BN

ہارون الرشید



ستاروں کی چھاؤں میں


آدمی کیسا کٹھور ہے۔ کس چیز کے لیے کیسی نادر زندگی وہ قربان کر دیتا ہے۔ تہذیب کی چوکھٹ پر کتنے سچے لوگ، کتنا اجالا اور کتنی روشنی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔ بھولے بسرے زمانے جب جاگ اٹھتے اور ٹلنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ماضی نہ مستقبل، وہ ایک ساعت ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے۔ دل اس کی گرفت میں کیسا تڑپ اٹھتا ہے۔ احمد جاوید سے میں نے کہا تھا: اب کی بار صحرا کا قصد ہو تو مجھے ساتھ لے جائیے گا۔ میری کتنی ہی یادیں روہی کے ریگزار سے وابستہ ہیں... وہی احمد جاوید جنہوں نے
پیر 30 مارچ 2020ء

ایک نادر کتاب

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اس کتاب کا ایک اور سبق یہ ہے کہ کسی حال میں صاحبِ ایمان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئیے۔ زندگی صبر، امید اور جدوجہدمیں ہے۔ بریگیڈئیر سلطان کی کتاب The ''Stolen" Victoryپڑ ھ چکا تو والٹیر کا وہی جملہ یاد آیا: Every word of a writer is action of generosity لکھنے والے کا ہر جملہ، ہر لفظ سخاوت کا عمل ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کتاب پر یہ قول صادق نہیں۔ لیکن بریگیڈئیر سلطان کی کتاب پہ یقینا۔ افسوس کہ یہ کتاب میں نے بہت تاخیر سے پڑھی۔ مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ ناچیز اسے اردو میں
مزید پڑھیے


سبق

بدھ 25 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
فرمایا: بحر و بر ظلم سے بھر گئے اور یہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ مالک کی منشا اس کے سوا کیا ہے کہ آدمیت اپنی اصلاح کرے۔ روئیدگی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کہیں کوئی پھول نہ کھلا، کوئی افق منور ہوا، نہ کوئی ستارہ چمکا۔ بہت دن یہ خیال قلب و دماغ میں جاگزیں رہا کہ مالک اس افتاد سے ابنِ آدم کو کیا حاصل ہوگا۔ علمائ￿ ِ کرام تو کچھ خاص مدد نہ کر سکے، درویش ہی نے راہ دکھائی۔ بنیادی طور پر تین دعائیں ہیں۔ ایک تو وہی ’’بسمِ اللَّہِ الَّذِی لَا
مزید پڑھیے


فیصلہ تو کرنا ہے

منگل 24 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
جو اقوام اپنے فیصلے خود صادر نہیں کرتیں، وہ خود کو حالات اور دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ کرونا پہلی افتاد ہے اور نہ آخری۔اگرچہ بعض اعتبار سے ایسی سنگین کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔طاعون، انفلوئنزااور یورپی ہیضے کے برعکس ہلاکتوں کا تناسب کم ہے مگر غیر معمولی سرعت سے پھیلنے والی۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک کے پاس بھی کافی سازو سامان اور موزوں ادویات مہیا نہیں۔ برطانیہ کے سیکرٹری ہیلتھ نے کل بہت بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کیا۔ باقی دنیا کا عالم
مزید پڑھیے


منصوبہ بندی

پیر 23 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
ایک موزوں ترین منصوبے پہ عمل درآمد میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ایسے خوفناک بحران میں کنفیوژن اور بے عملی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ایسی تیزی سے وبا پھیلی ہے کہ ساری دنیا گڑبڑا گئی۔ پاکستان کا تو کیا رونا کہ سول ادارے تباہ حال ہیں۔ لاہور میں ایک صاحب نے چھ ہزار روپے لے کر کورونا کے مریض کو جانے دیا۔جہاں مہیا تھے، وہاں بھی اکثریت نے ماسک خریدنے سے گریز کیا۔ یہ نسبتاً تیزی سے بنائے جا سکتے تھے، گھروں میں بھی۔ ڈاکٹروں کے لیے موزوں لباس مہیا نہ تھا۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کم
مزید پڑھیے




