ڈاکٹر طاہر مسعود



کوئی تو ہے!


جمعے کی شام یکایک آسمان پہ جانے کہاں سے سیاہ بادل امڈ آئے اور رم جھم پھوار برسنے لگی۔ بچوں نے ’’بارش بارش‘‘ کا شور مچایا اور دونوں ہاتھ پھیلائے سر اٹھائے اور رحمت خداوندی سے شرابور ہونے کے لئے کھلے آسمان تلے ناچنے لگے۔ موسم ٹھنڈا ہو گیا‘ سرد خوشگوار ہوائوں سے جسم و جاں میں راحت کا احساس جاگ اٹھا اور تبھی بجلی غائب ہو گئی۔ آسمان مہربان ہوتا ہے تو زمین کا نظام تلپھٹ ہو جاتا ہے۔ ہے کوئی اس کا علاج اے چارہ گراں۔ اپنے ملک کی جو حالت ہے اور گردو پیش جو کچھ ہو رہا
پیر 24 جون 2019ء

ایک حکومت اور ایک کہانی

جمعرات 20 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ادب سے دلچسپی رکھنے والا کون ایسا ہو گا جس نے ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کا نام نہ سنا ہو گا۔ اس میں ایسی کہانیاں ہیں جو آج بھی انسانوں کو عقل و تدبر کی تعلیم دیتی ہیں۔عام زندگی کے معاملات کے بارے ہی میں نہیں‘ حکومت و سیاست کے بھی ہزار پہلو ہیں جو ان کہانیوں سے نکلتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمراں ادبی ذوق رکھتے اور ان کہانیوں کو پڑھ لیتے تو شاید اپنے جلد زوال و انحطاط سے خود کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کی ایک کہانی میں اس کی نہایت عمدہ تصویر ایک راجہ کے
مزید پڑھیے


ٹیلی ویژن بمقابلہ موبائل فون

پیر 17 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ابھی ہم اخبار اور کتاب ہی کا رونا رو رہے تھے کہ لوگوں نے پڑھنا چھوڑ دیا اور علم و معلومات سے دلچسپی نام کو بھی نہیں رہی۔ اس سینہ کوبی کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے کہ ایک نئے انکشاف نے ہمیں انگشت بدانداں کر دیا، آسان زبان میں ہم حیرت زدہ رہ گئے جب ہم نے میڈیا کی کلاس میں پوچھا طلبا و طالبات سے کہ بھئی تم میں سے کتنے ہیں جو پابندی سے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں اور روزانہ کتنی دیر دیکھتے ہیں؟ کیا آپ یقین کریں گے کہ ان میں سے کوئی ایک طالب
مزید پڑھیے


تبدیلی والی حکومت اور عوام کے لئے دعا

جمعه 14 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
بار الٰہا‘ آج تک اور آج سے پہلے بھی ہم نے جب بھی مانگا اپنے لئے مانگا‘ اپنے خاندان اور رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے مانگا مگر آج ہم اپنی حکومت کے لئے دست بہ دعا ہیں۔ اے مالک! ہماری التجا ہے کہ تو اس حکومت کو کامیابی عطا کر‘ اسے سرخرو کر‘ چاہے یہ حکومت کتنی ہی حماقتیں کرے۔ کتنے ہی یوٹرن لے‘ اپنے تقویٰ اور پرہیز گاری کے کتنے ہی تاثر دے۔ انہیں اسی طرح فتح یابی دے جیسے انتخابات میں انہیں فتح ملی تھی۔ اے پروردگار خلق خدا کی بہت امیدیں اسی حکومت سے وابستہ ہیں
مزید پڑھیے


ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

اتوار 09 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
میٹھی عید سویّوں والی ،گرم موسم کی چادر لپیٹے آئی اور ہمیں بھی اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ ہم کہیں آگے جانے اور ملنے ملانے کے قابل ہی نہ رہے۔ بہت مشکل سے رومال سے پسینہ پونچھتے ہوئے والدہ محترمہ کی خدمت میں آداب عرض کرنے حاضر ہوئے۔ بھائی جان کو اعتکاف اور عید کی مبارکباد دی ، پھر سڑک پر نکلے تو ہو کا عالم تھا۔کیا انسان اور کیا حیوان سبھی سائے کی تلاش میں تھے۔ یااللہ ایسی گرمی کہ سورج کو بھی پسینہ آ جائے۔ دن بغلگیر ہونے اور گلے ملنے کا تھا مگر جیسے
مزید پڑھیے




