BN

ہارون الرشید


تاریخ کا سبق


تاریخ کا یہ سبق ہم نے بھلا دیا۔نمود اور فروغ کے لئے کسی بھی قوم کو ایک کم از کم اتفاق رائے درکار ہوتا ہے اور مضبوط سول ادارے۔ حیرت کسی طرح کم نہیں ہوتی۔اعظم سواتی کو کیا سوجھی کہ الیکشن کمیشن کو نذر آتش کرنے کی بات کی۔اس قدر غیظ و غضب‘اس قدر غیظ و غضب! ایسی ہی ایک حرکت کا نتیجہ وہ بھگت چکے‘جب اپنے محل سے متصل ایک غریب خاندان پہ چڑھ دوڑے تھے۔ان کی وزارت جاتی رہی اور ایک مدت کے بعد بحال ہوئی۔ کیا وہ اپنی انا کو آسودہ کرنے کے آرزو مند تھے یا اپنے لیڈر
جمعه 17  ستمبر 2021ء مزید پڑھیے

سیاست ممکنات کا کھیل ہے

جمعرات 16  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
کپتان کی ٹیم اپنے ملک کے معروضی حالات سے کس قدر بے بہرہ ہے۔ایک قادیانی کو معاشی ٹیم کا ممبر وہ بنا نہ سکے‘حالانکہ اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہ تھی۔ قبول اسلام کو روکنے کے لئے وہ قانون بنانے چلے ہیں۔وہ نہیں بنا سکیں گے۔سیاست ممکنات کا کھیل ہے، شاعری نہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی یقینا جرم ہے۔ بنو امیّہ کا عہد یاد آتا ہے‘ جوق در جوق جب لوگ مسلمان ہونے لگے۔تعیش پسند حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ نومسلموں پر جزیہ نافذ رہے گا۔خلافت راشدہ میں اس کا تصور بھی کیا نہ جا سکتا۔وہ شاندار عمارتیں بناتے اوربعض خورونوش
مزید پڑھیے


آزادی کی یہ نیلم پری

بدھ 15  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
صدیاں گزر گئیں اور کچھ بھی نہیں بدلا۔ وہی احساسِ کمتری، وہی خوئے غلامی، وہی احساسِ عدم تحفظ، وہی دکھاوا اور ریاکاری۔ علم اور اخلاقی تربیت کے بغیر جمہوریت کیا ہے؟ دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری کسی نے کہا تھا: حسن کو سادگی میں پُرکاری اور میدانوں میں ناہمواری کی ضرورت ہوتی ہے۔ موسم سرما کے اختتام پر پوٹھوہار کی سطح مرتفع پر، گندم کے سبزے میں کہیں کہیں سرسوں پھولتی ہے۔ صبح سویرے کی ریل کار سے لاہور سے راولپنڈی کا قصد کریں تو جہلم کا پل پار کرنے کے بعد،
مزید پڑھیے


کاروبار دنیا

جمعرات 09  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
پھر جنید یاد آئے‘سیدالطائفہ جنید بغدادؒ ‘نیم مجذوب حسین بن منصورحلاج دعوے پہ دعویٰ کرتا رہا تو فرمایا: حسین یہ کاروبار دنیاہے ‘ازل سے ایسا ہوتا آیا ہے اور ابد تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ اعتدال کی ایک آدھ آواز ۔بالعموم دو طرح کے ردعمل ہیں۔ایک کا مطالبہ ہے کہ اپنے ان مخالفین کو طالبان شریک اقتدار کریں‘بیس برس تک جو امریکہ کے ساتھ مل کر افغانیوں کا قتلِ عام کرتے رہے۔دوسروں کی بہترین مثال‘ایک پیغام ہے‘جو آج موصول ہوا ’’قرآن کریم کے ایک ایک حرف کو طالبان نے سچا ثابت کر دیا‘‘ ایک ایک لفظ کو! سیاست ممکنات کا کھیل
مزید پڑھیے


تدبیر کُند بندہ، تقدیر کُند خندہ

بدھ 08  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
ساری خرابی تجزیے میں ہوتی ہے۔ کیسے لوگ ہیں کہ ہر بار ان کا تجزیہ غلط ثابت ہوتا ہے مگر ان کے لہجوں میں دائم وہی اصرار۔ ایک عشرہ ہوتا ہے، ایک ممتاز ٹی وی چینل نے اس موضوع پر مذاکرے کا اہتمام کیا کہ غیرت مندی ایک اعلیٰ انسانی وصف ہے یا نہیں۔ خاکسار کو بھی مدعو کیا گیا۔ عرض کیا، کہ حمیّت قوموں کے لیے جذباتیت کا نام نہیں۔ مسلمان کے اوصاف میں سے ایک جذباتی توازن بھی ہے۔ ایک آدھ نہیں، آٹھ عدد احادیث ہیں، جن میں اعتدال پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کوفکر و تدبر
مزید پڑھیے



