ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری



اب انہیں ڈھونڈ…


جمعتہ المبارک کی سعید ساعتوں میں‘ بادشاہی مسجد کا اجلا‘ نکھرا اور سنورا سا ماحول طبیعت میں فرحت اور گداز پیدا کر رہا تھا۔ ہمارے وزیر محترم پیر سید سعید الحسن شاہ صاحب یہاں آمد پر ہمیشہ اورنگزیب عالمگیر کو یاد کرتے ہیں‘ بلاشبہ اس مسجد کا بانی اورنگ زیب سُنی ‘ حنفی عقائد کا امین اور نقشبندی اسلوب طریقت کا حامل تھا‘ اس نے ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی ترتیب و تدوین کے لئے ایک سو ساٹھ علماء اور مفتیان پر مشتمل بورڈ تشکیل دیا‘ جس کی سربراہی اپنے استاد ملاجیون کو سونپی اور یہی شخصیت بادشاہی مسجد کے اولین خطیب
پیر 20 جنوری 2020ء

’’مذہبی تعمیراتی ورثہ‘‘

جمعه 17 جنوری 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
’’مذہبی تعمیراتی ورثہ ‘‘کی تاریخ بھی اُتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ برصغیر میں صوفیا کی تشریف آوری اور اسلام کی آمد کی۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کا وصال پانچویں صدی ہجری (465ھ) میں ہوا، آپ کے مزار کی اولین تعمیر محمود غزنوی کے بعد ، سلطنتِ غزنہ کے تاجدار ظہیرالدولہ سلطان ابراہیم غزنوی کے عہد میں، اس کی خصوصی توجہ اور حکم سے ہوئی، جس میں بالخصوص روضہ کی عالی شان عمارت کا تذکرہ کتب تاریخ میں محفوظ ہے۔ اسلامی ہند کے اوائل دور میں ’’قطب مینار‘‘کی تعمیر خالصتاً اسلامی رنگ سے آراستہ ہے، جس کو حضرت خواجہ قطب
مزید پڑھیے


’’یہ وقت بھی گزر جائے گا‘‘

پیر 13 جنوری 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
کالم کی ذمہ داری سے تو جمعہ کی شام تک ہی عہدہ برآ ہو جاتا ہوں …کہ دفتری اور غیر دفتری ’’ہنگامہ خیزی‘‘ کا پتہ نہیں ہوتا کہ چھٹی کے دن بھی… نجانے یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھ جائے، لیکن اللہ کا شکر کہ آج کافی دنوں کے بعد لان میں بیٹھ کر دھوپ دیکھنے کا موقع میسر آیا، ’’دھوپ دیکھنا‘‘ اس لئے کہ وہ جو نکھری، اجلی اور سنوری سی دھوپ ایک روز پہلے، یعنی جمعہ کو تھی، آج ہفتہ کو اس سے تو آنکھ مچولی ہی ہوتی رہی۔ بہرحال ہمارا خطہ خوش قسمت ہے کہ اسے موسموں کا
مزید پڑھیے


فرائض ِ منصبی اور خواہشِ قلبی

پیر 06 جنوری 2020ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
برنارڈ شا نے کہا تھا ؛ فرائضِ منصبی اور خواہش قلبی اکٹھے ہوجائیں، تواسے خوش قسمتی کہتے ہیں ۔ہمارے مہربان ،قاسم علی شاہ صاحب نے ایسی ہی بات غالب کے ایک خط کے حوالے سے یوں تحریر فرمائی ہے ؛’’دنیا کا خوش بخت انسان وہ ہے ،جس کا ذریعۂ معاش اور شوق ایک ہی ہو،‘‘ ذریعہ معاش اور شوق ایک ہونے سے زندگی کا باکمال ہو جانا فطری امر ہے ۔کیونکہ دنیا کا ہر انسان کام سے تھک جاتاہے ،لیکن محبت سے نہیں ۔ہر شخص دنیا میں ایک خاص مقصد کے لیے آیا ہے ،وہ مقصد تب ہی پورا ہوتا
مزید پڑھیے


در حُجرۂ فقر---

پیر 30 دسمبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
ماہرینِ نفسیات اس امر پر متفق ہیں کہ ہر انسان کی ہستی سے کچھ غیر محسوس سی لہریں نکلتی ہیں جویا تو دوسروں کو اپنی طرف کھینچتی یا انہیں دور دھکیل دیتی ہیں۔ پہلی قسم کی لہریں صرف ان لوگوں سے نکلتی ہیں جن کے دل ودماغ میں محبت، مروّت ، اور پاکیزگی کی دنیا آباد ہو ، یہ پاکیزگی ان کے چہروں پر بھی اثر ڈالتی ہے ۔ ہم ہرروز کچھ ایسے چہرے دیکھتے ہیں جن کی طرف دل کھنچتا چلاجاتا ہے ،اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کی خشونت ، بدو ضعی اور بے آہنگی دل میں نفرت
مزید پڑھیے




