BN

ڈاکٹر طاہر مسعود


ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔


سعودی عرب ہمارا دوست ملک ہے۔ چین بھی ہمارا دوست ہے۔ سعودی عرب مذہبی ریاست ہے‘ چین لامذہب ملک ہے۔ ہم بھی مذہبی ملک ہیں۔ کسی مذہبی ملک کا دوسرے مذہبی ملک سے دوستی اور یگانگت و الفت قابل فہم تعلق ہے لیکن ایک مذہبی ملک کا کسی لامذہبی ملک سے دوستی کیا حیران کن نہیں؟ ہم عقیدۂ آخرت پر یقین رکھتے ہیں‘ چین نہیں رکھتا۔ ہم اللہ کے ماننے والے ہیں‘ جنت اور جہنم پر ایمان ہے ہمارا۔ چین کا عقیدہ ایسا نہیں۔ پتہ نہیں چینی عوام خدا کے بارے میں سوچتے ہیں یا نہیں۔ ان کا سماجی مصلح
منگل 11  اگست 2020ء

بے کل سی نراش زندگی میں

هفته 01  اگست 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
میں پریشان ہوں/اپنی سگریٹ نوشی کی عادت سے/میں پریشان ہوں/ان ناصحوں سے جو مجھے سگریٹ کے نقصانات گنواتے ہیں/میں پریشان ہوں/سگریٹ کے ڈبے سے/جس پر نمایاں طور پر درج ہے/’’تمباکو نوشی صحت کے لیے مضر ہے‘‘/میں پریشان ہوں/اس کینسر زدہ گھنائونی ہولناک تصویر سے/جس کا کیپشن ہے/’’تمباکو نوشی کا انجام، منہ کا کینسر‘‘/لیکن سچ تو یہ بھی ہے/کہ ہر صبح میں سگریٹ کے تازہ دم کر دینے والے/کش کی لالچ میں نیند سے اٹھتا ہوں/جب سگریٹ کے اولین کش کا دھواں/میرے اندر اترتا ہے/تب کہاں یاد آتی ہیں/مہربانوں کی نصیحتیں/وزارتِ صحت کا انتباہ/اور خود اس عادتِ بد کی پریشانی/سوچتا ہوں/جب
مزید پڑھیے


تقلیدی اور تخلیقی ذہن

جمعرات 30 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
’’مائی برادر‘‘ کے حوالے سے میرے کالم کی اشاعت کے چند روز بعد میرے سینئر دوست طارق محمود میاں نے واٹس ایپ پہ مجھے میسج کیا کہ یوں لگتا ہے جیسے مائی برادر والے آپ کے کالم کو آج ایک دوسرے اخبارمیں معروف سکالر نے اپنے نام سے چھپوا لیا ہے۔ ظاہر ہے میں یہ کالم پڑھ چکا تھا۔ طارق صاحب کی شکایت ایسی کچھ بے جا بھی نہیں تھی لیکن چونکہ میں ان صاحب کا بے حد احترام کرتا ہوں اور آج سے نہیں زمانہ طالب علمی سے رہی بات نقل نویسی کی تو اس خاکسار کے پی ایچ
مزید پڑھیے


آپ بیتیاں حکمرانوں اور سیاستدانوں کی

بدھ 29 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
قائداعظم کے حالات میں تذکرہ ملتا ہے کہ لندن میں اپنے قیام کے ابتدائی زمانے میں جب ان میں مطالعے کا ذوق پیدا ہوا تو انہوں نے حکمرانوں‘ بادشاہوں اور سلاطین کی سوانح عمریوں کو پڑھنا شروع کیا اور ایک مدت تک اسی مطالعے میں غرق رہے۔ اس مطالعے کا ان کی شخصیت پر کیا اثر مرتب ہوا‘ اس پر کسی مورخ یا محقق نے روشنی نہیں ڈالی ہے۔ ایک اور عجیب بات یہ بھی ہے کہ برعظیم کے جن عظیم لیڈروں نے اس خطے کی تاریخ پر اپنے اثرات مرتب کئے۔ مثلاً مہاتما گاندھی‘ جواہر لعل نہرو‘ مولانا ابوالکلام
مزید پڑھیے


ایک ان کہی ادھوری داستان

منگل 28 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کراچی کے ایک چینل سے ممتاز شاعر جناب نصیر ترابی کا پچھلے دنوں ایک انٹرویو ٹیلی کاسٹ ہوا جس میں انہوں نے پی ٹی وی سے شہرت پانے والے شاعر جناب افتخار عارف پر تنقید کادروازہ کھولا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان صاحب نے شہرت اور کامیابی کے لئے کیسی عجیب اور نادر مثالیں قائم کیں۔ اس انٹرویو کی تفصیل میں جانا ہم مناسب نہیں سمجھتے اس لئے کہ افتخار صاحب سے ان کے اچھے اور برے دنوں میں ہماری بھی نیاز مندی رہی ہے۔ ان سے ہمارے مراسم کی ابتدا ان دنوں ہوئی جب وہ پی ٹی
مزید پڑھیے



’’مائی برادر‘‘ کا تنازع‘ اصل حقیقت!

