BN

ہارون الرشید


نئی دنیا


دنیا بدلتی ہے مگر عادات کے خوگر سیاست کار اورحکمران نہیں بدلتے۔ وہی پرانی چالیں، وہی زنگ خوردہ حربے۔حضور یہ ایک نئی دنیا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینل نہ سہی تو سوشل میڈیا کے بل پر کوئی بھی خبر پل بھر میں دنیا کے چاروں کونوں میں پھیل جاتی ہے۔شاہ محمود قریشی کے جدّامجد جس فضا میں کارفرما تھے، وہ کب کی تحلیل ہو چکی اور اب لوٹ کر نہیں آئے گی۔ شاہ محمود قریشی نے پہلے تو یہ کہا کہ آرٹیکل 370کی منسوخی دہلی کا داخلی معاملہ ہے، ہمارا مسئلہ آرٹیکل 35ہے۔ اب وہ مکر گئے ہیں اور
جمعرات 13 مئی 2021ء

ایک سوال

بدھ 12 مئی 2021ء
ہارون الرشید
پوچھتے رہو، مستقل طور پر پوچھتے ہی رہو۔ اس لیے کہ کچھ سوال، جوابات سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ کیا یہ ایسا ہی ایک سوال ہے یا وہی خلط مبحث جو ہمارا قومی شعار ہو چکا۔ آئن سٹائن کو اصرار تھا کہ تخیل کی اہمیت علم سے زیادہ ہے۔ عجیب بات ہے۔ خیال کی پرواز،خالص ادراک سے بڑھ کیسے سکتی ہے۔ ایک گنوار بھی تخیل کا حامل ہو سکتاہے، جس نے کبھی کوئی کتاب پڑھی نہ ہو نہ دانش مندوں کی صحبت کا عادی رہا ہو۔ بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس دان شاید سماجی اور معاشی حیوانوں کا
مزید پڑھیے


کب تک؟

جمعه 07 مئی 2021ء
ہارون الرشید
فرمایا: انسانوں میں سے بدترین وہ ہیں، جن کے شر کی وجہ سے ان کی عزت کی جائے۔کب تک، آخر کب تک؟ ’’نون لیگ والوں کی طرح پی ٹی آئی پہ آپ بڑ ھ چڑھ کر حملے کر رہے تھے‘‘ یہ خان صاحب کے ایک مداح کا پیغام ہے۔ جس پروگرام کا انہوں نے حوالہ دیا، بے شک وزیر اعظم پہ اس میں کچھ تنقید کی۔ یہ بھی لیکن عرض کیا،بیشتر حلقوں میں ان کی حمایت برقرار ہے۔ فدائین اور عشّاق میں کمی نہیں آئی۔ کیا یہ نون لیگ کا اندازِ فکر ہے؟ کیا کیجیے، نرگسیت اور شخصیت
مزید پڑھیے


کیا ہم اسی کے انتظار میں ہیں؟

جمعرات 06 مئی 2021ء
ہارون الرشید
پاکستان پر رحمتِ پروردگار کا سایہ دراز رہا ہے کہ یہ پاکیزہ ترین امنگوں کے ساتھ پیدا کیا گیا۔اسی خیال سے امید کا چراغ جلتا رہتاہے۔ پروردگار کے قوانین میں استثنیٰ مگر کوئی نہیں۔ علاج اور اندمال نہ ہوا تو دھماکہ ہوگا اور ایسا دھماکہ کہ زمین و آسمان لرز اٹھیں گے۔ کیا ہم اسی کے انتظار میں ہیں؟ صاف صاف الفاظ میں وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے وہ بات کہہ دی ہے، غور و فکر کرنے والے بہت دنوں سے جس پہ فریاد کر رہے تھے۔ کہنا ان کا یہ ہے کہ شرح ترقی پانچ فیصد تک
مزید پڑھیے


مکھی دو طرح کی ہوتی ہے

بدھ 05 مئی 2021ء
ہارون الرشید
مکھی دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جو ہمیشہ گندگی پہ گرتی ہے۔ ایک وہ جو پھولوں کا رس چوس کر وہ عجوبہ تخلیق کرتی ہے، جس سے بہتر غذا کا آدمی کبھی سراغ نہ لگا سکا۔ منیر احمد منیر ایک ریاضت کیش آدمی ہیں۔ بعض ایسے معرکے انہوں نے سر کیے کہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ان کے مطالعے کا آغاز آپ خود کرتے ہیں۔ پھر ان کے سحر کاشکار۔اب کتاب کے آخری صفحہ تک آ پ کو پڑھنا ہے۔ ایک دوست نے ان کی ایک کتاب کے اقتباسات لکھ بھیجے ہیں۔ یہ جنرل محمد ضیاء الحق اور پھر
مزید پڑھیے



