BN

ہارون الرشید



یہ کہانی پھر کبھی


تین صدیاں پہلے مغرب میں صنعتی انقلاب اور سلطانی جمہور کی تحریک پھوٹی تھی ‘بلکہ سائنسی انداز فکرکی ایک ہمہ گیر اخلاقی تحریک بھی ‘ مگر یہ کہانی پھر کبھی۔ رفیق سہگل مرحوم نے روزنامہ آفاق کے اجرا کی افتتاحی تقریب میں یہ کہا:دو آرزوئیں تھیں‘ ٹیکسٹائل مل اوراخبار۔ پروردگار نے آج دوسری تمنا بھی پوری کر دی۔ استاد گرامی جناب جمیل اطہر راوی ہیں کہ میزبان کے بعد روزنامہ عوام کے مدیر خلیق قریشی مرحوم اٹھے اوریہ کہا:میری خواہش بھی یہی تھی۔ حماقت یہ ہو گئی پہلے اخبار نکالا۔ روزنامہ آفاق غتر بودہو گیا۔ پارچہ بافی کا کاروبار پھیلتا گیا۔
اتوار 15  ستمبر 2019ء

مردِ آزاد

هفته 14  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
بہت دنوں کے بعد ایک مردِ آزاد کو دیکھا ۔ بہت دن کے بعد پھر سے یاد آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی متاع آزادی ہے ۔ بہت دن کے بعد اپنے دوست حکمت یار کا یہ جملہ یاد آیا : اللہ کی دنیا کتنی خوبصورت تھی ۔ آدمی نے کتنا اسے بھدّا کر دیا ۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے مجھے لکھا: کتنی بری بات ہے ، وعدہ کر کے کیپٹن طارق سے آپ نہیں ملنے گئے ۔ کیپٹن طارق سے سیکنڈ لیفٹیننٹ ناصر جنجوعہ کی ملاقات 1977ء میں ہوئی تھی ۔ اس ناچیز سے 2011ء میں بے تکلفی
مزید پڑھیے


’’خود سے خدا تک ‘‘

جمعه 13  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
عارف نے کہا تھا : راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتاہے ۔یہ بھی کہا تھا : عقل جہاں رکتی ہے ، وہیں بت خانہ تعمیر ہوتا ہے ۔ ناصر افتخار کی کتاب ’’خود سے خدا تک ‘‘ میں پروفیسر احمد رفیق اختر اس طرح دکھائی دیتے ہیں ، جیسے بلال الرشید کے کالموں میں ۔پتھر کو پارس چھو لے تو وہ سونا ہو جاتا ہے ۔ رہی مٹی تو وہ دائم مٹی ہی رہتی ہے ۔یہ ناصر افتخار کی کتاب سے چند اقتباسات ہیں ۔ مفہوم واضح کرنے کے لیے کہیں کہیں ایک آدھ لفظ بدل دیا
مزید پڑھیے


اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
شیکسپئر کو اقبالؔ کی طرف سے پیش کیا جانے والا خراجِ تحسین ان پہ صادق آتا ہے ۔ حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا ایک جملے میں شاید یہ کہا جا سکتاہے : متوکل تھے، وہ سرتاپا متوکل ۔ پروردگار پہ ان کا ایمان ایسا محکم تھا کہ عمر بھر کسی ذاتی یا اجتماعی امتحان میں متزلزل نہ ہوئے ۔ اخلاقی زندگی ایسی شفاف کہ الزام تو کیا، ان کے دشمن کبھی ڈھنگ کا طعنہ بھی نہ دے سکے۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ایک مفلس
مزید پڑھیے


میں اس دن سے ڈرتا ہوں

هفته 07  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
اس دن سے میں ڈرتا ہوں کہ رفعت ریاض بھی مایوس ہو جائے۔ بخدا‘ اس دن سے میں ڈرتا ہوں۔دامنِ یار خدا ڈھانپ لے پردہ تیرا۔ ایسا دانا تو کوئی نہیں کہ آنے والے کل میں ہمیشہ جھانک سکے۔ کبھی نہ کبھی اندازے سبھی کے غلط ہوتے ہیں۔ قرائن یہ ہیں کہ نواز شریف اور زرداری کا زمانہ بیت گیا۔۔۔۔ اور کپتان کے لیے ایک تھوڑی سی مہلت ۔ ہو رہی ہے عمر مثل برف کم /رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے دم بدم۔ اقتدار ایک امانت ہے، دولت مندی بھی ایک امانت ہے ، محض نعمت نہیں۔ کھرب پتیوں کو دھن دولت
مزید پڑھیے




