ہارون الرشید


سنگدلی


آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، یہ دل ہیں ، جو سینوں میں اندھے ہو جاتے ہیں ۔ تو اگر اپنی حقیقت سے خبر دار رہے نہ سیاہ روز رہے ، پھر نہ سیہ کار رہے ایسے اذیت دہ واقعات پر طبیعت بھڑک اٹھتی ہے ۔ بے قابو کر دینے والا اشتعال اور برہمی۔ ابتدا میں شاید ایسا ہی ہوا ۔ پھر ملال کی ایک گہری کیفیت نے آلیا۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح جو ٹلتا ہی نہیں ۔ چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے لیڈر صاحب نے کیا کیا ؟ اور ٹی
جمعه 17 جنوری 2020ء

ماجرا

جمعرات 16 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
خلق ہم سے کہتی ہے ساراماجرا لکھیں کس نے کس طرح پایا اپنا خوں بہا لکھیں چشمِ نم سے شرمندہ ہم قلم سے شرمندہ سوچتے ہیں کیا لکھیں؟ اخبار نویس کو مخمصے کے پار اترنا ہوتاہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک بڑی خبر ہو اور اس کے سارے پہلوئوں پر وہ روشنی ڈال نہ سکے۔ ہر آدمی دسترس میں نہیں ہوتا ۔ کچھ پہلو خطرناک ہوتے ہیں ۔ خطرہ مول لیا جا سکتاہے مگر کتنا ؟ فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا : قاری کبھی اندازہ نہیں کر سکتا کہ لکھنے والے نے کتنے مترادفات مسترد کیے ہیں ۔ یہی نکتہ
مزید پڑھیے


کاٹھ کے کھلاڑی

منگل 14 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آنے والے کل میں کیا لکھا ہے ، کوئی نہیں جانتا ۔ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وقت ایک نیا ورق الٹنے والا ہے ۔ کاٹھ کے یہ سارے کھلاڑی جل بجھیں گے ۔ جہاں تک تجزیے اور تخمینے کا تعلق ہے ، اب تقریباًحتمی طور پر یہ بات طے پا چکی کہ پی ٹی آئی کی حکومت پانچ برس پورے نہ کر سکے گی مگر یہ بھی نہیں کہ ہتھیلی پہ سرسوں جما دی جائے ۔ جو کچھ ہوگا ، بتدریج ہوگا ، بندوبست کر لینے کے بعد ۔ خان صاحب اور ان کے حلیف ایک دوسرے سے
مزید پڑھیے


شیخ چلی کا خواب

پیر 13 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
انسان کی فطرت میں مخاصمت ہے۔ افراد یا اقوام، نفرت دھوئی جا سکتی ہے اورگاہے مکمل طورپر بھی۔ مگر یہ عمران خان اور شاہ محمود ایسے لوگوں کے بس میں نہیں ہوتا۔ بار بار دہرایا گیا، وہی شعر بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے سعودی عرب اور ایران کا دورہ،اصل موضوع ایران، عرب تعلقات نہیں، افغانستان ہے۔ طالبان اور صدر ٹرمپ معاہدے کے قریب پہنچ چکے۔ درحقیقت معاہدہ مرتب ہو چکا۔ ٹرمپ کو افغانستان سے نکلنا ہے کہ 100ملین ڈالر کے اخراجات بچا کر، امریکہ میں فلاحی پروگراموں پر خرچ کر سکے۔ امریکی عوام کی
مزید پڑھیے


سبطین خان کی کہانی

جمعه 10 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آسماں دور ہے اور اللہ بے نیاز ۔ مگر آسماں اتنا بھی دور نہیں اور اللہ ایسا بھی بے نیاز نہیں پنجاب کے وزیرجنگلات سبطین خان کی گرفتاری اور رہائی کے باب میں سوالات ہیں اور کوئی ان سوالوں کا جواب نہیں دیتا ۔اوّل بے گناہی واضح ہونے کے باوجود انہیں پکڑا ہی کیوں گیا۔ صوبے کی وزارت معدنیات اور ایک نجی کمپنی میں معاہدے پر دستخط 2008ء میں ہوئے۔ سبطین اس وقت وزیر تھے ہی نہیں۔ حکومت سے الگ ہوئے کئی ماہ بیت چکے تھے اس کے باوجود ستمگروں کا ہدف وہ کیوں ہوئے؟ ثانیاً معاہدے کی منظوری دینے والے نگران
مزید پڑھیے



