BN

ہارون الرشید


سچا مسلمان


مولانا شبیر احمد عثمانی نے سچ کہا تھا ''بیسویں صدی کے سب سے بڑے مسلمان‘‘۔ عمر بھر جھوٹ نہ بولا، خیانت کا ارتکاب کیا اور نہ پیماں شکنی کا۔ سچا مسلمان اور کیا ہوتا ہے، ہمہ وقت جو وعظ کرتا رہے؟ عصرِ رواں کے عارف نے دو اصول دیے ہیں۔ تمام تر علمی ریاضت کا ثمر یہ ہونا چاہیے کہ اللہ آدمی کی ترجیحِ اوّل ہو جائے۔ ثانیاً‘ اعتدال: انتہا پسندی، ہیجان اور تعصبات سے اوپر اٹھ کر جذباتی توازن کا حصول۔ اللہ کے آخری رسولؐ نے فرمایا: اعتدال پر رہو۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اعتدال کے قریب
اتوار 11  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

ایک دن ضرور آئے گا

پیر 05  ستمبر 2022ء
ہارون الرشید
کوئی دن جاتا ہے کہ ہمارے در و بام پر وہ اجالا بن کے اترے گا.مالک کو اگر ہم پکاریں۔ اگر پکارتے رہیں۔ کیسا انصاف، کہاں کا انصاف؟ دل کیسے شاد ہو کہ اس پر زخم ہی زخم ہیں۔ گھاس کے سبز قطعے پر پھولوں کے درمیان، میں بچّوں کو کھیلتے اور کھلکھلاتے دیکھتا ہوں۔ زندگی ہنستی ہے اور مسرت کی ایک لہر اٹھا دیتی ہے۔ پھر کہیں سے ایک سوال پھوٹتا ہے۔ آنے والا کل ان کے لیے کیا لائے گا؟ یہی اجڈ پولیس؟ یہی گھناؤنی پٹوار؟ یہی کالی سیاست اور یہی کالے کوٹوں سے ڈرتی عدالت؟ یارب ان
مزید پڑھیے


دستک

اتوار 04  ستمبر 2022ء
ہارون الرشید
خورشید رضوی کی شاعری میں روزِ ازل کے پیمان کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ فردوسِ گم گشتہ کی تصویریں، جو کبھی تھا اور جس کی تمنا بے تاب کیے رکھتی ہے۔ حیات کی ہما ہمی میں جو کبھی یاد آتا ہے، کبھی بھلا دیا جاتا ہے... اور اس بھول جانے کا غم، شاموں اور شبوں کی خاموشی میں بار بار دل پر دستک دیتا ہے۔ لسانی افلاس کا تند رو عہدِ رواں ہی نہیں، بیتے زمانوں میں بھی شاعری نے حسنِ بیاں کے جمال و جلال کو زندہ رکھا۔ انسانی لغت ورنہ بازاروں اور درباروں میں برباد ہو گئی ہوتی۔
مزید پڑھیے


غم گیا ساری کائنات گئی

پیر 29  اگست 2022ء
ہارون الرشید
لیکن یہ وہی کر سکتے ہیں، جن کے اپنے قلوب زندہ ہوں۔ وہی سوئے ہوئوں کو جگا سکتے اور جاگنے والوں کو سوئے منزل رواں کر سکتے ہیں۔ دل گیا رونق حیات گئی غم گیا ساری کائنات گئی اندازِ فکر کی بات ہے۔ ایک ہی واقعہ مختلف دلوں پہ مختلف انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔ سندھ کے عالی قدر گورنر نے مصیبت کے ماروں کو ڈانٹ پلائی کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ ناروے سے پاکستان پہنچی ایک محترم خاتون ڈاکٹر نے رات گئے فون کیا:سیلاب زدگان کی مدد کے لیے فوری طور پر کس سے رابطہ کیا جائے۔ انہیں
مزید پڑھیے


الجھی ہوئی ڈور

اتوار 28  اگست 2022ء
ہارون الرشید
درد مندوں کو گریز کیوں ہے؟ انہی کو پیش قدمی کرنا ہوگی۔ عاجزی اور انکسار لیکن توکل اور مستقل مزاجی کے ساتھ۔ وہی عنان تھامنے کا فیصلہ کریں گے تو عتاب تھمے گا‘ نجات کا در کھلے گا۔ الجھی ہوئی ڈور سلجھے گی۔ پے در پے بحرانوں کے بارے میں آدمی سوچتا ہے تو اعصاب ٹوٹنے لگتے ہیں۔ پیہم ایک شور شرابہ ہے‘ معقولیت کی کوئی بات‘ جس میں خال ہی سنائی دیتی ہے۔ پھر احمد مشتاق یاد آتے ہیں۔ کشتیاں ٹوٹ چکی ہیں ساری اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو غور کیجئے تو سجھائی دیتا ہے‘ کوئی ایسی مصیبت ٹوٹ نہیں پڑی‘
مزید پڑھیے



