BN

ناصرخان



مریم اور بلاول کے ادھورے سچ!


بات ہورہی تھی مریم اور بلاول کے اس شور کی جو وہ عمران خان کے خلاف برپا کررہے ہیں۔ جھوٹ کا طومار اور پھر اس کی بھرمار۔ اس آگ کو ہوا دے رہا ہے، ریٹنگ کا متلاشی میڈیا۔ کبھی ریکوڈک، پھر برطانیہ کا ’’دی میل‘‘ اور پھر شہباز شریف کے منجمد اثاثے۔ ویسے ویڈیو سکینڈل سب سے زیادہ ریٹنگ لے رہا ہے۔ اعلیٰ عدالت اگرچہ نوٹس لے چکی ہے مگر انگریزی محاورے کے مطابق اس الماری میں بہت سے ڈھانچے ابھی باقی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اشرافیہ ان ڈھانچوں کا برآمد ہونا Afford کر پائے گی؟
جمعه 19 جولائی 2019ء

مریم اور بلاول کے ادھورے سچ !

اتوار 14 جولائی 2019ء
ناصرخان
چوری اور سینہ زوری کامحاورہ شاید ایسی ہی صورتحال کے لیے بنا تھا ۔ جعلی بے نظیر مسلم لیگ ن کو وراثت میں لے اڑی اور چچا اور بیچارے کو اُسکا ساتھ دینا پڑ رہا ہے ۔ جج ارشد ملک پر دبائو تھا ۔۔ اوکے ۔۔ اسے ٹپ کیا جا رہا تھا ۔۔ جی درست۔ مگر دو غلط آپس میں ضرب کھائیںتو جواب درست کیسے آسکتا ہے ۔ میاں نواز شریف ۔۔۔ ان کے برادر خورد اور آل شریف بمعہ مریم ، حسین، حسن پلس حمزہ اور سلمان نے جو کچھ اس ملک کے ساتھ کیا اس کے بعد
مزید پڑھیے


سفیرانِ حرم (آخری قسط)

جمعه 12 جولائی 2019ء
ناصرخان
امام احمد بن حنبلؒ بغداد میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام حنبل بن بلال تھا۔ اس لیے لفظ حنبل آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگیا۔ آپ نسلی اعتبار سے عرب تھے۔ آپ کے دادا اور چچا نے عباسیوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ حکام کو تازہ ترین حالات سے باخبر رکھیں۔ ایک بار حاکم نے آپ کے چچا سے پوچھا ’’تم نے آج کی خبریں کیوں نہیں بھیجیں؟ میں اپنے بھتیجے احمد کے ہاتھ ساری خبریں آپ کو بھیج چکا ہوں۔ چچا حیران تھا کہ خبریں حاکم وقت کے ہاتھ
مزید پڑھیے


سفیرانِ حرم (1)

اتوار 07 جولائی 2019ء
ناصرخان
بنو عباس کے خلیفہ منصور اور اس کی بیوی حرہ خاتون کے مابین دوران گفتگو تلخی پیدا ہوگئی۔ اسے شکایت تھی کہ خلیفہ انصاف نہیں کرتا۔ منصور نے ا س بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی کو منصف مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ حرہ خاتون نے امام ابوحنیفہؒ کا نام تجویز کیا۔ منصور نے اس وقت آپ کو دربار میں طلب کرلیا۔ حرہ خاتون پردے میں ہمہ تن گوش ہوگئیں۔ منصور نے پوچھا … شرع کے اعتبار سے ایک مرد کتنے نکاح کرسکتا ہے؟ چار … امام نے جواب دیا … مگر تھوڑے توقف کے بعد بولے …
مزید پڑھیے


تبدیلی؟

جمعه 05 جولائی 2019ء
ناصرخان
یہ وہی تحریک انصاف ہے جس نے حکومت میں آنے کے لیے کیا کیا جتن نہ کیے تھے۔ دل ربا ہم نے تیرے پیار میں کیا … کیا نہ کیا؟ … پی ٹی آئی نے دل تو نہیں دیا مگر البتہ اس چکر میں بے تحاشہ درد ضرور لے لیے ۔ کیا عمران خان نہیں جانتے کہ ان سے پہلے جو جو حکومت میں رہا … اس نے جو جو کچھ کیا … وقت کی سان پر وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا؟ جب مشرف نے 1999ء میں شریف حکومت ختم کی تو سینٹر سیف الرحمن المعروف
مزید پڑھیے




میاں شریف سے میاں اظہر اور حماد اظہر تک!

