ہارون الرشید


آتا ہے بہت یاد جمالؔ احسانی


پروردگار کی کائنات بے کنار تنوع میں کار فرما ہے۔ ہزار رنگ ہیں اور سب رنگوں کا اپنا جمال۔قوس قزح، بادلوں، پھولوں، آبشاروں، جھرنوں، ندیوں اور ساحلوں کی طرح، شاعری بھی مالک کی عظیم ترین عنایات میں سے ایک ہے۔ شاعری اگر نہ ہوتی تو فصاحت بھی نہ ہوتی اور فصاحت کے بغیر زندگی کتنی بے رنگ، کتنی سطحی اور کٹھور سی۔ عرض کیا تھا کہ ماضی کبھی تحلیل نہیں ہوتا بلکہ ماضی ہوتا ہی نہیں وہ حال میں گھل جاتا ہے اور مستقبل کے نقوش اجاگر کرتا ہے۔ چالیس برس کے بعد جمال احسانی سے ملاقات ہوئی، تو پوری
پیر 10 فروری 2020ء

اصول یہ ہے

جمعه 07 فروری 2020ء
ہارون الرشید
اصول یہ ہے کہ آدمی کو آزمائش کے لئے پیدا کیا گیا اور یہ بھی کہ غلطی سے نہیں‘ غلطی پر اصرار کرنے سے تباہی آتی ہے۔ چودھری سرور سے ایک بار پھر معذرت۔ چودھری محمد سرور سے پہلے پہلی ملاقات کب ہوئی‘ کچھ یاد نہیں۔ یہ بھی نہیں یاد کہ یہ راولپنڈی شہر تھا یا اسلام آباد۔بھاگتا ہوا میں گیا۔تجسس یہ تھا کہ بظاہر ایک عام سا پاکستانی برطانوی پارلیمنٹ کا ممبر کیسے ہو گیا۔ چودھری صاحب اس دن فارم میں تھے۔ کسی نے کہا کہ قاضی حسین احمد ایسے جیّد آدمی پجیرو پہ کیوں اڑے پھرتے
مزید پڑھیے


کیوں نہیں؟

جمعرات 06 فروری 2020ء
ہارون الرشید
ترجیحات حکمران کو طے کرنا ہوتی ہیں ، مردانِ کار کا انتخاب بھی ۔ آدمی کی بجائے اگر وہ دیوتا بن جائے اور خود سے فرصت ہی نہ پا سکے ؟ محترمہ ثانیہ نشتر ویسی ہی لگیں ، جیسا کہ گمان تھا۔ تین الفاظ میرے ذہن میں ابھرے ۔simple، straight،اور sincere سادہ ، سیدھی اور مخلص ۔ اوّل ایک محترمہ تشریف لائیں۔ ڈھنگ سے اوڑھا ہوا دوپٹہ۔ بولیں : میں ثانیہ نشتر صاحبہ کی سیکرٹری ہوں ۔ میز کی طرف بڑھا تو انہوں نے دوسری طرف رکھے ہوئے صوفوں کی طرف اشارہ کیا ۔ تب معاً احساس ہوا کہ یہ
مزید پڑھیے


ہے کہاں روزِ مکافات اے خدائے دیر گیر؟

بدھ 05 فروری 2020ء
ہارون الرشید
وحشی کو صرف طاقت جھکاتی اور سپر انداز ہونے پر مجبور کر تی ہے۔ راجیو گاندھی کے سامنے سروقد کھڑے ضیاء الحق کے صرف ایک جملے نے جنگ ٹال دی تھی ۔ تصاویر تو سب آویزاں ہیں ۔پیلٹ گنوں سے چھلنی معصوم چہروں ، مقتل میں کھڑے کشمیر کے عالی ہمت رہنمائوں کے علاوہ انگلی کٹا کر شہیدوں میں شامل ہونے والے پاکستانی لیڈروں کی ۔ ایک سے دوسری شاہراہ تک ، یہ ایک دردناک منظر ہے ، بیک وقت جو اذیت ناک بے بسی اور ایثار کے جذبات اگاتا ہے ۔ امورِ کشمیر کے ممتاز ماہر ارشاد
مزید پڑھیے


جذبات اور جنون

منگل 04 فروری 2020ء
ہارون الرشید
یہ مکافاتِ عمل کی دنیا ہے ۔ ہر بونے والے کو اپنی فصل کاٹنا ہوتی ہے مگر جذبات اور جنون کے ماروں کو یہ بات کون سمجھائے ۔ تازہ افواہ یہ ہے کہ وزیرِ اعظم کے میڈیا ایڈوائزر افتخار درانی کو سبکدوش کر دیا گیا ہے ۔ خود درّانی صاحب تبصرہ کرنے سے گریزاں ہیں ۔ چند ماہ قبل انہیں پشاور بھیج دیا گیا تھا ۔ صوبے میں ضم ہونے والی قبائلی پٹی میں انہیں کچھ ذمہ داریاں سونپی گئیں ۔ فردوس عاشق اعوان ان سے ناراض ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے زمانے میں ، جب وہ
مزید پڑھیے



