ڈاکٹر حسین پراچہ



ایک ہفتے میں بھارت نے کیا گنوایا ہے


آپ کیا سمجھتے ہیں کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارت نے محض اپنے دو جنگی جہاز گنوائے اور اپنے ایک پائلٹ کوقیدی بنوایا تھا؟ نہیں جناب ایسا نہیں، بھارت نے اس دوران اپنی فوجی عظمت کو گنوایا اور وہ اپنی نام نہاد اخلاقی ساکھ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔ بھارت نے ملک کے اندر اور باہر اپنی پراپیگنڈا مشینری سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران یہ تاثر قائم کر رکھا تھا کہ وہ ایک ملٹری گلوبل پاور ہی نہیں بہت بڑی اقتصادی اور ثقافتی طاقت بن چکا ہے۔ اس غبارے میں یہاں تک ہوا بھری گئی تھی کہ
منگل 05 مارچ 2019ء

ہمارا ہیرو: ٹیپو سلطان شہید

هفته 02 مارچ 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
رب ذوالجلال کا شکر واجب ہے کہ جس نے پہلے ہی رائونڈ میں مملکت خداداد پاکستان کو اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن پر فوجی، فضائی اور اخلاقی برتری عطا کی ہے۔ تاریخ کا یہ سبق یاد رکھئے کہ دنیا کی کوئی فوجی و مادی قوت اخلاقی قوت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ جناب عمران خان اپنی عسکری و اخلاقی برتری ثابت کرنے کے بعد امن امن پکار رہے ہیں مگر دوسری طرف نریندر مودی ابھی تک غیظ و غضب میں پھینکار رہے ہیں۔ نئی دہلی میں سائنسدانوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ لوگ
مزید پڑھیے


اسلامی کانفرنس میں سشما سوراج :پاکستان کی شرکت یا بائیکاٹ

جمعرات 28 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
جس شخص نے اپنے بچپن میں 7ستمبر 1965ء کو پاکستان ایئر فورس کے عالمی شہرت یافتہ پائلٹ ایم ایم ایم کی سرگودھا کی فضائوں میں انڈین ہنٹر فائٹر طیاروں کے خلاف ڈاگ فائٹ اپنی آنکھوں سے دیکھی ہو وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہو سکتا کہ اسی پاکستان ایئر فورس نے بالا کوٹ میں پرانے دشمن کے طیاروں کو بچ کے جانے دیا ہو گا۔ ذرا یہ ایمان افروز واقعہ آپ کو یاد دلا دوں۔60سکینڈ میں دشمن کے پانچ فائٹر طیاروں کو مار گرانا عالمی ہوا بازی کی تاریخ کا منفرد اور انوکھا واقعہ ہے۔ جنگ ستمبر شروع
مزید پڑھیے


دو محاذوں پر لفظی جنگ

منگل 26 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تیسری دنیا میں کسی بھی سطح پر برسراقتدار آنے والا بھول جاتا ہے کہ اقتدار پانی کا بلبلہ ہوتا ہے۔ دائمی اقتدار تو رب ذوالجلال کا ہے جسے کبھی زوال نہیں۔ داخلی محاذ پر جاری لفظی جنگ سے بات کا آغاز کرتے ہیں۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری کا استعفیٰ؟ مرے کام کچھ نہ آیا یہ کمال نے نوازی جناب فواد چودھری وزارت اطلاعات کے ’’جلیلہ‘‘ پر متمکن ہوئے تو ان کی جارحانہ لفظی گولہ باری سے کوئی محفوظ نہ تھا کبھی وہ اپوزیشن پر گرجتے، کبھی سیاست دانوں پر برستے، کبھی صحافیوں کی خبر لیتے اور کبھی الیکٹرانک میڈیا کے پر کاٹنے کی
مزید پڑھیے


نیو ڈیل: یہی شاہکار ہے تیرے ہنر کا؟

هفته 23 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
عمران خان کے دیئے گئے سہانے سپنوں میں سے جو خواب مدتوں سے میری پلکوں میں آویزاں ہے وہ یکساں تعلیم کا خواب ہے۔ اس خواب کو پلکوں میں سجانے کا اہم سبب یہ ہے کہ ہم نے اسے اپنے ہی خواب کی تعبیر جانا۔ ہمارا تعلیمی خواب کیا تھا اس پر تو بعد میں گفتگو کرتے ہیں پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ’’دی نیوڈیل‘‘ کے نام سے جس تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیں۔ اٹھارویں دستوری ترمیم کے بعد تعلیم وفاقی نہیں صوبائی سبجیکٹ بن چکا ہے تا ہم مرکز اور
مزید پڑھیے