اتوار 30 جون 2019ء
ناصرخان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک حکمران ہوا کرتے تھے۔ نام تھا ان کا ضیاء الحق۔ انہیں کچھ فوبیاز لاحق تھے۔ افغانستان میں اسلامی حکومت ہونا چاہیے۔ اسلامی بھی ان گروپس پر مشتمل جنہیں ’’ہماری‘‘ حمایت حاصل ہو۔ ان کی اس خواہش کی قیمت پاکستان نے کہاں کہاں ادا کی؟ وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے مگر یہ کہانی پھر سہی۔ آج اس مردِ مومن مردِ حق کے ایک اور فوبیا کا ذکر کرتے ہی۔ بھٹو فوبیا … اس وقت یہ پیپلز پارٹی نہ تھی … فریال تالپور اور شرجیل میمن والی جعلی پیپلز
مزید پڑھیے


عمران خان کے نئے پاکستان کے چند مناظر

جمعرات 27 جون 2019ء
ناصرخان
پہلا منظر یہ ایک ریسٹورنٹ ہے اسلام آباد کا۔ سہ پہر کا وقت ہے۔ دو جرنلسٹ ایک میز پر کافی پی رہے ہیں۔ ہال یخ بستہ ہے مگر اکا دکا میزوں پر لوگ موجود ہیں۔ یہ جرنلسٹ ریگولر آنے والوں میں سے ہیں۔ سیاسی گفتگو کا محور و مرکز ان ہی کی میز ہوتی ہے۔ اس دن بھی معمول کے مطابق وہ عمران خان کے اس ٹی وی پروگرام کی بات کررہے ہیں جس میں ان کا اور ان کی معاشی ٹیم کا بزنس کمیونٹی سے مکالمہ ہوا۔ ان پیشہ ور صحافیوں میں سے ایک صاحب الیکٹرونک میڈیا پر اکانومی پر
مزید پڑھیے


اگر یہ بھی ناکام ہوگئے تو؟

اتوار 23 جون 2019ء
ناصرخان
جس طرح انسان کا مزاج اس کا مقدر ہوتا ہے اس طرح قوموں کا عروج و زوال بھی ان کی عادات اور اطوار میں پنہاں ہوتا ہے۔ رومن ایمپائر سے خلافت عثمایہ تک اور مغلوں سے سلاطین دہلی تک ان کے عروج کے زمانوں میں حکمران اور عوام کیسے Behave کرتے تھے اور عروج کے آخرش وہ کیا کررہے تھے۔ ہم گوروں کے ساتھ بہت عرصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت بہترین طرزِ حکومت ہے۔ ہم نے بھی کہا ایسا ہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک جاہل، اجڈ اور گنوار کو تھری پیس سوٹ پہنا کر
مزید پڑھیے


پرانا لاہور اور اس کے قلم کار!

جمعرات 20 جون 2019ء
ناصرخان
خاکہ نگاری ادب کی ایک باکمال صنف ہے۔ ادب کسی بھی زبان میں ہو خاکہ نگاری اپنے قاری کو دیکھنے اور سوچنے کے نئے زاویئے فراہم کرتی ہے۔ 1947ء کے بمبئی میں دیویندر ستیارتھی … ساحر کا خاکہ لکھ رہا تھا۔ عصمت چغتائی اپنے قلم کی آنکھ سے منٹو کو دیکھ رہی تھی۔ منٹو، کرشن چندر اور باری علیگ کو اپنے تخیل کی آنکھ سے پرکھ رہا تھا۔ ان ہی دنوں مشہور شاعر اور خوبصورت فلمی گیتوں کے خالق کیفی اعظمی نے بھی ساحر کی شخصیت پر لکھا اوربہت خوب لکھا۔ ان دونوں رقیب دوستوں کی کہانی پھر سہی۔ بس
مزید پڑھیے


ارسلان افتخار سے چودھری افتخار تک!

جمعه 14 جون 2019ء
ناصرخان
وہ گرمیوں کی ایک عام سی شام تھی۔ ماڈل ٹائون میں درختوں کے جھنڈ میں گھرے ہوئے ایک گھر کے پہلے فلور پر ہم چائے پی رہے تھے۔ میزبان میڈیا کی ایک اہم شخصیت تھی۔ ساتھ ہی کھلتی ہوئی رنگت والا نظر کی عینک کا خوبصورت فریم لگائے ایک نوجوان کرسی پر بڑے ادب سے بیٹھا ہوا تھا۔ ان سے ملیے یہ ڈاکٹر ارسلان ہیں۔ شیخ زید ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور اب سی ایس ایس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے والدین اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ یہ لاہور میں اکیلے رہتے ہیں۔ انہیں کرنٹ افیئرز اور پاکستان افیئرز پر
مزید پڑھیے