ہارون الرشید


بخیہ گری


ستر برس کے بعد اب ہم وہاں کھڑے ہیں‘ شاعر نے جس کی بات کی تھی: یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض کبھی بخیہ گری نے براہ راست موضوع سے تعلق نہیں مگر رئیس المتغزلین حسرت موہانی کا ایک شعر یاد آیا۔ وہ سادہ اطوار‘ خالص اور کھرا آدمی‘ جو ایک آزاد آدمی کی زندگی جیا اور ایک مرد آزاد کی طرح اس معاشرے سے اٹھ گیا۔ وہ معاشرہ جس کے مکینوں کی نفسیات پیچ در پیچ الجھی ہے۔ حسرت نے کہا تھا: کچھ بھی حاصل نہ ہوا زہد سے نخوت کے سوا شغل بیکار ہیں‘سب تیری
جمعرات 17  ستمبر 2020ء

طارق بن زیاد کے قافلے کا آخری سپاہی

منگل 15  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
تیرہ سو برس پہلے طارق بن زیاد کا قافلہ سپین کے ساحل پر اترا تو اس نے کشتیاں جلانے کا حکم دیا تھا۔عزیز بھٹی کی کہانی پڑھتے ہوئے یوں لگتاہے کہ وہ طارق کے قافلے کا بچھڑا ہوا ایک سپاہی تھا، جو تیرہ سو برس بعد طلوع ہوا۔ اپنے ٹی وی پروگرام میں اس نادرِ روزگار کے بارے میں اظہارِ خیال کا وعدہ پورا نہ کر سکا۔ چیختے چلاتے موضوعات کا دباؤ۔مختصر سا وقت، اظہار کا پیرایہ ہاتھ نہ آیا کہ نازک موضوع انہماک کا مستحق تھا۔ پاکستانی فوج کے بہت شہید ایسے ہیں، جن کی داستانیں لہو میں قلم
مزید پڑھیے


مواقع

پیر 14  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
بہترین اور شاندار مواقع قدرتِ کاملہ نے پاکستان کے لیے پیدا کر دیے ہیں لیکن صرف مواقع سے کیا ہوتا ہے۔ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر خوش بختی کے منتظر کسی فرد کا کوئی مستقبل ہوتاہے نہ کسی قبیلے اور معاشرے کا۔ بھارت پھنس گیا اور امریکہ بھی۔ امریکہ بظاہر آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی ہفتے دو بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ امارات کے بعد، بحرین کے ساتھ بھی اسرائیلی مراسم استوار ہو گئے۔ امارات کے قریب ایک جزیرے پر موساد نے انٹیلی جنس کے ایک وسیع نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں
مزید پڑھیے


کاشتکار

جمعرات 10  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
کاشتکار حکومت کی ترجیحات میں کہیں موجود نہیں۔ پیہم وہ برباد ہے اور زبانِ حال سے پکارتاہے ۔ کچھ اپنے دل کی خبر رکھ کہ اس خرابے میں پڑا ہوں میں بھی کسی گنجِ گمشدہ کی طرح رنگارنگی اور بو قلمونی شاید اس کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ ہیجان کے مارے معاشرے یک رخے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بحث سارا وقت سیاست پہ ہوتی رہتی ہے۔ معیشت پہ بات ہوتی ہے تو کرپشن یا صنعت کاری پہ۔ صنعت کاری اہم ہے اور بہت ہی اہم۔ یہی جدید معیشت ہے۔ لائق انجینئر درکار ہیں کہ جدید مشینیں ڈھال
مزید پڑھیے


کثرت کی خواہش

بدھ 09  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
امیر المومنین محمد امین کو کس چیز نے بھیانک انجام سے دوچار کیا۔۔۔؟ کثرت کی خواہش نے۔ خدا کی آخری کتاب کہتی ہے ’’الھکم التکاثر حتیٰ زرتم المقابر‘‘ کثرت کی خواہش نے تمہیں برباد کر ڈالا؛حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ جب گردنیں کاٹی جا چکیں، لاشیں دفن کی جا چکیں اور اہلِ بغداد مامون الرشید کے لیے بیعتِ عام کر چکے تو ابو عیسیٰ نے امیر المومنین محمد امین کا مرثیہ لکھا۔ میں نے جو د و کرم سے سوال کیا میں دیکھتا ہوں کہ تم نے اپنی تکریم ہمیشہ کی تحقیر سے بدل لی میں دیکھتا
مزید پڑھیے



