BN

ہارون الرشید



صدمہ


منصور آفاق نے کہ حمد، نعت اور تصوف کے شاعر بھی ہیں، عمران خان اور فردوس عاشق اعوان سے پسماندگان کے لیے مدد کی اپیل کی تو صدمہ ہوا، بہت صدمہ۔ کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں؟ کیا یہ ہم دوستوں کی ذمہ داری نہیں؟ انوار حسین حقی کے انتقال کا زخم ابھی تازہ تھا کہ دوسراسانحہ ہوا۔ حقی ان نادرونایاب لوگوں میں سے ایک تھے، جن کی امانت و دیانت کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ لاکھوں دوسرے لوگوں کی طرح وہ عمران خان کا شکار ہوئے۔ صدیوں سے بگڑی ہوئی اشرافیہ سے نجات کی وہی آرزو۔وہی
جمعرات 12 مارچ 2020ء

بستی بسنا کھیل نہیں ہے!

منگل 10 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
افغانستان میں طالبان کی فتح کا جشن منانے والوں کو تامل سے کام لینا چاہئے۔ آگ کا دریا وہ عبور کر چکے لیکن کئی ندیاں نالے، پہاڑ اور ریگزار ابھی عبورکرنا ہیں۔ بستی بسنا کھیل نہیں ہے۔ بستے بستے بستی ہے۔ زندگی شاعری نہیں ، خواب نہیں ہے۔ سپنوں کو مجسم کرنے کے لیے جاں گسل جدوجہد سے گزرنا پڑتا ہے۔ قدرت کے ان ابدی قوانین سے آہنگ پیدا کرنا ہوتا ہے، جو کبھی بدلتے نہیں۔ اس میں پیغمبرانِ عظام کے لیے بھی کوئی استثنا نہیں۔زندگی آدمی سے سمجھوتہ نہیں کرتی۔ آدمی کو سمجھوتہ کرنا ہوتا ہے۔ سرائیکی کے شاعر نے
مزید پڑھیے


خواتین کی قیادت کا حق دار کون ہے؟

پیر 09 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
دودھ پینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں، خون دینے والے دوسرے۔ باتیں بنانے والے اور ہوتے ہیں صاحبِ عمل دوسرے۔ دعویٰ ایک چیزہے، ریاضت و ایثار دوسری۔ دعوے تو بھٹو نے بھی بہت کیے تھے۔ فخرِ ایشیا اور قائدِ عوام بھی کہلائے۔ دعوے تو میاں محمد نواز شریف نے تو یہ بھی کہا تھا کہ وہ قوم کی تقدیر بدل ڈالیں گے‘ یعنی پروردگار کے قائم مقام ہو جائیں گے۔ ان دونوں سے زیادہ قصیدے عمران خان کے لکھے گئے۔ انہیں تاریخِ انسانی کے عظیم ترین رہنما کے طور پرپیش کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اکیسویں صدی میں
مزید پڑھیے


عورت مارچ

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
آپؐ نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں ، جو چھوٹوں کا لحاظ اور بڑوں کی تکریم نہ کرے ۔ خلیل الرحمٰن قمر عجیب آدمی ہیں ۔ اس قدر تاب و توانائی کہ حیرت ہوتی ہے۔پرسوں پرلے روزجو لب و لہجہ اختیار کیا اس کی تحسین ممکن نہیں۔ ایک بہت اچھا مقدمہ انہوں نے خراب کر دیا ۔ اپنی حماقتوں سے اس ناچیز نے سیکھا ہے کہ غصے کو حرام کیوں کہا گیا ۔سال ڈیڑھ سال پہلے کی بات ہے ، ایک بے گناہ بیچارے کو پولیس نے پکڑ لیا ۔تفتیشی افسر سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھا
مزید پڑھیے


کھرا شاعر، دریوزہ گروں کے درمیاں

بدھ 04 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
اظہارالحق میں عہدِ اوّل کی آرزو پیہم ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپنے زمانے سے بچھڑ کر اس کے ملال میں وہ زندہ ہے۔اسی کی تمنا ہے اور اسی کا گداز۔ کم ہوتے ہیں جنہیں یہ نعمت نصیب ہو۔ ہر لحاظ سے وہ منفرد ہے۔ شاعری تو الگ۔ مجھ سا معمولی آدمی اس پہ کیا بات کرے۔ یہ ظفر اقبال، ڈاکٹر خورشید رضوی اور افتخار عارف کو زیبا ہے۔ بیس پچیس برس سے اخبار نویس ایک شعر کے سحر میں ہے کہ ضرب المثل ہو چکا۔ غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے انصاف
مزید پڑھیے




