BN

ڈاکٹر طاہر مسعود

تبدیلی کا آخری موقع

پیر 30 جولائی 2018ء
وہی ہوا جس کا ا ندیشہ تھا۔ شکست خوردہ عناصر اپنی شکست ماننے کو تیار نہیں۔ شاید ان کی قسمت میں ابھی اور رسوائی لکھی ہے۔ وہ نوشتہ دیوارپڑھنے سے قاصر ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ یہ 1977ء نہیں اور نہ ان کا واسطہ کسی جمہوری ڈکٹیٹر سے ہے کہ وہ نتائج کو ماننے سے انکار کریں گے اور عوام ان کے ساتھ ہو جائیں گے۔ گلی کوچوں میں جلوس نکلیں گے اور مسجدوں میں اذانیں گونجیں گی۔ 1977ء کے انتخابی نتائج کو نہ ماننے کے نتیجے میں فوج آ گئی تھی اور گیارہ برس قوم کے فوجی راج میں
مزید پڑھیے


قومی انتخابات کے بعد

جمعه 27 جولائی 2018ء

الیکشن کے جو بھی نتائج آئے ہیں وہ توقع کے برخلاف نہیں بلکہ توقعات 

کے عین مطابق ہیں۔ البتہ الیکشن کی شفافیت پہ جو سوالات اور اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بھی ہمارے سیاسی مزاج کا اظہار ہے۔ ممکن ہے کہ ان اعتراضوں میں ایک حد تک سچائی بھی ہو لیکن سب سے بڑی سچائی یہ بھی ہو کہ ملک میں جمہوری عمل مستحکم ہوا ہے‘ اس عمل کے تسلسل کا تقاضا ہے کہ ہم ایک جمہوری قوم ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے الیکشن کے نتائج کو قبول کر لیں۔ جمہوری عمل کو ذاتی سیاسی مفادات کے لیے مشکوک ٹھہرانا
مزید پڑھیے


فیصلے کا دن

بدھ 25 جولائی 2018ء
معرکے کی وہ گھڑی خدا خدا کر کے آہی گئی جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ جو جیتے اور فتحیاب ہو اسے عاجزی اور فروتنی اختیار کرنا اور جو ناکام ہو اسے اپنی ہارمان لینے میں کوئی مضائقہ نہ ہونا چاہیے۔ یہی جمہوریت ہے اور اسی میں جمہوریت کا حسن ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہار ماننا اور اپنی شکست کو تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے صبر، ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو ایمانداری سے ہارمان لیتا ہے اور اپنی شکست کے اسباب کا
مزید پڑھیے


کچھ یونہی سی باتیں

جمعه 13 جولائی 2018ء
اِدھر سے اُدھر اور یہاں سے وہاں تک عجب سی ہاہا کار ہے۔ جو کچھ ہے‘ جو کچھ ہو رہا ہے‘ ان کے معنی و مفہوم کیسے متعین ہوں۔ مخمصہ ہی مخمصہ‘ ہر طرف گردو غبار کے بادل تیرتے پھرتے ہیں۔ آواز دو تو لوٹ کر اپنے تک ہی آ جاتی ہے۔ لفظ جو بے حرمت ہو چکے‘ لفظ جو اپنی قوت اور اپنا زور کھو چکے‘ ان لفظوں سے کیا اب بھی کوئی کام لیا جا سکتا ہے۔ الفاظ کچھ کہتے ہیں حقیقت کا کچھ اور بیان ہے۔ کس پہ یقین کریں کس پہ نہ کریں۔ کاہل اور تن
مزید پڑھیے


معاملہ سزا اور جزا کا

اتوار 08 جولائی 2018ء
قانون قدرت کی بنیاد سزا اور جزا پر رکھی گئی ہے۔ انسان کے بنائے ہوئے قانون میں سزا تو ہے جزا کا کوئی تصور نہیں ہے اور جب کسی معاشرے میں طاقت وروں کو قانون توڑنے کے باوجود سزا سے مستثنیٰ کر دیا جائے تو رفتہ رفتہ انارکی پھیل جاتی ہے اس انارکی اور انتشار کو دور کرنے کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ کمزوروں کے ساتھ طاقتوروں کو بھی ملکی قانون کے دائرے میں لایا جائے اور انہیں بھی جرم ثابت ہو جانے پر سزا دی جائے۔ ایسا کرنے ہی سے قانون کی بالادستی قائم ہو گی
مزید پڑھیے


وہ صبح طلوع ہو کے رہے گی!

