ہارون الرشید


امید پہ دنیا قائم ہے


عروج کی طرح زوال بھی ہمہ گیر ہوتا ہے۔ سیاست میں کبھی قائد اعظم تھے۔ اب زرداری صاحب، میاں محمد نواز شریف اور عمران خان۔ ظفر علی خان اور محمد علی جوہر صحافت کی آبرو تھے۔ اب مجھ ایسے کج بیاں۔ اللہ جانے زوال کا یہ سفر کب تھمے گا۔ امید پہ دنیا قائم ہے۔ پچاس برس ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی کا ایک جلوس میکلوڈ روڈ سے گزرا۔ روزنامہ کوہستان مرحوم میں یہ ناچیز ادارتی صفحے کا انچارج تھا۔ انچارج کیا، صحافت کے بہترین اساتذہ میں سے ایک سید عالی رضوی کا مددگار۔ انہیں ایک نائب کی ضرورت پڑی تو
پیر 20 اپریل 2020ء

تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم

جمعرات 16 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
دعا ہے سو جاری رکھنی چاہئیے، صدقہ ہے، اللہ کی بارگاہ میں جو اپنے رفتگاں کی نذر کیا جا سکتاہے۔ جانے ملاقات کب ہوگی؟ طلوعِ مہر، شگفتِ سحر، سیاہی ء شب تری طلب، تجھے پانے کی آرزو،ترا غم عصرِ رواں کے عارف نے کہا تھا: آدمی کی اکثریت ایسی ہے کہ جیسی پیدا ہو، ویسی ہی دنیا سے اٹھ جاتی ہے، الّا یہ کہ ان کی زندگی میں کوئی بڑا حادثہ پیش آئے اورادراک کے در کھول دے۔ الّا یہ کہ کسی سچے استاد سے سامنا ہوجائے اور ترجیحات تبدیل ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں: زیاں بہت ہے، خدا کی
مزید پڑھیے


بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں

بدھ 15 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
سعید اظہر برعکس تھے۔ لا تعلق، بے نیاز اور کبھی کبھی تو بے زار بھی۔ ان کی کہانی کا اگر کوئی عنوان ہو سکتاہے تو یہ کہ بازار سے گزرا ہوں، خریدار نہیں ہوں۔ سعید اظہر کی کہانی بیچ میں رہ گئی۔مجیب الرحمٰن شامی اور عباس اطہر کا ذکر کیے بغیر یہ داستاں مکمل نہیں ہو سکتی۔ دونوں ممتاز ایڈیٹر ان کے مربی تھے۔ ان سے شکایت پالتے لیکن سرپرستی بھی کرتے۔ یہ کہانی شاید ایک طویل خاکے ہی میں سمٹ سکتی ہے لیکن پے بہ پے حادثات اور افق تابہ افق تک پھیلے ہوئے کرونا کے خوف میں ایسی
مزید پڑھیے


لیڈر لو گ

منگل 14 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
تاریخ یہ کہتی ہے کہ بہترین صلاحیت آزادی میں بروئے کار آیا کرتی ہے‘ تقلید یا غلامی میں نہیں۔ الحذر‘ ان لیڈروں سے سو بار الحذر، جوہمارے اعمال نے ہم پر مسلط کر دئیے۔یارب ان سے ہمیں نجات دے ۔ دہراتا ہوں کہ عقل کبھی تنہا نہیں ہوتی‘ منفی یا مثبت ہمیشہ اس کے ساتھ کوئی دوسرا جذبہ لگا ہوتا ہے۔ دہراتا ہوں کہ سب سے اہم چیز حسنِ نیت ہے۔ حکمت عملی وہی کامیاب ہوتی ہے‘ جس کے پیچھے خلوص کارفرما ہو۔ مکرر عرض ہے کہ دین اور سیاست‘ زندگی کے دو اہم ترین شعبوں کو ہم نے ادنیٰ
مزید پڑھیے


لاڈلا

پیر 13 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
ہر آدمی مختلف ہوتا ہے۔ صرف شکل و صورت، مزاج اور عادات و اطوار ہی میں نہیں بلکہ اپنے باطن میں بھی۔ شطرنج کی بساط پر مہروں کی تعداد مختصر ہوتی ہے لیکن چالیں ایک ارب سے زیادہ۔ پروردگار نے زندگی کو ایک خیرہ کن تنوع اور کشمکش میں پیدا کیا اور دائم وہ ایسی ہی رہے گی۔ کچھ لوگ زیادہ منفرد ہوتے ہیں سعید اظہر ان میں سے ایک تھے۔اتنے منفرد کہ ایک ناول ان پر لکھا جا سکتاہے۔ طویل عرصے تک میں نے انہیں قریب سے دیکھا۔ آخری تجزیے میں وہ اتنے سادہ آدمی تھے کہ حیرت ہوتی۔
مزید پڑھیے



