BN

ناصرخان



ہنگامہ ہے کیوں برپا؟


مولانا کے ساتھ نہ بلاول ہے نہ میاں شہباز۔ بلاول کے والد بیمار ہیں… شدید بیمار۔ انہیں بھی وہیں سہولتیں اور نرمیاں درکار ہیں جو چھوٹے میاں صاحب … بڑے میاں صاحب کے لیے حاصل کرلینے میں کامیاب رہے۔ منطق کے عین مطابق ایسے میں مولانا کو سیاسی طور پر تنہا ہوکر ریورس گیئر لگالینا چاہیے تھا مگر مولانا مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ مولانا بلف کر رہے ہیں یا مولانا کے پاس واقعی ترپ کا پتہ ہے۔ دھرنے کی جو وجوہات تھیں ان کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ بلکہ سکرپٹ سے
اتوار 10 نومبر 2019ء

کنفیوژن!

اتوار 03 نومبر 2019ء
ناصرخان
مولانا دھرنا کیوں دے رہے ہیں؟ اس سوال کا بڑا معصوم سا جواب ہے، خان کے استعفے کے لیے۔ ہمارے ہاں سازشی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ یہاں تک کہ میاں نواز شریف جینوئن بیمار ہوجائیں تو سوشل میڈیا ججوں اور ڈاکٹروں کو کوسنے لگتا ہے۔ ہم ہر واقعے میں … ہر حرکت میں … یہاں تک کہ بیماری میں بھی غیبی قوت اور اشارے تلاش کرتے ہیں۔ اس وقت خوانچہ فروش سے سوشل میڈیا تک اور ڈھابوں سے فائیو سٹارز لابیوں تک مولانا کے الٹی میٹم کے حسن اور حسن بیاں کے چرچے ہیں۔ مکالموں کی ہیئت کچھ
مزید پڑھیے


مہلت!

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
کیا پاکستان بھی ایک ڈیپ سٹیٹ ہے؟ خان صاحب سے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ میاں نواز شریف کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت کی ذمہ دار کیا ان کی حکومت ہے تو خان صاحب نے اس پر الٹا سوال داغا۔ ’’کیا میں ڈاکٹر ہوں؟ کیامیں عدالت ہوں؟ خان صاحب ڈاکٹر اور عدالت تو نہیں مگر اس کے کچھ دیر بعد عثمان بزدار صاحب سے رابطہ کرکے انہیں بڑے میاں صاحب اور مریم نواز کی ملاقات کے بندوبست کا کہا۔ اور بھی بہت کچھ کہا ،جسے میڈیا میں رپورٹ نہیں کیا گیا۔ طاقت کے اصل مراکز نے عمران خان
مزید پڑھیے


اور پھر ایک استاد نے خود کشی کرلی!

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
اور پھر ایک اُستاد نے خود کشی کرلی۔ کیوں؟ جتنے منہ اتنی باتیں۔ لیکن اگر زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں تو اس میں قصور اس ماہر تعلیم کا ہے جسے یا جنہیں حکومت اس درویش نما کمیونٹی کے سر پر بطور منتظم نافذ کردیتی ہے۔ حضرت علیؓ کا فرمان بار بار یاد آتا ہے: ’’قوت اور دولت انسان کو بدلتے نہیں بے نقاب کردیتے ہیں‘‘۔ جو پرنسپل بنتے ہیں کالجوں کے یہ وہی پروفیسر ز ہوتے ہیں جو تمام زندگی ان تمام مراحل سے آہستہ آہستہ گزرتے ہیں جن سے تمام کالج اساتذہ گزرتے ہیں۔ مگر پرنسپل بنتے ہی
مزید پڑھیے


مولانا کی سیاست

جمعه 18 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
چشم بد دور … چشم ما روشن دل ماشاد … شالا نظر نہ لگے اور اللہ زورِ سیاست اور زیادہ کرے۔ مولانا آج کل میڈیا میں کھڑکی توڑ رش لے رہے ہیں۔ پرانے زمانے میں کسی سینما میں فلم دیکھنے کے لیے لائن لگا کر ٹکٹ لینا پڑتی تھی۔ اس ٹکٹ کے لیے جو کشاکش ہوتی تھی اُسے کھڑکی توڑ رش کہتے تھے۔ پنڈت سر پر ہاتھ رکھے اندازے پر اندازہ لگا رہے ہیں۔ مگر یہ آواز ہے کہ بار بار سنائی دے رہی ہے ’’جینا ہوگا … مرنا ہوگا، دھرنا ہوگا … دھرنا ہوگا‘‘۔ انتخابی سیاست میں تو مولانا
مزید پڑھیے




سلام ٹیچر!

