ناصرخان



ہر طرف حکمران ہی حکمران


نہ تو منو بھائی کے جنگل اداس ہیں جیسی اداسی طاری ہے اور نہ ہی ناصر کاظمی کے شعر کی طرح دل کا شہر سائیں سائیں کر رہا ہے۔ مگر بے سبب آج کسی ایک موضوع کی بجائے بہت سے موضوعات کی کاک ٹیل بنانے کو جی چاہ رہا ہے۔ لگتا ہے جیسا قائد کا پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ کافکا کے اداس کرداروں کی طرح، منٹو کی سسکتی کہانیوں جیسا۔ ایسے میں جون ایلیا… منیر نیازی اور عدیم ہاشمی کے شعروں میں پناہ لینے کو جی چاہتا ہے۔ جیسے منیر کہہ رہے ہوں کہ اس شہر سنگ دل
جمعه 24 مئی 2019ء

کمپنی کی حکومت … انتظار فرمائیے!

اتوار 19 مئی 2019ء
ناصرخان
ایک نابینا سردار جی جو امریکہ میں رہتے تھے، ان کے سونگھنے کی حس باکمال تھی۔ یار دوست انہیں جو بھی مشروب گلاس میں ڈال کر پیش کرتے سردار جی سونگھ کر اعلان کردیتے۔ فلاں کمپنی دا اے، فلاں برانڈ دا اے۔ ان کے مسلسل مشروبی تجزیوں نے یار دوستوں کو مجبور کردیاکہ وہ کوئی ایسا ’’شغل‘‘ کریں کہ سردار جی زچ ہوجائیں۔ تین چار مختلف کمپنیوں کے برانڈ مکس کرکے گلاس میں ڈالے گئے اور سردار جی کو پیش کردیئے گئے۔ سردار جی نے سونگھا اور بار بار سونگھتے چلے گئے۔ زچ ہوگئے۔ منہ بنا کر کہنے لگے ’’اے
مزید پڑھیے


آنجہانی لالی ووڈ کی یاد میں!

جمعرات 16 مئی 2019ء
ناصرخان
بک شیلف پر نگاہ دوڑائی تو کچھ نام اور کتابیں نظر آئیں۔ تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے۔ بھولی بسری چند تصویریں اور فسانے یاد آئے۔ علی سفیان آفاقی کی فلمی الف لیلہ، اے حمید کی سماوار خوشبو، ابن انشاء کے کالم، مجید لاہوری کی تحریریں، ابراہیم جلیس کی قلم کاریاں، عبداللہ حسین کا اداس نسلیں ، ابن خلدون کا مقدمہ، خوشنونت سنگھ کی سیاہ یاسمین اور اصغر خان مرحوم کی جرنیل سیاست میں۔ کبھی کبھی نہیں اکثر میرے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ عام قاری … عام ناظرین سکرین پر اور پھر اخبار
مزید پڑھیے


روحانیت کے ڈسپلن پر ایک مکالمہ!

اتوار 12 مئی 2019ء
ناصرخان
درویش کے لیکچر میں گرمیٔ محفل عروج پر تھی۔ سوال کیا گیا ڈپریشن کیا ہوتا ہے؟ جواب آیا… اس وقت اتنا سمجھ لو کہ اطاعت کے باغی کو ڈپریشن ہوتا ہے۔ خواہشات کے غلبے میں ٹھوکریں لگیں تو ڈپریشن ہو جاتا ہے۔ ارادوں کے ٹوٹ جانے سے ڈپریشن ہوجاتا ہے۔ خدا کی مرضی کے برعکس مرضی رکھنے سے بھی ڈپریشن ہوجاتا ہے۔ روزِ الست سوال کیا گیا ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ تمہارا رب کون ہے؟ ’’بَلٰی‘‘ جواب آیا تو ہی تو ہے۔ تمام روحوں نے اقرار کیا کہ تو ہی تو ہمارا رب ہے۔ وہاں اقرار ہوا پھر عدم سے وجود میں
مزید پڑھیے


وارث میر، عباس اطہر اور شکیل عادل زادہ

جمعرات 09 مئی 2019ء
ناصرخان
پیلو مودی کے زُلفی بھٹو کو پھانسی ہوچکی تھی۔ پرانا محاورہ ہے … پھانسی گھاٹ پر گھاس نہیں اُگتی۔ گھاس کا رنگ مگر سبز ہوتا ہے۔ ضیاء الحق کا پاکستان تیزی سے سبز ہورہا تھا۔ ٹیلی ویژن سکرین سے سینما سکرین تک۔ رومانٹک، اصلاحی اور میوزیکل فلموں کی جگہ سلطان راہی کا گنڈاسہ اور ناصر ادیب کا مولا جٹ ہر سمت اپنی جگہ تیزی سے بنا رہا تھا۔ کلچر میں منافقت کی باس تیزی سے پھیل رہی تھی۔ آپ کچھ بھی کریں … آپ کیسے بھی ہوں مگر آپ کو ایک خاص نظریئے کا علم ہر وقت ہاتھوں میں اٹھائے
مزید پڑھیے