بارِ دگر

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم نے ٹھیک کہا کہ عظیم ابتلاؤں میں جنگ پوری قوم کو لڑنا ہوتی ہے۔خود سیاستدان ہی اگرایک دوسرے کے درپے ہوں تو قوم کو کیا خاک متحد کریں گے؟ وزیرِ اعظم کی تقریر کے بعض نکات بہت اچھے تھے۔ ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی اپیل ایک عظیم اخلاقی تقاضے کی تکمیل ہے۔سرزمینِ پہلوی بدترین صورتِ حال سے دوچار ہے۔ اوّل اوّل چھپانے اور نظر انداز کرنے کی روش۔ خو دپاکستان میں بھی وائرس زیادہ تر ایران ہی سے پھیلا۔تہران میں سب سے بڑا مسئلہ اب یہ ہے کہ درآمدات پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس فہرست میں
مزید پڑھیے


آدمی عجیب ہے

بدھ 18 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آدمی عجیب ہے، سیکھتا ہی نہیں۔ افتاد آپڑے تو گھبرا کر آسان راستے کی آرزو پالتا ہے۔ قوانینِ قدرت سے ہم آہنگی اور دیر پا منصوبہ بندی کی فکرطوفان اوربحران میں بھی جاگتی نہیں۔ مسٹر فاؤچی الرجی اور وائرس کا انسداد کرنے والے امریکی ادارے کے سربراہ ہیں۔ انیس برس سے چلے آتے ہیں۔ دوسری احتیاطوں کے علاوہ وہ سب لوگوں کو نیند پوری کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے 79سالہ معالج خود چند گھنٹے ہی سوتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے چینل پر نمودار ہوتے ہیں اور کرید کرید کر پوچھے جانے والے سوالوں
مزید پڑھیے


جان ہے تو جہان ہے

منگل 17 مارچ 2020ء
ہارون الرشید

ایک قومی لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ فوجی قیادت، صوبائی حکومتوں، ذمہ دار اپوزیشن لیڈروں اور ماہرین سے مسلسل مشورہ۔ ملک بھر میں آگہی کی ایک بھرپور مہم۔ صرف صفائی،مزاحمت بڑھانے والی خوراک اور احتیاطی تدابیر سے ممکنہ تباہی کی سطح بہت کم ہو سکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ کورونا وائرس پہلی بلا نہیں جو بنی آدم پہ اتری ہے۔ٹی وی دیکھنے اور اخبار پڑھنے والے سب لوگ جانتے ہیں کہ کب کب کہاں کہاں طاعون اور ہیضہ پھیلتا رہا۔پولیو، چیچک، ایڈز اور ایبولا ابھی کل کی بات ہیں۔ بعض سے انسان نے چھٹکارا پا لیا۔ بعض سے نجات کے
مزید پڑھیے


ہمتِ مرداں، مددِ خدا

پیر 16 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
مایوسی کفر ہے اور امید ایمان۔ دعا، صدقہ، صفائی، علاج اور مشترکہ جدوجہد۔ ابتلا میں سبق پوشیدہ ہوتے ہیں مگر بحران میں مواقع بھی۔ پروردگار کادروازہ چوپٹ کھلا ہے اور اس کی صفتِ رحم اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ ابھی ابھی ایک دوست نے بتایا کہ ایک مشہور میڈیکل سٹور کے مالک ظفر بختاوری نے، جس کی بہت ساری شاخیں ہیں ڈیڑھ لاکھ ماسک مفت بانٹے ہیں۔ شناختی کارڈ کی شرط کے ساتھ ہر خاندان کے لیے تین ماسک۔ اللہ ان کی نیکی قبول کرے اور دوسرو ں کوتقلید کی توفیق۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں
مزید پڑھیے


بنیادی سوال

هفته 14 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
قدرت ہمیں سکھانا چاہتی ہے لیکن ہم سیکھیں بھی۔ حسرت کے ساتھ قرآنِ کریم کہتاہے: افسوس کہ اکثر لوگ غور نہیں کرتے۔ عرض کیا کہ کورونا وائرس پر ہر طرح کی بحث ہے مگر بنیادی سوال پہ کوئی بات نہیں کرتا۔ یہ کہ جب حرام کو حلال سمجھ لیا جائے گا تو اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔صاف اور صریح الفاظ میں قرآنِ کریم بتاتا ہے، کیا چیز طیب ہے، کون سی مکروہ اور کون سی حرام۔ پھر وہ حکم دیتا ہے کہ ذبح کرنے سے پہلے،اس پر اللہ کا نام پڑھا جائے۔ ادبیات کے انگریزاستاد،میرے دوست نو مسلم عمران نے
مزید پڑھیے