BN

ہارون الرشید



کچھ دن کے لیے


چیخنے چلانے اور خوئے انتقام کی آبیاری کرنے کی بجائے ، کچھ دن ہم تامل نہیں کر سکتے ؟ سوچ بچار کے لیے کچھ وقت نہیں نکال سکتے ؟ اپنے گریباں میں منہ نہیں ڈال سکتے ؟ امتحان ہمیشہ آتے ہیں اور بہت کڑے امتحان ۔ حواس گم کر دینے والی آزمائشیں بھی ۔ انسان کو پیدا ہی اس لیے کیا گیا کہ آزمایا جائے ۔ مشکل اور مصیبت کوئی بری چیز ہوتی تو اپنے بہترین بندوں کو پروردگار اس میں کبھی مبتلا نہ کرتا ۔ طائف کی گلیوں میں آوارہ چھوکروں نے اس عظیم ہستیؐ پر پتھر برسائے تھے
جمعه 24 مئی 2019ء

چراگاہ

جمعرات 23 مئی 2019ء
ہارون الرشید
کیا کبھی یہ ایک قوم بنے گی یا ریوڑ ہی رہے گا ؟ اب یہ ہم پر ہے کہ قہرمانوں کی مان لیں ۔ بائیس کروڑ انسانوں کا ملک آئندہ نسلوں کے لیے بھی چراگاہ ہی بنا رہے یا اٹھ کھڑے ہوں ۔ ان کا فیصلہ ان کے منہ پر دے ماریں ۔ کوئی جملہ ایسا ہوتاہے کہ دریا میں ملا دیا جائے تو اس کا پوراپانی کڑوا ہو جائے ۔ کبھی وفورِ جذبات میں آدمی ایسی عاقبت نا اندیشی کا ارتکاب کرتاہے ، جس کے اثرات سمیٹے نہیں جا سکتے ۔ اسی لیے کہا جاتاہے زبان کا زخم تلوار
مزید پڑھیے


کبھی تو ان کے روبرو ہوں گے

اتوار 19 مئی 2019ء
ہارون الرشید
کبھی یہ خیال تسکین دیتاہے کہ اس خاک داں میں جو بچھڑ گئے ، کبھی ان سے ملاقات ہوگی ۔کبھی تو ان کے روبرو ہوں گے ۔میرؔ صاحب نے کہا تھا موت اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر قمر زماں کائرہ کے فرزند کا انتقال ہوا تو ہمدردی کا طوفان اٹھا ، ہزاروں پیغامات ۔ ایک بار پھر احساس ہوا کہ معاشرے میں زندگی ابھی باقی ہے ۔ ابھی کچھ گداز برقرار ہے ۔ ایک مختلف آواز بھی سنائی دی :تم سب اس نامور آدمی کی اولاد کو روتے ہو ۔ اس خوبصورت اور
مزید پڑھیے


اب کیا ہوگا؟

هفته 18 مئی 2019ء
ہارون الرشید
لگتا یہ ہے کہ اب کی بار کچھ اور ہی ہوگا ۔ کیا ہوگا ؟ اللہ ہی جانے ، جس کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیںجانتا ۔ دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتاہے کیا تو کیا اپوزیشن تل گئی؟ کیا عمران حکومت کو اکھاڑ پھینکا جائے گا؟ کچھ سوال ہوتے ہیں ، جن کا جواب آنے والا کل ہی دیتاہے ، باقی سب ظن و گمان۔ سیاسی حرکیات کے طالبِ علم اندازے لگا سکتے ہیں ، جو کبھی درست ہوتے ہیں ، کبھی نا درست ۔ کبھی ٹھیک سے آدمی حالات کو پڑھ
مزید پڑھیے


کب تک ، آخر کب تک ؟

جمعه 17 مئی 2019ء
ہارون الرشید
کیا ہم سب بے بس ہیں ؟ کیا خان صاحب بھی بے بس ہیں ؟ کب تک نام نہاد اشرافیہ گِدھوں کی طرح اس ملک کو نوچتی رہے گی ؟ کب تک صبر کیے ہم بیٹھے رہیں گے ؟ کب تک ، آخر کب تک ؟ بتوں سے تجھ کو امیدیں ، خدا سے نو میدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے خبر یہ ہے کہ بھوک ، بے روزگاری ، بے یقینی اور گرانی کے باوجود عمران خاں اب بھی ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے
مزید پڑھیے




