BN

ڈاکٹر طاہر مسعود



تخریب یا تعمیر؟


حکومت و سیاست کے معاملات قساوتِ قلبی یا دل کی سختی کے بغیر طے نہیں پاتے۔ فرانسیسی ناول نگار ستاں دال کا ایک کردار ناول’’سرخ و سیاہ‘‘ میں کہتا ہے دنیا میں کامیابی دل کی سختی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ تو یہ جو حکمران اقتدار میں آ کر اربوں کھربوں کماتے اور پھر اس پہ پھولے نہ سماتے ہیں۔ یہ سب اسی دل کی سختی کے مظاہر ہیں اور اچھے صاحب ضمیر لوگ معاشرے کے سیاست و حکومت سے دور رہتے ہیں۔غلطی سے اس کوچے کا رخ کر بھی لیں تو تھوڑے ہی عرصے بعد پلٹ جاتے اور کانوں
جمعرات 11 جولائی 2019ء

بولو کہ پہچانے جائو

پیر 08 جولائی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اب بحث چل پڑی ہے کہ اپنے کپتان وزیر اعظم الیکٹیڈ ہیں یا سلیکٹیڈ۔ ہونہار برخوردار بلاول بھٹو انہیں سلیکٹیڈ کہتے نہیں تھکتے۔ ہندی میں اس سے وزیر اعظم کا بڑا اپمان ہو رہا تھا سو اسپیکر قومی اسمبلی نے سلیکٹیڈ کے لفظ کے استعمال ہی پر پابندی لگا دی۔ اچھا کیا کہ اس طرح الیکٹیڈ وزیر اعظم کا وقار مجروح ہونے سے بچ جائے۔ لیکن ہمارے ہاں ایسی پابندیوں کو کون خاطر میں لاتا ہے۔ بلاول اب بھی سلیکٹیڈ کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ کوئی ان کا کیا بگاڑ سکتا ہے کہ ملک میں جیسی کیسی بھی ہو مگر
مزید پڑھیے


فرہنگ اصطلاحات سیاست

جمعرات 04 جولائی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کوئی زمانہ تھا جب گھر گھر میں موٹی موٹی لغات اور ڈکشنریاں ہوتی تھیں۔ گفتگو اور بات چیت میں بھی صحت زبان کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ کسی لفظ کے املا اور تلفظ پر ذرا بھی شبہ ہوتا تھا تو لغت کھول کر اپنی اصلاح کر لی جاتی تھیں۔ اب کسی گھر، کسی خاندان میں چلے جائو‘ مجال ہے جو کہیں کتاب نظر آ جائے۔ کتاب تو چھوڑیے اردو کی کوئی لغت یا انگریزی کی کوئی ڈکشنری طالب علمانہ ضرورت کے لئے بھی مشکل ہی سے رکھی جاتی ہے۔ ایک طالب علم سے یہ سن کے کہ اس کے
مزید پڑھیے


علمائے سو یا وُزرائے سُو

پیر 01 جولائی 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
قوم کے 75فیصد مسائل کے ذمہ دار علمائے سو ہیں۔ فرمایا وزیر سائنس و ٹیکنالوجی جناب فواد چودھری نے۔ اس پہ ایک صاحب بولے کیا وزیر موصوف کو علمائے سو کے معنی معلوم بھی ہیں۔ دوسرے صاحب نے لقمہ دیا کہ اگر علما برے ہو کر علمائے سو کہلاتے ہیں تو وزراء حضرات نالائق و ناکام ہو کر وزراء سو کیوں نہیں کہلا سکتے۔ ایک سیاستدان مسلسل و متواتر پارٹیاں بدلتا رہے تو اس میں بھی ’’سُو‘‘ کا سابقہ لگنا چاہیے اور جن وزراء کی خراب کارکردگی کی بنا پر ان کی وزرات تبدیل کر دی جائے یا جو وزیر
مزید پڑھیے


ہم بے سکون کیوں ہیں؟

جمعرات 27 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جہاں درختوں کے جھنڈ تھے وہاں اب چٹیل میدان ہے جہاں دریا لشکارے مارتا تھا وہاں ریت بھرا صحرا ہے۔ جہاں خاک اڑتی تھی وہاں اب گھنے جنگل ہیں۔ تبدیلی‘ تغیر‘ منظر کا بدل جانا یہ ایسی حقیقتیں جن سے کون واقف نہیں۔ پھربھی یہ چیزیں یہ حقیقتیں ہمیں دکھ دیتی ہیں۔ ہم چاہتے ہیں زندگی جیسی ہے ویسی ہی رہے۔ درخت ہرے بھرے رہیں‘ ان پر خزاں نہ آئے۔ بچوں کی ہنسی ان کی معصومیت نہ چھنے وہ ویسے ہی ہنستے مسکراتے رہیں اور اپنی طفلانہ شوخی سے دلوں کو مسرت بخشتے رہیں۔ حسینائوں پہ بڑھاپا نہ آئے اور
مزید پڑھیے




کوئی تو ہے!

