ہارون الرشید



بے یقینی


عدمِ تحفظ اور بے یقینی کس قدر خوفناک چیز ہے ۔ انسانی کردار کا تمام حسن اور رعنائی برباد ہوتی ہے ۔ پارٹیاں نہیں ، ایسے میں جتھے بنتے ہیں ۔ تجزیے نہیں ہوتے ، تعصبات بروئے کار آتے ہیں ۔ جب تک یہ بات نہیں سمجھی جائے گی، کچھ نہیں ہوگا ، کبھی بھی نہیں ! کوپن ہیگن کی ایک سڑک پر کسی نے ہارن بجایا تو گاڑی میں سوار تین کے تین مسافروں نے بے ساختہ کہا ’’ کون پاگل ہے ؟ ‘‘ناروے کا دارالحکومت ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ مغرب کا تصور ذہن میں آتا ہے تو
اتوار 27 اکتوبر 2019ء

سلطانی ٔ جمہور

جمعه 25 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
جمہوریت اور میرٹ کا رونا بہت ہے ، نعرے اور چرچا بہت ۔ہمہ وقت سیاستدان اور دانشور سلطانی ء جمہور کا گیت گاتے ہیں ۔ فیصلوں کا وقت آتاہے تو یہ جمہوریت کہاں چلی جاتی ہے ؟ قاعدے، ضابطے اور روایات سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ شاہی فرمان کی طرح حکم صادر ہوتے ہیں اور برطرفی ناگہانی موت کی طرح ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب جنابِ عثمان بزدار نے چار ترقیاتی اداروں کے سربراہ برطرف کر ڈالے ، جو Development Authorities کہلاتے ہیں ۔ گوجرانوالہ کے عامر رحمٰن ، ملتان کے رانا عبد الجبار ، فیصل آباد
مزید پڑھیے


مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخر ی کتاب یہ کہتی ہے : لوگ سوئے پڑے ہیں ۔ موت آئے گی، تب جاگیں گے ۔ میر ؔ صاحب نے کہا تھا مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر خدا کی زمین آدمیوں سے بھری پڑی ہے مگر ان میں انسان کتنے ؟ کتنے ہیںجن سے سیکھا جا سکتا ، جن پہ رشک کیا جا سکتاہے ، جنہیں دیکھ کر امید جاگتی ، زندگی بامعنی لگتی ہے ۔ اب یہ معاشی حیوانوں کی بستیاں ہیں، جن میں کلیدی چیز اخلاق و احساس ، دردمندی اور خلوص نہیں بلکہ معاشی
مزید پڑھیے


اقتدار کے بھوکے

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
خلقِ خدا کی بہبود نہیں ، یہ صرف ذاتی نمود کے تمنا ئی ہیں اور سرکار ؐ کا فرمان یہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتاہے ۔ہمارے لیڈر اقتدار کے بھوکے اور ہم سب فریب خوردہ ۔ جمہوریت سے مراد اگریہ ہے کہ عام آدمی کی امنگوں او ررجحانات کو ملحوظ رکھا جائے ۔ سلطانی ء جمہورکا مطلب یہ ہے کہ ہیئت ِ مقتدرہ کی تشکیل خلقِ خدا کی رضا مندی سے ہو تو سر آنکھوں پر لیکن اس سے مراد اگر من مانی ہے ، فتنہ وفساد کی آزادی ہے تو صد ہزار بار
مزید پڑھیے


اعتراف

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
خطا سرزد ہو تو اعتراف کرنا چاہیے مگر یہ نہیں کہ ردعمل میں چوروںاور ٹھگوں کا دامن تھام لیا جائے۔ اس دن سے پہلے اللہ اس دنیا سے اٹھا لے کہ میں اس قماش کے لوگوں کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کروں۔ تین عشرے ہوتے ہیں،جناب احمد ندیم قاسمی کا جملہ پڑھا تو حیرت زدہ رہ گیا’’اخوان المسلمون نے اس دور میں سنّت منصورتازہ کر دی‘‘ وہ ایک مانے ہوئے ترقی پسند تھے اور کوئی ان سے یہ گمان نہ لگتا۔ ابوالکلام آزاد اور سید ابواعلیٰ مودودی کے دیرینہ رفیق نصراللہ خان سے منسوب ایک بات کبھی سنی تھی‘ وہ
مزید پڑھیے