جمعه 06 جولائی 2018ء
صاحب عجب ہی ماجرا ہوا۔ جو کبھی نہ ہوا تھا اب کے ہو گیا۔ عوام یا ووٹر جاگ پڑے۔ یوں لگا کہ سوئی ہوئی غفلت کی نیند میں پڑی قوم کو کسی نے قُم باذن اللہ کہہ کر جگا دیا۔ امیدوار وعدوں کی پوٹلی لیے جس حلقے میں جاتا ہے وہاں لوگ باگ پکڑ لیتے ہیں۔ پوچھتے ہیں اب تک کہاں تھے؟ ووٹ لے کر پھر گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تو نہ ہو جائو گے؟ وعدہ فراموش‘ یہاں سے چلتے پھرتے نظر آئو۔ بے چارہ امیدوار اس نئی صورت حال میں گِھر کر کہے تو کیا کہے
مزید پڑھیے


آنا شہباز شریف کا کراچی میں

جمعه 29 جون 2018ء
خادم اعلیٰ میاں شہباز شریف آف پنجاب خیر سے اپنی ہی زبان میں ’’کرانچی‘‘ تشریف لائے۔ وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے۔ یہاں آ کے انہوں نے اپنی خوش گلوئی یعنی مظاہرۂ گلوکاری کا شوق بھی پورا کیا اور فلم ’’ارمان‘‘ کا سپرہٹ گانا ’’اکیلے نہ جانا‘‘ گا کر سننے والوں کا دل موہ لیا۔ سنا ہے ان کے برادر بزرگ اور تاحیات نا اہل سیاسی رہنما میاں نوازشریف بھی گانا گانے کا شوق رکھتے تھے اور آواز کا جادو جگانے میں اپنے برادر خورد سے پیچھے نہ تھے۔اگر دونوں بھائی صاحبان اپنے اسی شوق کی آبیاری
مزید پڑھیے


بیان کچھ اثاثہ جات کا

بدھ 27 جون 2018ء
ہمیں اپنے ملک کی جمہوریت اچھی لگتی ہے کیوں کہ اس میں الیکشن ہوتا ہے اور الیکشن میں اس کے سوا کوئی برائی نہیں کہ امیدواروں کو اپنے اثاثے بتانے پڑتے ہیں۔ اثاثے چھپ کر چپکے چپکے بنائے جاتے ہیں۔ دنیا کو بتانے اور دکھانے کے لیے نہیں بنائے جاتے چونکہ اثاثے ظاہر کرنا مجبوری ہے اور الیکشن لڑنا بھی ضروری ہے۔ سیاست دان الیکشن نہ لڑیں تو اثاثوں میں اضافہ کیسے ہو۔ اس لیے اپنے اثاثوں کی تفصیل بتاتے ہوئے سیاست دان انکسار و عاجزی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ اربوں کی جائیداد کو کروڑ دو کروڑ کا بتاتے
مزید پڑھیے


عہد یوسفی کا خاتمہ

پیر 25 جون 2018ء
اردو کے ظریفانہ ادب کو عام چلن بلکہ فیشن بنانے والے مشتاق احمد یوسفی اپنی اننگ کھیل کر دنیا کے اس گرائونڈ سے رخصت ہوئے جس میں اب ادب اور لکھے ہوئے لفظ کے لیے گنجائش تقریباً ختم ہو چلی ہے۔ یوسفی صاحب جب تک ہمارے درمیان رہے‘ ان کی ذات اور ان کے لکھے ہوئے ادب کے حوالے سے خود ادب کا اعتبار اور وقار باقی رہا۔ ان کے پُر مزاح مگر پُر حکمت جملے اور فقرے محفلوں میں تحریروں میں کوٹ کیے جاتے تھے ایسے کہ جیسے یوسفی کے فقرے نہ ہوں ارسطو و افلا طون کے اقوال
مزید پڑھیے


خان صاحب! ذرا سنبھل کے

جمعه 22 جون 2018ء

بنی گالہ میں ناراض کارکنوں کا اجتماع ہم نے ویڈیو پر دیکھا، عید کا تیسرا دن تھا۔ عمران خان علیم خان کے چارٹرڈ طیارے پر عمرہ کر کے لوٹے تھے اور ادھر وہ کارکنان تحریک انصاف کے جو انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے عمران خان کے جلسوں میں پچھلے بیس برسوں میں دریاں بچھاتے اور دھرنوں کو آباد کرتے آئے تھے۔ اب کے عمران خان زندہ باد کہنے نہیں، یہ شکایت لیے آئے تھے کہ کپتان! ٹکٹ انہیں ملے جو شریک سفر نہ تھے۔ عمران سیاہ چشمے میں انہیں تسلی دیتے رہے کہ ہم ریویو (نظرثانی) کریں
مزید پڑھیے