BN

ہارون الرشید



شام روتے ہوئے جنگل سے ہوا آئی ہے


کہیں مودی آگئے کہیں ڈونلڈ ٹرمپ ، حادثے پہ حادثہ ہے۔ بگٹٹ ،آدم کی ساری اولاد بستیوں کو جنگل بنانے پہ تلی ہے۔حادثے پہ حادثہ۔فرمایا :سب خشکی اور تمام تری فساد سے بھر گئی اور یہ آدم زاد کی اپنی کمائی ہے۔ میانوالی کے اس دور دراز گائوں میں ، گائوں کے باہر ،بکائن کے درختوں کی چھائوں میں ہم لیٹ رہے۔اسد الرحمان نے کہا:اتنا گھنا سایہ ہے کہ ہلکی بارش ہو تو ایک بوند بھی نہیں گرتی۔’’ہوا کیسی ہے ؟ ‘‘۔اسد نے پوچھا’’شاندار‘‘۔شاندار نہیں خمار انگیز، حیرت ناک۔ ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ نوشی ہے باد پیمائی چک نمبر بیالیس جنوبی
هفته 05 اکتوبر 2019ء

بلی کا رنگ

جمعه 04 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
ڈنگ سیائو پنگ کو عمران خان سے زیادہ مزاحمت کا سامنا تھا ۔رفتہ رفتہ، دھیرے دھیرے اس نے انہیں سمجھایا : سوال یہ نہیں ہوتا کہ اس کا رنگ سیاہ ہے یا سفید ، دیکھنا یہ ہوتاہے کہ بلی چوہے پکڑتی ہے یا نہیں ۔ رفتہ رفتہ بتدریج اپنے لوگوں کو اس نے قائل کر لیا اور اس لیے بھی وہ قائل ہو گئے کہ ہن برس رہا تھا ، ویرانے آباد ہو رہے تھے ۔ اپنے نائبین کو عمران خان کیا قائل کر سکتے ہیں ؟ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ملاقات میں کاروباری
مزید پڑھیے


افتاد

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ہارون الرشید
فرمایا: لوگ سوئے پڑے ہیں ، موت آئے گی تب جاگیں گے ۔ سدا آباد ، سدا سرسبز ،امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ،ایک چھوٹے سے فلیٹ میںایک آدمی اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتا ہے ۔ پرانا سا کوٹ پہنے ، ہر روز وہ اپنے گھر کی سیڑھیاں اترتا اور بس سٹاپ پہ جا کھڑا ہوتاہے ۔ اس کے ہاتھ میں پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا بیگ ہوتاہے ۔ ایک عام سی گھڑی کلائی پر، چہرے پرسستی سی عینک۔سرتاپا عام سا ایک آدمی ۔ چک فینی اس آدمی کا نام ہے ۔ برسوں نہیں ، عشروں تک
مزید پڑھیے


تقریر

اتوار 29  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
بیماری اور درد کے مارے مریض کو اگر یہ خبرملے کہ اس کے بیٹے نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلی ہے۔فوراً ہی اسے ایک بہترین ملازمت کی پیشکش بھی ملی ہے تو کیا وہ شاد نہ ہوگا لیکن کیا اس سے درد اور بیماری جاتی رہے گی ؟ قطعاً اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان کی تقریر ایک شاہکار تھی۔صرف پاکستان ہی نہیں تمام عالم اسلام کی امنگوں اور جذبات کی ترجمان۔کہا جاتا ہے کہ کسی عام سے بے گناہ آدمی کو دو تھپڑ رسید کر دئیے جائیں تو اس کے اندر کا خطیب جاگ اٹھتا ہے۔
مزید پڑھیے


حیات تازہ اپنے ساتھ لائی لذتیں کیا کیا

هفته 28  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
حسین بن منصور حلاج نے کہا تھا:ان کیلئے میں روتا ہوں ، رائیگاں جو چلے گئے ۔ ان کیلئے میں روتا ہوں ،راستوں اور راہوں میں جو سرگرداں ہیں ۔ یہ کالم ایک سرکاری دفتر میں لکھا جا رہا ہے ۔مسا فت میں ہوں ،اس کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں ۔بے ڈھب سا ایک کام آن پڑا تھا ۔وہ جو بے ترتیب اور کاہل آدمی کے سا تھ ہوتا ہے ،چنا نچہ تا خیر ہو گئی ۔یہ ایک شائستہ آدمی کا ٹھکا نہ ہے ۔غسل خا نے میں جا نے کی ضرورت پڑی تو جی شاد ہو گیا ۔اجلا اور
مزید پڑھیے