پیر 24 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
جمعے کی شام یکایک آسمان پہ جانے کہاں سے سیاہ بادل امڈ آئے اور رم جھم پھوار برسنے لگی۔ بچوں نے ’’بارش بارش‘‘ کا شور مچایا اور دونوں ہاتھ پھیلائے سر اٹھائے اور رحمت خداوندی سے شرابور ہونے کے لئے کھلے آسمان تلے ناچنے لگے۔ موسم ٹھنڈا ہو گیا‘ سرد خوشگوار ہوائوں سے جسم و جاں میں راحت کا احساس جاگ اٹھا اور تبھی بجلی غائب ہو گئی۔ آسمان مہربان ہوتا ہے تو زمین کا نظام تلپھٹ ہو جاتا ہے۔ ہے کوئی اس کا علاج اے چارہ گراں۔ اپنے ملک کی جو حالت ہے اور گردو پیش جو کچھ ہو رہا
مزید پڑھیے


ایک حکومت اور ایک کہانی

جمعرات 20 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ادب سے دلچسپی رکھنے والا کون ایسا ہو گا جس نے ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کا نام نہ سنا ہو گا۔ اس میں ایسی کہانیاں ہیں جو آج بھی انسانوں کو عقل و تدبر کی تعلیم دیتی ہیں۔عام زندگی کے معاملات کے بارے ہی میں نہیں‘ حکومت و سیاست کے بھی ہزار پہلو ہیں جو ان کہانیوں سے نکلتے ہیں۔ اگر ہمارے حکمراں ادبی ذوق رکھتے اور ان کہانیوں کو پڑھ لیتے تو شاید اپنے جلد زوال و انحطاط سے خود کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ ’’کلیلہ و دمنہ‘‘ کی ایک کہانی میں اس کی نہایت عمدہ تصویر ایک راجہ کے
مزید پڑھیے


ٹیلی ویژن بمقابلہ موبائل فون

پیر 17 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ابھی ہم اخبار اور کتاب ہی کا رونا رو رہے تھے کہ لوگوں نے پڑھنا چھوڑ دیا اور علم و معلومات سے دلچسپی نام کو بھی نہیں رہی۔ اس سینہ کوبی کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے کہ ایک نئے انکشاف نے ہمیں انگشت بدانداں کر دیا، آسان زبان میں ہم حیرت زدہ رہ گئے جب ہم نے میڈیا کی کلاس میں پوچھا طلبا و طالبات سے کہ بھئی تم میں سے کتنے ہیں جو پابندی سے ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں اور روزانہ کتنی دیر دیکھتے ہیں؟ کیا آپ یقین کریں گے کہ ان میں سے کوئی ایک طالب
مزید پڑھیے


تبدیلی والی حکومت اور عوام کے لئے دعا

جمعه 14 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
بار الٰہا‘ آج تک اور آج سے پہلے بھی ہم نے جب بھی مانگا اپنے لئے مانگا‘ اپنے خاندان اور رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے مانگا مگر آج ہم اپنی حکومت کے لئے دست بہ دعا ہیں۔ اے مالک! ہماری التجا ہے کہ تو اس حکومت کو کامیابی عطا کر‘ اسے سرخرو کر‘ چاہے یہ حکومت کتنی ہی حماقتیں کرے۔ کتنے ہی یوٹرن لے‘ اپنے تقویٰ اور پرہیز گاری کے کتنے ہی تاثر دے۔ انہیں اسی طرح فتح یابی دے جیسے انتخابات میں انہیں فتح ملی تھی۔ اے پروردگار خلق خدا کی بہت امیدیں اسی حکومت سے وابستہ ہیں
مزید پڑھیے


ہو رہے گا کچھ نہ کچھ

اتوار 09 جون 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
میٹھی عید سویّوں والی ،گرم موسم کی چادر لپیٹے آئی اور ہمیں بھی اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا کہ ہم کہیں آگے جانے اور ملنے ملانے کے قابل ہی نہ رہے۔ بہت مشکل سے رومال سے پسینہ پونچھتے ہوئے والدہ محترمہ کی خدمت میں آداب عرض کرنے حاضر ہوئے۔ بھائی جان کو اعتکاف اور عید کی مبارکباد دی ، پھر سڑک پر نکلے تو ہو کا عالم تھا۔کیا انسان اور کیا حیوان سبھی سائے کی تلاش میں تھے۔ یااللہ ایسی گرمی کہ سورج کو بھی پسینہ آ جائے۔ دن بغلگیر ہونے اور گلے ملنے کا تھا مگر جیسے
مزید پڑھیے