بنیادی سوال

پیر 22  اگست 2022ء
ہارون الرشید
کیا ہمارا وطن اور ایمان ہماری اولین ترجیح ہیں۔ کیا سچی اور کھری آزادی ہی ہمارا آخری مطمح ٔ نظر ہے! اس سوال کا جواب ہم سب کے ذمے ہے۔ درحقیقت یہی بنیادی سوال ہے۔ المناک واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ اب تو ایسی آفت میں گھرے اور ایسی دلدل میں اترے ہیں کہ باید و شاید ۔ بعض پہلو تو ایسے ہیں کہ کھل کر بات ہو نہیں سکتی۔ خاص طور پر قومی سلامتی سے متعلق خدشات۔ مثلاً کیا یہ محض ایک افواہ ہے کہ یوکرین کو اسلحہ بھجوایا جا رہا ہے۔ اس خیال ہی سے خوف آتا
مزید پڑھیے


آخری سرخ لائن

اتوار 14  اگست 2022ء
ہارون الرشید
رسالت اور مصحف کی عظمت و تقدیس آخری سرخ لائن ہے، اسے عبور کرنے کی جو بھی کوشش ہوگی، روک دی جائے گی، خواہ کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ عافیت اور جان کس کو عزیز نہیں ہوتی لیکن کچھ چیزیں زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوتی ہیں۔ جتنا اور جس قدر جلد یہ نکتہ سمجھ لیا جائے، اتنا ہی عالمی امن کو سازگار ہوگا۔ بدبخت ابو لہب کے فرزند نے رحمتہ اللعالمینؐ کی شان میں گستاخی کی۔ سرکارؐ نے ہاتھ اٹھائے اور کہا ’’یا رب اپنے کتوں میں سے کوئی کتا اس پہ مسلط کردے‘‘ پھر اس کی
مزید پڑھیے


ہجوم اگربپھر پڑے

هفته 13  اگست 2022ء
ہارون الرشید
شہر شہر ایسے میں ہجوم اگر فریاد کناں ہوں؟چیخ چیخ کر پوچھ رہے ہوں۔ مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟ منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟ ایسے میں کوئی لشکر کیا کرے گا؟ سالار کیا کریں گے؟ اگر عدالت ہی عرصہ امتحان میں ہوئی؟کیا کوئی ڈوبنے والا بھی بوجھ اٹھایا کرتا ہے؟ آنے والا کل کیا لائے گا؟ ابھی حکم لگانا مشکل ہے۔اس لئے نہیں کہ عوامل و عناصر کا ادراک مشکل ہے بلکہ اس لئے کہ فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے ابھی خود کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ابھی وہ خود سان گمان میں ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ
مزید پڑھیے


اندازِ فکر

پیر 08  اگست 2022ء
ہارون الرشید
پلٹ کر دیکھیں تو تاریخ یہ کہتی محسوس ہوتی ہے کہ کوئی بھی قوم اسی وقت سرفراز ہوتی اور بالیدگی پاتی ہے، جب اس کے دانشور اور سیاستدان زیادہ وسیع تناظر میں غور و فکر پہ قادر ہو سکیں۔جب وہ زمین اور زندگی کو آسمان کی بلندیوں سے دیکھنے لگیں۔ جب رومانوی اندازِ فکر کے ساتھ ساتھ کسی قدر عمل پسندی بھی کارفرما ہو۔ کنفیوشس کو چین کی معلوم تاریخ کا عظیم ترین مفکر مانا جاتا ہے؛اگرچہ ان کے اپنے دور چھٹی صدی قبل از مسیح میں لاؤ تزو کا ذکر زیادہ تھا۔ ہیرلڈلیم نے لکھا ہے کہ 35سال کی عمر
مزید پڑھیے


نجابت

اتوار 07  اگست 2022ء
ہارون الرشید
ایک سوال اور بھی ہے‘ نیک کون ہے اور بد کون؟ اس پہ پھر کبھی‘ فی الحال بس اتنی سی گزارش کہ پارسا وہ نہیں‘ جو اپنی پارسائی کا علم لئے پھرتا ہو۔نجابت چیختی کبھی نہیں۔ اس بات پر طالب علم کی حیرت شاید دائم برقرار رہے کہ ہماری غائبانہ حکومت نے جو اب کچھ ایسی غائبانہ بھی نہیں‘ غور نہ کیا کہ سوشل میڈیا کا عفریت قومی عمارت کا سب سے اہم ستون ڈھا دے گا۔انہوں نے اسے لگام دینے اور شائستہ کرنے کی منصوبہ بندی کیوں نہ کی۔کیا ان کا خیال یہ تھا کہ وہ کبھی اس کا شکار
مزید پڑھیے








اہم خبریں