BN

ہارون الرشید



طرزِ فکر


قدرت حادثات برپا کرتی ہے کہ اپنی غلطیوں کا آدمی ادراک کرے۔ پھر بھی کوئی سیکھنے اور سمجھنے سے انکار کر دے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ طرزِ احساس میں لچک کا فقدان خطرناک ہوتاہے، بہت خطرناک۔ لیڈر ہمارے بگڑ گئے اور اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم ان کے اندھے پیروکار۔ جس معاشرے کے رہنما احتساب کے خوف سے بے نیاز ہوں بلکہ دیوتا ؤں کی طرح پجتے ہوں، اپنی اصلاح کیوں کریں گے۔ معاشرے کا مزاج صدیوں میں ڈھلتا ہے اور آسانی سے بدلتا نہیں۔ تہہ در تہہ یہ سرپرستی کا معاشرہ ہے۔ ہر لمحہ سفارش اور سائبان کا
جمعرات 02 اپریل 2020ء

’’شہرِ علم کے دروازے پر‘‘

بدھ 01 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
اس کی لکھی ہوئی نعت پڑھی۔ویرانہ آباد ہونے لگا۔ ٹنڈ منڈ درختوں پہ کونپلیں پھوٹنے لگیں۔ ایک چمن جاگ اٹھا اور چہار سمت لہرانے لگا۔ قلب و جاں میں اور خیال و فکر کی وسعتوں میں بادِ بہاری۔ یہ دل اس دن کے لیے شاعر کا ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔ فیض احمد فیض، انتظار حسین اور دیباچہ نگار اشفاق حسین سمیت سبھی متفق ہیں کہ رثائی ادب میں افتخار عارف کے تیور دوسروں سے مختلف ہیں۔ اس کے ہاں کربلا کا لہکتا ہو ااستعارہ درد و احساس اور خیال و فکر کی نئی جہات تخلیق کرتاہے۔یہ چند برس پہلے
مزید پڑھیے


زنجیریں پگھل سکتی ہیں

منگل 31 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
سمت نصیب ہو تو ابتلا سے قومیں اور بھی طاقتور بن کے ابھرتی ہیں۔ زخم ہی نہیں دھلتے بلکہ نئے جہان نمودار ہوتے ہیں۔صدیوں سے چلی آتی زنجیریں پگھل جاتی ہیں۔ آدمی اپنے رجحانات کا اسیر ہوتاہے۔ کوئی بڑا خوف،خطرہ اور دھچکا ہی ذہن کے منجمد سانچے پگھلاتا ہے۔ کبھی کسی نے کہا تھا:I have grown a jungle in my mind'I dare not to enter in۔ اپنے سر میں ایک جنگل میں نے اگا لیا ہے، جس میں داخل ہونے کی ہمت نہیں پاتا۔ نفی ء ذات کی ضرورت یہیں ہوتی ہے۔عارف نے کہا تھا:زیاں بہت ہے، انسانی زندگی میں زیاں
مزید پڑھیے


ستاروں کی چھاؤں میں

پیر 30 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آدمی کیسا کٹھور ہے۔ کس چیز کے لیے کیسی نادر زندگی وہ قربان کر دیتا ہے۔ تہذیب کی چوکھٹ پر کتنے سچے لوگ، کتنا اجالا اور کتنی روشنی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے۔ بھولے بسرے زمانے جب جاگ اٹھتے اور ٹلنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ماضی نہ مستقبل، وہ ایک ساعت ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے۔ دل اس کی گرفت میں کیسا تڑپ اٹھتا ہے۔ احمد جاوید سے میں نے کہا تھا: اب کی بار صحرا کا قصد ہو تو مجھے ساتھ لے جائیے گا۔ میری کتنی ہی یادیں روہی کے ریگزار سے وابستہ ہیں... وہی احمد جاوید جنہوں نے
مزید پڑھیے


ایک نادر کتاب

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اس کتاب کا ایک اور سبق یہ ہے کہ کسی حال میں صاحبِ ایمان کو خوف زدہ نہیں ہونا چاہئیے۔ زندگی صبر، امید اور جدوجہدمیں ہے۔ بریگیڈئیر سلطان کی کتاب The ''Stolen" Victoryپڑ ھ چکا تو والٹیر کا وہی جملہ یاد آیا: Every word of a writer is action of generosity لکھنے والے کا ہر جملہ، ہر لفظ سخاوت کا عمل ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کتاب پر یہ قول صادق نہیں۔ لیکن بریگیڈئیر سلطان کی کتاب پہ یقینا۔ افسوس کہ یہ کتاب میں نے بہت تاخیر سے پڑھی۔ مرحوم کی خواہش تھی کہ یہ ناچیز اسے اردو میں
مزید پڑھیے