رک جائو‘ اب تو رک جائو

جمعه 31 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
انگریزی میں کہتے ہیںSomeone should cry halt۔ کسی نہ کسی کو چیخ کر کہنا چاہیے:رک جائو‘ خدا کے لئے اب تو رک جائو۔ ’’سندھ کے آئی جی کلیم امام کے بارے میں تم نے کچھ نہ لکھا‘‘ ایک بہت عزیز دوست نے شکایت کی۔ کلیم امام کے بارے میں لکھنے سے کیا حاصل۔ بہت سے ممتاز اخبار نویسوں نے زور لگایا تو کیا ہوا؟ جہاں تک اس ناچیز کا ادراک ہے‘ اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئی جی کا تقرر‘ اصلاً صوبائی حکومت کا حق ہے۔ وفاق مشورہ دے سکتا ہے مگر مشورہ ہی۔ زیادہ سے یہ کہ اس کی رضا مندی حاصل
مزید پڑھیے


زنجیریں

جمعرات 30 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کپتان کا اعلان یہ تھا کہ قیدیوں کی زنجیریں کاٹ ڈالیں گے لیکن وہ بھول گئے، سبھی کچھ بھول گئے ۔ اقتدار کی سرمستی میں بادشاہ سب کچھ بھول جایا کرتے ہیں ۔ہم خود بھی زندہ ہیں ۔اپنی زنجیریں خود بھی کاٹ سکتے ہیں ۔ ہفتے کی شام علیم خاں نے فون کیا: کیا پیر کی صبح تھوڑی سی فراغت میسر ہے ؟عرض کیا’’اسلام آباد واپس نہ جانا ہو تو پورا دن تعطیل کا ہوتا ہے ‘‘۔ بولے :کوٹ لکھپت میں چھوٹی سی تقریب ہے ۔ گورنر پنجاب چوہدری سرور سمیت کچھ دوستوں کو بھی زحمت دی ہے ۔ کوٹ لکھپت
مزید پڑھیے


مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے

بدھ 29 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
اندیشہ ہے کہ خلا باقی رہا اور اب کی بار دھماکہ ہوا توبہت زوردار ہوگا ۔ کون جانے پھر کیا ہو ۔ مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں سال رواں کے آخر میں بلدیاتی الیکشن بہر حال ہونا ہیں۔ سرکاری پارٹی مگر شش و پنج میں ہے اور دوسری جماعتیں بھی۔ شنید ہے کہ لاہور میں قومی اسمبلی کے ارکان سے وزیر اعظم کی ملاقات میں،اس موضوع کا ذکر ہوا تو گھبراہٹ سارے میں پھیل گئی۔ بیک آواز سب کے سب بول اٹھے کہ یہ خطرناک ہو گا۔ کامیابی کا
مزید پڑھیے


صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گل بھی ہے

پیر 27 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
ایٹمی پروگرام کے ضمن میں امین اور پختہ کار غلام اسحٰق خاں نے کہا تھا:جم کر کھڑے ہونا پڑتا ہے ۔ طوفان میں کشتی کی حفاظت کرناہوتی ہے ورنہ اچھے بھلے ملک پابہ زنجیر ہو جاتے ہیں ۔ سکّم اور بھوٹان بن جاتے ہیں ۔ صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گل بھی ہے انہی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تُو کر لے قدرت مواقع ارزاں کرتی ہے ۔ اب یہ آدمی پر ہوتا ہے کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے۔ لافانی ادیب شیکسپیئر نے کہا تھا : ہر شخص کی زندگی میں ایک لہر اٹھتی ہے
مزید پڑھیے


نظام نو؟

هفته 25 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کہیں سے بھی انصاف کی کوئی امید دور دور تک نظر نہیں آتی ۔ کہیں کوئی کرن نہیں پھوٹتی ۔ کہیں کوئی امید نہیں جاگتی ۔ کہیں کوئی نوید نہیں ۔ اگر اب بھی ایک نظامِ نو کی تشکیل پر غور نہیں ہوگا تو کب ہوگا ؟ کسی معاشرے کی موت اس وقت واقع ہونے لگتی ہے جب اس میں تغیر کی آرزو ہی مٹ جائے ۔ جب وہ خواب دیکھنا ہی چھوڑ دے۔ کیا ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے یا ایک نئے آغاز کی ۔گاہے یہ سوال اٹھتا ہے لیکن پھرشور و شغف میں گم ہو
مزید پڑھیے