ارشاد احمد عارف


لوہا گرم ہے


ریاست کو قدرت نے سنہری موقع عطا کیا ہے‘ کورونا نے دل موم کر دیے‘ ذہن بدل دیے اور تبدیلی کے مدمقابل کھڑے ہونے کا جذبہ کمزور پڑ گیا‘ ان لوگوں کے سوا جن کے دل پتھر ہیں‘ دماغ سن اور آنکھوں‘ کانوں پر پردے پڑ چکے‘ ہر کوئی موجودہ حالات سے چھٹکارا چاہتا ہے اور اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار‘ وہ لوگ بھی گھروں میں بیٹھ کر بیوی بچوں سے گپ شپ کرتے ہیں جو شام کی پرسکون ساعتیں اہلخانہ کے ساتھ گزارنا گناہ سمجھتے تھے‘ ایسے ایسے لوگوں کو کورونا کی موت سے پناہ مانگتے
اتوار 12 اپریل 2020ء

کیا ربّ واقعی ہم سے خفا ہے؟

جمعه 10 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ نیو یارک کی ایک سنسان‘ اور کرفیو زدہ سڑک کا منظر ہے‘ سربفلک عمارتوں اور کھوے سے کھوا چھلتے راستوں پر ویرانی چھائی ہے۔ ایسی ویرانی جس کا تذکرہ غالب نے کیا تھا۔ ؎ کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا یہ وہی نیو یارک ہے جس کی رنگین راتوں اور مصروف دنوں میں کھو کر انسان ہوش و حواس سے بیگانہ ہوا جایا کرتا تھا‘اس عالم مدہوشی میں انسان کو خدا کہاں یاد رہتا ہے۔ اس نیو یارک کی ایک گلی وال سٹریٹ کے نام سے معروف ہے جہاں کے معمولی کاروباری
مزید پڑھیے


طمع کا کیا علاج؟

جمعرات 09 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
بیماری اور بھوک کا علاج تو ہے‘ کرونا بھی آج نہیں تو کل انشاء اللہ لاعلاج مرض نہیں رہے گا ‘مگر طمع اور لالچ کا کیا علاج؟ عمران خان نے رسک لیا‘ ہر طرح کے دبائو کے باوجود مکمل لاک ڈائون کی طرف نہیں گیا‘ ٹیسٹوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے یہ عوام کی بے احتیاطی اور حکومتی و طبی ہدایات سے گریز کا نتیجہ ہے۔ پرہیز کے ہم عادی نہیں‘ ڈاکٹر کے کلینک کا رخ عموماً ہم اس وقت کرتے ہیں جب مرض بگڑنے لگے‘ معمولی نزلہ ‘زکام‘ کھانسی اور بخار کا
مزید پڑھیے


چھکا یا کیچ

منگل 07 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
لگتا ہے کپتان ’’پولی پولی‘‘ بولنگ سے تنگ آ گیا اور اس نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں ہٹ لگا دی‘ یہ سوچے‘ پروا کئے بغیر کہ نتیجہ کیا ہو گا‘ چھکا یا کیچ۔ واجد ضیا رپورٹ پر اپوزیشن کا ردعمل حسب معمول ناقدانہ تھا‘ ماضی میں مجھے یاد نہیں کہ کسی تحقیقاتی رپورٹ کو دن کی روشنی دیکھنا نصیب ہوئی‘ حمود الرحمن کمشن رپورٹ‘ بھارت میں چھپ گئی پاکستان میں چالیس سال تک چھپائی جاتی رہی‘ اوجھڑی کیمپ رپورٹ محمد خاں جونیجو کی حکومت کو ہڑپ کرگئی مگر پردے سے باہر نہ آئی‘ سانحہ ماڈل ٹائون کی باقر نجفی
مزید پڑھیے


زمانے کا الٹ پھیر

جمعه 03 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
یہ زمانے کا الٹ پھیر ہی تو ہے‘ روس اور چین امریکہ کی امداد کر رہے ہیں‘وہی سپر پاور امریکہ جس کا متکبر صدر ٹرمپ کل تک چین اور روس کی معیشت‘سائنسی ترقی اور سیاسی حیثیت کا مذاق اڑاتا تھا‘ چین میں کورونا نے پنجے گاڑے تو صدر ٹرمپ نے اس وبائی مرض پر چینی وبا کی پھبتی کسی‘ آج مگر طبی سازوسامان ‘ تکنیکی ماہرین اور اشیائے ضرورت سے لدے طیارے بیجنگ اور ماسکو سے واشنگٹن و نیو یارک کا رخ کر رہے ہیں‘ ستم رسیدہ امریکی عوام کو ان کی اشد ضرورت ہے‘ روسی صدر اور چینی سربراہ
مزید پڑھیے



