BN

ڈاکٹر طاہر مسعود


نیا نظام کب آئے گا؟


ایک عام آدمی کیسے زندگی گزارتا ہے؟ پیدا ہوتا ہے‘ بڑا ہوتا ہے‘ شادی بیاہ کرتا‘ بچے پیدا کرتا‘ انہیں پوستا پالتا اور پھر ایک زندگی گزارتے گزارتے دنیا سے گزر جاتا ہے۔ مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔ کیا خدا نے اسی آدمی کو زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنایا تھا؟ کیا اسی کو اپنی وہ صفات بخشی تھیں کہ جن سے وہ دنیا کا نقشہ بدل دے یا نائب اور خلیفہ جنہیں بنایا انہوں نے دنیا کو تبدیل کیا۔ تو پھر یہ آدمی جو عام سا ہے جیسے عام سے جانور ہوتے ہیں‘ یہ عام
منگل 14 جولائی 2020ء

احترام آدمیت کیا اور کیسے؟

اتوار 12 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
پچھلے کالم میں ہم نے گفتگو یہاں پر مکمل کی تھی کہ انسان کو انسان کا خون بہانے سے روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ انسان کے احترام اور اس کے وقار کو بحال کیا جائے۔ جب تک آدمیت کا احترام اور اس کی عزت پامال ہوتی رہے گی انسانی خون بھی ارزاں رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ احترام آدمیت اور وقار انسانی کیا چیز ہے؟ اس کے معنی کیا ہیں؟ جب تک ہم یہ طے نہ کرلیں ہم اپنے اصل مقصد تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہم دانشوروں کی گفتگوئوں ، ادیبوں ، شاعروں کی تحریروں
مزید پڑھیے


’’انسان خون کیوں بہاتا ہے؟‘‘

هفته 11 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
آدمی ہی آدمی کا دشمن ہوتا ہے۔ آدمی جانوروں کا‘ نبانات کا‘ جمادات کا‘ زمین و آسمان کا دشمن نہیں ہوتا۔ وہ دشمن ہوتا ہے تو آدمی کا۔ آدمی کا پہلا دشمن قابیل تھا جس نے اپنے سگے بھائی ہابیل کوقتل کردیا۔ قتل کر کے پچھتایا کہ اب میں بھائی کی لاش کا کیا کروں۔ تب خداوند نے دو کوے بھیجے۔ دونوں قابیل کے سامنے آ کر لڑنے لگے۔ ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار ڈالا اور پھر زمین کھود کر اس نے مردہ کوے کو زمین میں دفن کردیا۔ کوے سے قابیل نے سیکھا کہ اسے اپنے مردہ
مزید پڑھیے


کورونا اور قرنطینہ

بدھ 08 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کورونا کی بیماری بھی عجیب بیماری ہے۔ اچھا بھلا آدمی کورونا کا شکار ہوتا ہے اور تنہائی میں چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں خود کو کسی کمرے میں بند کرلو‘ ملنا جلنا چھوڑ دو‘ کمرے سے باہر نہ نکلو‘ کسی سے بات چیت نہ کرو‘ گپ شپ سے پرہیز کرو۔ اب آدمی تو پھر آدمی ہے‘ کسی سے نہ ملے‘ حال دل نہ کہے‘ دوسروں کے لڑائی جھگڑوں میں نہ پڑے‘ غیبت نہ کرے‘ بدگمانی اور بدزبانی نہ کرے تو بھلا وہ آدمی ہی کیا اور زندگی کا لطف ہی کیسا۔ ہمارے ایک عزیز آخری فلائٹ سے اپنی بیگم
مزید پڑھیے


کورونا وائرس کا مخمصہ

پیر 06 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جب سے کورونا وائرس کی وبا آئی ہے‘ ہم سب ایک مخمصے میں پھنس گئے ہیں۔ مخمصہ یہ ہے کہ کورونا وائرس کو کیا سمجھیں۔خدا کا عذاب یا خدا کا انعام۔ عذاب تو یہ ہے کہ لوگ بیمار پڑ رہے ہیں‘ مر بھی رہے ہیں اور انعام یہ کہ سڑکوں پر ٹریفک کا پہلے جیسا تکلیف دہ رش نہیں رہا۔ بازار بڑی حد تک سنسان ہو گئے۔ پٹرول کی قیمتیں نیچے آ گئیں۔ گھروں میں رشتہ داروں نے آنا جانا چھوڑ دیا۔ ان کی مہمان داری پہ اٹھنے والا خرچہ پانی نہ رہااور بھی بہت سے فائدے ہوئے جن کا
مزید پڑھیے



یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسیں…لمحہ فکریہ

اتوار 05 جولائی 2020ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ملک کی یونیورسٹیوں کو بند ہوئے چار مہینے گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں نہ حکومت کو خیال آیا نہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیورسٹیوں کو کہ طلبہ کی تعلیم کا جو حرج اور نقصان ہورہا ہے، اس کی تلافی کیسے کی جائے۔ خداخدا کرکے اب جو خیال آیا اور آن لائن کلاسیں شروع کی گئیں تو اس نئے تجربے نے اتنے مسائل پیدا کردیئے اور اتنی دشواریاں اور رکاوٹیں پیش آرہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ کلاسوں کے نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے۔ یہ سلسلہ اور زیادہ بہتر اور مفید ہوجاتا اگر ایچ
مزید پڑھیے


بے بسی وزیر اعظم کی

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
محاورہ ہے کہ خدا شکر خورے کو شکر ضرور دیتا ہے۔ ہمارے ملک کو جو بدعنوان حکمرانوں کی بدعنوانی میں عالمگیر شہرت رکھتا ہے، خداوند تعالیٰ نے ایک ایسا حکمران عطا کر دیا ہے جو سارے ضروری کاموں کو چھوڑ چھاڑ کر سابق بدعنوان حکمرانوں کی پکڑ دھکڑ میں اس طرح لگا ہوا ہے کہ امریکہ جائے یا چین یا کسی اور ملک ان بدعنوانوں کا تذکرہ کرنا نہیں بھولتا۔ اس کی گوٹ بدعنوانی پر آ کر اٹک گئی ہے اور وہ ایک ہی بات کی تکرار میں مصروف ہے کہ اے کاش! میں کرپٹ لوگوں کو کسی طرح جیل
مزید پڑھیے


جمہوریت کی نیلم پری

پیر 07 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جمہوریت میں اس کے سوا کوئی خرابی نہیں کہ ایک عدد اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ اور اپوزیشن میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں ہوتی کہ وہ حکومت کو مانتی ہی نہیں۔ جو اپوزیشن حکومت کے حق حکمرانی کو تسلیم کر لے وہ مغربی جمہوریت کہلاتی ہے۔ ہم لوگ مشرقی ہیں اس لئے ہم مغربی جمہوریت کو نہیں مانتے۔ ہمارے ملک میں جمہوریت آنی جانی چیز ہے۔ بجلی کی طرح جب چلی جائے اور اس کی جگہ فوجی حکومت آ جائے تو اسے جمہوری لوڈشیڈنگ کہتے ہیں۔ فوجی حکومت یا مارشل لاء کو یو پی ایس یا جنریٹر کہا جا
مزید پڑھیے


قصہ تھیوری اور پریکٹیکل کا

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کسی مغربی مصنف نے صحافت اور ادب کا فرق یہ بتایا تھا کہ ادب کو کوئی پڑھتا نہیں اور صحافت میں پڑھنے کے لئے کچھ ہوتا نہیں۔ ہمیں اس نقطۂ نظر سے چنداں اتفاق نہیں۔ ہاں اگر یہ کہا جاتا کہ اخبار میں چند مستثنیات کے سوا (مثلاً ہمارا کالم) پڑھنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تو ہم مان جاتے کہ بات دل کو لگتی ہے اوپر جو نقل کیا گیا قول ۔ یہ اس زمانے کا ہے جب ہمارے وزیر اعظم عمران خان اس عہدہ جلیلہ پر فائز نہ ہوئے تھے اور نہ اتنی دانش مندانہ تقریروں کا وقت
مزید پڑھیے


’’تقریر‘‘ تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی

پیر 30  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دنیا میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ قائم کیا گیا جہاں اس موضوع پر کہ دنیا میں امن قائم کیسے کیا جائے کہ موضوع پر صرف تقریریں ہوتی ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد جب مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ چھڑی تو ہمارے پہلے وزیر خارجہ سرظفراللہ خان نے اقوام متحدہ میں طویل ترین تقریر کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ کئی روز تک مسلسل و متواتر جاری رہنے والی اس تقریر سے کہتے ہیں مسئلہ کشمیر سلجھنے کے بجائے اور الجھ گیا اور آج تک یہ مسئلہ الجھا ہی ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو دوسرے وزیر
مزید پڑھیے