں نواز شریف کی کیفیت بھی کچھ ایسی ہی تھی کہ اڑ کر اپنے
مزید پڑھیے


آئی ایم ایف کا ایجنڈا اور بڑا بول

منگل 07 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بڑائی اور کبریائی رب ذوالجلال کے لئے ہے اور بندوں کے لئے کیا ہے؟ بندوں کے لئے عاجزی‘ انکساری اور ہمدردی و غمخواری ہے۔ جناب عمران خان نے برسر اقتدار آنے سے پہلے ایک بڑا بول یہ بولا تھا کہ میں خودکشی کر لوں گا مگر کبھی آئی ایم ایف کے پاس نہ جائوں گا۔ اللہ نہ کرے وہ کبھی خودکشی کریں۔ اللہ انہیں زندہ و سلامت رکھے مگر اپنے بڑے بول کا خمیازہ وہ خود بھی بھگت رہے ہیں اور ساری قوم بھی بھگت رہی ہے۔ اس سے زیادہ توہین آمیز سلوک کیا ہو گا کہ آئی ایم ایف اس
مزید پڑھیے


دو بڑی پارٹیوں کے اندرونی حالات

هفته 04 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کارکن بیچارے ادھر کے ہوں یا اُدھر کے انہیں کچھ پتہ نہیں کہ اندر ہی اندر کیا ہو رہا ہے۔ کون آ رہا ہے کون جا رہا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں۔ بہت عرصے سے مسلم لیگ(ن) کے اکابر و اصاغر کا بیانیہ خامشی ہے۔ خموشی گفتگو ہے‘ بے زبانی ہے زبان میری اس ’’خموشستان‘‘ میں۔ ایک میں رونے کو تنہا انجمن میں رہ گیا۔ بلکہ ’’رہ گئی‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اکیلی مریم اورنگزیب نے مسلم لیگ(ن) کی ترجمانی کا محاذ سنبھال رکھا ہے مگر ان کے بھی ایک دو روز پہلے کے لب و لہجے سے یہ اندازہ
مزید پڑھیے




دینی تعلیم اور قومی دھارا

جمعرات 02 مئی 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دو روز قبل میجر جنرل آصف غفور اپنی پریس کانفرنس کے آغاز میں جب یہ بات کہہ رہے تھے کہ اگر1971ء میں آج کی طرح میڈیا آزاد اور باخبر ہوتا تو سقوط ڈھاکہ کی ٹریجڈی سے ہم محفوظ رہتے اور پاکستان دو لخت نہ ہوتا۔ میں عموماً جم کر کسی میڈیا بریفنگ کو نہیں دیکھتا مگر اس روز میں ہمہ تن گوش تھا اور میری نظریں ٹیلی ویژن اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ جب جنرل صاحب نے یہ بات کہی تو ان کے الفاظ اور ان کی باڈی لینگوئج میں مکمل ہم آہنگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے
مزید پڑھیے


آدھا تمہارا آدھا ہمارا

منگل 30 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ تیس بتیس برس کے دوران سندھ بالخصوص کراچی میں جو خوفناک فلم چلتی رہی اس کے کسی بھی سین کا تصور رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے۔ آج اگر اس فلم کے کسی ہولناک منظرکو ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ انسانوں کی بستی میں وہ کچھ ہوتا رہا جو کسی درندوں کی ’’بستی‘‘ میں نہیں ہوتا۔ تبھی تو اس زمانے میں کراچی کے ایک شاعر نے کہا تھا: بھاگتے کتے نے اپنے ساتھی کتے سے کہا بھاگ ‘ ورنہ آدمی کی موت مارا جائے گا کراچی کی یہ’’ہارر مووی‘‘ کبھی سیاسی مصلحتوں اور کبھی مہربانوں کی
مزید پڑھیے


سرمایہ آ رہا ہے یا جا رہا ہے؟

هفته 27 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب وزیر اعظم کو بولنے سے فرصت ملے تو وہ سوچنے پر توجہ دیں۔ عمران خان گزشتہ بائیس برس سے مسلسل بولتے چلے جا رہے ہیں۔ غالباً یہ عربی محاورہ ان کی نظر سے نہیں گزرا۔’’السکوت افصح من الکلام‘‘ کہ بسا اوقات خاموشی میں گفتگو سے کہیں بڑھ کر ابلاغ ہوتا ہے۔ جناب عمران خان ملک سے باہر جانے لگتے ہیں تو دل دھڑکنا شروع کر دیتا ہے۔ خارجہ امور کی نزاکتوں اور باریکیوں کا احساس کئے بغیر وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس کے بارے میں کبھی دوسرے ممالک جوابدہی کرتے ہیں اور کبھی پاکستان میں خان صاحب
مزید پڑھیے


ناٹرے ڈیم سے کا شانۂ اقبال تک

جمعرات 25 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
دس روز پہلے ساڑھے آٹھ سو سال پرانے نوٹرے ڈیم چرچ میں آگ لگی تو اس کا غم صرف فرانس میں نہیں ساری دنیا میں محسوس کیا گیا۔ ناٹرے ڈیم کا تاریخی چرچ پیرس ہی کی نہیں بلکہ سارے فرانس کی پہچان ہے۔ جب آگ کے شعلے چرچ کی بلند و بالا عمارت سے بلند ہورہے تھے تو ناٹرے ڈیم کے اردگرد کی گلیوں میں پیرس کے لوگ رو رہے تھے اور گڑ گڑا کر دعائیں مانگ رہے تھے تا کہ اس تاریخی ورثے کو نقصان نہ پہنچے۔ ناٹرے ڈیم کے قرب و جوار میں ہی نہیں، ساری دنیا میں
مزید پڑھیے


نرالے لوگ اور غیر ضروری بحثیں

منگل 23 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مستقل مزاجی اور ثابت قدمی وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو اوج ثریا تک لے جاتے ہیں۔ یہی قانون فطرت ہے۔ یہی ارشاد باری تعالیٰ ہے جو سورہ آل عمران میں نازل فرمایا گیا ہے! ’’پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو۔‘‘ جو قومیں قدم قدم پر راستہ بدل لیتی ہیں وہ کبھی منزل مقصود پر نہیں پہنچتیں۔ راستے ہی میں بار بار بھٹک جاتی ہیں۔ جو قومیں جہانبانی و حکمرانی جیسے سنجیدہ و ذمہ دارانہ کام کو بازیچہ اطفال بنا دیتی ہیں وہ آگے بڑھنے کی بجائے بار بار آپس کی بحثوں
مزید پڑھیے