BN

ناصرخان


جب تک تم ہو… تب تک تم ہو!


انگریزی کا محاورہ ہے It is never too late۔ مگر شاید سیاست میں ٹائمنگ بہت اہم ہوتی ہے۔ دو سال ہوگئے Now it is too late۔ مردم شناسی ایک خداداد صلاحیت ہے۔ حکمران میں ہو تو اسے چار چاند لگ جاتے ہیں ورنہ گرہن کا بندوبست تو ہر وقت موجود ہے۔ جب ایک جنگ کے ہنگام میں لکڑیوں کے الائو پر گوشت تیار کیا جارہا تھا تو ایک سپاہی نے گستاخی کی۔ بادشاہ سے پہلے ہی گوشت کا ایک ٹکڑا غالباً خنجر سے کاٹا اور کھانے لگا۔ بادشاہ نے اپنے سپہ سالار سے اشارۃً پوچھا یہ کون ہے؟ گستاخ سپاہی
اتوار 12 جولائی 2020ء

مائنس ون یا مائنس سب!

اتوار 05 جولائی 2020ء
ناصرخان
کیا ہم سب بھاگتے بھاگتے تھک نہیں گئے؟ پرانی بات ہے کہ چلے چلو کہ منزل ابھی نہیں آئی۔ کیوں؟ کیونکہ ہم بھاگ رہے ہیں، سرابوں کے پیچھے، کہانیوں کے سنگ۔ کبھی مائنس قائداعظم… اور کبھی مائنس لیاقت علی خان۔ پھر پلس ایوب خان سے مردِ مومن مردِ حق او رپھر مائنس بھٹو اور پھر اور پھر … وہی پرانی کہانی اور وہی پرانا ’’دی اینڈ‘‘۔ رات ملا تھا ناصر مجھ کو تنہا اور اُداس … وہی پرانی باتیں اس کی، وہی پرانا روگ۔ کئی نسلیں آئیں اور تھک کے مر گئیں۔ زوال کا سفر… مسلسل زوال … زوال آ
مزید پڑھیے


جہانگیر ترین سے عمران خان تک!

جمعرات 02 جولائی 2020ء
ناصرخان
تاریخ پھر بھی مسکرائے گی جس طرح وہ آج ضیاء الحق، بھٹو، مشرف اور میاں نوازشریف پر مسکراتی ہے۔ ’’کچھ لوگ‘‘ جب بے نظیر سے اُکتا جاتے تو میاں صاحب آجاتے۔ میاں صاحب ڈکٹیشن لینے سے انکار کرتے تو بی بی لانگ مارچ کی دھمکی دے ڈالتیں۔ جب کوئی کہتا ہے کہ خان کا جانا ٹھہر گیا تو جواب آتا ہے ’’آپ کے پاس چوائس کوئی نہیں‘‘۔ ایک پنڈت جن کا رومانس سکرپٹ رائٹرز سے چلتا رہتا ہے۔ کہنے لگے ’’چوائس ہمیشہ موجود ہوتی ہے‘‘۔ ورنہ وہ خان کو ہیوی مینڈیٹ نہ دلادیتے۔ وہ کیا کسی شاعر نے کہا ہے
مزید پڑھیے


فواد چودھری سے جہانگیر ترین تک

اتوار 28 جون 2020ء
ناصرخان
سرمایہ دارانہ دنیا کے بنائے ہوئے دانش وروں کا خیال ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ یہ بالکل بوگس اور فلاپ شدہ ڈاکٹرائن ہے۔ یہ بنائی اس لیے گئی کہ جب عامیوں کا استحصال سے دم گھٹنے لگے تو الیکشن کے ذریعے پریشر ککرسے بھاپ نکال کر اسے دوبارہ آگ پر رکھ دیا جائے حکمران طبقات کے لیے نیا کڑاہی گوشت بننے کے لیے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے۔ مگر وہ ملک جسے پاکستان کہتے ہیں کا جی سنبھل نہیں رہا۔ بات بگڑ رہی ہے ۔ کیوں اور
مزید پڑھیے


نہرو، چین… اور مودی!

اتوار 21 جون 2020ء
ناصرخان
اکتوبر 1962ء کا ایک خوبصورت دن تھا۔ نستعلیق لکھنوی انداز کی شخصیت کے حامل بیرسٹر عباس صدیقی کافی کی چُسکیاں لیتے ہوئے گراموفون پر بڑے غلام علی خاں کی آواز میں ایک ٹھمری سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچانک چوکیدار اندر داخل ہوا… اس کے چہرے پر ہوائیاں اُڑ رہی تھیں اور ہیجان اس کی باڈی لینگوئج سے عیاں تھا۔ ’’سرکار چین نے ہندوستان پر حملہ کردیا‘‘۔ بیرسٹر صاحب نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔ گراموفون بند کردیااور کہنے لگے ’’دیکھو … گھر کا گیٹ بند کردو‘‘۔ عباس صاحب لکھنؤ میں واقع گورنر ہائوس کے سامنے ایک سٹائلش
مزید پڑھیے



پنڈت، کنڈلیاں اور پاور پلے!

