BN

ڈاکٹر طاہر مسعود



دو روّیے


زندگی کو برتنے کے دورویے ہیں۔ ایک شکر کا اور دوسرا شکوے کا رویہ۔ پاکستانیوں میں ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو حاصل شدہ نعمتوں پر شکر ادا نہیں کرتے لیکن گلے میں ہر آن شکوے کی تختی لٹکائے گھومتے رہتے ہیں اور مایوسی کا زہر ذہنوں میں گھولتے رہتے ہیں۔ اس پر مجھے ایک صوفی کا واقعہ یاد آتا ہے۔ اس کے پاس ایک شخص آیا جس نے ماتھے پہ پٹی باندھ رکھی تھی۔ صوفی کے استفسار پر اس شخص نے کہا کہ میرے سر درد ہے جس کے سبب سے پٹی باندھ رکھی ہے۔ صوفی نے
پیر 11 فروری 2019ء

ڈگری بہ ذریعہ گداگری

اتوار 10 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کمرہ امتحان کی نگرانی کرتے ہوئے میں ایک امیدوار کی کرسی کے پاس پہنچ کر ٹھٹھک گیا۔ امیدوار اجازت لے کر واش روم گیا ہوا تھا اور اس کی امتحانی کاپی پر جو کچھ درج تھا اس نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا تھا۔ کاپی اٹھا کر میں پڑھنے لگا۔ امیدوار نے ممتحن کے نام نہایت عاجزی سے ایک مختصر سا خط لکھا تھا: ’’سر! پلیز مجھے پاس کردیجئے گا۔ میں بہت غریب ہوں۔ اگر میں فیل ہوگیا تو میرا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ مجھے کہیں نوکری نہیں ملے گی۔ پلیز سر پلیز پاس کردیجئے گا۔‘‘ کاپی کے ہر صفحے پر
مزید پڑھیے


حکومت نامہ

جمعرات 07 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
سیاست اور حکومت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جو سیاست میں آتا ہے‘ حکومت کی لالچ میں آتا ہے۔ حکومت نہ ملے تو اپوزیشن لیڈر کہلاتا ہے۔ ہر حال میں حکومت کی مخالفت کرنا اس کا وظیفہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں بہ کثرت اپوزیشن لیڈر پائے جاتے ہیں۔ حکومت گرانے کے لئے اکثر سارے اپوزیشن لیڈر اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن جب یہ طے نہیں ہو پاتا کہ حکومت گرا کر کون برسر اقتدار آئے گا تو یہ اتحاد تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر جاتا ہے۔ حکومت اچھی چیز نہیں۔ سارا فتنہ و فساد حکومت ہی
مزید پڑھیے


سیاست نامہ

پیر 04 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دنیا میں نشے کی جتنی قسمیں پائی جاتی ہیں، ان میں ایک نشہ سیاست کا بھی ہے۔ یہ بڑا خطرناک نشہ ہے۔ ایک بار منہ کو لگ جائے تو چھوٹتا نہیں اور چھوٹ جائے تو پھر آدمی کسی کام کا نہیں رہتا، یہاں تک کہ گمنام ہو جاتا ہے۔ گمنامی اچھی چیز نہیں جو گمنام ہوتا ہے وہ عام آدمی کہلاتا ہے۔ عام آدمی کو کوئی پوچھتا نہیں۔ سرکاری دفتروں میں جائے تو دھکے کھائے، سڑک پہ حادثے کا شکار ہو تو اخبار میں دو سطری خبر چھپ جائے۔ عام آدمی بننے سے پیدا نہ ہونا بہتر ہے۔ قدرت کسی
مزید پڑھیے


زولوجیکل گارڈن میں

هفته 02 فروری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اگلے روز فرصت ملی تو میں اپنے نئے نویلے دوست مسٹر اور مسز سلیمان بجلی والا کے گھر گیا کہ وہاں جا کے میری جانوروں سے اُنس کی بڑی تسلی ہوتی ہے۔ گھر کیا ہے چڑیا گھر ہے۔ ہر قسم کے جانور‘ پرندے ‘ بلیاں‘ خرگوش ‘ مچھلیاں نہایت سلیقے سے خوش و خرم طریقے سے ان کے گھر میں رہتے ہیں۔ ایسی محبت اور توجہ جو دونوں میاں بیوی ان جانوروں پر دیتے ہیں اگر حکومتیں اتنا ہی خیال خلق خدا کا رکھتیں تو یہ دنیا جنت ہی ہوتی۔ دونوں میاں بیوی مجھے دیکھ کے خوشی سے کھل اٹھے اور
مزید پڑھیے