پگڈنڈیوں کا مسافر

جمعرات 29 اپریل 2021ء
ہارون الرشید
اعلان کی حد تک عمران خان کی ترجیح نیا پاکستان ہے لیکن شاہراہ نہیں، وہ پگڈنڈیوں پہ بھٹکنے والے مسافر ہیں۔ملک کرونا سے برباد ہوا جاتاہے۔زندگیاں بچانے اور افتادگانِ خاک کے آنسو پونچھنے سے زیادہ وہ اپنے مخالفین کی پامالی و بربادی کے متمنی۔ترقیاتی پروگراموں کے نام پر سیر و سیاحت میں مگن۔ ابھی کل کی بات ہے کہ پی ڈی ایم ٹوٹی۔ ایک دوسرے کے گریبانوں کے درپے۔بس چلتا تو ایک دوسرے کو زمین میں گاڑ دیتے۔ کپتان کی راہ کے سب کانٹے چنے جا چکے تھے۔ناچیزنے تب یہ عرض کیاتھا: وزیرِ اعظم کوصرف ایک آدمی سے خطرہ ہے
مزید پڑھیے


تنہا

منگل 27 اپریل 2021ء
ہارون الرشید
افسوس، صد افسوس،سچائی اور حقائق سے عمران خان بہت دورچلے گئے، تنہا رہ گئے۔امام حسنؓ کا ارشاد یہ ہے:ثروت مندی اور اختیار و اقتدار سے آدمی بدلتا نہیں، بے نقاب ہوتا ہے۔ذہنی کیفیت ایسی ہو گئی کہ سیاہ سفید اور سفید سیاہ نظر آتا ہے۔ لندن میں مقیم میرے خالہ زاد بھائی میاں محمد یٰسین کی جنرل محمد ضیاء الحق سے گاڑھی چھنتی تھی۔ جنرل محمد ضیاء الحق ہی کیا، سید ابو الاعلیٰ مودودی اور پیر پگاڑا سمیت ان گنت لوگ ان کے مداح تھے۔ گاؤں اور محلے کے عام لوگ بھی۔ ایک بے حد وجیہ و شکیل آدمی، رزقِ
مزید پڑھیے


کیسے کیسے لوگ

جمعه 23 اپریل 2021ء
ہارون الرشید
کیسے کیسے لوگ یہاں آتے رہے۔ کیسے کیسے اب بھی آتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کو عصرِ رواں کا عارف یاد دلاتا ہے کہ آدمی اتنا ہی مضطرب ہوتاہے، جتنا فطرت سے دور ہو اور اتنا ہی مطمئن، جتنا کہ اس سے ہم آہنگ اور یہ کہ آخرکار آدمی کو وہی ملتاہے، جو اس کی ترجیحِ اوّل ہو۔ پروردگار اگر کسی کی ترجیحِ اوّل نہیں تو کبھی وہ اسے پا نہ سکے گا۔ کہا جاتاہے کہ دنیا میں صداقت شعار اور دیانت دار لوگ نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ کم از کم برصغیر میں، جہاں ملوکیت، جاگیرداری اور غلامی
مزید پڑھیے


پوری کہانی پھر کبھی

جمعرات 22 اپریل 2021ء
ہارون الرشید
با ت ادھوری رہ جاتی ہے۔پوری کہانی پھر کبھی یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون معلومات اب کہاں سے ملیں،وہ تفصیلات، جن کے بنا تحریر تشنہ رہے۔ وہ دونوں آدمی اب اس دنیا میں نہیں۔ کب ان سے ملاقات ہوگی؟ پہاڑ جب ریت بن کر بکھر جائیں گے۔ آفتاب بجھا دیا جائے گا اور چاند بھی۔ ناصر درانی سے تو ملاقات رہی؛اگرچہ اڑھائی برس سے اپنا موبائل انہوں نے بند کئے رکھا لیکن دستگیر صاحب؟ اچانک پروفیسر احمد رفیق اختر بولے: دو دن پہلے میرے بھائی کا انتقال ہو گیا۔ پرسوں فون پر ان سے بات
مزید پڑھیے


فیصلے کا وقت آپہنچا

منگل 20 اپریل 2021ء
ہارون الرشید
بات چیت یا کچھ اور؟ کپتان کی حکومت کیا امن بحال کرنے میں کامیاب رہے گی؟ اس کا فیصلہ ابھی ہوا جاتا ہے۔ اسی پر اس کے باقی و برقرار رہنے یا فنا ہوجانے کا انحصار ہے۔ اونٹ کی ایک رسّی... سید ابو بکر صدیقؓ نے فرمایا تھا: اگر کوئی اونٹ کی ایک رسّی دینے سے بھی گریز کرے گا‘ تو میں اسے معاف نہیں کروں گا۔ حکومت کمزور پڑتی ہے تو رعایا بے خوف ہو جاتی ہے۔ قانون کا جلال تحلیل ہو جائے تو فساد جنم لیتا اور بے قابو ہو جاتا ہے۔ جان و مال کی حفاظت اہم
مزید پڑھیے








اہم خبریں