Common frontend top

BN

ڈاکٹر طاہر مسعود


لیڈر کی تلاش


لیڈر سے میری ملاقات پرانی تھی۔ لیکن اتنی بھی پرانی نہیں کہ ان کے ظاہر و باطن کو جان لینے کا مجھے دعویٰ ہو۔سنا تھا کہ لیڈروں کا ظاہر و باطن عموماً یکساں نہیں ہوتا۔جو ہوتے ہیں وہ نظر نہیںآتے اور جیسا نظر آتے ہیں ویسے ہوتے نہیں۔آزادی سے پہلے ہمیں جو لیڈر ملے اور جن کی وجہ سے ہمیں آزادی ملی وہ ایسے ہی تھے، اندر اور باہر سے ایک جیسے۔ان پر آنکھ بند کر کے اعتماد کر لو تو بھی یہ خدشہ نہیں ہوتا تھا کہ کسی موڑ پہ غچّہ دے جائیں گے‘ دھوکے میں رکھ کر کچھ
هفته 29 اکتوبر 2022ء مزید پڑھیے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

جمعرات 27 اکتوبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ذہن کو سکون بخشنے والی دوائیں بھی مہنگی ہو گئیں۔سکون و اطمینان مہنگے ہوں گے تو دوائیں بھی مہنگی ہو جائیں گی۔یہ ایک سادہ سال اصول ہے ڈیمانڈ اور سپلائی کا اصول جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے دل کا سکون اور ذہن کا اطمینان رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔جیسے واقعات پے درپے رونما ہو رہے ہیں اس میں یہی ہوتا ہے۔پیمانۂ صبر لبریز ہو رہا ہے اور برداشت جواب دے رہے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟کتنا صبر اور کتنی برداشت؟ جتنا بھی ممکن ہو۔کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ فائنل رائونڈ ہے۔جو ہونا ہو گا اسی رائونڈ
مزید پڑھیے


آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی!

پیر 24 اکتوبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
سوچا تھا اب سیاست پہ کبھی کچھ نہ لکھیں گے۔اس لئے کہ قوم سیاست کے دلدل میں پچھتّر برسوں سے اتری ہوئی ہے۔جتنا نکلے کی کوشش کرتی ہے اتنا ہی اندر دھنستی جاتی ہے۔اخبار ہو‘ ٹی وی ہو‘ نجی محفل ہو‘ تقریبات ہوں۔ ہر جگہ سیاست ہی سیاست ہے۔اس سے نجات کی کوئی صورت ممکن ہی نہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سیاست و حکومت کے معاملات ایک طبقہ سنبھالتا اور عوام اپنی زندگی سکون و اطمینان سے گزارتے۔سیاست کے معاملات کو اہل سیاست دیکھتے‘ وہی فیصلے کرتے۔ملک میں زیادہ سے زیادہ دو تین پارٹیاں ہوتیں۔قوم ان ہی میں سے
مزید پڑھیے


مولا جٹ تک

هفته 22 اکتوبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ان دنوں ایک نئی فلم ’’مولا جٹ‘‘ کا ہر طرف شہرہ ہے۔کیا بچّے کیا بوڑھے کیا جوان اور کیا عورتیں‘ جسے دیکھو مُنہ اٹھائے یہی فلم دیکھنے چلا جا رہا ہے۔فلم بھی کوئی ایسی نئی نہیں‘ برسوں پہلے اسی نام سے پہلے بھی بن چکی ہے۔البتہ کاسٹ نئی ہے۔ہدایت کار بھی نیا اور اسکرپٹ بھی ازسرنو لکھا گیا ہے۔ہم نے جب دیکھا کہ سبھی بغیر دیکھے ہی اس فلم کے لوگ دیوانے ہیں تو ہمارے دل میں بھی آیا کہ جا کر دیکھیں کہ فلم میں ایسا کیا ہے کہ دیکھے بغیر ہی لوگ اس کے عاشق ہو گئے ہیں۔لیکن
مزید پڑھیے


بدلتا ہے رنگ

جمعه 14 اکتوبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جب کالم نگاری شروع کی تو طنزیہ مزاحیہ اسلوب اختیار کیا۔اس زمانے میں کالم اسی کو کہا اور سمجھا جاتا تھا کہ کالم نگار واقعات حاضرہ پر اپنا ہلکا پھلکا تبصرہ طنزو مزاح کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرے۔ابن انشاء اور نصراللہ خاں اس دور کے مقبول کالم نگار تھے۔چنانچہ ہم نے بھی یہی انداز اپنایا اور خود ستائی معاف بہت مقبول ہوا۔کسی کو یقین نہ آئے تو بزرگ کالم نگار مجیب الرحمان شامی صاحب سے تصدیق کر لے۔ بقول ان کے پھر نہ جانے کیا ہوا کہ ہمارے قلم کو شاید کسی کی نظر لگ گئی کہ ہم نے
مزید پڑھیے



آخری آپشن!

