ڈاکٹر حسین پراچہ



کیا اب تبدیلی آ جائے گی؟


ہمیں خود ذاتی طور پر شہر اقتدار کا تجربہ ہے کہ یہاں شام تک سب اچھا ہوتا ہے مگر اگلی صبح آپ بیدار ہوتے ہیں تو بڑے بڑے برج الٹ چکے ہوتے ہیں۔ شہر اقتدار میں ’’اقتدار‘‘ کو آنکھیں پھیرنے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ جناب اسد عمر آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے بعد اسلام آباد لوٹے تو ان سے اخباری رپورٹروں نے پوچھا کہ یہاں تو آپ کے جانے کی افواہیں گرم ہیں‘ آپ کے پیچھے آپ کے کچھ مہربان سرگرم عمل رہے۔ اس پر اسد عمر نے کمال سادگی اور خود اعتمادی سے جواب دیا کہ: ہزاروں
هفته 20 اپریل 2019ء

نیب کا مستحسن فیصلہ

جمعرات 18 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پنجاب کے جس علاقے سے چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال کے آبائو اجداد کا تعلق ہے ہم بھی وہاں کے رہنے والے ہیں۔ اس علاقے میں یہ اکھان بہت مشہور ہے کہ ’’ددھیاں دھیانیاں سانجھیاں ہوندیاں نے‘‘ یعنی بہو بیٹیوں کی عزت و تکریم سب پر واجب ہوتی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی بیمار بیگم نصرت شہباز اور ان کی دو صاحبزادیوں کی نیب میں طلبی کے احکامات منسوخ کیے تو میڈیا و سوشل میڈیا پر خیالی گھوڑے دور دور تک دوڑائے گئے، کچھ تجزیہ کاروں نے اسے نیب کی کمزوری پر معمول کیا، کچھ
مزید پڑھیے


جلیانوالہ باغ سے گجرات تک

منگل 16 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تاریخ کو بدلا تو نہیں جا سکتا مگر ماضی میں ڈھائے گئے مظالم پر شرمسار تو ہوا جا سکتا ہے۔ بھارت میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر نے جلیانوالہ باغ کی یاد گار پر پھول چڑھانے کے بعد ملکہ برطانیہ کا پیغام پڑھتے ہوئے کہا کہ ہم تاریخ کو شاید دوبارہ لکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں البتہ ہم تاریخ سے صرف سبق سیکھ سکتے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ خود کو مہذب اور ترقی یافتہ کہنے والی دنیا تاریخ سے سبق حاصل کرنے پر آمادہ نہیں اور بار بار اسی ظالمانہ تاریخ کودوہرانے پر مصر ہے۔
مزید پڑھیے


کب یادمیں تیرا ساتھ نہیں!

هفته 13 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اڈیارڈ کپلنگ نے اپنی ایک نظم میں لکھا تھا کہ ’’مشرق‘ مشرق ہے اور مغرب‘ مغرب ہے اور کبھی یہ دونوں آپس میں مل نہیں سکتے‘‘ مگر بعض اوقات’’مغرب‘‘ مشرق میں آ کر یوں ’’مشرقی‘‘ بن جاتا ہے کہ جسے دیکھ کر خود اہل مشرق رشک کرنے لگتے ہیں۔ ’’آخر کار وہ لمحہ آ ہی گیا جب مجھے دولہا کے گھر والوں کا سامنا کرنا تھا۔ وہ مجھے پہلے ہی دل و جان سے قبول کر چکے تھے۔ میں ایک سٹول پر بیٹھی ہوئی تھی اور میرے چاروں طرف گائوں کے بڑے بزرگ جمع تھے۔داڑھی والے‘ مہندی رنگے بالوں والے‘چھوٹے اور
مزید پڑھیے


کیا اگلی حکومت جماعت اسلامی کی ہوگی

جمعرات 11 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بانی جماعت اسلامی سیدابوالاعلی مودودی کی خوش اخلاقی اور دلنوازی کا عکس جمیل جماعت اسلامی کے ہرقائد کی شخصیت میں نمایاں طور پر دکھائی دیتاہے۔ جماعت والے جب اس خوئے دل نوازی کیساتھ اپنی تقریبات میں شرکت میں تبادلہ خیال کیلئے بلاتے تو ہم بھی چلے ہی جاتے ہیں جب اس طرح پیام آئے گزشتہ روز سینٹرسراج الحق کی دوسری مدت امارت کی تقریب حلف برداری بلاشبہ جماعت اسلامی کی روایات کے عین مطابق انتہائی باوقار اور منعظم تھی۔جماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آئی یا نہیں مگر منصورہ کی عمومی فضا میں ہمیں خاصی کشیدگی اور
مزید پڑھیے