بادشاہ اور بھکاری

منگل 08  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
کارنامے انجام دینے کی بجائے یہ باتیں بنانے والے لوگ ہیں‘ مقبولیت کی بھیک مانگنے والے۔سب کے لیے نہیں، ان ہی کے لیے اقبالؔ نے کہا تھا: کوئی مانے یا نہ مانے میرو سلطاں سب گدا زندگی میں خوش قسمتی اور بدقسمتی نام کی کوئی چیز نہیں، بس مواقع ہوتے ہیں۔ کوئی چاہے تو ان سے فیض یاب ہو۔ بہترین طور پر برت لے۔کوئی چاہے تو لمبی تان کر سویا رہے۔وہ جو میرؔ صاحب نے کہا تھا: میں پا شکستہ جا نہ سکا قافلے تلک آتی اگرچہ دیر صدائے جرس رہی مشاہدہ یہ ہے اور تاریخ کا سبق بھی یہی کہ عظیم ترین فاتح، حکمران‘
مزید پڑھیے


جنگِ ستمبر

پیر 07  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
بھارت کی معیشت اور فوج کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، پاکستانی فوج سے بالاتر نہیں۔ تاریخ کا سبق مگر یہ ہے کہ مجموعی قومی بیداری اورسول اداروں کے فروغ پرہی قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتاہے۔ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے یا آدھا خالی،یہ ذوق نظر کی بات بھی ہے۔ ہم جذباتی لوگ ہیں۔ چھ ستمبر 1965ء کی جنگ پر لکھنے والوں نے اس کے تاریک پہلو اجاگر کیے یا ایک ایسی عظیم الشان فتح، تاریخ میں جس کی کوئی مثال نہیں۔ حملے کے لیے ہماری فوج تیار نہیں تھی۔اس کے باوجود معرکہ اس نے سر کیا۔ بھارتیوں کو فتح
مزید پڑھیے


لنکا میں سبھی باون گز کے

جمعرات 03  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
اقبال نے سچ کہا تھا: ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں۔ دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتاہے کیا یہ تو طے ہو چکا کہ حالات اب جوں کے توں نہیں رہیں گے۔ مستقل طور پر یہ وعدہ فروش ہماری گردنوں پہ مسلط نہ رہ سکیں گے۔ عدالتی حکم کے باوجود محترمہ مریم نواز کاارشاد یہ ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوں گے تو واپس آئیں گے۔ادھر جناب چیف جسٹس کا فرمان یہ ہے کہ یہ حکومت کچھ بھی کر دکھانے کی اہل نہیں۔ اگر سرکارکے باب میں ایسا سخت رویہ عدلیہ
مزید پڑھیے


صاحبِ اسرار

بدھ 02  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
17دسمبر1971ء کی وہ خوں ریز شام، جب پاکستان کا بدن دو حصوں میں کاٹ دیا گیا، دوسروں کی طرح اس آدمی کے دل پر بھی ایک کچل ڈالنے والے بھاری پتھر کی طرح گری تھی لیکن وہ شام اسے ہلاک نہ کر سکی۔ وہ دوسروں سے بہت مختلف تھا۔ اس نے اپنے خدا سے اپنی جان کا سودا کر لیا تھا۔ نہیں،وہ ایسا نہیں تھا کہ اس کے گرد روشنی کا ہالہ ہو اور خلقِ خدا اس کے ہاتھ چومنے کو ٹوٹی پڑتی ہو۔ وہ تودوسروں جیسا ایک آدمی تھا۔ پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں کا مکین۔ اگرچہ اس
مزید پڑھیے


جمہوریت

منگل 01  ستمبر 2020ء
ہارون الرشید
ایسی ہی جمہوریت کا کوئی مظہر اقبالؔ نے دیکھا ہوگا یا شاید اس کا تصور کیا ہوگا، جب آپ نے کہا تھا گریز از طرزِ جمہوری نظامِ پختہ کارے شو از مغزِ دو صد خر فکرِ انسانیِ نمی آید اس طرزِ جمہور ی سے بچو کہ گدھے دو سو بھی ہوں تو ان کے دماغ سے ایک انسان کی فکر نمودار نہیں ہو سکتی۔ لاہور کے لکشمی چوک سے گزرتے ہوئے لمحہ بھر کو میں ٹھٹک گیا۔ اب وہاں بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہیں، جہاں کبھی ایک پرنٹنگ پریس ہوا کرتا تھا۔ کہا جاتاہے کہ بر صغیر کا سب
مزید پڑھیے