ادھورے لوگ

جمعرات 31 جنوری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ڈاکٹر واڈیا کی کلینک میں داخل ہوتے ہی مجھے یاد آیا کہ پچھلی بار جب میں نے ان سے رابطہ کیا تھا تو وہ کسی بات پر مجھ سے بدظن ہو چکے تھے۔ گزشتہ روز ایک بار پھر وہی مرض عود کر آیا اور مجھے ہر چیز ادھوری اور نامکمل نظر آنے لگی۔ اس احساس کے ساتھ ہی میں نے آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارے، آنکھوں کو خوب ملنے کی کوشش کی لیکن نگاہوں کا ادھورا پن ختم نہ ہو سکا۔ آخر کار میں نے جبراً قہراً خود کو ڈاکٹر واڈیا کے پاس جانے کے لیے تیار کر ہی لیا۔
مزید پڑھیے


کچھ ان سے بھی سیکھیے

پیر 28 جنوری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
برآمدے میں کرسی پر نیم دراز ہو کر کچھ سوچتے ہوئے کبھی کبھی کوئی منظر ہم ایسا دیکھ لیتے ہیں جس میں ہماری زندگی کے لیے بڑا گہرا سبق پوشیدہ ہوتا ہے۔ ایک ایسا ہی منظر گزشتہ روز میں نے دیکھا۔ منظر بہت عام سا تھا۔ آپ نے بھی ضرور دیکھا ہو گا۔ ممکن ہے اس بارے میں کچھ سوچا بھی ہو اور پھر بھول گئے ہوں۔ جہاں میں بیٹھا تھا، اس کے داہنی طرف ایک دیوار تھی۔ سامنے یوکلپٹس کے پیڑ کی شاخ پر ایک مینا دیر سے بیٹھی بول رہی تھی اور میں اس مینا کی آواز سن
مزید پڑھیے


نصیحت کی بات

جمعرات 24 جنوری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
نصیحت کے بارے میں کسی مفکر کا قول ہے کہ اس کا سب سے اچھا استعمال یہ ہے کہ اسے سن کر آگے بڑھا دیا جائے۔ چنانچہ ہم لوگ یہی کرتے ہیں۔ اول تو نصیحت سنتے ہی نہیں اور طوعاً وکرہاً سننی پڑ جائے تو اسے گرہ میں باندھنے کے بجائے کسی اور کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ نصیحت ہی ایسی چیز ہے جس کا مستحق ہم ہمیشہ دوسروں کو سمجھتے ہیں۔ چنانچہ کہی جانے والی اچھی اور عمدہ بات سننے والوں کے درمیان رلتی رہتی ہے۔ وہ بس کہی جاتی ہے اور سنی جاتی ہے۔ کوئی اسے قبول
مزید پڑھیے


میڈیا کو بحران کا سامنا

پیر 21 جنوری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
صحافت اور میڈیا پر جیسا بحران اب آیا ہے شاید کبھی اور نہ آیا تھا۔ اخبارات اور چینلوں سے وابستہ کارکنان اور صحافیوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے۔ اکا دکا اخبارات کے سوا جن میں 92نیوز بھی شامل ہے۔ شاید ہی کوئی اخبار اور چینل ہو جو اپنے کارکنوں پر بے روزگاری نہ مسلط کر رہا ہو۔ اس تشویشناک صورتحال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ صحافیوں کی ٹریڈ یونینز بھی تقریباً خاموش ہیں‘ ان کے اضطراب اور بے چینی کو عین ممکن ہے کہ اخبارات اور چینل اپنے صفحات اور نشریات میں جگہ نہ دے رہے
مزید پڑھیے


وزیر اعظم کے لئے لمحہ فکریہ

جمعرات 17 جنوری 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
وزیر اعظم ہائوس کو یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ مبارک۔ گورنر ہائوسز کے بند دروازوں کو عوام کے لئے کھول دینے کا اعلان اور پھر اس پر عمل بہت ہی خوب۔ مدینہ منورہ کی مقدس زمین پر ننگے پائوں چلنا قابل تحسین، غریب طبقے کو اوپر اٹھا کر ان کی ناگفتہ بہ حالت کو سنوارنے کی نیت لائق تکریم۔ لیکن ایسا کیا ہے کہ سو دن کے مکمل ہوتے ہی منقسم اپوزیشن حکومت گرانے کے لئے متحد ہو گئی۔ پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو کیا اس
مزید پڑھیے