ہارون الرشید


منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں


پاکستانی قوم کے مزاج میں ہیجان ہے ، شخصیت پرستی ہے ، ضد پائی جاتی ہے ۔ بڑے اور چھوٹے ، ہم میں سے ہر ایک کو شاید اس نکتے پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔بس یہی ایک کام ہے ، جس پر ہم آمادہ نہیں ۔ آئینِ نو سے ڈرنا ، طرزِ کہن پہ اڑنا منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں پاکستانی سیاست سنور سکتی ہے اور معیشت بھی لیکن اس طرح نہیں ، جس طرح ہم تراشنے اور سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ علم اور ادراک سے ۔ خالص علمی تجزیے اور مسلسل ریاضت سے ۔
جمعرات 23 جنوری 2020ء

کس منہ سے ؟

بدھ 22 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
پی ٹی آئی کے ایک جواں سال لیڈر نے یہ کہا : ہم پلٹ کر دیکھیں یا سامنے ، خوابوں اورخیالوں کی ایک پامال فصل ہے۔ آزاد کشمیر کے آئندہ الیکشن میں کس منہ سے ہم ووٹ مانگنے جائیں گے ؟ کیا ہر گزرتے دن کے ساتھ وزیرِ اعظم کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں ؟کیا وجوہات وہی ہیں ، مردم نا شناسی اور ذہنی مشقت سے گریز ؟ آزاد کشمیر کے الیکشن سترہ ماہ کے فاصلے پر ہیں ۔ اسمبلی میںنون لیگ دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ساتھ براجمان ہے ۔ پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور کا ثمر ، آزاد
مزید پڑھیے


کب تک؟ آخر کب تک؟

اتوار 19 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
کس چیزکا انتظار؟ آخر کس چیز کا؟ کب تک ‘ آخر کب تک؟ فراری ذہنیت کی کوئی آخری حد ہوتی ہے‘ بے حسی اور سنگ دلی کی کوئی انتہا! عمران حکومت کے باب میں کوئی چیز اس قدر حیرت زدہ نہیں کرتی‘ جتنا کہ مقبوضہ کشمیر پہ اس کا رویّہ۔ جبر اور سفاکی کی کوئی جہت نہیں جو بروئے کار نہ آئی ہو۔ ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور وحشت اپنی انتہا کو پہنچی۔ شاید ہی کوئی گھر بچا ہو۔ شاید ہی کوئی بچہ‘ بوڑھا‘ خاتون اور نوجوان ہو ‘جو انتقام کا نشانہ نہیں بنا۔ اس کے باوجود کوئی لائحہ عمل
مزید پڑھیے


سنگدلی

جمعه 17 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، یہ دل ہیں ، جو سینوں میں اندھے ہو جاتے ہیں ۔ تو اگر اپنی حقیقت سے خبر دار رہے نہ سیاہ روز رہے ، پھر نہ سیہ کار رہے ایسے اذیت دہ واقعات پر طبیعت بھڑک اٹھتی ہے ۔ بے قابو کر دینے والا اشتعال اور برہمی۔ ابتدا میں شاید ایسا ہی ہوا ۔ پھر ملال کی ایک گہری کیفیت نے آلیا۔سرما کے سیاہ بادل کی طرح جو ٹلتا ہی نہیں ۔ چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے لیڈر صاحب نے کیا کیا ؟ اور ٹی
مزید پڑھیے


ماجرا

جمعرات 16 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
خلق ہم سے کہتی ہے ساراماجرا لکھیں کس نے کس طرح پایا اپنا خوں بہا لکھیں چشمِ نم سے شرمندہ ہم قلم سے شرمندہ سوچتے ہیں کیا لکھیں؟ اخبار نویس کو مخمصے کے پار اترنا ہوتاہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک بڑی خبر ہو اور اس کے سارے پہلوئوں پر وہ روشنی ڈال نہ سکے۔ ہر آدمی دسترس میں نہیں ہوتا ۔ کچھ پہلو خطرناک ہوتے ہیں ۔ خطرہ مول لیا جا سکتاہے مگر کتنا ؟ فیض احمد فیضؔ نے کہا تھا : قاری کبھی اندازہ نہیں کر سکتا کہ لکھنے والے نے کتنے مترادفات مسترد کیے ہیں ۔ یہی نکتہ
مزید پڑھیے