هفته 25 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہم شکی مزاج قوم ہیں۔ ہم ایسے تھے نہیں‘ ہمیں ایسا بنا دیا گیا ہے۔ چنانچہ اب ہم ہر قومی معاملے کو یہاں تک کہ اپنی تاریخ کو‘ اپنے ہیروز کو‘ ان کی زندگی اور موت اور دیگر واقعات و سانحات کو بھی شک و شبے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سادہ سے معاملات میں بھی پرسراریت پیدا کردیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ فریضہ عوام نہیں وہ افراد ادا کرتے ہیں جن کا شمار خواص میں ہوتا ہے اور جو محققین اور مؤرخین کہلاتے ہیں۔ ہمارے محبوب قائداعظم ہی کی زندگی کے وقت آخر کے واقعات کو لیجئے۔ کیسی کیسی
مزید پڑھیے


عام آدمی کی مجبوریاں

منگل 21 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
پچھلے کالموں میں ہم نے جمہوریت میں عام آدمی کی اہمیت کا تذکرہ کیا کہ فی زمانہ حکومت بنانے کا اختیار عام آدمی اور اس کی اکثریت کو مل گیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ووٹ کی طاقت سے عام آدمی کی اکثریت کسی بھی سیاسی پارٹی کو برسراقتدار تو لے آتی ہے اور اسی یقین کے ساتھ کہ انتخابات جیتنے والی پارٹی حکومت میں آ کر ان کے مسائل حل کردے گی لیکن تجربے نے بتایا کہ ایسا نہیں ہوتا۔ عوام کے ووٹوں سے حکومت بنانے والی سیاسی پارٹی عوام کی امنگوں پر پورا نہیں اترتی۔ نتیجے
مزید پڑھیے


حرف انکار کے سوا

اتوار 19 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ان دنوں میڈیا میں ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی ایک نجی تعلیمی ادارے سے برطرفی کا بہت چرچا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پرویز ہود بھائی جو اپنے نظریات میں سیکولر اور لبرل سکالر ہیں‘ اپنی کلاس میں ایسے خیالات کا اظہار کیا کرتے تھے جو پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے اور اسلام سے متصادم تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی ایک اعلیٰ معیار کے تعلیمی ادارے سے ان ہی الزامات کی بنا پر نکالے جا چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بتائی جاتی ہے کہ مذکورہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے انہیں خود برطرف نہیں کیا۔ ان
مزید پڑھیے


ہمارا اور مغرب کا سیاسی نظام

جمعه 17 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اس وقت دنیا میں زیادہ ترتین قسم کے نظام حکومت پائے جاتے ہیں۔ جمہوریت‘ بادشاہت اور فوجی ڈکٹیٹر شپ، کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں عملاً جمہوریت نافذ ہے لیکن ماضی کا تسلسل جاری رکھنے کے لئے بادشاہت کو بھی باقی رکھا گیا ہے یہ الگ بات کہ اس کی حیثیت رسمی ہے۔ ان ملکوں میں برطانیہ‘ کینیڈا‘ جاپان اور ڈنمارک شامل ہیں۔ آج ہم اس موضوع پر غور کریں گے کہ ان مذکورہ ملکوں نے جمہوریت کے ساتھ بادشاہت کی آمیزش کو کیوں ضروری سمجھا۔ اس حوال پر غور کرنا چاہیے اس لئے کہ جس خطے میں ہمارا ملک واقع
مزید پڑھیے


ہمارا سیاسی نظام

جمعرات 16 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اکثر اوقات ہمارے ملک کے سیاسی نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نظام گلا سڑا اور ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس نظام میں رہتے ہوئے ہمارے عوام کو نہ عدل و انصاف مل سکتا ہے اور نہ ان کے سیاسی اور معاشی مسائل ہی حل ہو سکتے ہیں۔ غالباً یہ اعتراض درست ہے۔ کیونکہ عملاً صورت حال ایسی ہی ہے لیکن اعتراف کرنے والے یہ نہیں بتاتے کہ اس نظام کی اصلاح کیسے ہو سکتی ہے۔ وہ کون سے نقائص اور خامیاں ہیں جنہوں نے اس نظام کو اندر اور باہر
مزید پڑھیے