BN

ڈاکٹر طاہر مسعود


سمجھانا نیک و بد حضور کا


کسی ویران سڑک کے کنارے جس پر درختوں کے خشک اور زرد پتے پڑے ہوں۔ چلتے چلتے بیٹھ جانا میری عادت ہے۔ میں دیر تک یوں ہی بے مقصد بیٹھا رہتا ہوں۔ تب ذہن دھند میں ڈوبنے ابھرنے لگتا ہے۔ پرانی دھرائی باتیں یاد آنے لگتی ہے۔ دل میں کچوکے لگاتی ہیں تو اداسی اتر کر رگ و پے میں تیرنے لگتی ہے۔ آج دوپہر کا واقعہ میں اسی طرح چلتے چلتے ایک سنسان سی سڑک پر جس کے دونوں طرف سبز گھاس کے تختے بچھے تھے۔ ایک پستہ قامت درخت جس نے سایہ کر رکھا تھا میں اس کے سائے
پیر 23  ستمبر 2019ء

حکمرانی نفس یا انا کی

پیر 16  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اخبار میں آیا ہے کہ اللہ کے کسی بندے کو شارع عام پر سگریٹ پینے پر پولیس نے دھر لیا اور جرمانہ عائد کر دیا۔ خبر پڑھتے ہی ہم نے اپنی سگریٹ کی ڈبیہ ٹٹولی اور اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پولیس ہمیں بھی دوسروں کے سامنے سگریٹ پینے اور انہیں سموکنگ کے ذریعے نقصان پہنچانے پر جرمانہ نہ عائد کر دے۔ ہمیں جرمانہ دینے پر کوئی اعتراض نہیں جیسی کرنی ویسی بھرنی کا محاورہ ہم نے سن رکھا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آدمی جو بوتا ہے جلد یا بدیر وہی کاٹتا ہے۔
مزید پڑھیے


آخری منظر

پیر 09  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اداکاری کے فن میں جن اداکاروں نے مجھے متاثر کیا ان میں ایک اہم نام عابد علی بھی تھا۔ میںنے انہیں اتنے ڈراموں میں کام کرتے دیکھا ہے کہ اب یاد بھی نہیں۔ لیکن ان کے بارے میں جب بھی سوچتا ہوں، کسی نہ کسی ڈرامے میں ان کی اداکاری، ان کے چہرے کے تاثرات، ان کی بھاری اور گمبھیر آواز اور ادا و انداز ذہن کی سطح پر ابھر آتے ہیں۔ اب چونکہ ڈراموں کے فن پر زوال آ گیا ہے اور ویسے ڈرامے ٹیلی ویژن چینلوں پر نہیں آتے جس کی روایت پی ٹی وی نے قائم
مزید پڑھیے


مودی سرکار کی مجبوری

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
حالات زیرو زبر ہو رہے ہیں۔ کشمیری مسلمان ایک کڑی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ آزمائش کی یہ گھڑیاں ان پر کب تک مسلط رہیں گی‘ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن تاریخ اور اقوام عالم کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ جو قوم اپنی آزادی کے لئے سب کچھ قربان کرنے پر تیار ہو جائے اسے بڑی سے بڑی طاقت بھی غلام بنا کر نہیں رکھ سکتی۔ خود ہندوستان بھی اسی طرح آزاد ہوا اور پاکستان بھی قادر مطلق کے اسی قانون کے تحت وجود میں آیا۔ کشمیری آج غلام ہیں‘ ظلم و جور کا شکار ہیں لیکن یہ
مزید پڑھیے


تبدیلی کوئی نعرہ تو نہیں

پیر 02  ستمبر 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کوئی معاشرہ اگر زوال و انحطاط کا شکار ہوتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ اور اسے حالت زوال سے نکال کر ترقی کے بام عروج پر کس طرح پہنچایا جا سکتا ہے؟ پچھلے کالم میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا۔ ساتھ ہی یہ بات طے پائی تھی کہ تبدیلی پہلے خیال کی سطح پر آتی ہے اور پھر وجود میں یا اعمال میں منتقل ہوتی ہے۔ جب خیالات منجمد ہو جائیں ذہن نئے خیالات کو سوچنے اور قبول کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے، دوسرے لفظوںمیں خیالات اورافکار و تصورات ٹھٹھر کر رہ جائیں‘ تقلید
مزید پڑھیے