درویش

جمعه 03  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
یہی فرق ہے‘بس یہی فرق۔مولوی سے شاذ ہی کبھی کچھ ملتا ہے۔ درویش کے در سے خالی ہاتھ کوئی نہیں لوٹتا،الایہ کہ خان صاحب کی طرح خبطِ عظمت کا قتیل ہو۔ جب آپ کالم لکھتے ہیں تو کیا کوئی دعا پڑھتے ہیں؟ انہوں نے پوچھا۔عرض کیا جی ہاں!وہی دعا جو سب مسلمان پڑھتے ہیں۔’’اے میرے رب‘میرا سینہ کشادہ فرما،میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے‘‘۔ بولے:ایک دعا آپﷺ نے تعلیم فرمائی ہے۔ارشاد کیا تھا کہ پڑھ لی جائے تو ناکامی کا سوال ہی نہیں۔‘‘اے اللہ‘ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا کر اور دنیا کی خواری اور آخرت
مزید پڑھیے


عبد دیگر، عبدہ چیزے دگر

بدھ 01  ستمبر 2021ء
ہارون الرشید
آج پاکستان میں‘ آج عالم اسلام میں محمد علی جناح جیسا کوئی دوسرا لیڈر کیوں نہیں؟ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ ریا کار، یہ دریوزہ گر، یہ بھکاری، یہ سب کے سب ایک دن تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیئے جائیں گے۔ عبد دیگر عبدہ چیزے دگر بندہ اور ہوتا ہے، اللہ کا بندہ کچھ اور وہ دو عظیم شخصیات اقبالؔ اور قائد اعظم محمد علی جناح۔ اپنی آنکھ سے جنہوں نے زندگی کو دیکھا اور برتا۔ نہایت انہماک سے اپنی ترجیحات مرتب کیں۔ پھر عمر بھر طے شدہ منزلوں کے مسافر رہے۔ دوسروں کو لبھانے بلکہ چکمہ دینے میں پنڈت جواہر لعل
مزید پڑھیے


اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی

منگل 31  اگست 2021ء
ہارون الرشید
اچانک ایک سوال داغا:کپتان یہ کیوں کہتا ہے کہ وہ این آر او نہیں دے گا۔این آر او تو کبھی کا دیا جا چکا اور سبھی کو دیا جا چکا اب خاک اڑانے کو بیٹھے ہیں تماشائی بلاول بھٹو کا دعویٰ ہے کہ اکیلے ہی وہ عمران خان کو اکھاڑ پھینکیں گے۔ایک جعلی حکومت جس نے مہنگائی‘بے روزگاری اور بدامنی کے سوا کچھ نہیں دیا۔جواں سال لیڈر کا کہنا ہے کہ تین سال میں پیپلز پارٹی کو دیے گئے 18سو ارب روپے کا حساب مانگنے والے 9000ارب روپے کا حساب دیں۔امسال 23جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں وفاقی حکومت کے
مزید پڑھیے


بات تب سمجھ میں آتی ہے

جمعه 27  اگست 2021ء
ہارون الرشید
بات تب سمجھ میں آتی ہے، جب دل و دماغ کے دروازے کھلے ہوں۔ جب لیڈروں،دانشوروں، بعض معزز علما اور ججوں کی طرح خبطِ عظمت نے آدمی کے ہوش و حواس کو گھول کر نہ پی لیا ہو۔ نذیر چوہان کو معافی مل گئی۔ اب وہ آسودہ ہیں مگر آسودہ کہاں۔ اب ایک اور معرکے میں مبتلا ہیں۔ اب انہیں جہانگیر ترین گروپ کی شکست و ریخت کا معرکہ سونپا گیا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ترین گروپ کی اکثریت اپنے لیڈر سے نالاں ہو چکی۔جلد ہی گیارہ ارکان عمران خان کے سائے میں لوٹ آئیں گے۔ اس سے پہلے
مزید پڑھیے


بحران

جمعرات 26  اگست 2021ء
ہارون الرشید
کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل افغانستان کے لیے کیا لائے گا۔ حکمت اور رواداری کا تہیہ ہو تو بند دروازے کھل سکتے ہیں؛حتیٰ کہ معجزہ رونما ہو سکتاہے مگر کیا حکمت اور رواداری کارفرما ہے؟ شام ہونے کو آئی اور معلوم نہیں کہ پنجشیر میں صورتِ حال کیا ہے۔طالبان کیا ابھی تک مصالحت کے لیے عزم پر قائم ہیں۔احمد ولی مسعود کے رویے میں کچھ لچک آئی ہے یا نہیں۔ آخری اطلاع یہ ہے کہ پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور میزبان تاجکستان میں افغانستان میں قیامِ امن پر اتفاق رائے ہو گیا۔ اس اتفاقِ رائے پر عمل
مزید پڑھیے








اہم خبریں