اسلام آباد (92 نیوز) - اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز پر فرد جرم عائد کردی۔ عدالت نے ایم پی او آرڈر جاری کرنے کے اختیارات سے تجاوز پر تمام نامزد افسروں کی غیرمشروط معافی بھی مسترد کردی، جبکہ دوبارہ گرفتاری پر پرویزالہٰی کی توہین عدالت کی درخواست مسترد کردی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایم پی او آرڈرز جاری کرنے کے اختیارات سے تجاوز پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، ڈپٹی کمشنر اسلام پباد عرفان نواز میمن اور ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر، جسٹس بابر ستار کی عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت ڈی سی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے وضاحتی جواب جمع کرایا گیا، عدالت نے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز اور ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر فرد جرم عائد کردی، ایس پی فاروق امجد اور پولیس اہلکار ناصر منظور پر بھی فرد جرم عائد کی گئی، تاہم تمام نے صحت جرم سے انکار کر دیا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ ٹرائل کے دوران قانونی طور پر اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الہٰی کی دوبارہ گرفتاری کیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیئے کہ اس عدالت کا ایسا کوئی حکم نہیں کہ انہیں کسی اور کیس میں بھی گرفتار نہیں کیا جا سکتا، جب پرویزالہی کورہا کردیا گیا توہمارے آرڈر کی خلاف ورزی کیسے ہوئی؟ اگر پرویزالہی کو رہا نہ کرتے تو عدالت سخت ایکشن لیتی۔

دوسری جانب بشریٰ بی بی توشہ خانہ کیس میں نیب راولپنڈی کے سامنے پیش ہوئیں اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا، 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل تحقیقات کے سلسلہ میں سابق وزیر سینیٹر ثانیہ نشتر اور ملک امین اسلم بھی نیب آفس میں پیش ہوئے، ذرائع کے مطابق ثانیہ نشتر نے بتایا کہ کابینہ میٹنگ میں شہزاد اکبر نے خفیہ لفافہ دیکھایا تھا اور کہا تھا کہ بس اس پر دستخط کریں، ثانیہ نشتر کی جانب سے 2 سابق وزراء کے نام بھی نیب ٹیم کو بتائے گئے۔