ارشاد محمود



احتساب مگر سب کا


احتساب بیورو کی ایک غلط پریس ریلیز نے میاں محمد نوازشریف اور ان کے خاندان کے لیے ملک بھر میں ہمدردی کی ایک لہر اٹھادی۔آخر ایسی کیا جلدی تھی کہ محض ایک اخباری کالم پر نیب نے نوازشریف کے خلاف تحقیقات کا حکم جاری فرمادیا۔ دوستوں کی ایک محفل میں یہ خبر سننے کو ملی تو میرا پہلا تبصرہ یہ تھا کہ پاکستان کوئی صومالیہ یا روانڈا نہیں کہ اس کے وزیراعظم ساڑھے چار بلین ڈالر بھارت منتقل کردیں اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ یہ بھی عرض کیا کہ نوازشریف پر ابھی تک بہت الزامات لگے ان
هفته 12 مئی 2018ء

اب ایران کی باری

جمعرات 10 مئی 2018ء
ارشاد محمود

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ محض ایک معاہدہ ہی ختم نہیں کیا بلکہ خطے میں کشیدگی اور محاذ آرائی کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے اتحادیوں کی مشاورت سے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا اور اب وہ جلد ہی ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا حکمنامہ جاری کریں گے۔ امریکی صدر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کے اتحادی ممالک بالخصوص یورپی یونین ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے پر نظر ثانی کرے بلکہ اس سے منحرف ہو جائے۔ امریکہ کے اس اعلان
مزید پڑھیے


ایک اور متنازعہ الیکشن سر پر

پیر 07 مئی 2018ء
ارشاد محمود

الیکشن سے قبل ہی اسے متنازعہ بنانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ افسوس! اس مہم کی قیادت نون لیگ کررہی ہے جو مرکز اور پنجاب میں حکمران ہے ۔ ان کی مرضی سے نگران حکومت قائم ہوگی اور الیکشن کمیشن بھی اس کے مخالفین کا قائم کردہ نہیں ۔ حال ہی میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فرمایا کہ الیکشن ’’ خلائی مخلوق‘‘ کرائے گی۔میاں نوازشریف اور مریم نواز بھی الیکشن سے قبل دھاندلی کی دھائی دے رہے ہیں ۔وہ برملا کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی کو نادیدہ قوتیں تقسیم کرانے کی ذمہ دار ہیں۔ مولانا فضل الرحمان
مزید پڑھیے


غیرملکی نوکریاں اور طبقہ اشرافیہ

اتوار 29 اپریل 2018ء

خواجہ آصف کی نااہلی نے نون لیگ کی قیادت کے اعصاب شل کردیئے ہیں۔ان کے لیڈر اور حامی غصے سے لال پیلے ہورہے ہیں۔کوئی بھی اپنی پارٹی کو اس طرح بکھرتاہوا دیکھ نہیں سکتا۔خواجہ آصف کے ساتھ جو ہوا وہ غیر متوقع نہیں ۔ کب کاثابت ہوچکا تھا کہ پاکستان کا وزیرخارجہ متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتااور بھاری مشاہرہ پاتاہے۔ یہ تصور بھی سوہان روح ہے کہ پاکستان کے کچھ سیاستدان ،سابق عسکری اور سویلین حکام مال وزر کی ہوس میں اس قدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ابھی اپنی ذمہ داریوںسے فارغ بھی نہیں ہوتے کہ
مزید پڑھیے