BN

ہارون الرشید


نقار خانے میں


یکسوئی اور وحدتِ فکر کا نام و نشان تک نہیں۔ تضادات ہی تضادات ہیں اور تضادات کا بوجھ اٹھا کر ساحل سے کبھی کوئی ہمکنار نہیں ہوتا۔ آخر کار وزیرِ اعظم چوہدری برادران کے در پہ حاضر ہوئے۔ برف پگھلنے کا امکان موجود ہے۔ چوہدری صاحبان نے معقولیت کا مظاہرہ کیا کہ مونس الٰہی کے لیے وزارت کا ذکر ہی نہ کیا؛البتہ پالیسیوں کی تشکیل میں مشاورت کا مطالبہ۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ جہاں اب جگمگ ہے، تعمیراتی صنعت واحد میدان ہے، جہاں چراغ جل سکتے ہیں۔ آٹھ ماہ قبل وزیرِ اعظم نے نئی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس
جمعه 27 نومبر 2020ء

اصرار

بدھ 25 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
جیسا کہ ہمیشہ عرض کرتا ہوں، خطا سے آدمی برباد نہیں ہوتا بلکہ غلطی پہ قائم رہنے سے۔اللہ نے ہر ایک کو عقل بخشی ہے لیکن کم ہی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ بحران ایسے شدید کہ خدا کی پناہ مگر مواقع بھی ایسے کہ کم نصیب ہوئے ہوں گے۔ مشکل یہ ہے کہ تمام بڑ ے کھلاڑی ذہنی الجھاؤ کا شکار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن سب کے سب۔ ایسا کوئی گروہ موجود نہیں جو کوئی جامع حل تجویز کر سکے۔ جنابِ علی کرم اللہ وجہ کا ارشاد ہے کہ مصیبت میں گھبراہٹ ایک دوسری مصیبت ہے۔ سب سے زیادہ
مزید پڑھیے


مرحوم

منگل 24 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
اب یہ پتھر دلوں کی دنیا ہے۔ چیخنے چلانے اور دشنام طرازی کرنے والوں کی۔ اب اس میں کیا رکھا ہے؟ ٹی وی پروگرام کے لئے بعض اوقات بہت درد سری ہوتی ہے۔ خاص طور پر ایک مشکل دن میں‘ جب موضوعات زیادہ ہوں۔ اپوزیشن کا جلسہ تھا۔ ٹی وی خراب ، میاں محمد نواز شریف کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔ تدفین کے لئے میاں صاحب پاکستان آئیں گے یا نہیں؟اتنے میں خبر آئی کہ رخصت ہونے سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو سبق سکھانے کے آرزو مند ہیں۔ اتنی بڑی خبر اور تصدیق کا کوئی طریق نہیں۔
مزید پڑھیے


جامہ ء صدچاک

جمعرات 19 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
سب کے سب اپنے محدود مفادات کے قیدی۔ پابہ زنجیر اور ناقابلِ اصلاح۔چیتھڑوں کا سا ملبوس بدلنے پر وہ آمادہ نہیں۔کیا وہ تاریخ کا رزق بنیں گے؟ایسا ہی لگتا ہے،ایسا ہی۔ حیرت اور رنج کے ساتھ شاعر یاد آتا ہے یہ جامہ ء صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیضؔ کبھی بخیہ گری نے وزیرِ اعظم کے بہنوئی عبد الاحد خاں کو پلاٹ کا قبضہ اب تک نہیں مل سکا۔وقائع نگار نے لکھا ہے کہ سبب عدالتی حکمِ امتناعی ہے۔ وزیرِ اعظم نے بتایا تھا کہ اسی لیے لاہور کے سی سی پی
مزید پڑھیے


تماشے

بدھ 18 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
کیسے کیسے عجیب تماشے ہر طرف برپا ہیں۔ کیا قدرت کی اس میں کچھ نشانیاں ہیں۔ایک قوم کی حیثیت سے ضرور کوئی بڑی خطا ہم سے سرزد ہوئی ہے۔ پروردگار کا فرمان وگرنہ یہ ہے کہ اس کی رحمت اس کی صفتِ عدل پہ غالب ہے۔ ایسے لوگ ہم پر مسلط ہوئے جو پل بھرکو چین لینے نہیں دیتے۔ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن، کسی طرف سے خیرکی کوئی خبر نہیں آتی۔ اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے۔ فرمایاکہ کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔ بے کراں عظمت اور بے کراں کرم والے رب کے دروازے چوپٹ کھلے
مزید پڑھیے



غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

منگل 17 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
جی نہیں، ان سب شعبدہ بازوں سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔73برس تک ٹھوکریں کھانے کے بعد قوم کو ایسی قیاد ت درکار ہے، جو خواب بیچنے کی بجائے، عمل کا سرمایہ رکھتی ہو۔ الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے جب اظہار ہی سب کچھ ہو۔ جب ادراک نہ ہو کہ دل کا بوجھ ہلکا کرنے سے نہیں بلکہ حیات حسنِ عمل سے سنورتی ہے تو وعظ و نصیحت اور نعرے بازی کے سوا اور کیا؟ قرآنِ کریم سوال کرتاہے: تم وہ بات کیوں کہتے ہو، جو کرتے نہیں؟ اللہ کی
مزید پڑھیے


کارِ مسلسل

پیر 16 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
پوچھا کہ کیا عبادت سے اور تسبیحات سے آدمی بدل جاتا ہے۔ فرمایا: بلکہ غورو فکر سے، توجہات اور کوشش سے۔ فریب ہائے نفس کے ادراک سے اور یہ کار مسلسل ہے۔ عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ جس میں ہم ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کر سکتے اشفاق احمد خان نے فیض احمد فیضؔ کو جب صوفی قرار دیا تو ان کی مراد کیا تھی؟ کچھ بھی نہیں۔ شاعر اور ادیب‘ الفاظ کے استعمال میں طبعاً سخی ہوتے ہیں۔ صوفی نہیں‘ فیضؔ ایک رند تھے۔ اردو شاعری کے آسمان پر جگمگاتا ماہتاب۔ خود اشفاق احمد بھی خوب
مزید پڑھیے


ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے

جمعه 13 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
نظریات اور اصولوں کی نہیں، یہ اقتدار کی جنگ ہے، ہر چیز جس میں جائز ہوتی ہے۔یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔گنڈا پور، بلاول بھٹو اور سب سے بڑھ کر مریم نواز دھڑلے سے غلط بیانی کرتی رہیں۔ علی امین تو یہاں تک کہہ گزرے کہ جتنے ووٹ پی ٹی آئی کے زیادہ ہوں گے، اتنے ہزار کروڑ روپے خان صاحب زیادہ عطا فرمائیں گے۔ گویا چنگیز خان کا خزانہ ہے اور فاتح کی مرضی پہ منحصر۔ کل تک عمران خان کی حکومت بہت مضبوط دکھائی دیتی تھی مگر اب یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والا کل
مزید پڑھیے


اقبالؔ کا عَلم

جمعرات 12 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
اقبالؔ کی وفات کے فوراًبعد سید سلیمان ندوی نے کہا: فلسفے اب اس سے نکالے جائیں گے۔ رہنمائی اب اس سے طلب کی جائے گی۔ ہو اگر خود گر و خودنگرو خودگیر خودی یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے احرار 1930ء کے عشرے میں بہت طاقتور تھے، احتجاج کے خوگر۔ ایک تحریک کا اعلان کیاتوپنجاب کے وزیرِ اعظم سرسکندر حیات نے مذاکرات کی پیشکش کی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری نہیں تب’’زندگی‘‘ کے مصنف چوہدری افضل حق امیر تھے۔ چوہدری صاحب نے ایوانِ وزیرِ اعظم جانے سے انکار کر دیا۔ وزیرِ اعظم احرار کے دفتر میں پیش
مزید پڑھیے


پیمان

منگل 10 نومبر 2020ء
ہارون الرشید
کبھی کوئی پیمان ہوا ہوگا۔ بسترِ مرگ پر فرزند نے پدرِ محترم سے پوچھا: کیا میں نے اپناوعدہ پورا کیا؟ جواب ملا: ہاں جانِ پدر، تم نے اسلام کی خدمت کا حق ادا کر دیا۔ جناب حسان بن ثابت ؓ کے قصائد، قصیدہ ء بردہ اور دردو سوز میں گندھے جامیؒ سے لے کر خواجہ مہر علی شاہؒ تک کیسے کیسے عالی دماغ اور کیسے کیسے قلب گداز سرکارﷺ کی بارگاہ میں جھکے ہیں۔ حرف و بیان کی ساری توانائی اور قلب کا سارا گداز نچوڑ دیا ہے لیکن اقبالؔ جب بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں تو لہجہ اور
مزید پڑھیے