کیا ہم تیار ہیں؟

منگل 09 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب شاہ محمود قریشی سے ہماری ہلکی پھلکی پرانی شناسائی ہے۔ وہ خوش لباس بھی ہیں‘ خوش کلام بھی ہیں اور خوش اخلاق بھی۔ جب بات کرتے ہیں تو فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیتے ہیں۔ مگر کبھی مبالغہ آرائی سے کام نہیں لیتے۔ یوں بھی جنگ اور امن جیسے نازک معاملات جس احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں اس کو شاہ صاحب ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ گزشتہ روز پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تازہ ترین انٹیلی جنس معلومات قومی میڈیا پر بیان کر کے نہ صرف اپنی قوم بلکہ عالمی برادری کو بھی چونکا دیا ہے شاہ
مزید پڑھیے


اردو زبان اور نیب کی ہتھکڑیاں

هفته 06 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جناب عمران خان کی سادگی اظہار پر ایک دنیا فدا ہے۔ وہ جو بات کہتے ہیں اسے سن کر لوگوں کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے خان صاحب نے ان کے دل کی بات کی ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں جلوہ افروز ہو کر انہوں نے حیدر آباد یونیورسٹی کا ’’سنگ بنیاد‘‘ رکھا ہے۔ اس تقریب کے موقع پر ان کے تازہ ترین ارشادات سادگی بیان کا شاہکار ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ میں انگریزی تقریر کر کے عوام کی توہین کی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ انگریزی بول کر پڑھے لکھے لگیں گے۔
مزید پڑھیے


ذوالفقار علی بھٹو :ناقابل فراموش سیاست دان

جمعرات 04 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آج چالیس برس گزر جانے کے باوجود اگر ذوالفقار علی بھٹو کا نام زندہ ہے تو یہ بھٹو کی شخصیت کا کرشمہ ہے یا اس کے خاندانی و سیاسی وارثوں کی سیاست کا کمال ہے؟ ہماری سیاست کے بعض ایسے واقعات اور شخصیات ہیں جن کی یاد تازہ کر کے آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں اور آدمی سوچنے لگتا ہے کہ کیا تقدیر کا لکھا ٹالا نہ جا سکتا تھا؟ ذوالفقار علی بھٹو اپنی تمام تر ذہانت و فطانت کے باوجود ہماری سیاسی تاریخ کی ایک متنازعہ شخصیت ہیں۔ بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 1973ء کا متفقہ آئین ہے۔ حصول وطن
مزید پڑھیے


’’تبدیلی آ گئی‘‘

منگل 02 اپریل 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
آغاز معصوم خواہشات کے اظہار سے کرتے ہیں۔ دورہ سندھ کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے گھوٹکی کے جلسے میں عمران اسماعیل سے ’’تبدیلی آ گئی‘‘ کا گانا سننے کی فرمائش کی اور پھر خود ہی یہ کہہ کر انہوں نے اپنی معصوم خواہش کو کچل دیا کہ اب آپ گورنر سندھ ہیں اس لئے آپ کا گانا مناسب نہیں۔ دوسری معصوم خواہش کا اظہار دو روز پہلے وزیر خزانہ اسد عمر نے عوام کو طفل تسلی دیتے ہوئے کیا تھا کہ آپ گھبرائیں نہیں اور نہ ہی آنسو بہائیں تیل نکل آیا تو پھر ہر طرف بہاریں ہی
مزید پڑھیے


اے استاد محترم! ہم شرمندہ ہیں

هفته 30 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
معلم کون ہوتا ہے؟ معلم ایک ایسا شخص ہوتا ہے جو اندر کی ’’روشنی‘‘ بااثر لاتا ہے جو اپنے طلبہ و طالبات کو بلندیوں کی راہیں دکھاتا ہے، جو اقبال کے الفاظ میں دلوں کو سوز و سازِ آرزو اور ذوق و شوق کی حرارت سے بھر دیتا ہے۔ جو خودکسی مقصد کا دیوانہ ہوتا ہے اور دوسروں میں بھی ایسی ہی زندگی پیدا کردیتا ہے۔ ایک حقیقی معلم نہ صرف اپنے طلبہ کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے جذبوں کی خوشبو سے گردوپیش بھی معطر ہو جاتے ہیں۔ کبھی سرکاری سکول ہی ہماری سوسائٹی کے ماتھے کا جھومر ہوتے تھے
مزید پڑھیے