ڈاکٹر طاہر مسعود


صبر اے دوست


حکومت پر ،جو تبدیلی کی خواہش میں ڈوبے ہوئے جذباتی عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آئی ہے، ہر طرف سے تنقید کے کوڑے برس رہے ہیں۔ کسی دن کا بھی اخبار اٹھائیے، کوئی بھی چینل دیکھ لیجئے، اقتصادی بدحالی، امن و امان کے نفاذ اور دوسرے حوالوں سے ایسی اعتراضات کی بوچھاڑ ہے کہ خودہمیں وزیر اعظم اور ان کی ٹیم پر رحم سا آنے لگا ہے۔ یہ نوبت آئی کیوں؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت بڑے بڑے وعدؤں اور دعوؤں کے ساتھ آئی ہے۔ عوام نے وزیراعظم کے دکھائے ہوئے خوابوں پر آنکھیں بند کرکے اعتبار
جمعرات 18 اپریل 2019ء

خطرے کی گھنٹی

پیر 15 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہم نے اخبار پڑھنا تقریباَ چھوڑ رکھا ہے۔ کل کا اخبار اٹھایا سیاہ حاشیے میں کوئٹہ کے بم دھماکے اور ان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد درج تھی۔ ہم نے یہ اخبار اٹھا کے ایک طرف رکھ دیا۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ دل و دماغ کی کیا کیفیت ہوئی، ایک گھونسہ ساپڑا، دل بیٹھنے لگا، آنکھیں تو عرصہ ہوا خشک ہو گئی ہیں، آئندہ کیا ہو گا؟ کیا بم دھماکے اور متواتر ہلاکت خیزی ہی ہماری تقدیر میں لکھ دی گئی ہے۔ پھر حکومت قانون نافذ کرنے والے ادارے، ایجنسیاں ان سب کا جواز کیا ہے؟ وہ
مزید پڑھیے


92نیوز اور چھپا ہوا لفظ

جمعه 12 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
92نیوز نے اپنی زندگی کے دو سال مکمل کر لئے اور جس دھوم دھام سے اس کی دوسری سالگرہ مختلف اسٹیشنوں پہ منائی جا رہی ہے اس سے کچھ یوں شبہ ہوتا ہے مرتے ہوئے پرنٹ میڈیا میں نئی زندگی پیدا ہو گئی ہے۔ اگر اس اخبار کی ترقی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو کچھ عجب نہیں کہ مطبوعہ صحافت میں نئی جان پڑ جائے۔ لوگ باگ فیس بک اور سوشل میڈیا کو چھوڑ چھاڑ کر پھر سے اخبار بینی کی طرف مائل ہو جائیں۔ ایسا ہو جائے تو ایسا ہونا ہی چاہیے اس لئے کہ یہ سوشل
مزید پڑھیے


اب بھی وقت ہے!

پیر 08 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
آٹھ ماہ کی مختصر سی مدت میں نئی حکومت سے جو امیدیں تھیں وہ مایوسی میں بدلتی جا رہی ہیں۔ تبدیلی کا جو خواب دکھایا گیا تھا اور جس کے بارے میں ببانگ دہل دعویٰ کیا گیا تھا کہ تبدیلی آ چکی ہے‘ تبدیلی کا وہ خواب اگر سچا ہے تو اسے تبدیلی معکوس ہی کہا جائے گا یعنی تبدیلی خرابی کی طرف‘ بد سے بدتر کی طرف۔ ایسا کیوں ہوا؟ اور ایسا ہوتا کیوں ہے کہ جس حکومت کو عوام نہایت چائو سے نہایت پیار سے اقتدار میں لاتے ہیں۔ وہ مایوس و محروم کرنے میں دیر نہیں لگاتی۔
مزید پڑھیے


اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونکے گا

پیر 01 اپریل 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہمیں کیا معلوم تھا کہ بدعنوانی کے خاتمے اور بدعنوانوں کو پکڑنے اور سزا دینے کا عزم رکھنے والی حکومت کے ایک وزیر صاحب بھی بدعنوان نکلیں گے۔ بدعنوانی میں اتنے طاق ہوں گے کہ چھوٹی سی مدت میں کروڑ پتی سے ارب پتی بن جائیں گے۔ مایا تیرے تین نام پرسو، پرسا، پرس رام۔ سادھو، سنت، بھکشو، پنڈت اور صوفی سبھی دنیا اور دولت دنیا کو مایا کہتے ہیں۔ یعنی یہ سب ایک دھوکا ہیں۔ مگر آدمی بھی خوب شے ہے زبان سے دنیا کو دھوکے کی ٹٹی کہتا ہے اور عملاً گردن تک دنیا اور محبت دنیا میں
مزید پڑھیے