جمعرات 10 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
باب العلم حضرت علیؓ کے پاس سات یہودی آئے۔ کہنے لگے علم بہتر ہے یا دولت ؟اس کا جواب درکار ہے۔ مگر ہم میں سے ہر ایک کو مختلف جواب درکار ہے۔ آپ نے ساتوں کو مختلف جواب دیئے۔ علم انبیاء کی میراث ہے، دولت فرعون اور ہامان کا ترکہ۔ علم خرچنے سے بڑھتا ہے اور دولت کم ہوتی ہے۔ یہ سات کے سات جوابات باکمال ہیں۔ علم کیا ہوتا ہے؟ اس پر ایک سے زیادہ آراء موجود ہیں۔ ایک سے ایک سو اسّی ڈگری تک۔ کیا علم صرف معلومات کا نام ہے؟ زندگی کے فہم کا نام ہے؟ خالق
مزید پڑھیے


دستِ دُعا!

پیر 07 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
فرمایا: انسان کی اُفتاد طبع ہی اس کا مقدر ہے۔ یہ بھی کہ خود پسندی عقل کے حریفوں میں سے ہے۔ اور انسان ہے کہ کھیلتا ہی چلا جاتا ہے۔ وقت کی سان پر …دنیا کی انتہا طاقت، دولت اور وہ کچھ ہے جس کی انتہا فنا ہی فنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کھیل میں جیت بھی اکثر مات ہی ہوتی ہے۔ خالق کے اصول نہیں بدلتے۔ انسان دھوکا کھاجاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی آج کل ہی نہیں عرصہ دراز سے ایسا ہورہا ہے۔ طاقت کے ایوان …سرگوشیاں کرتی غلام گردشیں …آنکھوں سے اشارے کرنے والے اور پھر
مزید پڑھیے


ریڈیو پاکستان سے عابد علی تک! (آخری قسط )

جمعرات 03 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
دوپہر ایک دو بجے تک سب آنا شروع ہوتے اور پھر رونق لگتی چلی جاتی ۔ ڈرامہ پروڈکشن کا یہ آفس بالکل شاہ نور سٹوڈیو کے عقب میں یا قریب ترین تھا۔ مُراد علی کا چونکہ بچپن بھی سٹوڈیو میں ہی گزرا تھا، تو وہ فلم اور فلمی شخصیات کی ڈائرکٹری تھا۔ کون فلم میں کام کر رہا ہے؟ کون چھوڑ گیا ہے؟ کو ن کتنے میں بُک ہو گا؟ کس کے پاس ڈیٹس ہی نہیں۔ کون بالکل فارغ گھر بیٹھا ہے۔ ایسے میں سٹوڈیوز سے فنکار آتے رہتے اور کاسٹنگ بھی ہوتی رہتی ۔ کچھ دیر کیلئے عابد
مزید پڑھیے


ریڈیو پاکستان سے عابد علی تک! (2)

پیر 30  ستمبر 2019ء
ناصرخان
ریڈیو کی جاب نے ہمیں لاہور سے اسلام آباد بدر کردیا۔ دارالحکومت کے سیکٹر H-9 میں پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی ایک اکیڈمی تھی جہاں نوجوان پروڈیوسرز کو براڈ کاسٹنگ، ایڈیٹنگ، مکسنگ اور تلفظ کے اسرار و رموز سمجھائے جاتے تھے۔ اس اکیڈمی میں لگتا تھا ایک منی پاکستان موجود ہو۔ سندھ، سرحد، بلوچستان، گلگت، سکردو، پنجاب سبھی جگہ کا ٹیلنٹ موجود تھا۔ یہاں تک کہ پنجاب کے فیصل آباد سے جی ٹی روڈ کے گکھڑ منڈی تک سے بھی نوجوان خواتین و حضرات موجود تھے۔ ہم سب کے گروپ بنادیئے جاتے۔ ہر گروپ کو ایک براڈ کاسٹنگ انجینئر بھی
مزید پڑھیے


ریڈیو پاکستان سے عابد علی تک! (1)

جمعرات 26  ستمبر 2019ء
ناصرخان
ہمارے زمانہ طالب علمی میں گردو پیش سے جان چھڑانے کے لیے فراریت کے دو تین ہی میڈیم ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، جاسوسی ناولز یا پھر کبھی کبھار بڑے پردے پر فلم۔ لہروں کے دو ش پر جو صدا کار چھوٹے سے ریڈیو سیٹ سے ہم تک پہنچتے وہ خوابوں کی دنیا کے مسافر لگتے۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر جو ڈرامے پیش کیے جاتے وہ ہر وقت دل و دماغ پر چھائے رہتے۔ پھر بھی تشنگی کم نہ ہوتی تو ابن صفی کی عمران سیریز اور فریدی کی کہانیاں تخیل میں گھر کیے رہتیں۔ مگر شام ہوتے ہی
مزید پڑھیے