طاقت ایک نفسیاتی چیز ہے

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
پاک فوج کے اساطیری فرزند بریگیڈئیر سلطان کہا کرتے : دشمن اتنا ہی بزدل ہوتا ہے۔ جتنے آپ بہادر اور دشمن اتنا ہی بہادر ہوتا ہے جتنے آپ بزدل ،طاقت ایک نفسیاتی چیز ہے ۔ جنگ کی آرزو نہ پالنی چاہئیے ۔ سیدنا عمر فاروقِ اعظمؓ نے کہا تھا : میں چاہتا ہوں کہ ایران اور عرب کے درمیان آگ کی ایک دیوار حائل ہو جائے ۔ جدید جنگیں اور بھی ہولناک ہوتی ہیں ۔جنگِ بدر کے ہنگام، سیدنا بلالِ حبشیؓ نے اعلان کیا تھا :کھیت نہیں جلایا جائے گا، فصل نہیں کاٹی جائے گی ۔ عورت ، بچے اور
مزید پڑھیے


تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

اتوار 22  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
رفوگری سے کام نہیں چلے گا۔ ایک صدی ہوتی ہیں جب شاعر نے کہا تھا مصحفی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا عمران خان کے بہی خواہ پریشان ہیں ،بہت پریشان۔یہ ان کا ذکر نہیں جو دورکھڑے تماشائی ہیں۔ یہ وہ ہیں، عمر بھر جو معرکوں میں شریک رہے اور پے در پے کامیابیاں حاصل کیں۔ مشکلات اور بحرانوں میں جنہیں یاد کیا جاتا ہے۔ کم از کم تین ایسے آدمی ہیں جنہیں میں جانتا ہوں، ممکن ہے کچھ دوسرے لوگ اس سے بھی زیادہ اہل ہوں۔ روزازل ابلیس نے
مزید پڑھیے


شاید،شاید

هفته 21  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
نالائق اور خود غرض افسروں اور مشیروں سے وزیرِ اعظم کیا چھٹکارا پا سکتے ہیں ؟ بد قسمتی سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ سوچنے سمجھنے والوں کی ذمہ داری بہرحال یہ ہے کہ تضادات کی نشاندہی کرتے رہیں۔اپنی بات دہراتے رہیں۔ اصرار کرتے رہیں، شاید ،شاید! لیڈر کامیاب نہیں ہو سکتا ، اپنے ماتحتوں کی جو رہنمائی نہ فرما سکے۔ خود جوسمجھتا نہ ہو ، دوسروں کو کیسے سمجھائے گا؟ وزیرِ اعظم کو خلقِ خدا مہلت دینا چاہتی ہے تو ظاہر ہے کہ خود خالق بھی ۔ اس لیے کہ آوازِ خلق نقارہء خدا ہوتی ہے
مزید پڑھیے


عمران خان اب تک ناکام کیوں ہے

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
ساری خرابی تجزیے کی ہوتی ہے ۔ تجزیہ ناقص ہوتو عمل بے ثمر ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے ۔ وہ نہیں اٹھ سکتا ۔ اب تک نہیں اٹھ سکا ۔ اللہ اس کا حامی و ناصر ہو ۔ عمران خان کا مسئلہ کیا ہے ۔بطورِ وزیرِ اعظم ، اب تک کوئی بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکا؟ سب جانتے ہیں ، بس وہی ایک نہیں جانتا ۔ پتہ پتہ ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے کرکٹ پر اپنی خود نوشت میں اس
مزید پڑھیے


یہ کہانی پھر کبھی

اتوار 15  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
تین صدیاں پہلے مغرب میں صنعتی انقلاب اور سلطانی جمہور کی تحریک پھوٹی تھی ‘بلکہ سائنسی انداز فکرکی ایک ہمہ گیر اخلاقی تحریک بھی ‘ مگر یہ کہانی پھر کبھی۔ رفیق سہگل مرحوم نے روزنامہ آفاق کے اجرا کی افتتاحی تقریب میں یہ کہا:دو آرزوئیں تھیں‘ ٹیکسٹائل مل اوراخبار۔ پروردگار نے آج دوسری تمنا بھی پوری کر دی۔ استاد گرامی جناب جمیل اطہر راوی ہیں کہ میزبان کے بعد روزنامہ عوام کے مدیر خلیق قریشی مرحوم اٹھے اوریہ کہا:میری خواہش بھی یہی تھی۔ حماقت یہ ہو گئی پہلے اخبار نکالا۔ روزنامہ آفاق غتر بودہو گیا۔ پارچہ بافی کا کاروبار پھیلتا گیا۔
مزید پڑھیے