نواسے کا ٹرین مارچ

هفته 30 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
نوخیز و نو آموز سیاست برخوردار بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کی اخبارات میں تصویریں دیکھ کے ہمیں ان کے نانا مرحوم بھٹو کا ٹرین مارچ یاد آ گیا۔ اپنے سیاسی ڈیڈی صدر ایوب سے اختلاف کے بعد جب وہ وزارت خارجہ سے علیحدہ کردیئے گئے تو عوامی رابطہ مہم کے لیے انہوں نے بھی پنڈی سے ٹرین پر بیٹھ کے ہی اپنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ ٹرین جن جن اسٹیشنوں پر رکی عوام نے قائد عوام کا جوق در جوق پرجوش استقبال کیا۔ پھر اس کے بعد کیا ہوا، یہ تاریخ کی کتابوں میں رقم ہے۔ اسے
مزید پڑھیے


نوشتہ دیوار کس بلا کا نام ہے؟

بدھ 27 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
یار لوگ خوش ہیں اور کچھ تو مسرت سے بغلیں بجا رہے ہیں کہ تیل نکل آیا ہے اور وزیراعظم خوشخبری سنائیں گے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک بتایا کہ کنوئوں سے کویت سے زیادہ تیل نکلے گا۔ یادش بخیر جن دنوں ہم جسارت میں کالم نگاری کیا کرتے تھے، خبر آئی تھی کہ عزیز آباد میں تیل کا ایک کنواں دریافت ہوا ہے، بڑی خبریں چھپی، ہم نے کالم باندھا کہ اب کراچی میں بھی خلیجی ریاستوں کی طرح کشورہ اور توپ پہنے شیخ گھوما کریں گے۔ ہاتھ میں تسبیح ہوگی، بازو پہ کوئی باز بیٹھا ہو گا۔
مزید پڑھیے


ارزاں ہے مسلماں کا لہو توکیوں؟

منگل 19 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
شاعر مشرق نے خداوند تعالیٰ سے شکوہ کیا تھا کہ رحمتیں ہیں تیری اغیار کے کا شانوں پر۔ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر۔ مسلمانان عالم پچھلے زمانے میں بھی بے چارے تھے آج بھی بے چارے ہی ہیں۔ عالمی طاقتوں کے نزدیک ان کی حیثیت چارے سے زیادہ نہیں۔ مسلمان کریں بھی تو کیا۔ انہیں اپنے گھر کے اندرونی جھگڑوں سے فرصت نہیں۔ وہ آپسی تنازع سلجھالیں تو بڑی بات ہے، اپنی حالت کو سنوارلیں اور درپیش چیلنجوں سے نمٹ لیں تو شاید اپنے پائوں پر کھڑے ہو سکیں۔ حالت ان کی روز بروز قابل رحم ہوتی
مزید پڑھیے


علمی ادارے اورمہم بچت کی!

اتوار 17 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
اطلاع ملی مسعود اشعر صاحب کے کالم سے کہ سرکاری عمال نے اردو کے تین علمی و اشاعتی اداروں کو ایک ہی ادارے میں ضم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ اخراجات میں کمی کی جا سکے۔ اس فیصلے کی ذمہ داری ڈاکٹر عشرت حسین کے سر ڈال دی گئی جو ان دنوں نئی حکومت کو بچت کرنے کے نئے نئے گر بتانے پہ مامور کئے گئے ہیں۔ مسعود اشعر صاحب کی اطلاع کا ذریعہ اردو سائنس بورڈ کے ڈائریکٹر اور ممتاز نقاد ناصر عباس نیئر کا وہ ٹوئیٹ تھا جس میں درج تھا کہ ان کی اور افتخار
مزید پڑھیے


اعلیٰ تعلیم، پست اذہان

جمعرات 14 مارچ 2019ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ہماری یونیورسٹیوں کی حالت تعلیمی، تحقیقی اور اخلاقی اعتبار سے روزبروز ناگفتہ بہ اور درماندہ ہوتی جاتی ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں کا سب سے بڑا مسئلہ تو گرانٹ کا ہے کہ جو گرانٹ سرکار کی طرف سے انہیں ملتی ہے، وہ ان کی ضروریات کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔ رہی پرائیویٹ یونیورسٹیاں گو چند ایک کو چھوڑ کر ان کا تعلیمی معیار ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کڑی نگرانی کے باوجود بحث طلب ہے۔ مثلاً یونیورسٹیوں کے بنیادی فرائض تدریس اور تحقیق ہیں۔پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ غالباً و جہ یہ ہے کہ ایچ ای سی کے
مزید پڑھیے