پائوں تلے گھاس

جمعه 06  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
مہینوں تک ایک بھی چھٹی نہ کرنے والے آدمی کے پائوں تلے گھاس اگ آئی ہے ۔ وہ بددلی کا شکار ہے ، معلوم نہیں کیوں ؟ مشکلات نہیں بلکہ اندازِ فکر کی خرابی ہوتی ہے ، جو ایک پر عزم آدمی کو اس حال سے دوچار کرتی ہے ۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں پہلے چار میچ ہار کر بھی‘ جس آدمی کو ورلڈ کپ جیتنے کا یقین تھا ،اس کا مایوسی میں مبتلا ہونا حیرت انگیز نہیں؟دونیاں چونیاں مانگ کر شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج جیسے شاہکار جس نے تعمیر کیے۔ نمل کالج بہترین اداروں میں سے ایک
مزید پڑھیے


جیسے شجر سے شاخ پھوٹے!

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
محمد علی سے لے کر ٹیپو سلطان اور ٹیپو سے صلاح الدین ایوبی تک، صلاح الدین سے جناب عمر بن عبد العزیزؓ ، جنابِ عمر بن عبد العزیز ؓ سے امام حسینؓ اور امام حسینؓ سے لے کر ان کے نانا ؐتک ،ہماری ساری تاریخ مشعلوں سے جگمگاتی ہے ۔ پلٹ کر ہم انہیں دیکھتے کیوں نہیں ؟ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے امریکی تاریخ کے ایک کردار ایڈی ایزی کے بارے میں سوچ رہا تھا ، خیال کی ایک لہر اٹھی کہ وراثت فقط علم کی نہیں‘ حُسن
مزید پڑھیے


باقی کل

اتوار 01  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
واعظوں کی نہیں ، یہ اہلِ عمل کی دنیا ہے ، مکافاتِ عمل کی دنیا۔ کاشتکار وہی کاٹتا ہے ، جو اس نے بویا ہوتا ہے ۔گندم از گندم ، جو از جو۔ اللہ کا شکر ہے کہ پچیس دن کی مسلسل تبلیغ کے بعد بالاخر نیو یارک ٹائمز کے لیے وزیرِ اعظم نے مضمون لکھ دیا ۔ یہ خوش فہمی ہرگز نہیں کہ ناچیز کے کہنے پر لکھا۔ ممکن ہے کہ کسی لاڈلے مشیر نے منا لیا ہویا جیسا کہ دستور ہے ، خود اخبار ہی نے ان سے درخواست کی ہو ۔ ممکن ہے ،
مزید پڑھیے


کوئی کوئی ۔خال خال

هفته 31  اگست 2019ء
ہارون الرشید
آخری عظیم صوفی خواجہ مہر علی شاہؒ نے کہا تھا: یہ تجلی‘ برقِ عارضی ہے کوئی تھامے رکھے تو تجلیٔ برقِیٔ دائمی بھی نصیب ہو سکتی ہے۔ کون تھام سکتا ہے؟ کوئی کوئی‘ خال خال۔ ڈاکٹر طاہر مسعود صاحب! کالم بھی تو ایک طرح کا شعر ہے ۔ اگر کوئی تازہ خیال نہ پھوٹے تو آدمی کیا کیجے؟ اردو کے ایک ممتاز شاعر تلاشِ روزگار میں دکن پہنچے کہ حاجت مند اہلِ ہنر کا ٹھکانہ تھا۔ جوشؔ ملیح آبادی ایسوں کاتو ذکرہی کیا ، اقبالؔ ایسے عبقری کو بھی سایہ نصیب ہوا تھا۔ یہ الگ بات کہ آخر غنا غالب آیا‘ اکتا گئے یہ
مزید پڑھیے


مایوسی کا کیا سوال

جمعرات 29  اگست 2019ء
ہارون الرشید
اس کی کتاب میں لکھا ہے: اللہ کی رضا سے کتنے ہی چھوٹے لشکر کتنے ہی بڑے لشکروں پر غلبہ پاگئے ۔ عالمی ضمیر اور دوست ممالک سے وابستہ امیدیں دم توڑسکتی ہیں ،جو امید مالک سے وابستہ ہو، وہ کبھی نہیں ٹوٹتی ۔’’وہی اللہ ہے کہ اس کے سو اکوئی معبود نہیں ۔ وہ بادشاہ، پاک ذات، سلامتی والا، امن دینے والا ، نگہبان، غالب، زبردست ، بے پناہ عظمت والا!‘‘ مایوسی کا کیا سوال، مسلمان کبھی مایوس نہیں ہو سکتا۔ انسان کو پیدا ہی آزمائش کے لیے کیا گیا ۔ آدمی پھلتا پھولتا ہی اس وقت ہے ،
مزید پڑھیے