واویلا

بدھ 08 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
ہر شہری کی آبرو‘ جس میں محفوظ ہو اور ہر زخم کے اندمال کا امکان بروقت اور برمحل بروئے کار آنے والے نظام انصاف کی تشکیل‘ حکومتوں اور سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے یا اخبار نویسوں کی؟ دلدل میںدھنسے آدمی کو سجھائی نہیں دیتا۔اندیشے غالب آتے ہیں ‘تو فہم کاچراغ بجھنے لگتا ہے ۔ وفاقی وزیراسی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ان کے لئے متعّین کرنا مشکل ہو گیا کہ اب کیا کریں ۔ ایسے میں آدمی فریادکیا کرتا ہے ۔ خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتاہے ۔چاہتا ہے کہ اس پہ ترس کھایا جائے اور اس کی مدد کی جائے۔
مزید پڑھیے


ملّت کے گناہ

منگل 07 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
تیسری عالمی جنگ کا خطرہ سر پہ منڈلا رہا ہے… اور اقبالؔ یاد آتے ہیں: فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف اقوام کی باہمی آویزش بنی نوع انسان کی تقدیر ہے۔ یہ آدمی کی سرشت میں ہے۔ روز ازل اسے بتا دیا گیا تھا کہ تم سے بعض‘ بعض کے دشمن ہونگے۔ لشکر ہمیشہ لشکروں سے ٹکراتے رہے۔ جدید جنگوں کا معاملہ اور بھی ہولناک ہے۔ زرہ پوش افواج سے زیادہ عام آبادی ہدف ہوتی ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی سرخ سپاہ نے تیرہ لاکھ شہریوں کو قتل کر ڈالا اور تیرہ
مزید پڑھیے


تقدیر

پیر 06 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
خوش قسمت معاشرے وہ ہوتے ہیں جو تجربات سے سیکھیں۔آدمی اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔ قدرت تو صرف یہ کرتی ہے کہ مواقع ارزاں کرے۔سبق سکھائے اور نہ سیکھنے والوں کے لئے سیکھنے پہ اصرار کے لئے ‘اذیت دیتی رہے۔ اقبالؔ نے کہا تھا: تقدیر کے پابند نباتات و جما دات مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند حکومت نہیں سدھرے گی تو کیا ہم بھی نہیں سدھریں گے؟ گلبرگ کے جی بلاک سے رائے ونڈ روڈ پہ‘ اپنے دفتر تک‘ درجنوں بار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ موٹر سائیکل سوار ۔ ون ویلنگ نہ فرمائیں تو یہی غنیمت ہے۔
مزید پڑھیے


حیرت ہے !

جمعرات 02 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کچھ بھی ، واقفانِ حال ہی جانتے ہوں گے کہ کچھ نہ کچھ تو ہوا ہوگا لیکن یہ ایک چونکا دینے والی خبر ہے ۔ ایسی حیرت اپنے ساتھ لائی ہے کہ کسی طرح تمام نہیں ہوتی ۔ پی آئی اے کے نئے سربراہ ارشد ملک کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں ، جہاں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا،ائیر مارشل ارشد ملک ان لوگوں میں سے ایک ہیں ، جن کے بل پہ امید کی کرن جاگتی ہے ۔ امید کہ یہ تاریکی چھٹ بھی سکتی ہے ۔اس مجہول اور پسماندہ
مزید پڑھیے


خورو نوش

بدھ 01 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آج کل خیال اس شدت سے آتا ہے کہ ہوا جیسے خزاں رسیدہ پتوں کو اڑا لے جانا چاہے۔ایسے میں کیا خاک لکھوں! صوفی عائش محمد ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہیں ۔ کوئی دوسرا ہوتا تو شک گزرتا مگر وہ تو مذاق میں بھی مبالغہ نہیں کرتے۔ کہا: کھانے کا وقت ہوا تو گلی میں جھانک کر دیکھا۔ سچّے صوفی کی علامت یہ ہوتی ہے کہ سنت کو ملحوظ رکھتا ہے ۔ تنہا پیٹ بھرنا پسند نہیں کرتا ۔ بتایا کہ تیرہ چودہ سالہ ایک بچّہ نظر آیا ۔ اس کے لیے رکابی میں سالن ڈالنے والا تھا کہ بے
مزید پڑھیے