ایک موت اور کئی سوال

پیر 03 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
یہ دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کے عروج کا زمانہ تھا جب میرا ملنا جلناادریس بختیار سے ہوا۔ وہ تھے تو دائیں بازوو الوں کے ساتھ لیکن اپنے چہرے مہرے اور انداز زندگی کے اعتبار سے بائیں بازو کے لگتے تھے۔اسٹائل لاپرواہی اور بے نیازی کا‘ انگلیوں کے بیچ دہکتا ہوا سگریٹ‘ فقرے بازی کے شوقین‘ اپنے لباس کی طرف سے بے پروا اور مزے مزے میں باتیں کرنے کے عادی۔ جب تک ان سے باقاعدہ ملاقاتیں شروع نہ ہوئیں یہی سمجھتا رہا کہ بائیں بازو کے کوئی جغادری سے دانشور ہوں گے لیکن جب قربت ہوئی تو کھلا
مزید پڑھیے


پُھوس عوام کے پُھوس گھوڑے

جمعرات 30 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
نماز عصر پڑھ کے مسجد سے نکلتے ہی میرے بیٹے زبیر نے میری انگلی مضبوطی سے پکڑ لی اور کھینچتے ہوئے کہنے لگا ’’آیئے پاپا میں آپ کو ایک چیز دکھاتا ہوں‘‘ نہ چاہنے کے باوجود اس کے ساتھ ہو لیا۔ وہ باپ ہی کیا جو بچے کی ضد کے آگے سر تسلیم خم نہ کر دے۔ کیمپس موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے آج سرسبز و شاداب ہے۔ درختوں کے پتوں اور شاخوں اور ٹہنیوں پر بہار کا سماں ہے۔ خزاں زدہ پیڑوں میں بھی زندگی پیدا ہو گئی ہے۔ آسمان بھی فضا کے گردو غبار سے دھل دھلا جانے
مزید پڑھیے


نجات دیدہ و دل مگر کیسے؟

پیر 27 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
صبح ساڑھے ساتھ آٹھ بجے کا وقت ہو گا‘ کورنگی کریک کے اوورہیڈ پل کے نیچے‘ میں نے دیکھا غربت و افلاس اور محرومی و مظلومی کا ایسا دل سوز نظارہ کہ بھلائے نہیں بھولتا۔پل کے نیچے جبکہ دکانیں کھل چکی تھیں۔ گاڑیوں کی آمدورفت شروع ہو چکی تھی فضا گاڑیوں کے ہارنوں اور راہگیروں کی آوازوں سے پر شور ہو چکی تھیں‘ پانچ سات افراد کا خاندان ابھی تک میلی کچیلی چادریں اوڑھے بے سدھ سو رہا تھا۔ البتہ ایک سات آٹھ سال کا بچہ جو غالباً بھوک سے بے تاب ہو کے ہنڈیا منہ سے لگائے کچھ پی
مزید پڑھیے


چڑیاں رین بسیرا

جمعرات 23 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کہتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ کل کے دوست آج کے دشمن‘ ماضی کے حریف حال کے حلیف بن جاتے ہیں اس طور پہ دیکھوں تو نواز شریف کے سیاسی نشیب و فراز پہ افسوس سا ہوتا ہے وہ واحد خوش نصیب حکمران ہیں جنہیں تین بار وزیر اعظم کے منصب جلیلہ پر رونق افروز ہونا نصیب ہوا اور اس اعتبار سے کوتاہ قسمت کہ ایک مرتبہ بھی وہ اپنی حکمرانی کی مدت پوری نہ کر سکے۔ شخصی اعتبار سے ان میں بڑی اخلاقی خوبیاں ہیں۔ وہ منکسر مزاج‘ مہذب اطوار اور بامروت ہیں۔ رہی بات نقائص
مزید پڑھیے


کوئی صورت نظر نہیں آتی

پیر 20 مئی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
سیاست ہمارے ملک کی ایسی ہے کہ اسے نہ کسی پل چین ہے اور نہ قرار۔ ہر لمحہ ہر آن بدلتی ہوئی تغیر پذیر۔ مگر نتائج وہی ڈھاک کے تین پات۔ بقول منیر نیازی کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ملک عزیز پر آسیب کا سایہ ہے۔ اگر کوئی سایہ ہے تو خداوند تعالیٰ کی رحمت ہی کا سایہ ہے کہ تمام بدعنوانیوں‘ بدکرداریوں‘ خود غرضیوں اور نفس پرستیوں کے باوجود یہ ملک قائم و دائم ہے اور بہتری کے آثار بھی کچھ نہ کچھ نظر آتے رہتے ہیں۔ عرض
مزید پڑھیے