کاٹھ کے کھلاڑی

منگل 14 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آنے والے کل میں کیا لکھا ہے ، کوئی نہیں جانتا ۔ کبھی تو ایسا لگتا ہے کہ وقت ایک نیا ورق الٹنے والا ہے ۔ کاٹھ کے یہ سارے کھلاڑی جل بجھیں گے ۔ جہاں تک تجزیے اور تخمینے کا تعلق ہے ، اب تقریباًحتمی طور پر یہ بات طے پا چکی کہ پی ٹی آئی کی حکومت پانچ برس پورے نہ کر سکے گی مگر یہ بھی نہیں کہ ہتھیلی پہ سرسوں جما دی جائے ۔ جو کچھ ہوگا ، بتدریج ہوگا ، بندوبست کر لینے کے بعد ۔ خان صاحب اور ان کے حلیف ایک دوسرے سے
مزید پڑھیے


شیخ چلی کا خواب

پیر 13 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
انسان کی فطرت میں مخاصمت ہے۔ افراد یا اقوام، نفرت دھوئی جا سکتی ہے اورگاہے مکمل طورپر بھی۔ مگر یہ عمران خان اور شاہ محمود ایسے لوگوں کے بس میں نہیں ہوتا۔ بار بار دہرایا گیا، وہی شعر بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے سعودی عرب اور ایران کا دورہ،اصل موضوع ایران، عرب تعلقات نہیں، افغانستان ہے۔ طالبان اور صدر ٹرمپ معاہدے کے قریب پہنچ چکے۔ درحقیقت معاہدہ مرتب ہو چکا۔ ٹرمپ کو افغانستان سے نکلنا ہے کہ 100ملین ڈالر کے اخراجات بچا کر، امریکہ میں فلاحی پروگراموں پر خرچ کر سکے۔ امریکی عوام کی
مزید پڑھیے


سبطین خان کی کہانی

جمعه 10 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
آسماں دور ہے اور اللہ بے نیاز ۔ مگر آسماں اتنا بھی دور نہیں اور اللہ ایسا بھی بے نیاز نہیں پنجاب کے وزیرجنگلات سبطین خان کی گرفتاری اور رہائی کے باب میں سوالات ہیں اور کوئی ان سوالوں کا جواب نہیں دیتا ۔اوّل بے گناہی واضح ہونے کے باوجود انہیں پکڑا ہی کیوں گیا۔ صوبے کی وزارت معدنیات اور ایک نجی کمپنی میں معاہدے پر دستخط 2008ء میں ہوئے۔ سبطین اس وقت وزیر تھے ہی نہیں۔ حکومت سے الگ ہوئے کئی ماہ بیت چکے تھے اس کے باوجود ستمگروں کا ہدف وہ کیوں ہوئے؟ ثانیاً معاہدے کی منظوری دینے والے نگران
مزید پڑھیے


واویلا

بدھ 08 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
ہر شہری کی آبرو‘ جس میں محفوظ ہو اور ہر زخم کے اندمال کا امکان بروقت اور برمحل بروئے کار آنے والے نظام انصاف کی تشکیل‘ حکومتوں اور سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے یا اخبار نویسوں کی؟ دلدل میںدھنسے آدمی کو سجھائی نہیں دیتا۔اندیشے غالب آتے ہیں ‘تو فہم کاچراغ بجھنے لگتا ہے ۔ وفاقی وزیراسی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ان کے لئے متعّین کرنا مشکل ہو گیا کہ اب کیا کریں ۔ ایسے میں آدمی فریادکیا کرتا ہے ۔ خود کو مظلوم بنا کر پیش کرتاہے ۔چاہتا ہے کہ اس پہ ترس کھایا جائے اور اس کی مدد کی جائے۔
مزید پڑھیے


ملّت کے گناہ

منگل 07 جنوری 2020ء
ہارون الرشید
تیسری عالمی جنگ کا خطرہ سر پہ منڈلا رہا ہے… اور اقبالؔ یاد آتے ہیں: فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے کبھی کرتی نہیں ملّت کے گناہوں کو معاف اقوام کی باہمی آویزش بنی نوع انسان کی تقدیر ہے۔ یہ آدمی کی سرشت میں ہے۔ روز ازل اسے بتا دیا گیا تھا کہ تم سے بعض‘ بعض کے دشمن ہونگے۔ لشکر ہمیشہ لشکروں سے ٹکراتے رہے۔ جدید جنگوں کا معاملہ اور بھی ہولناک ہے۔ زرہ پوش افواج سے زیادہ عام آبادی ہدف ہوتی ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی سرخ سپاہ نے تیرہ لاکھ شہریوں کو قتل کر ڈالا اور تیرہ
مزید پڑھیے