BN

ہارون الرشید



عافیت


امن بھیک میں نہیں ملتا ۔ یہ طاقت ، خوف کا توازن اور تحمل و تدبیر چاہتا ہے ۔ افسوس کہ اپنے بحران کا ابھی ہمیں ادراک ہی نہیں ۔ ابھی تو سوچ بچار پر بھی ہم آمادہ نہیں ۔ نوا ز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں اٹل بہاری واجپائی پاکستان آئے تو مینارِ پاکستان بھی پہنچے ۔ اپنے یادگار خطاب میں بھارت کی سیاسی قوتوں کا انہوں نے ذکر کیا ،پاکستان کو تسلیم کرنے کے جو حق میں نہ تھیں ۔ ان کاکہنا یہ تھا کہ واجپائی پاکستان کے وجود کو جواز کیوں بخش رہے ہیں ۔ معترضین
جمعه 19 جولائی 2019ء

بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا

جمعرات 18 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان کو تنہا کرنے والا بھارت افغانستان میں تنہا رہ گیا ۔مواقع ایک بار پھر ارزاں ہیں لیکن جیسا کہ سرکارؐ نے فرمایا تھا : زندگی ایسی ایک سواری ہے کہ آدمی اس پر سوار نہ ہو تو آدمی پر وہ سوار ہو جاتی ہے ۔ مثبت اور سائنسی اندازِ فکر، پہل کاری ، قوانینِ قدرت کا ادراک، ریاضت اور یکسوئی ۔ قائداعظم نے کہا تھا: ایمان، اتحاد اور تنظیم! عامر خاکوانی نے پاکستانیوں کو کاغذ کی قوم کہا ۔ عمل پسندی سے محروم ، کاغذ کالے کرنے اور باتیں بنانے والی ۔ جی ہاں ، جذباتی مگر بنیادی خرابی شاید
مزید پڑھیے


گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر

اتوار 14 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
جج صاحب کا کیا ہو گا؟ محترمہ مریم نواز ان کے یمین و یسارکا کیا ہو گا؟ گرداب میں کشتی خال ہی بچتی ہے۔ بھنور میں بادشاہ کم ہی بچتے ہیں۔ گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا بیان‘7دسمبر 1970ء کے اخبارات میں چھپا :کسی طرح یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ جماعت اسلامی الیکشن ہار سکتی ہے۔سید صاحب کا اندازہ یکسر غلط نکلا۔ ادھر بنگالی قومی پرستی کا ادھر بھٹو کاجادو سر چڑھ کے بولا۔ گل فشاں وعدے ۔مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن نے سب کا صفایا کر دیا۔
مزید پڑھیے


پہاڑ کاٹنے والے زمیں سے ہار گئے

هفته 13 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
عظیم رہنما راستہ دکھاتے ہیں لیکن معاشروں کی نجات کسی ایک لیـڈر کی حوصلہ مندی اور شہ دماغی میں نہیں ہوتی بلکہ قوموں کی بیداری میں ۔ یہی نکتہ اہم ہے اور یہی نظر انداز۔ چھک چھک کرتی گاڑی بہاولپور کے ریلوے سٹیشن پر رکی ۔ڈبے کا دروازہ کھلا اور اس آدمی کو سامنے پایا ، جسے دیکھنے کے لیے تین گھنٹے کی مسافت طے کی تھی ۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان ۔ اپنے عہد کے وجیہہ ترین حکمران ۔ جن کی ایک جھلک کے لیے خلقت ٹوٹ پڑتی تھی ۔ تعمیرِ ملت اور گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول رحیم
مزید پڑھیے


دلِ مردہ دل نہیں ہے

جمعه 12 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
عدل کے لیے سخت فیصلے حکمرانوں کو صادر کرنا پڑتے ہیں اور ضرورت ہو تو کرنے چاہئییں ۔ کارِ ریاست کمزور لوگوں کا کام نہیں ۔ دلوں کا نم مگر باقی رہنا چاہئیے ورنہ ویرانہ ہوجائے گا، اس میںکچھ اگے گا نہیں ۔ اقبالؔ نے یہ کہا تھا دلِ مردہ دل نہیں ہے ، اسے زندہ کر دوبارہ کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کہن کا چارہ حکمرانی کے لیے کیا قساوتِ قلبی لازم ہے ؟ ڈاکٹر طاہر مسعود کے کالم کا پہلا جملہ پڑھا تو طبیعت میں کوفت پیدا ہوئی ۔ ڈاکٹر صاحب کو چالیس بر س سے میں جانتا
مزید پڑھیے




فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی

جمعرات 11 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
چترال کے اس پیکرِ خلوص ہدایت اللہ اور اس کے کارنامے کا تذکرہ جلد ہی ۔ جو دلوں میں امید جگاتا اور ایثار بوتا ہے ۔ سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی چترال کی وادی میں اترتے ہوئے’’ الخدمت ‘‘کے روحِ رواں وقاص شاہ نے دائیں ہاتھ اشارہ کیا ’’یہ ہوائی اڈہ ایک دریا کے درمیان ہے‘‘ درمیان اگر نہیں تو دریا کنارے ضرور ۔ چترال ایک پراسرار سرزمین ہے ۔ 21ہزار کلومیٹر پر پھیلا ، آزاد کشمیر سے چار گنا بڑا ۔ متحدہ عرب امارات کی اکثر ریاستوں اور کئی یورپی ممالک سے وسیع
مزید پڑھیے


زینہ زینہ

هفته 06 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
تاریخ یہ کہتی ہے کہ تبدیلی رفتہ رفتہ اور بتدریج ہی آتی ہے ۔ ادراک اور شعور کے ساتھ، زینہ زینہ ۔ کچھ ہڑتال پر ہیں ، کچھ نے اعلان کر رکھا ہے ، کچھ پر تول رہے ہیں۔ جاگیردارانہ عہد سے ایک ضرب المثل پنجاب میں چلی آتی ہے ’’ کام جوان کی موت ہے ‘‘۔ اہلِ زر کے لیے ٹیکس محض ٹیکس نہیں ہے ، جرمانہ اور سزا ہے ۔ قرآنِ کریم کہتاہے : آدمی میں مال کی محبت بہت شدید ہے ۔ فارسی کہاوت یہ ہے ’’ ہیچ خیر از بندہ ء زر کش مجو ‘‘
مزید پڑھیے


اسد الرحمن نے راز کو پالیا ہے

جمعه 05 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
اسد الرحمٰن نے کوئی معرکہ سر نہیں کیا مگر زندگی کا راز پالیا ۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ آدمی فطرت سے جتنا ہم آہنگ ہوگا ، اتنا ہی آسودہ ۔ جتنا انحراف ، اتنا ہی اضطراب ، اتنا ہی الجھاوا ، اتنا ہی آدمی خسارے میں ۔ اسی کا ایک شعر ہے ؎ منکشف ہوتے ہیں اس آن میں رندوں پہ جہاں کہر میں لپٹے ہوئے چاند پہ جب رات کھلے سچ تو یہ ہے کہ اسد الرحمٰن نے مجھے چونکا دیا ۔ کچھ نامور، کچھ بے نام ،بے لوث خدمت گار اور بھی ہیں
مزید پڑھیے


شاید ، شاید !

جمعرات 04 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
لڑنے والے سب فریق رفتہ رفتہ تھک گئے ۔ قدرت کا اشارہ یہ لگتاہے کہ افغانستان ،برصغیر اور وسطِ ایشیا میں اب امن کے پھول کھلیں ۔ قدیم تجارتی شاہراہیں پھر سے آباد ہو جائیں ۔ عافیت ان سرزمینوں کو عطا ہو ، مدتوں سے جو جھلس رہی ہیں ، شاید ، شاید! کیا امید کی جا سکتی ہے کہ امریکہ ، بھارت اور افغانستان کے ساتھ تلخی میں واقعی کمی آجائے گی ؟ کیا تخریب کاری کا دورواقعی انجام کو پہنچے گا ؟ پاکستان اور بھارت میں تجارت کا آغاز ہو گا؟ پاکستان بھار ت کے لیے سینٹرل ایشیا
مزید پڑھیے


اگر یہ ملک نہ ہوتا

هفته 29 جون 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان نہ بنتا تو ہم کیا ہوتے؟۔باجوہ صاحب سپہ سالار ہوتے‘ عمران خان وزیر اعظم اور نہ یہ خاکسار اخبار نویس۔ ہمارا حال وہی ہوتا جو بھارت کے مسلمانوں کا ہے‘ اچھوتوں سے بدتر۔ بلکہ اہل کشمیر کی طرح ‘ ہر عتاب اورہر تحقیر کا ہدف۔ جنرل باجوہ کا پیغام کیا ہے ؟ ایک تو یہ کہ معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس وصولی کی جو مہم حکومت نے شروع کی ہے عسکری قیادت اس میں شامل و شریک ہے۔ اور کیوں نہ ہو۔ ریاست کے یہی دو بنیادی کام ہوتے ہیں۔ امن و امان اور ٹیکس وصولی۔ بے شک نظام عدل
مزید پڑھیے