خیال سے وجود تک

جمعه 30  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
میرے کالم ’’دام خیال‘‘ کا عنوان برسوں پہلے محمد صلاح الدین شہید نے تجویز کیا تھا۔ لہٰذا بعد میں جہاں کہیں بھی میں نے لکھا اسی عنوان سے لکھا۔ کبھی غور نہیں کیا کہ اس عنوان کے معنی کیا ہیں؟ دام خیال یعنی خیالات کا جال کیا ہے اور مرزا غالب نے جو اس شعر میں ہستی کے فریب میں نہ آنے سے روکا‘ منع کیا‘ یہ کہہ کر کہ ع ہستی کے فریب میں آ جائیو اسدؔ کیوں کہ عالم تمام حلقہ دام خیال ہے۔ تو یہ ہستی کا فریب کیا ہے اور سارا عالم اور
مزید پڑھیے


راہ نجات مگر کیسے

جمعرات 22  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے مقابلے میں ہم کتنے پیچھے رہ گئے ہیں‘ اس کا اندازہ دو خبروں سے کیا جا سکتا ہے۔ ایک خبر یہ ہے کہ سنگا پور میں ڈرائیور کے بغیر بسیں چلنے والی ہیں۔ مسافر مزے سے اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں گے اور بس ڈرائیور کے بغیر چل رہی ہو گی۔ دوسری خبر یہ ہے کہ تحریک انصاف کے لیڈر علی زیدی جنہوں نے کراچی کو صاف ستھرا کرنے کی مہم کا بیڑہ اٹھایا تھا‘ بیان دیا ہے کہ بھائیو! کوئی مجھے بتائے کہ کراچی کا ٹنوں کچرا میں کہاں پھینکوں۔ کوئی پوچھے کہ
مزید پڑھیے


بارش میں موت!

جمعرات 15  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کل سے بارش کی جھڑی لگی ہے۔ آسمان یہاں سے وہاں تک ابر آلود ہے اودے اودے بادل برستے ہیں تو برستے ہی چلے جاتے ہیں‘ رکنے کا نام نہیں لیتے۔ شہر کا جو حال ہے‘ اس کی رو داد ٹی وی چینل بتاتے نہیں تھکتے۔ عرصہ ہائے دراز بعد ایسی بارشیں ہوئی ہیں۔ خشک سالی اور گرمی کی ساری شکایتیں دھل دھلا کر ہوا ہو گئی ہیں مگر وہ غریب غربا جو نشیبی علاقوں میں رہتے ہیں۔ جن کے کچے مکان ہیں جو نالوں اور ریلوے کی ناکارہ پٹڑیوں میں جھگی ڈالے رہتے ہیں اور وہ فٹ پاتھوں‘ اوور
مزید پڑھیے


آخری فیصلہ

جمعرات 08  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دنیا پر حکمرانی ہمیشہ سے طاقت ہی کی رہی ہے۔ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جن کو اپنی طاقت پر ناز ہوتا ہے، طاقت ہی انہیں تباہ کر دیتی ہے۔ اونٹ جب پہاڑ کے نیچے آتا ہے تو اسے اپنے قدوقامت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ نہتے اور بظاہر کمزور کشمیری جس بے خوفی سے گرانڈیل بھارت کے ظلم و استبداد کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ وہ آج نہیں تو کل اپنا نتیجہ ضرور مرتب کریں گے۔ اصل طاقت سازو سامان اور فوجی وسائل کی نہیں ہوتی، وہ اخلاقی قوت ہوتی ہے
مزید پڑھیے


مہنگائی آئی رے

پیر 05  اگست 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
لیجئے ہمارا شمار بھی دنیا کے مہنگے ترین ملکوں میں ہونے لگا یہ تو ہمیں پہلے ہی معلوم تھا کہ یہاں زندگی سستی اور اشیائے خوردنی مہنگی ہے۔ انسان سستا اور پٹرول مہنگا ہے۔ جھوٹ بولنا آسان اور سچ بولنا دشوار ہے۔ لیکن یہ پتا نہ تھا کہ دنیا میں دوسرے ملک بھی ایسے ہیں جہاں صورت حال ہمارے ملک جیسی ہو گی۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ہمارے ملک میں اکثر چیزیں ایشیا میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑی ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ ہم نے ایسے لیڈر بھی پیدا کئے جو ’’فخر ایشیا‘‘ کہلاتے
مزید پڑھیے