جیت کے ہارا ہوا شخص

منگل 03 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
ان میں سے کوئی بھی تاریخ کے افق اور آسمان پہ ستارہ بن کر جگمگائے گا نہیں۔ ان میں محمد علی جناحؒکوئی نہیں ۔ حسنِ خیال تو گاہے چمکتا ہے مگر بجھ جاتا ہے ۔ حسنِ عمل کا نام و نشان تک نہیں ۔ اس موج کے ماتم میں روتی ہے بھنور کی آنکھ دریا سے اٹھی لیکن ساحل سے نہ ٹکرائی شریف خاندان لندن براجے گایا پاکستان پہ اترے گا ۔ انہیں کھینچ کر لایا جائے گا یا وہ فاتحانہ آمد کا بگل بجائیں گے ۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے دھمکی دی ہے کہ مفرور نواز شریف کو واپس
مزید پڑھیے


شہ مات

پیر 02 مارچ 2020ء
ہارون الرشید
غیر ملکی دشمنوں پر پاکستان اور افغانستان نے فتح پا لی ہے۔ اب امتحان یہ ہے کہ اپنے اندر وہ آہنگ پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اللہ کی آخری کتاب میں یہ لکھا ہے: تمہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔صداقت ہی نہیں مومن صبر و حکمت سے بھی سرفراز ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک فرمان الٰہی ہے۔ افغانستان میں امریکہ کو مات نہیں ہوئی، شہ مات ہے یہ شہ مات۔ صرف امریکہ نہیں، یہ بھارت کی شکست ہے۔ ان دہشت گرد گروہوں کی بھی جو ملّا عمر کے نام پر پاکستان میں قتلِ عام کا کھیل کھیلتے رہے۔
مزید پڑھیے


تم انتظار کرو ، ہم بھی انتظار کرتے ہیں

جمعه 28 فروری 2020ء
ہارون الرشید
جو نہیں مانتے ، وہ نہ مانیں ۔جب کوئی فیصلہ آسمانوں پر صادر ہو چکے تو زمین پر اسے نافذ ہونا ہوتا ہے ۔ کچھ قرائن سے اندازہ لگاتے ہیں اور کچھ واقعات رونما ہونے کے بعد تسلیم کیا کرتے ہیں ۔ اللہ کے آخری پیغمبرؐ کے نام پروردگار کا پیغام یہ تھا : اپنے حریفوں سے کہو: تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں ۔ دوقومی نظریہ اور قائدِ اعظمؒ سچے ہو گئے ۔شیرِ کشمیر شیخ عبد اللہ کی اولاد سمیت اچانک بہت سے لوگوں کو احساس ہوا کہ قیامِ پاکستان پر امت کا اجماع بالکل درست تھا
مزید پڑھیے


چراغ بجھ گیا ہے!

جمعرات 27 فروری 2020ء
ہارون الرشید
چراغ بجھ گیا ہے ، بولتا ہواچمن خاموش ہو گیا۔ سیاست میں نجابت و شرافت کا آخری پیکر مٹی اوڑھ کر سو چکا ہاں مگر ایسے لوگ مرتے نہیں بلکہ امر ہو جاتے ہیں ۔ بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور دور تک پھیلے گیہوں کے سبز کھیتوں کے درمیان پھولتی سرسوں کا نظارہ مبہوت کرتا ہے لیکن نعمت اللہ خاں کی وفات ۔ ایک غم ہے جو جی میں بیٹھ گیا ہے ۔ یہاں سے وہاں تک درد کی چادر تنی ہے ۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح ، جو ٹلنے کا نام نہ لے ۔
مزید پڑھیے


خود اپنے جال میں

بدھ 26 فروری 2020ء
ہارون الرشید
ہم اندازے ہی لگا سکتے ہیں۔ غیب تو بس اللہ ہی جانتا ہے۔ مکّرر عرض ہے کہ بھارت کو دلدل میں دھنسا کر قدرتِ کاملہ نے ایک سنہری تاریخی موقع ہمیں عطا کیا ہے۔ ہمیں اپنا گھر سنبھالنا چاہئیے ۔ دشمن خود اپنے جال میں پھنستا چلا جا رہا ہے ۔ کیسا چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ توجیہہ یہ ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت آپڑی ہے ۔ افغانستان سے انخلا کے لیے صدر ٹرمپ بے چین ہیں ۔انہیں الیکشن جیتنا ہے، معیشت کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان میں 80، 90بلین ڈالر سالانہ کی بچت ممکن ہے۔ طالبان سے
مزید پڑھیے