ہر گھر سے بھوکا نکلے گا‘ تم کتنے بھوکے مارو گے

جمعرات 02 اپریل 2020ء
ارشاد احمد عارف
رفتار سُست ہے‘ پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کا جذبہ غالب‘ مگر صورتحال مایوس کن نہیں ؎ نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی ابتدائی دنوں کی بے عملی کے بعد وفاقی اور صوبائی سطح پر فعالیت نظر آتی ہے‘ شر سے خیر کا ظہور ہو رہا ہے کم و بیش چالیس پچاس سال بعد ہسپتال‘ تعلیمی ادارے اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے حکمرانوں کی ترجیحات میں اوّلیت اختیار کرنے لگے ہیں‘ چند ماہ قبل کوئی شخص سوچ نہیں سکتا تھا کہ پاکستان میں کرونا کی ٹیسٹنگ کٹس تیار
مزید پڑھیے


رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا

منگل 31 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
حکومت پر تنقید بہت ہو چکی‘ کرونا کی وبا سے نمٹنے میں کس سے کہاں غلطی ہوئی؟سب عیاں ہے ۔اجتماعی اور انفرادی سطح پر توبہ و استغفار کا سلسلہ جاری ہے ۔گھروں اور مساجد میں رات کے وقت اذانوں کی دیرینہ روائت کا احیا ہوا ۔بیت اللہ‘ مسجد نبویؐ اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلی مساجد کی بندش سے اہل ایمان کو یہ پیغام ملا کہ پہلے اللہ تعالیٰ موذن کے ذریعے ہر کلمہ گو کو اپنے گھر بلاتا تھا مگر غافل‘ کاہل اور زود فراموش انسان نے اس بلاوے کی پروا نہ کی اب لوگ
مزید پڑھیے


کرونا اور صور اسرافیل

اتوار 29 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
صور اسرافیل علامّ الغیوب اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کب پھونکا جائے گا؟کرونا کے معمولی جرثومے نے مگر قیامت کی ایک ادنیٰ جھلک دکھا دی ہے‘ یہ قیامت کا منظر نہیں تو کیا ہے کہ چین کے شہر ووہان میں ایک جرثومے نے کئی ہفتے تک تباہی پھیلائے رکھی‘ جدید ترین مواصلاتی نظام بالخصوص خلا میں موجود مصنوعی سیاروں(سیٹلائٹ) کے ذریعے دنیا بھر میں ایک ایک پل پل اور انسان تو انسان چیونٹیوں کی نقل و حرکت سے مکمل آگہی کا دعویدار امریکہ دیکھتی آنکھوں ‘ سنتے کانوں سے اس تباہی کے مناظر اور حضرت انسان کی بے بسی کو
مزید پڑھیے


بے نظیر بھٹو کا اسیر

جمعه 27 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
ڈیپریشن سے بچانے کے لئے کرونا کا ذکر موقوف کرتے ہوئے میجر(ر)آفتاب احمد کی کتاب ’’ہارن کھیڈ فقیرا‘‘ کے چند صفحات قارئین کے ذوق سلیم کی نذر‘ جنرل ضیاء الحق کے اسیر نے بے نظیر بھٹو کے عہد میں اپنی اسیری کا ذکر کیا ہے‘ لکھتے ہیں‘‘ ’’5جنوری 1994ء کو پاکستان کے پھانسی پانے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سالگرہ کے روز اس کے گھر پہ سندھ پولیس کے وحشیانہ حملے کے نتیجے میں گرفتار بلاہونے کے بعد میں اور میرے گیارہ ساتھی اسیر اب بدنام زمانہ سکھر جیل کی بھٹائی وارڈ میں بند تھے۔ گزشتہ کئی ماہ
مزید پڑھیے


دنیا بدل گئی

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ارشاد احمد عارف
حکومت اور قومی اداروں پر تنقید بہت ہو چکی‘ کمزوریاں اجاگر ہوئیں اور لاک ڈائون میں تاخیر کی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان نے قبول کی‘نقطہ نظر اب بھی ان کا یہی ہے کہ لاک ڈائون سے غریب عوام بالخصوص دیہاڑی دار مزدوروں‘ رکشے‘ ریڑھی ‘ چھابڑی والوں کی مشکلات بڑھیں گی اور کرونا کے مقابلے میں مکمل لاک ڈائون شائد زیادہ نقصان دہ ہو‘ توقع یہ تھی کہ پارلیمانی کانفرنس میں اپوزیشن وزیر اعظم کے اس بیانیے کے مدمقابل قابل عمل تجاویز پیش کرے گی مگر لفاظی کے سوا میاں شہباز شریف ‘ بلاول بھٹو اور دیگر لیڈروں
مزید پڑھیے