BN

کالم نگار



روشِ بندہ پروری


تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ایک طرف صلیبیوں کے بڑھتے ہوئے لشکر تھے اور دوسری طرف مسلمان سپاہ۔ غازی صلاح الدین کو اطلاع ملی کہ دشمن کا نامور جرنیل جسے مسلمان تاریخ دان بھی شیر دل کے لقب سے پکارتے ہیں۔ شدید علیل ہے۔ حکایت بیان کی جاتی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے نہ صرف جنگ روک دی بلکہ اپنا شاہی طبیب بھجوانے کی پیشکش کی تاکہ رچرڈ شیردل کا علاج ہو سکے۔ ایک روایت ہے طبیب کو بھجوا دیا اور ایک خبر ہے کہ طبیب کے بھیس میں خود جا پہنچا کہ اس
هفته 16 نومبر 2019ء

مولانا،نواز،عمران

هفته 16 نومبر 2019ء
عا رف نظا می
مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد میںدوہفتے سے جاری دھرنا بدھ کی رات اچانک جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ جو وزیراعظم عمران خان کے استعفے اور نئے عام انتخابات کا اعلان ہوئے بغیر ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں تھے اب اپنے پلان’’ بی‘‘ پر عمل پیرا ہیں جس کے مطابق ملک کی تمام اہم شاہراہوں اور ہائی ویز کو باقاعدہ پروگرام کے تحت بند کیا جائے گا ۔یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ مولانا کا نیا منصوبہ پسپائی کی ایک آبرومندانہ شکل ہے یا واقعی وہ پورے ملک کو شٹ ڈاؤن
مزید پڑھیے


جمہوریت میں نظریاتی سیاست کی موت

بدھ 02 مئی 2018ء
اوریا مقبول جان

جس سودی سرمایہ دارانہ معیشت نے اپنے تحفظ کے لیے سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی باہم چپقلش کی بنیاد پر ایک شاندار جمہوری نظام کو تخلیق کیا ہے وہ اس قدر سادہ تھے کہ اس کے ذریعے کسی نظریاتی طاقت کا اقتدار پر قابض ہونے کا خواب پورا ہونے دیں گے؟ جمہوریت کی اس دہلیز پر گزشتہ سو سالوں میں ہر نظریے نے سسک سسک کر جان دی ہے۔ جتنی دیر دنیا میں اس جمہوری نظام کو مستحکم ہوئے ہوئی ہے تقریباً اتنا ہی عرصہ گزشتہ دو صدیوں کو متاثر کرنے والے کیمونزم کو اپنی ریاست قائم کرتے ہوئے گزرا
مزید پڑھیے


اٹھارویں ترمیم اور چیف جسٹس کا منصفانہ مشاہدہ؟

جمعرات 26 اپریل 2018ء

اُس دن ہم لفظوں سے روئے تھے۔ جس دن زور آور پارٹیوں نے ایوانوں کے اندر اپنی اکثریت کے زور پر اٹھارویں ترمیم کر ڈالی تھی اور اپنے لیڈروں کے نعرے لگائے تھے۔ بڑی پارٹی نے کہا..... بھٹو زندہ باد..... چھوٹی پارٹی نے کہا باچے خان زندہ باد۔ تیسری چھوٹی پارٹی نے کہا___ الطاف بھائی زندہ باد! ہماری پارٹی چپ رہی۔ مَیں نے قائداعظم کی تصویر کی طرف دیکھا۔ تصویر کی آنکھ میں نمی تھی___ تجھ پہ قربان میری آنکھ کے سارے آنسو؟ تعلیم ، ثقافت، سیاحت اور بہبود آبادی اور دیگر کچھ محکمہ جات صوبوں کے حوالے کر دینے سے
مزید پڑھیے