ہمت کی کوتاہی

جمعرات 09 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
مایوسی اورترجیحات کے تعین سے گریز، پہل کاری اور عزم و حوصلے سے محرومی۔ سول سروس اور سیاست کا فرسودہ ڈھانچہ، چنانچہ فلاکت اور محرومی۔ نہ شاخِ گل ہی اونچی ہے نہ دیوار چمن بلبل تری ہمت کی کوتاہی تری قسمت کی پستی ہے جنرل باجوہ نے کہا کہ بحران میں سے قوم طاقتور بن کے ابھر سکتی ہے۔ ادھر ایوانِ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ بعض شوگر مل مالکان نے حکومت کو دھمکانے کی کوشش کی۔ کئی بار اس کالم میں ذکر کیا کہ عمر فاروقِ اعظمؓ کے سنہری دور میں پانچ برس قحط کے تھے۔ یہ ابتلا
مزید پڑھیے


متوازی وزیراعظم

بدھ 08 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
آرزوئیں تو بادشاہوں کی بھی پروان نہیں چڑھتیں، ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہو جاتی ہیں۔ خدا کی بستی دکاں نہیں ہے۔ جہانگیر ترین کا جرم وہ نہیں،جو اچھالا جا رہا ہے۔ فرانزک رپورٹ سے کھل جائے گا کہ زرِ اعانت میں اس کے رسوخ کا دخل ہے یا نہیں۔ یہ تو سبھی کو ملا۔ مدتوں سے یہ کارِ خیرجاری ہے۔ اپوزیشن چیخ رہی ہے، گویا یہ پہلی بار ہوا ہو۔پندرہ ارب شریف خاندان نے بانٹا۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ زائد چینی پیدا ہی کیوں ہوتی ہے؟ گنّا بے دریغ پانی چوستا ہے۔کب سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ متبادل
مزید پڑھیے


گھنٹی کون باندھے گا؟

منگل 07 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم کے ہاتھ پاؤں ہی دھوکہ دہی پر تلے ہیں توبلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ وزیرِ اعظم نے ٹھیک کہا:ابھی کچھ دن ملک کو تنے ہوئے رسّے پر چلنا ہے۔ اس امتحان میں سب سے زیادہ اہمیت توازن کی ہوتی ہے۔کارخانے کھولنے ہیں،کام کاج کرنا ہے اور ہر طرح کی احتیاط بھی ملحوظ رکھنی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کو چینی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ 28دن تک لاک ڈاؤن جاری رہنا چاہئیے۔ یہ واضح نہیں، اس سے مراد موجودہ پابندی میں توسیع ہے یا نہیں۔ اس لیے کہ 14اپریل کو 28دن پورے ہو جائیں گے۔
مزید پڑھیے


ترقی

پیر 06 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
ساری کی ساری سائنسی ترقی دھری کی دھری رہ گئی اور پرندوں کی طرح آدمی گھروں کے پنجروں میں قید ہیں۔ کیا انسان کی آنکھ کھلے گی یا بگٹٹ وہ تباہی کی طرف بھاگتا چلا جائے گا؟ روز افزوں ترقی بجا مگر آدمیت بھی کوئی چیز ہے یا نہیں؟ سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے تو فطرت آدمی کو صدمہ پہنچاتی ہے۔ سب تضادات آشکار کر دیتی ہے۔زمین ظلم اور گندگی سے بھر گئی۔ آدمی کا طرزِ حیات ایسا ہو گیا تھا کہ عالمی قوتوں اور سماج کے طاقتوروں کو بہیمیت پر عملاً کوئی اعتراض نہ رہا۔ کتنی ہی قومیں یلغار
مزید پڑھیے


طرزِ فکر

جمعرات 02 اپریل 2020ء
ہارون الرشید
قدرت حادثات برپا کرتی ہے کہ اپنی غلطیوں کا آدمی ادراک کرے۔ پھر بھی کوئی سیکھنے اور سمجھنے سے انکار کر دے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ طرزِ احساس میں لچک کا فقدان خطرناک ہوتاہے، بہت خطرناک۔ لیڈر ہمارے بگڑ گئے اور اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم ان کے اندھے پیروکار۔ جس معاشرے کے رہنما احتساب کے خوف سے بے نیاز ہوں بلکہ دیوتا ؤں کی طرح پجتے ہوں، اپنی اصلاح کیوں کریں گے۔ معاشرے کا مزاج صدیوں میں ڈھلتا ہے اور آسانی سے بدلتا نہیں۔ تہہ در تہہ یہ سرپرستی کا معاشرہ ہے۔ ہر لمحہ سفارش اور سائبان کا
مزید پڑھیے