حکومت اگر جاتی رہی

جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ہنگامہ اگر نتیجہ خیز ہوا ، حکومت اگرجاتی رہی تو فتنہ و فساد کے نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ بنے گا کچھ نہیں ، بگڑے گا بہت کچھ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نام نہاد جمہوریت کی بساط ہی لپیٹ دی جائے ۔ مانو نہ مانو جانِ جہاں اختیار ہے ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں مولانا فضل الرحمٰن سے ہمدردی رکھنے والوں کے اندازے اگر ٹھیک ہیں تو ایک طوفان آئے گا۔اسلام آباد نہ پہنچ سکے تو پنجاب ، بلوچستان اور پختون خوا میں جھڑپیں ہوں گی ۔ان کے مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے
مزید پڑھیے


مکافاتِ عمل

اتوار 13 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
الطاف حسین اور بھٹو کی طرح کپتان کے فدائین بھی بے شمار مگر کیا وہ اس کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ‘ یا وہ حی القیوم، جسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ ۔ رحمتہ اللعالمینؐ کا فرمان یہ ہے کہ خدا کی مخلوق خدا کا کنبہ ہے ۔ بھٹو کا اقتدار بعد میں چھنا مگر شاید آسمانوں میں ان کی معزولی کا فیصلہ 23مارچ 1973ء کو ہو گیا تھا ۔لیاقت باغ میں اپوزیشن کے جلسہ عام پر گولیوں کی بارش ہوئی اور دس لاشیں اٹھاکے ولی خان جب دریائے کابل کے پار پہنچے۔ الیکشن 1970ء میں سندھ اور
مزید پڑھیے


یہ فصل امیدوں کی ہمدم

جمعه 11 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
بات ادھوری رہ جاتی ہے ۔ذہن میں موضوع یہ تھا کہ تحریکِ انصاف میں بدنظمی ہمیشہ کیوں مسلط رہی ۔ حصولِ اقتدار کے بعد امیدوں کی فصل کیوں برباد ہوئی ۔ کل انشاء اللہ اس پہ بات کریں گے ، آج تو تصور تمہید میں تمام ہوا۔ یہ 1996ء کا موسمِ گرما تھا ۔ سیاست کے خارزار میں عمران خان اتر چکے تھے ۔ راولپنڈی پریس کلب نے انہیں مدعو کیاتو خان نے خواہش ظاہر کی کہ میں ان کے ساتھ جائوں ۔ چھوٹتے ہی اس نے نواب زادہ نصر اللہ خاں مرحوم کو لوٹا قرار دیا اور کہا
مزید پڑھیے


دنیا ہے نہ دین

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
سطحیت ، کم علمی اور آخری درجے کی بد ذوقی ۔ خدا کے لیے ،خدا کے لیے ! بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق بے دلی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں 1990ء میںسندھ اور پنجاب کے میدانوں پہ خزاں کا راج تھا ۔بھٹو مخالف اسلامی جمہوری اتحاد کے دفاتر میں مگر یہ بہار کا موسم تھا۔ آتشِ گل سے دہک رہا تھا چمن تمام ۔صدر کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا انتخاب نواب زادہ نصر اللہ خاں تھے لیکن صدر کو غیر معمولی اختیارات بخشنے والی آٹھویں ترمیم پر سمجھوتہ کرنے سے بزرگ سیاستدان نے انکار کر
مزید پڑھیے


مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
شاعر نے کہا تھا ،کپتان اور ان کے محتسب پہ صادق آتا ہے۔ سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا اول تو آہ و بکا سنائی دی،اب وضاحتوں کا سلسلہ۔ یہ کہ کاروباریوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے حکومت کی شکایت نہیں کی ، فریاد نہیں کی۔گلہ مند ہوئے نہ شور مچایا۔ایسا اگر نہیں تھا تو فوراً ہی تردید کیوں نہ داغ دی۔سچائی شاید کہیں بیچ میں پڑی سسک رہی ہے۔تجاویز پیش کیں ، بعض باتوں مثلاً شناختی کارڈ کی شرط پہ روہانسے بھی ہوئے۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ احتجاج کی لے بہت
مزید پڑھیے