اقتدار کے بیمار

جمعرات 16 مئی 2019ء
ہارون الرشید
بحران ٹل گیا ، لگتا ہے گھڑ سواروں کو قرار کا حکم ملا ہے ۔ اقتدارکی غلام گردشوں میں سازش کرنے والے مگر باز نہیں آیا کرتے ۔معیشت دلدل میں ہے ،دشمن سرگرم،سرحدوں پہ دبائو،مہم جوئی سے مزید خرابی، مزید الجھائو ، مزید پریشانی ۔اقتدار کے بیماروں کو اللہ تعالیٰ صبرِ جمیل عطا کرے ! بالکل مختلف پس منظر کے باوجود وزیرِ اعظم فاروق حیدر اور عمران خاں میں کچھ مشابہت بھی ہے ۔ دونوں اپنی ریاضت کے بل پر اٹھے اور لوہا منوایا ۔ دونوں درمیانے طبقے سے ۔دونوں زندگیوں میں وسائل کا عمل دخل کبھی زیادہ نہ تھا۔ فاروق
مزید پڑھیے


عہدِ زوال

اتوار 12 مئی 2019ء
ہارون الرشید
ہمارے حاکم ہمارے اعمال کی سزا سہی، یہ زمانہ زوال کا ہی سہی ۔اللہ کا شکر ہے کہ دیہات، قصبات اور شہروں میں آج بھی چراغ جلتے ہیں ۔ موٹروے سے سرگودھا جاتے ہوئے ،چنیوٹ سے آگے ایک چھوٹے سے قصبے کا نام لالیاں ہے ۔ لالی نام کے ایک قبیلے سے منسوب۔ مرکزی سڑک سے دوتین کلومیٹر بائیں ہاتھ مہر صاحب کا گائوں واقع ہے ،’’کان ویں والی!‘‘۔ دو تین ہی ملاقاتیں ہوئیںمگر میری یادوں میں ابد آباد تک وہ زندہ رہیں گے ۔ میرے خالہ زاد بھائی میاں خالد حسین اور سابق سینیٹر طارق چوہدری گھومنے پھرنے کے
مزید پڑھیے


چاہ کن را چاہ درپیش

هفته 11 مئی 2019ء
ہارون الرشید
یہ مکافاتِ عمل کی دنیا ہے ۔ دوسروں کے لیے گڑھا کھودنے والا خود بھی اسی میں گرتاہے ۔ یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے ، یہی تاریخ کا سبق ہے ۔ مگر جبلتوں کا ماراآدمی بھی عجیب ہے ۔ ہر روز ٹھوکر کھاتا، کھا کر اٹھتا اور پھر سے جھک مارنے پہ تل جاتاہے ۔ مراد سعید کی تقریر پہ اوّل حیرت ہوئی، جس میں بلاول کو انہوں نے بے نقط سنائیں۔ پھر خیال آیا کہ سب ایک جیسے ہیں ۔کوئی کسر بلاول بھٹو نے بھی چھوڑی نہیں تھی ۔ جس معاشرے نے اپنے مخالفین کو گالیاں بکنے کے
مزید پڑھیے


رفتگاں کی یاد

جمعه 10 مئی 2019ء
ہارون الرشید
وزیرِ اعظم اور ان کے نقاد خدا جانے کیا چاہتے ہیں ۔ جی چاہتا ہے کہ رفتگاں کی کہانی لکھوں ۔جی چاہتا ہے کہ اپنے دوست فاروق گیلانی اور ماسٹر محمد رمضان سے لے کر لالیاں کے مہرحبیب سلطان تک، سبھی کی ۔ اس سچی اور کھری روحانیت کی جو آدمی کو حیوانیت سے نجات دلاتی اور بالیدگی عطا کرتی ہے ۔ اللہ جانے سبب کیا ہے، جانے والوں کی یاد اب زیادہ آنے لگی ہے ۔ حضرتِ اظہار الحق سے عرض کیا کہ فاروق گیلانی پر لکھی گئی اپنی نظم ارسال فرمائیں ، انتظار میں ہوں ۔ سویر اٹھا تو
مزید پڑھیے


شعبدہ بازی

جمعرات 09 مئی 2019ء
ہارون الرشید
جرأت و شجاعت منڈی کا مال ہوتی تو شریفوں اور زرداریوں کے کھربوں کام آتے ۔فہم و بصیرت بازار میں بکتی تو عمران خاں خرید لیتے ۔ عظمتِ کردار کا کوئی بدل نہیں ، کوئی شعبدہ بازی ، کوئی ہنر، کوئی سرپرستی ، حتیٰ کہ عوامی مقبولیت بھی نہیں ۔ انسانی جذبات نہیں ، تاریخ کا رخ تقدیر متعین کرتی ہے ۔ زندگی اور کائنات کے دیر پا ، ازلی اور ابدی قوانین ۔ اڑنے سے پیشتر ہی میرا رنگ زرد تھا ۔ تیاری کے ہنگام ہی لیگیوں کا خیال یہ تھا کہ شاید دو تین ہزار سے زیادہ
مزید پڑھیے