تیرے بھی صنم خانے … میرے بھی صنم خانے

اتوار 05 مئی 2019ء
ناصرخان
قرۃ العین کا آگ کا حیران کن ناو ل آگ کا دریا پڑھتے ہوئے بار بار خیال آرہا تھا کہ بعض لکھاری زمان و مکان کی حدود توڑ کر لکھتے ہیں۔ یہ تحریر بھی زمانوں بلکہ قرنوں پر محیط ہے۔ یہ تاریخ اور وقت کو برصغیر کے جغرافیہ سے منسلک کررہا ہے۔ یہ چوتھی صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے اورآزادی کے بعد تک چلتا ہے۔ اس کے کردار، اپنے اپنے عہد سے منسلک ہیں۔ لگتا ہے زمان و مکان میں اور گزرے عصر میں گندھے ہوئے ہیں۔ پھر اخبار کے کالم کی طرف رخش خیال پلٹتا ہے۔ کرنٹ افیئرز،
مزید پڑھیے


کہانیاں، سکرپٹس اور ایکٹرز!

جمعه 03 مئی 2019ء
ناصرخان
بات ہورہی تھی ان کہانیوں کی جو اسلام آباد سے راولپنڈی تک محو پرواز ہیں۔ ممکنہ سکرپٹس کی اور نئے پرانے ان ایکٹرز کی جو ان ممکنہ کہانیوں میں اپنا کردار نبھائیں گے۔ بات صدارتی نظام کی بھی ہوئی اور بنیادی جمہوریتوں کی بھی۔ ٹیکنو کریٹس کی بھی اور اسمبلیاں توڑ کر نگران حکومت کا ڈول ڈالنے کی بھی۔ پھر یہ کہ اس سیاسی ٹیلرنگ کے ہنگام میں کہانیوں اور سرگوشیوں کے آس پاس کچھ عالمی حقیقتیں بھی ہیں اور باقی وہ جو ہمارے پڑوس میں کھڑی ہمیں مسلسل گھور رہی ہیں۔ بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات تہہ
مزید پڑھیے


کہانیاں، سکرپٹس اور ایکٹرز

اتوار 28 اپریل 2019ء
ناصرخان
پرانے زمانے کی بادشاہتوں میں محلوں کے اندر غلام گردشیں ہوا کرتی تھیں۔ ان غلام گردشوں میں سازشیں، سرگوشیاں اور پھر کہانیاں جنم لیا کرتی تھیں۔ غلام گردشیں خلافت عثمانیہ کی ہوں کہ بنو عباس کی، سلاطین دہلی کی ہوں یا مغل بادشاہت کی، بنواُمیہ کی ہوں یا رومن ایمپائر کی، کہانیوں کی ابتدا سرگوشیوں سے ہوتی ہے۔ سرگوشیاں … سازشیں اور کہانیاں۔ ہمارے ہاں بھی آج کل راولپنڈی سے اسلام آباد تک کہانیاں ہی کہانیاں ہیں۔ کیا لکھوں؟ کیا نہ لکھوں؟ اب بات بزدار، محمود خان،چودھری سرور اور چودھری پرویز الٰہی سے ذرا آگے کی ہے۔ بات وزیر اعظم
مزید پڑھیے


ٹریجڈی آف بیوروکریسی!

جمعرات 25 اپریل 2019ء
ناصرخان
1947ء میں جو بیوروکریسی پاکستان کے حصے میں آئی وہ سیاستدان کے مقابلے میں خاصی بالا دست اور خود مختار تھی۔ سیاستدان کی پرورش انگریز کا مقابلہ کرتے گزری۔ بیوروکریٹ گوروں کے ساتھ مل کر ملک چلاتا تھا۔ تقسیم کے بعد رفتہ رفتہ انگریز کے تربیت یافتہ منظر سے ہٹتے گئے اور پھر بات آپ سے پھر تم ہوئی اور پھر تو کا عنوان ہوگئی۔ زوال آیا تو پھر پورے کمال سے آیا۔ قدرت اللہ شہاب، ایچ یو بیگ اور آفتاب احمد جیسے بیوروکریٹ بھی متنازعہ ہوتے ہوں گے مگر احد چیمہ، فواد حسن فواد اور اکرم چیمہ جیسوں کی
مزید پڑھیے


ڈیپ سٹیٹ

اتوار 21 اپریل 2019ء
ناصرخان
کائنات کا رب فرمارہا ہے: ’’ برابر نہیں ہوتااندھا اور دیکھنے والا۔ نہ برابر ہوتا ہے اندھیرا اور اُجالا‘‘۔ایک ہوتی ہے بصارت اور ایک ہوتی ہے بصیرت۔ سیاست پر ہر کس و ناکس بحث میں مصروف ہے۔ واقعات پر بھی اور شخصیات پر بھی۔ معلومات پر بھی اور نتائج پر بھی۔ گرد خاصی اُڑ رہی ہے۔ عرض کرتا رہتا ہوں پاکستان ایک ڈیپ سٹیٹ ہے۔ یہ بھی کہ جو ہور رہا ہوتا ہے اس کے دھاگے کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس وقت ہمارے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر ہمارے بھائی لوگ کیا بحث کر رہے ہیں؟ اسد عمر کو کیوں
مزید پڑھیے