BN

سپریم کورٹ


عمران کا مئی کے آخر میں مارچ کا اعلان، مراسلے کی تحقیقات کیلئے صدر، چیف جسٹس کو خط

اتوار 01 مئی 2022ء
اسلام آباد (سپیشل رپورٹر ،92 نیوزرپورٹ، نیوزایجنسیاں ) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان نے مئی کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کا اعلان کردیا ۔اپنے ویڈیو بیان میں عمران خان نے کہا تحریک انصاف کور کمیٹی اجلاس میں لانگ مارچ کافیصلہ ہوا ہے ،ہم مئی کے آخری ہفتے میں یہ کال دینے لگے ہیں،پی ٹی آئی کونہیں پورے ملک کوکال دے رہاہوں،یہ کال اسلئے دے رہے ہیں کہ غیرملکی سازش کرکے پاکستان کی توہین کی گئی،غیرملکی سازش کے تحت کرپٹ ترین لوگوں کوملک پرمسلط کیاگیا،کابینہ میں 60فیصدلوگ ضمانت پرہیں،جووزیراعظم بنالوگ اسے کرائم منسٹرکہتے ہیں،ان پرنیب،ایف آئی
مزید پڑھیے


پہلے طے کرنا کیا پارٹی سے انحراف جرم ہے ؟، کلچر بن گیا فیصلہ حق میں تو انصاف، خلاف آئے تو انصاف تارتار :سپریم کورٹ

بدھ 20 اپریل 2022ء
اسلام آباد(خبر نگار) آرٹیکل 63اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ پہلے طے کرنا ہے کہ کیا پارٹی سے انحراف جرم ہے ؟ ،اگر جرم ہے تو پھردیکھنا ہوگا کہ اس کے اثرات کیا ہیں۔ دوران سماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائک دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ملک اس وقت افراتفری( انارکی) کی جانب بڑھ رہا ہے ، کوئی سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے کو تیار نہیں۔جس پر چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک کو کہا کہ حالات اتنے خراب نہیں عمومی
مزید پڑھیے


رولنگ کالعدم: قومی اسمبلی، کابینہ بحال، تحریک عدم اعتماد پرکل ووٹنگ؛ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کا متفقہ فیصلہ

جمعه 08 اپریل 2022ء
اسلام آباد(خبر نگار،92نیوزرپورٹ،این این آئی)سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی کی رولنگ آئین سے متصادم قراردے کر کالعدم قرار دیدی جبکہ قومی اسمبلی اوروفاقی کابینہ بحال کردی۔سپریم کورٹ کے 5رکنی لارجربینچ نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی کی رولنگ کے بعدکئے جانیوالے وزیر اعظم کے تمام اقدامات اورصدرمملکت کااسمبلی تحلیل کرنے کافیصلہ بھی کالعدم قراردیدیا۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے پانچویں روز از خود نوٹس کیس کا محفوظ فیصلہ جاری کیا۔جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل تھے ۔آٹھ
مزید پڑھیے


لگتا ہے ڈپٹی سپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہی نہیں :سپریم کورٹ

منگل 05 اپریل 2022ء

اسلام آباد( خبر نگار)سپریم کورٹ نے تحریک عدم اعتماد پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران ڈپٹی سپیکر کے اختیار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کیا ڈپٹی سپیکر بطور قائم مقام سپیکر کا اختیار استعمال کرسکتا ہے ؟۔جسٹس منیب اختر نے کہا آرٹیکل 69کے تحت سپیکر کی رولنگ کو تحفظ حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اختیار تو سپیکر کا ہے کیا سپیکر کی جگہ ڈپٹی سپیکر یہ اختیار استعمال کرسکتا ہے ؟،میری رائے میں ڈپٹی سپیکر نے اختیار سے تجاوز کیا،میرے خیال میں ڈپٹی سپیکر کو ایسی رولنگ دینے کا اختیار ہی
مزید پڑھیے


جج کی میعاد ، فیصلے طاقتور حلقوں کی خوشنودی سے مشروط کرنا تباہ کن ہوگا:جسٹس مقبول

منگل 05 اپریل 2022ء

اسلام آباد(خبر نگار) جسٹس مقبول باقر کی ریٹائرمنٹ پر فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریٹائر ہونے والے جج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جبکہ جسٹس مقبول باقر نے اہم مقدمات کی سماعت کیلئے مخصوص ججوں پر مشتمل بینچز بنانے پر سوال اٹھائے ۔چیف جسٹس نے کہا آمریت کے دور میں جسٹس مقبول باقر نے پی سی ا وکے تحت حلف نہ اٹھانے کی پاداش میں 21 ماہ کی معطلی برداشت کی، جسٹس مقبول باقر کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ انھوں نے کہا جسٹس مقبول باقر نے بہت
مزید پڑھیے



سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس، ابتدائی سماعت کے بعد لارجر بینچ تشکیل؛کوئی ادارہ غیر قانونی کام نہ کرے: چیف جسٹس

پیر 04 اپریل 2022ء

اسلام آباد(خبر نگار،92 نیوزرپورٹ،صباح نیوز،نیٹ نیوز)چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے موجودہ ملکی صورتحال پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں جوہوااس پرتشویش ہے ، تمام ریاستی ادارے کوئی غیر قانونی اقدام نہ اٹھائیں۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے پر پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیاجو آج سماعت کریگا۔ سپریم کورٹ نے صدر مملکت کی طرف سے قومی اسمبلی تحلیل کرنے اور تحریک عدم اعتمادپر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ پر صدر مملکت اور وزیراعظم کو احکامات جاری کرنے سے روکتے ہوئے قرار دیا کہ صدر اور وزیراعظم کے مزید احکامات عدالتی فیصلے سے مشروط ہونگے ،عدالت عظمیٰ نے اپنے
مزید پڑھیے


وزیراعظم کے بیانات پر اظہار تشویش،عدم اعتماد کامیاب ہوتومنحرف ارکان، وزیراعظم گھر جائینگے : سپریم کورٹ

منگل 29 مارچ 2022ء

اسلام آباد(خبر نگار) صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم کے بیانات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا وزیر اعظم کو غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے نہیں روکا جاسکتا ۔جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہمارے اٹھائے گئے سوالات کا کیا تااثر لیا جارہا ہے ؟وزیر اعظم کہہ رہا تھا کہ ججوں کو اپنے ساتھ ملایا جارہا ہے ،سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر یہی سرخیاں تھیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کیا وزیر اعظم
مزید پڑھیے


عدم اعتماد پرووٹ تو ہرصورت ہوگا، شمار نہ کرنا رکن کی توہین، اصل سوال نااہلی مدت: سپریم کورٹ

جمعه 25 مارچ 2022ء
اسلام آباد(خبر نگار)عدالت عظمیٰ نے آرٹیکل 63اے کی تشریح کے بارے صدارتی ریفرنس اور سپریم کورٹ بار کی آئینی پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ یہ معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں طے ہونے چا ہئیں ،ہم خالی جگہیں پر نہیں کرسکتے ۔چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ 63 اے ابھرتے ہوئے سیاسی سسٹم کا ایک ڈسپلن ہے ، 63 اے کہتا ہے کہ بیشک آپ اپنی جماعت سے ناخوش ہو مگر جماعت کیساتھ کھڑے ہو،سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے دو پہلو ہے ایک سیاسی اور دوسرا آئینی،سیاسی طور پر پارلیمنٹرین کو دوبارہ پارٹی
مزید پڑھیے


آرٹیکل 63 اے کی تشریح، صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کا لارجربنچ تشکیل، کل سماعت

بدھ 23 مارچ 2022ء
اسلام آباد(خبرنگار) عدالت عظمیٰ نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی پٹیشن اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا ہے ۔چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لئے صدارتی ریفرنس پر لارجربنچ تشکیل دے دیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ(کل )24 مارچ کو صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔بنچ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس مظہرعالم اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے منحرف اراکین کے معاملے پر آرٹیکل 63 اے کی تشریح
مزید پڑھیے


عدم اعتماد سیاسی معاملہ ،اسمبلی کی جنگ اسمبلی میں لڑیں:سپریم کورٹ

منگل 22 مارچ 2022ء

اسلام آباد(خبر نگار،نیوز ایجنسیاں)عدالت عظمٰی نے آرٹیکل 63اے سے متعلق صدارتی ریفرنس لارجر بینچ میں سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے عدم اعتماد سیاسی معاملہ ہے ،سیاسی جنگ پارلیمنٹ میں لڑی جائے ۔ سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سیاسی جلسے روکنے کیلئے سپریم کورٹ بارکی درخواست پربھی سماعت کی،چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ، سارا قومی اسمبلی کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا بہتر ہوگا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے ، ہم زیادہ گہرائی میں جانا نہیں چاہتے ،عدالت نے دیکھنا ہے کہ کسی ایونٹ کے سبب کوئی ووٹ ڈالنے سے محروم نہ رہ
مزید پڑھیے








اہم خبریں