جمعه 22 نومبر 2019ء
ناصرخان
کرنٹ افیئرز کا بازار گرم ہے۔پولیٹیکل سٹاک ایکسچینج میں نجوم اور پیشگوئیوں کا سیلاب عروج پر ہے۔ اگر ہندو ودیا کے مطابق زائچہ نکالا جائے تو راہو اور کیشو کے اثرات کنڈلی کے پہلے گھر میں بیٹھے خان کو کافی ستا رہے ہیں اور رات کو خواب میں استاد نذر حسین اپنی ایک دھن کا حوالہ دے کر بار بار نظر آتے ہیں۔ دھن کے بول اب خان کو یاد ہوتے جارہے ہیں … ’’ستا ستا کہ ہمیں اشک بار کرتے ہیں‘‘۔ ایسے میں وہ پنڈت جو ماہرین کنڈلی ہیں وہ کچھ بوٹیوں کو جلا جلا کر ان کے دھوئیں
مزید پڑھیے


ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

اتوار 10 نومبر 2019ء
ناصرخان
مولانا کے ساتھ نہ بلاول ہے نہ میاں شہباز۔ بلاول کے والد بیمار ہیں… شدید بیمار۔ انہیں بھی وہیں سہولتیں اور نرمیاں درکار ہیں جو چھوٹے میاں صاحب … بڑے میاں صاحب کے لیے حاصل کرلینے میں کامیاب رہے۔ منطق کے عین مطابق ایسے میں مولانا کو سیاسی طور پر تنہا ہوکر ریورس گیئر لگالینا چاہیے تھا مگر مولانا مستقل مزاجی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے۔ مولانا بلف کر رہے ہیں یا مولانا کے پاس واقعی ترپ کا پتہ ہے۔ دھرنے کی جو وجوہات تھیں ان کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ بلکہ سکرپٹ سے
مزید پڑھیے


کنفیوژن!

اتوار 03 نومبر 2019ء
ناصرخان
مولانا دھرنا کیوں دے رہے ہیں؟ اس سوال کا بڑا معصوم سا جواب ہے، خان کے استعفے کے لیے۔ ہمارے ہاں سازشی کہانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ یہاں تک کہ میاں نواز شریف جینوئن بیمار ہوجائیں تو سوشل میڈیا ججوں اور ڈاکٹروں کو کوسنے لگتا ہے۔ ہم ہر واقعے میں … ہر حرکت میں … یہاں تک کہ بیماری میں بھی غیبی قوت اور اشارے تلاش کرتے ہیں۔ اس وقت خوانچہ فروش سے سوشل میڈیا تک اور ڈھابوں سے فائیو سٹارز لابیوں تک مولانا کے الٹی میٹم کے حسن اور حسن بیاں کے چرچے ہیں۔ مکالموں کی ہیئت کچھ
مزید پڑھیے


مہلت!

اتوار 27 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
کیا پاکستان بھی ایک ڈیپ سٹیٹ ہے؟ خان صاحب سے ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ میاں نواز شریف کی تیزی سے گرتی ہوئی صحت کی ذمہ دار کیا ان کی حکومت ہے تو خان صاحب نے اس پر الٹا سوال داغا۔ ’’کیا میں ڈاکٹر ہوں؟ کیامیں عدالت ہوں؟ خان صاحب ڈاکٹر اور عدالت تو نہیں مگر اس کے کچھ دیر بعد عثمان بزدار صاحب سے رابطہ کرکے انہیں بڑے میاں صاحب اور مریم نواز کی ملاقات کے بندوبست کا کہا۔ اور بھی بہت کچھ کہا ،جسے میڈیا میں رپورٹ نہیں کیا گیا۔ طاقت کے اصل مراکز نے عمران خان
مزید پڑھیے


اور پھر ایک استاد نے خود کشی کرلی!

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
ناصرخان
اور پھر ایک اُستاد نے خود کشی کرلی۔ کیوں؟ جتنے منہ اتنی باتیں۔ لیکن اگر زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں تو اس میں قصور اس ماہر تعلیم کا ہے جسے یا جنہیں حکومت اس درویش نما کمیونٹی کے سر پر بطور منتظم نافذ کردیتی ہے۔ حضرت علیؓ کا فرمان بار بار یاد آتا ہے: ’’قوت اور دولت انسان کو بدلتے نہیں بے نقاب کردیتے ہیں‘‘۔ جو پرنسپل بنتے ہیں کالجوں کے یہ وہی پروفیسر ز ہوتے ہیں جو تمام زندگی ان تمام مراحل سے آہستہ آہستہ گزرتے ہیں جن سے تمام کالج اساتذہ گزرتے ہیں۔ مگر پرنسپل بنتے ہی
مزید پڑھیے