’’جامعہ ملّیہ اسلامیہ‘‘۔۔۔اور متنازعہ بھارتی شہریت بِل

پیر 23 دسمبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
’’متنازعہ شہریت بل‘‘پر احتجاج کی پاداش ،بھارت کے مسلمان اوربالخصوص ان کے سرکردہ تعلیمی اداروں اور دانشگاہوں پر بھارتی فورسز کی تشدّد آمیز کارروائیوں نے، پوری انسانی برادری --- بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں کو لرزا دیا ہے ۔دہلی اور علی گڑھ کی تاریخی یونیورسٹیوں کے طلبہ پر پولیس کے بدترین تشدّد نے مودی کی بربریّت کو دنیا بھر میں عیاں کر دیا ہے۔جنگ، صلح اور بین الاقوامی تعلقات سے آگاہی رکھنے والے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہسپتال اور تعلیمی اداروں کا تقدس تو ہولناک جنگوں میں بھی مجروح نہ کیا گیا، دوسری جنگ عظیم میں جرمن کے جہاز
مزید پڑھیے


’’محلہ لنگر خاں بلوچ‘‘

پیر 16 دسمبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
اگر آپ مال روڈ پر ۔۔۔ جی پی او چوک سے استنبول چوک کی طرف جائیں، تو انارکلی چوک کے بائیں جانب "محلہ لنگرخاں بلوچ" کا بورڈ، نہایت نمایاں انداز میں آویزاں ہے،ویسے طویل عرصے سے یہ سارا علاقہ "پرانی انارکلی"کے نام سے موسوم ہے اور گذشتہ کچھ عرصے سے لاہورمیٹروپولیٹن کارپوریشن کی طرف سے "محلہ لنگر خاں بلوچ"کا سائن بورڈ آراستہ کیا گیا ہے، اگرچہ گزرنے والوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں، اور شایدیہ سطور پڑھ کر بھی۔۔۔ کوئی اس کوباور نہ کر سکے۔بہرحال۔۔۔ لاہور کی بیرونی آبادی، ہمایوں کے عہد میں شروع ہوئی جس کا زیادہ تر
مزید پڑھیے


’’امریکی خانقاہ‘‘

پیر 09 دسمبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
’’امریکی خانقاہ‘‘ سے مراد تصوّف اور خانقاہیت کا وہ ’’امریکی یا مغربی ماڈل‘‘ نہیں ہے ،جس کی بہت سے برانچیں آج ، کل پاکستان میں بھی نظر آنے کو بیتاب ہیں۔۔۔ ،جن کا بنیادی مقصد تصوّف کو دین سے الگ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنا اور صوفیا کے کلام کو حقیقت سے نکال کر مجاز کے رنگ ۔۔۔اور ان کے طرزِ حیات اور اسلوبِ زندگی کو دینی غیرت اور مِلّی حمیّت سے علیحدہ کر کے، متعارف کرواتے ہوئے ،ان کو رواداری ، انسان دوستی ،اور روشن خیالی کی ایسی علامت کے طور پر پیش کرنا۔۔۔ کہ جس کا
مزید پڑھیے


’’رخصتی ‘‘۔۔۔ عرب ماں کی بیٹی کو نصیحتیں

پیر 02 دسمبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری

موسمِ سرما کے یہ ایام شادی بیاہ کے اہتمام وانعقاد کے لیے ’’ہر اعتبار‘‘ سے بڑے موزوں جانے جاتے ہیں ، ہمارے ہاں کی شادی ،بیاہ کے تقریباتی پھیلائو میں ایک اچھا اضافہ مساجد بلکہ بادشاہی مسجد میں "رسمِ نکاح"کے انعقاد کا ہے ،ایسی ہی ایک تقریب میں محترم مجیب الرحمن شامی صاحب، چوہدری خادم حسین صاحب کے عزیز کی "رسمِ نکاح"میں شرکت کے لیے بادشاہی مسجد میں تشریف فرما ہوئے ،تو’’ نکاحیہ تقریب ‘‘کی گہما گہمی اور رونق سے محظوظ ہوئے اور مساجد میں نکاح کی اس روایت کی تحسین اس "مشاہدہ"کے ساتھ فرمائی کہ’’ مزا تو تب ہے
مزید پڑھیے


’’رفاقتوں کا سفر‘‘

پیر 25 نومبر 2019ء
ڈا کٹر طا ہر رضا بخاری
ظہور قدسی اور طلوع اسلام کے وقت دنیا کی دوسپر پاورز میںسے ’’رومن ایمپائر‘‘ نے بتدریج عیسائیت کو اپنا سرکاری مذہب قرار دیکر ،ایک طرف سلطنتِ روم کو مستحکم اور دوسری طرف عیسائیت کے دائرہ دعوت وتبلیغ کو وسیع سے وسیع ترکردیا ،نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت سے صرف ڈیڑھ سو سال قبل قیصر قسطنطین نے 313ء میں عیسائیت کو قبول کرکے ،اس کی تبلیغ وتشہیر کے لیے حکومتی وسائل کی ارزانی کو ہر ممکن یقینی بنایا۔رومی حکمرانوں نے عیسائی پادریوں اور راہبوں کے لیے حدود سلطنت میں نہایت شاندار گر جے اورخانقاہیں تعمیرکروائی۔ کِسریٰ (Persia) کی نسبت
مزید پڑھیے