سبق

بدھ 25 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
فرمایا: بحر و بر ظلم سے بھر گئے اور یہ انسان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔ مالک کی منشا اس کے سوا کیا ہے کہ آدمیت اپنی اصلاح کرے۔ روئیدگی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ کہیں کوئی پھول نہ کھلا، کوئی افق منور ہوا، نہ کوئی ستارہ چمکا۔ بہت دن یہ خیال قلب و دماغ میں جاگزیں رہا کہ مالک اس افتاد سے ابنِ آدم کو کیا حاصل ہوگا۔ علمائ￿ ِ کرام تو کچھ خاص مدد نہ کر سکے، درویش ہی نے راہ دکھائی۔ بنیادی طور پر تین دعائیں ہیں۔ ایک تو وہی ’’بسمِ اللَّہِ الَّذِی لَا
مزید پڑھیے


فیصلہ تو کرنا ہے

منگل 24 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
جو اقوام اپنے فیصلے خود صادر نہیں کرتیں، وہ خود کو حالات اور دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ کرونا پہلی افتاد ہے اور نہ آخری۔اگرچہ بعض اعتبار سے ایسی سنگین کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔طاعون، انفلوئنزااور یورپی ہیضے کے برعکس ہلاکتوں کا تناسب کم ہے مگر غیر معمولی سرعت سے پھیلنے والی۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک کے پاس بھی کافی سازو سامان اور موزوں ادویات مہیا نہیں۔ برطانیہ کے سیکرٹری ہیلتھ نے کل بہت بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کیا۔ باقی دنیا کا عالم
مزید پڑھیے


منصوبہ بندی

پیر 23 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
ایک موزوں ترین منصوبے پہ عمل درآمد میں بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ایسے خوفناک بحران میں کنفیوژن اور بے عملی سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ایسی تیزی سے وبا پھیلی ہے کہ ساری دنیا گڑبڑا گئی۔ پاکستان کا تو کیا رونا کہ سول ادارے تباہ حال ہیں۔ لاہور میں ایک صاحب نے چھ ہزار روپے لے کر کورونا کے مریض کو جانے دیا۔جہاں مہیا تھے، وہاں بھی اکثریت نے ماسک خریدنے سے گریز کیا۔ یہ نسبتاً تیزی سے بنائے جا سکتے تھے، گھروں میں بھی۔ ڈاکٹروں کے لیے موزوں لباس مہیا نہ تھا۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کم
مزید پڑھیے


بارِ دگر

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم نے ٹھیک کہا کہ عظیم ابتلاؤں میں جنگ پوری قوم کو لڑنا ہوتی ہے۔خود سیاستدان ہی اگرایک دوسرے کے درپے ہوں تو قوم کو کیا خاک متحد کریں گے؟ وزیرِ اعظم کی تقریر کے بعض نکات بہت اچھے تھے۔ ایران پر پابندیاں ختم کرنے کی اپیل ایک عظیم اخلاقی تقاضے کی تکمیل ہے۔سرزمینِ پہلوی بدترین صورتِ حال سے دوچار ہے۔ اوّل اوّل چھپانے اور نظر انداز کرنے کی روش۔ خو دپاکستان میں بھی وائرس زیادہ تر ایران ہی سے پھیلا۔تہران میں سب سے بڑا مسئلہ اب یہ ہے کہ درآمدات پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ اس فہرست میں
مزید پڑھیے


آدمی عجیب ہے

بدھ 18 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آدمی عجیب ہے، سیکھتا ہی نہیں۔ افتاد آپڑے تو گھبرا کر آسان راستے کی آرزو پالتا ہے۔ قوانینِ قدرت سے ہم آہنگی اور دیر پا منصوبہ بندی کی فکرطوفان اوربحران میں بھی جاگتی نہیں۔ مسٹر فاؤچی الرجی اور وائرس کا انسداد کرنے والے امریکی ادارے کے سربراہ ہیں۔ انیس برس سے چلے آتے ہیں۔ دوسری احتیاطوں کے علاوہ وہ سب لوگوں کو نیند پوری کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر پچھلے کچھ دنوں سے 79سالہ معالج خود چند گھنٹے ہی سوتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے چینل پر نمودار ہوتے ہیں اور کرید کرید کر پوچھے جانے والے سوالوں
مزید پڑھیے