BN

ہارون الرشید



تُو شاخ سے کیوں ٹُوٹا‘ میں شاخ سے کیوں پُھوٹا


ازل سے نمود کی آرزو میں مبتلا آدم زاد ۔تُوشاخ سے کیوں ٹُوٹا‘ میں شاخ سے کیوں پُھوٹا/اک قُوّت پیدائی‘ اک لذت یکتائی۔ ’’دھرنا نہیں یہ دھندہ ہے ‘‘۔ یہ الفاظ میجر صاحب نے کہے ۔ غیر معمولی قوتِ متخیلہ کردگار نے انہیں بخشی ہے ۔ مولوی صاحب کا لسّی والا قصہ بھی میجر صاحب ہی نے بیان کیا تھا ۔ ان کے بقول میدانِ عرفات میں 90ہزار روپے کی لسّی آنجناب ڈکار گئے ۔ ہر چند اس میں مبالغہ ہے اور شعر کا نہیں بلکہ لطیفے کا مبالغہ‘ مگر سچائی بھی ۔ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے بیرونِ
اتوار 17 نومبر 2019ء

انارکی

جمعه 15 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
ریاست کی رٹ کمزور ہو جائے تو انتشار کا آغاز ہوتا ہے ۔انتشار طوائف الملوکی تک لے جاتا ہے، انارکی! پی ٹی آئی کی حکومت کا تاثر یقینا مجروح ہوا۔ عمران خان کمزور پڑتے دکھائی دیے۔ مولانا فضل الرحمن بہت ابھرے‘بہت نمایاں ہوئے‘ دمک اٹھے۔ کچھ ذاتی مقاصد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ۔ آخری تجزیے میں مگر ناکام‘ بالآخر نامراد۔کوئٹہ چمن شاہراہ ضرور بند کر دی۔ ایک آدھ اور بھی کر سکتے ہیں‘ شاید زیادہ بھی‘ مگر اس کے بعد؟ اسلام آباد سے حضرت مولانا رخصت ہوئے اور اس طرح کہ اسد اللہ خاں غالبؔ یاد
مزید پڑھیے


کب تماشا ختم ہو گا

هفته 09 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
اخبا رنویس کے مقابلے میں شاعر اور ادیب کا تناظر وسیع ہوتاہے ،بہت وسیع ۔ خبر بھلا دی جاتی اور شعر زندہ رہتاہے ۔شیکسپئر کے بارے میں اقبالؔ نے کہا تھا حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا رازدا ں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا ۔۔۔ اس کھیل میں تعینِ مراتب ہے ضروری شاطِر کی عنایت سے تُو فرزیں، میں پیادہ بیچارہ پیادہ تو ہے اک مُہرہ ئِ نا چیز فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطِر کا ارادہ علامہ اقبالؔ ۔۔۔ سیلِ زماں کے ایک تھپیڑے کی دیر تھی تخت و کلاہ و قصر کے سب سلسلے گئے وہ دست و پا میں گڑتی سلاخوں کے روبرو صدہا
مزید پڑھیے


تجزیے

جمعرات 07 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
کتنے برس بیت گئے، شہرِ لاہور میں قائدِ اعظم کے سپاہیوں میں سے ایک، نسیم بیگ مٹی اوڑھے سو رہے ہیں ۔ دانشور بحث کا دھاگا الجھا دیتے تو وہ کہتے : اور تو سب عوامل کی وہ بات کرتے ہیں ، بس ایک اللہ کا نام نہیں لیتے۔ جس نے کائنات پیدا کی ۔ سارے لشکر، سب آدمی اس نے پیدا کیے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی تقدیر لکھی ہے ۔ وزیرِ اعظم کے دوست نے برقی خط میں انہیں لکھا کہ غنیم کو دارالحکومت تک آنے کی اجازت کون دیتا ہے؟ اسی دوست نے ، جس
مزید پڑھیے


مملکتِ خداداد

پیر 04 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
پاکستان ایک منوّر مستقبل رکھتا ہے ۔ مسلم برصغیر کے لیے پیغمبرِ آخر الزماںؐ کی بشارت یہ ہے کہ اسے مشرکین اور یہودیوں کو نمٹانا ہے ۔ نہیں ، چند ہزارلوگ مملکتِ خداداد کا آنے والا کل اغوا نہیں کر سکتے ، چرا نہیں سکتے ۔ پانچ آدمی ہیں ، پانچوں کی کہانی معلوم ۔تیس برس ہوتے ہیں ،اسفند یار ولی خاں کے والدِ گرامی عبد الولی خاں نے ایک کتاب لکھی تھی ۔ "Facts are facts" اس میں ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان انگریزوں کی سازش کا نتیجہ ہے ۔ ربع صدی کے بعد عبد الغفار
مزید پڑھیے




کسی خیرخواہ سے پوچھا ہوتا

اتوار 03 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
اپنے خیر خواہ ‘ طارق پیرزادہ ہی سے پوچھ لیا ہوتا۔ 1971ء میں گرفتار پاکستانی فوجیوں میں ایک ایسا بھی تھا‘بھارتی جنرل جس سے مرعوب تھے اس کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔ممتاز ترین عالمی جریدوں میں سے ایک نیوز ویک نے لکھا‘معتبر اخبار کرسچین سائنس مانیٹر نے لکھا کہ وہ بہترین میں سے بہترین ہے۔ملٹری کالج جہلم میں اس نے تعلیم پائی تھی۔ عسکری تعلیم کے لئے وہ دنیا کا سب سے بہترین ادارہ تھا۔بریگیڈیئر رفیق پرنسپل تھے‘فیلڈ مارشل ایوب خان دس منٹ پہلے پہنچے تو انہیں انتظار کرنا پڑا۔ سلامی کے ہنگام چیخ کر یحییٰ خان سے کہا ''Shun
مزید پڑھیے


حکومت

جمعه 01 نومبر 2019ء
ہارون الرشید
جتھوں میں بٹایہ معاشرہ بتدریج انارکی کو بڑھتا جاتاہے۔ ایک ہمہ گیر اخلاقی اور علمی تحریک لازم ہے ، آبادی کے تمام طبقات جس میں خوش دلی سے شریک ہوں ۔ جاگنا چاہئیے ، جاگ اٹھنا چاہئیے ، اس سے پہلے کہ آندھی میں گردو غبار ہم ہو جائیں ۔ عارف نے کہا تھا: خلوصِ قلب سے جب ہم دعا مانگتے ہیں تو احساس ہوتاہے کہ کوئی ہمارے ساتھ ہے ، کوئی ہمارا سائباں ہے ۔انسانوں کا پروردگار اگر غفور الرحیم ہے اور یقینا ہے تو آئے دن اذیت پہنچانے والے المناک حادثات کیوں برپا ہوتے ہیں ۔ ملک اور
مزید پڑھیے


رہے نام اللہ کا

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ایسا لگتاہے کہ سبھی خسارے میں ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ تاریخ اپنا ورق الٹنے والی ہے ۔ ایسا لگتاہے کہ اگلے ڈرامے کے سب کردار نئے ہوں گے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ لانگ مارچ کا انجام کیا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ، عمران خان، نواز شریف اور آصف علی زرداری ، سبھی نے اپنے پتے سینے سے لگا رکھے ہیں ؛حتیٰ کہ مولوی صاحب نے بھی ۔ اسلام آباد پہنچ کر معلوم نہیںوہ اپنی جلسہ گاہ تک محدود رہیں یا شاہراہِ دستور پہ یلغار۔ لوٹ جائیں گے یا جمے رہیں گے ۔ ظاہر ہے کہ انحصار حالات پر ہے ۔اس
مزید پڑھیے


بے یقینی

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
عدمِ تحفظ اور بے یقینی کس قدر خوفناک چیز ہے ۔ انسانی کردار کا تمام حسن اور رعنائی برباد ہوتی ہے ۔ پارٹیاں نہیں ، ایسے میں جتھے بنتے ہیں ۔ تجزیے نہیں ہوتے ، تعصبات بروئے کار آتے ہیں ۔ جب تک یہ بات نہیں سمجھی جائے گی، کچھ نہیں ہوگا ، کبھی بھی نہیں ! کوپن ہیگن کی ایک سڑک پر کسی نے ہارن بجایا تو گاڑی میں سوار تین کے تین مسافروں نے بے ساختہ کہا ’’ کون پاگل ہے ؟ ‘‘ناروے کا دارالحکومت ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ مغرب کا تصور ذہن میں آتا ہے تو
مزید پڑھیے


سلطانی ٔ جمہور

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
جمہوریت اور میرٹ کا رونا بہت ہے ، نعرے اور چرچا بہت ۔ہمہ وقت سیاستدان اور دانشور سلطانی ء جمہور کا گیت گاتے ہیں ۔ فیصلوں کا وقت آتاہے تو یہ جمہوریت کہاں چلی جاتی ہے ؟ قاعدے، ضابطے اور روایات سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ شاہی فرمان کی طرح حکم صادر ہوتے ہیں اور برطرفی ناگہانی موت کی طرح ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب جنابِ عثمان بزدار نے چار ترقیاتی اداروں کے سربراہ برطرف کر ڈالے ، جو Development Authorities کہلاتے ہیں ۔ گوجرانوالہ کے عامر رحمٰن ، ملتان کے رانا عبد الجبار ، فیصل آباد
مزید پڑھیے