BN

ہارون الرشید


بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی


آسمانوں سے پیہم وہی صدا ’’یحسرۃً علی العباد‘‘ اے میرے بندو، تم پر افسوس۔ بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے نومیدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے پہلا مرحلہ مکمل ہوا۔ انشاء اللہ باقی بھی ہو جائیں گے۔ ابھی ابھی پانی کا گھڑا عمر کمرے میں دھر گیا ہے۔ہرچند قرینہ یہ ہے کہ کمرے میں گھڑے نہیں صراحی رکھی جائے۔ یاد آیا، دوسری مشکل بھی حل ہوئی۔ مالی کے ساتھ طے پاگیا کہ تنخواہ میں چالیس فیصد اضافہ کر دیا جائے تو ہر موسم کی سبزی مہیا کرے گا۔ دیسی انڈوں کا بندوبست بھی ہے۔میانوالی کے دوستوں
جمعرات 09 جولائی 2020ء

حاجی صاحب کی بلّے بلّے

بدھ 08 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
رزق کا تعلق تعلیم اور ذہانت سے ہوتا تو ارب پتی طارق چوہدری ہوتے، حاجی اسلم نہیں۔ بلّے بلّے حاجی صاحب۔ ہر آدمی مختلف ہے، ہر آدمی منفرد ہے لیکن حاجی اسلم کے کیا کہنے۔ کیا کہنے حاجی اسلم کے۔ ایسا آدمی دیکھا نہ سنا۔ سوشل میڈیا کے ناظرین حاجی صاحب سے خوب واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ حاجی صاحب ایک روزنامے کے مالک و مدیر ہیں۔مگر یہ نہیں جانتے کہ حاجی اسلم دو ٹیکسٹائل ملوں کے مالک ہیں۔سوشل میڈیا کے ناظرین ہر پندرہ بیس دن کے بعد کسی بزرگ میّت کے ساتھ ان کی تصویر ملاحظہ کرتے ہیں۔ چونکا
مزید پڑھیے


سوچتا کیوں نہیں؟ آدمی سوچتا کیوں نہیں؟

منگل 07 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
تاریخ میں سب سے بڑا سوال شاید ہمیشہ یہ رہا کہ انسانوں کی اکثریت سوچتی کیوں نہیں؟ سب سے بڑے سوال پہ غور کیوں نہیں کرتی کہ کیا اس کائنات کا کوئی مالک ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کی مرضی و منشا کیا ہے۔ کچھ چیزیں ہم جانتے ہیں اور کچھ ایسی ہیں، جو سمجھنا چاہتے ہی نہیں۔ کچھ ایسی ہیں کہ باطن ان کی صداقت سلگتی ہے۔ ہماری جبلتیں لیکن دھکیل کر ان چنگاریوں کو پرے پھینک دیتی ہیں۔ نسیم بیگ مرحوم کہا کرتے:میڈیا کے تجزیوں میں اور تو سبھی کچھ ہوتا ہے مگر خالقِ
مزید پڑھیے


سوال

پیر 06 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
جہنم کی آگ اور بہشتِ بریں کے درمیان حائل صرف یہ سوال ہوگا کہ قلب و دماغ کی یکسوئی سے کوئی اللہ کی آخری کتاب پہ ایمان رکھتا تھا یا نہیں۔ بندے خود غرض ہیں لیکن ان کا ایک پروردگار ہے۔ وہ رؤف الرحیم ہے۔اپنی کتاب میں اس نے لکھ دیا کہ اس کی صفتِ رحم اس کی صفت عدل پہ غالب ہے۔ وہ خطائیں معاف کرتاہے۔ سب کی سب، تمام کی تمام، اوّل سے آخر،سب معاف کرتاہے۔ معافی کیا معنی، اس کا وعدہ ہے، صاف اور صریح وعدہ کہ سچّے دل سے توبہ کرنے والوں کے گناہ نیکیوں میں
مزید پڑھیے


سزا

جمعه 03 جولائی 2020ء
ہارون الرشید
یہ ہمارے اعمال کی سزا ہے۔ ہماری خوئے غلامی، ہماری شخصیت پرستی کی، ہمارے جذباتی عدمِ توازن کی۔ سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھارت نے کرایا، وزیرِ اعظم کو یقین ہے۔ ظاہرہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی توثیق کے بغیر اس درجہ مکمل اطمینان ممکن نہیں۔ بیچارے گنتی کے بلوچ دہشت گرد کیا بیچتے ہیں۔ صدیوں سے سرداروں کی غلامی میں جینے والے، اکثر چٹے ان پڑھ۔ ان میں سے بعض کو تو یہ بتایا گیا ہے کہ خاکی وردی والے اللہ،رسولؐ اور یومِ آخرت پہ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ظاہر ہے کہ یہ افغانستان کی خدمتِ اطلاعاتِ دولتی ہے، جسے این ڈی
مزید پڑھیے



ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا

منگل 30 جون 2020ء
ہارون الرشید
طارق تم نے سچ کہا تھا۔ بڑے آدمی اگر کبھی دیکھے تو چک 42جنوبی سرگودھا میں۔ بخدا باقی تو سب بھوسہ ہی نکلا۔ کرنل ریاض کی وفات سے وہ احساس اور بھی گہرا ہو گیا۔ ہم رہ گئے، ہمارا زمانہ چلا گیا۔ ہر عزیز کی موت تکلیف دیتی ہے مگر ایسی ناگہانی موت۔ جانے والے چلے جاتے ہیں لیکن قلب و دماغ سے رخصت نہیں ہوتے۔ رفتید ولے از نہ دلِ ما۔دنیا سے رخصت ہوا مگر میرے دل میں وہیں کا وہیں ہے۔ بیس برس ہوتے ہیں، ٹیلی فون کی گھنٹی بجی اور کسی نے کہا ’’میں ریاض ہوں‘‘
مزید پڑھیے


راز کی بات

پیر 29 جون 2020ء
ہارون الرشید
پی آئی اے سمیت ملک بھر کے تمام ادارے کس طرح تباہ ہوئے، یہ کوئی راز نہیں۔ راز کی بات یہ ہے کہ اپنی حماقتوں پہ غور کرنے اور خود کو بدلنے کاارادہ ہم ہرگز نہیں رکھتے۔ افسر شاہی کا یہ فرسودہ نظام ڈیڑھ سو سال پہلے تشکیل پایا تھا۔ 1857ء کے بعد بنگال سے پشاور تک سرکاری ہیبت جب قائم ہوچکی تھی۔ سول سروس کے امتحان میں بہترین انگریز افسر منتخب کیے جاتے۔ پھرتربیت کے انتہائی سخت مرحلوں سے گزرتے۔ باقاعدہ حکومت تو 1857ء میں بنی لیکن دو صدیوں سے انگریز بر صغیر کو خوب جانتے تھے۔ اس کی
مزید پڑھیے


قرآن کریم

جمعرات 25 جون 2020ء
ہارون الرشید
توحید، رسالت اور قرآنِ کریم ہی ہمارا کل اثاثہ ہے۔ اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے، اے اس سے بے نیازی کا سبق دینے والے! خوابوں اور خیالوں میں آدمی جینے لگتاہے تو ایسی بات بھی کہہ دیتاہے، زندگی کی سچائیوں سے جس کا رتّی برابر بھی تعلق نہیں ہوتا۔ یونیورسٹیوں میں قرآنِ کریم کی تعلیم پر معترض محترم کو ہرگز اندازہ نہیں کہ پاکستانیوں کے زخموں پر وہ نمک چھڑکتے ہیں۔ ایک آدمی کا اعتقاداور طرزِ احساس اس کا اپنا مسئلہ ہے۔ لکم دینکم ولی دین۔ تمہارے لیے تمہارا راستہ اور ہمارے لیے ہمارا راستہ لیکن
مزید پڑھیے


پی ٹی آئی کے اندرونی جھگڑے

بدھ 24 جون 2020ء
ہارون الرشید
اندرونی اختلافات ہر پارٹی میں ہوتے ہیں۔ شخصیات کا تصادم بھی۔ عمران خان ان جھگڑوں کو نمٹا نہ سکے۔ بظاہر دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان معاملا ت میں وہ ایک بے نیاز آدمی ہیں۔ ثانیاً پارٹی ان کے لیے پارٹی نہیں بلکہ حصولِ اقتدار کا ایک ذریعہ تھا۔اس کی تنظیم کے لیے پوری طرح کبھی وہ سنجیدہ نہ ہوئے۔ فواد چودھری کا کہنا یہ ہے کہ حکومت کی بے عملی کا سبب پارٹی کے اندرونی جھگڑے رہے۔ خاص طور پر جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کے اختلافات۔ اسد عمر نے ایک دن فون سننے میں
مزید پڑھیے


سیّدہ زینبؓ کی بیٹیاں

منگل 23 جون 2020ء
ہارون الرشید
اللہ کی ان پہ لاکھوں رحمتیں ہوں، تو یہ سیّدہ زینبؓ کی بیٹیاں ہیں؟ جو شہید ہوئے، وہ شہید ہوئے۔ اب یہ ان کی مشعل بردارہیں۔ جنرل اختر عبد الرحمٰن کے صاحبزادوں، ایک کے بعد دوسرے نے جب اپنی دادی امّاں کی کہانی سنائی تو مجھے ماں جی یاد آتی رہیں، نانی امّاں۔ سارا دن تخت پر بیٹھی جو تسبیح اور نوافل پڑھا کرتیں اور ایک حکمران کی طرح فیصلے صادر کرتیں۔ جنرل عبد المجید ملک نے اپنی والدہ محترمہ کا ذکر چھیڑا تو سامع نے حیرت سے کہا: دو ایسی محترم خواتین اور بھی تھیں۔ جہاندیدہ آدمی نے سر
مزید پڑھیے