شاندار خطاب‘ دو ٹوک پیغام

جمعرات 21 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تقریر کون سی پراثر ہوتی ہے؟ تقریر وہ موثر اور جاندار سمجھی جاتی ہے جو مختصر مگر جامع ہو اور دلوں میں اتر جانے والی ہو۔ پیغام کون سا بھر پور ہوتا ہے؟ پیغام وہ زبردست سمجھا جاتا ہے جو واضح اور دوٹوک ہو۔ اس اعتبار سے عمران خان کا خطاب بے مثال تھا۔ اس خطاب میں وزیر اعظم نے پاکستانی قوم کی ترجمانی کا حق ادا کر دیا ہے۔ تبھی تو پاکستان کا ہر شخص یہ محسوس کر رہا ہے کہ۔ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے 6منٹ کے اس خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی
مزید پڑھیے


کیا سعودی سرمایہ کاری سے ہمارے حالات بدلیں گے؟

منگل 19 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اگر گاڑی میں کوئی بڑی فنی خرابی نہ ہو محض بیٹری کمزور ہو تو دھکا لگانے سے گاڑی نہ صرف اسٹارٹ ہو جاتی ہے بلکہ فراٹے بھرنے لگتی ہے ہمارے اردگرد کئی بڑے چھوٹے ممالک کے حالات صدیوں میں نہیں دیکھتے دیکھتے برسوں میں بدلے ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان یقینا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ پرنس نے پاکستان میں سرکاری و پرائیویٹ سعودی سیکٹر کی طرف سے 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیاہے۔ جن شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی ان میں توانائی ‘ ریفائنری ‘ معدنی وسائل
مزید پڑھیے


سعودی مہمان مکرم: مرحبا ترا حیب المطر

هفته 16 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
پہاڑ کے راستے اگر آپ مکتہ المکرمہ سے طائف جائیں تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے ایک بہت بڑی دیوار پر عربی میں لکھا ہے مرحبا’ تراحیب المطر۔ اس کا ترجمہ ہے ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں جیسے بارش کو کہتے ہیں ایک صحرائی ملک میں کہ جہاں باران رحمت سے کھیتیاں لہلہلا اٹھتی اور مرجھائے ہوئے چہرے مسکراہٹ سے جگمگا اٹھتے ہوں وہاں بارش بہت ہی مرغوب و محبوب اور مطلوب سمجھی جاتی ہے۔ یہ 1981ء کا سال تھا۔ ریاض ایئر پورٹ پر شاہ خالد بن عبدالعزیز پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے استقبال کے لئے
مزید پڑھیے


کیا پارلیمنٹ چلے گی؟

جمعرات 14 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
سیاسی شعور تاریخ کے مطالعے سے جبکہ حکمت ریاضت سے آتی ہے۔ ایئرمارشل اصغر خان تاریخ سے سبق حاصل کرنے پر زور دیتے رہے۔ ’’ہم تاریخ سے کیوں نہیں سیکھتے؟‘‘ اس عنوان سے انہوں نے تاریخی مثالوں سے مزین ایک چشم کشا کتاب بھی لکھی۔ اس کتاب میں اصغر خان نے واضح کیا کہ اگر ہم نے اپنی ہی تاریخ سے سبق سیکھا ہوتا تو فلاں فلاں ٹریجڈی سے بچا جا سکتا تھا۔ بیچارے اصغر خان یہ واویلا کرتے اور رونا روتے اپنے دل میں قومی درد و الم کا بوجھ اٹھا کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے مگر ہمارے
مزید پڑھیے


عمران خان کا ایجنڈا: معاشی خوشحالی اور عدل و انصاف

منگل 12 فروری 2019ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
بزرگوں سے یہی سنا تھا کہ کبھی بڑا بول نہ بولو کیونکہ جب پندار کا صنم کدہ دھڑام سے گرتا ہے تو اس کی صدائے کربناک دور دور تک سنائی دیتی ہے۔ اہل دل اور اہل نظر اچھی طرح سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ کے سامنے دبئی میں کس دل سے پیش ہوئے ہوں گے۔ خان صاحب علی الاعلان کہا کرتے تھے میں کہیں کاسہ گدائی لے کر نہیں جائوں گا۔ آئی ایم ایف کے سامنے دست سوال دراز نہ کروں گا۔ اب خان صاحب بڑی شان
مزید پڑھیے