بدھ 12 اکتوبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
مرزا غالبؔ نے کہا تھا:بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے۔ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے۔دنیا کیا ہے؟ ایک تماشا گاہ ہی تو ہے اور یہ سارا کھیل تماشا بچوں ہی کا تو ہے۔انسان کتنا ہی بڑا ہو جائے‘ عقل و شعور میں کتنا ہی پختہ ہو جائے لیکن حقیقتاً رہتا بچوں ہی کی طرح ہے۔اتنا ہی خام اور ناسمجھ۔ اپنے آپ کو کتنا ہی عقلمند اور باشعور سمجھے لیکن اس کا انجام بتاتا ہے کہ وہ کتنا ناواقف اور عقل میں کتنا کورا رہا۔جن چمکتی چیزوں کو سونا سمجھ کر ان کی طرف لپکتا رہا اور انہیں حاصل
مزید پڑھیے


سیلاب زدگان کیلئے

منگل 27  ستمبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دریا کی تُند و تیز لہروں میں تمہارا گھر بہہ گیا اجڑ گئے تُم اور تمہارا گھرانہ نہ چھت رہی نہ دالان نہ دیواریں کُھلا آسمان نم آلود زمین اور بیکراں زندگی سخت اور ناہموار شب و روز تو اب تم کہتے ہو خدا نے یہ کیا کر دیا؟ کس گناہ کس جرم کی سزا دی ہمیں؟ نہیں خدا نے تمہیں آزمائش میں ڈالا تمہیں اور تمہارے ہم وطنوں کو تمہارے حکمرانوں کو یہ دیکھنے کے لئے کتنا درد ہے ان کے دلوں میں کتنی محبت ہے ان کے دل میں تم سے اور تمہارے جیسے دوسرے مصیبت زدوں سے سیلاب‘زلزلہ اور دوسری آسمانی آفتیں ہمیشہ آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی تمہارے گناہوں کو بہا لے جانے کے لئے تمہیں ایک بڑی مصیبت میں ڈال کے تمہارا امتحان لینے
مزید پڑھیے


کتاب یا انسائیکلو پیڈیا!

اتوار 25  ستمبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
آج میرا موضوع ایک انسائیکلو پیڈک کتاب ہے، جو ایک تکون کے گرد گھومتی ہے، اس تکون کی مرکزی شخصیت سابق وزیر قانون اور معروف قانون دان ایس ایم ظفر ہیں۔دوسری شخصیت پنجاب یونیورسٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے سینئر استاد اور اس کتاب کے مرتب و مصنف ڈاکٹر وقار ملک ہیں اور تکون کی تیسری شخصیت علامہ عبدالستار عاصم کی ہے، جو خود کئی کتابوں کے مصنف اور کالم نگار ہونے کے علاوہ اس ضخیم انسائیکلو پیڈک کتاب کے ناشر ہیں۔ کتابوں کی عدم مقبولیت کے اس زمانے میں کسی ناشر کا تقریباً سات سو صفحوں کی اس کتاب کا
مزید پڑھیے


قصّہ ایک تازہ ٹرانس جینڈر کا

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دلبر جان صبح سویرے بیدار ہوا تو اسے یوں محسوس ہوا کہ اس کے اندر نسوانی جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔بے اختیار اس کا جی چاہنے لگا کہ وہ کچن میں جائے اور بیوی بچوں کے لئے عمدہ سا ناشتہ تیار کرے۔پورے گھر کی ڈسٹنگ کرے اور جھاڑو پونچھے میں ماسی ڈنڈی مارے تو اس کی اسی طرح خبر لے جیسے بیوی لیتی ہے۔لیکن اس وقت بہت سویرا تھا اور تھکی ہاری بیوی بے سدھ پڑی سو رہی تھی۔بچے دوسرے میں تھے وہ بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔دلبر جان کو اپنے اندر پیدا ہونے والے نسوانی جذبات
مزید پڑھیے


مسئلہ کشمیر اور ہمارے ادیب

بدھ 21  ستمبر 2022ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم کے مشہور رسالے ترجمان القرآن کے ان دنوں عملاً کرتا دھرتا سلیم منصور خالد ہیں جو دائیں بازو کے نہایت روشن خیال دانشور اور بہت سی کتابوں کے مصنف‘ مرتب اور مولف ہیں۔ ان کی تازہ مرتبہ کتاب کشمیر پر چھپی ہے۔ ’’کشمیر 5 اگست 2019ء کے بعد‘‘ 534 صفحات پر مشتمل اس معلومات افزا کتاب میں 66 مضامین ہیں جو ترجمان میں شائع ہوئے اور جنہیں سلیم منصور خالد نے اشاریہ کے ساتھ نہایت سلیقے سے مرتب کر کے اسے ایک قابل مطالعہ کتاب بنا دیا ہے۔ یوں تو کتاب میں کشمیر کے دیرینہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں