لاہور ہائیکورٹ سے حمزہ شہباز کا فیصلہ آنے کے فوری بعد جن نکات پر بحث شروع ہوئی ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ کیا اب منحرف اراکین کے بیس حلقوں میں انتخابات ہوں گے یا نہیں؟دلیل دینے والے پی ٹی آئی رہنمائوں کا ابتدائی طور پر خیال یہ تھا چونکہ وزیر اعلی پنجاب کا انتخاب ہی کالعدم ہو گیا ہے اور صورتحال 16 اپریل کی تاریخ پر واپس چلی گئی ہے اس لیے منحرف اراکین نے ووٹ ڈالا ہی نہیں ،لہذا وہ منحرف ہوئے ہی نہیں ،جب کوئی منحرف ہی نہیں ہوا تو ضمنی الیکشن کیوں ہو گا؟ تھوڑی ہی دیر بعد صورتحال واضح ہونی شروع ہوئی اور اندازہ ہوا کہ منحرف اراکین منحرف بھی ہو چکے ہیں ، ان کا ووٹ شمار بھی نہیں ہوگا اور ان کا انتخاب بھی شیڈول کے مطابق ہو گا۔لہذا اب جب انتخاب ہو ہی رہا ہے تو ہم حلقوں میں جاری انتخابی مہمات کے جائزے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہیں اور آج جھنگ کا دورہ کر لیتے ہیں ۔ جھنگ کی دو نشستوں پر ضمنی انتخاب ہو رہا ہے ۔ پی پی 125 اور پی پی 127 ۔ پی پی 125 میں فیصل حیات جبوآنہ اورمیاں محمد اعظم کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔ فیصل حیات جبوآنہ 2018 میںآزاد حیثیت میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور تحریک انصاف میں شمولیت اختیاررکر لی۔ اُس وقت انہوں نے تحریک انصاف کے میاں اعظم کو شکست دی تھی۔ بعد ازاں فیصل جبوآنہ منحرف ہو کر ن لیگ سے مل گئے اور اب ن لیگ ہی کے ٹکٹ پر تحریک انصاف کے اُسی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے ہیں جسے انہوں نے 2018 میں شکست دی تھی۔ اس حلقے میں اعظم چیلہ اور فیصل حیات جبوآنہ روایتی حریف رہے ہیں ۔ دونوں ہی متعدد بار صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت چکے ہیں ، دونوں ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے رہے ہیں ۔فیصل جبوآنہ کے والد غضنفر جبوآنہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑتے رہے ہیں۔مختصر یہ کہ دونوں ہی امیدواروں نے ماضی میں کوئی پارٹی چھوڑی نہیں،کبھی ق لیگ، کبھی ن ، کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی تحریک انصاف۔ دونوں امیدوار کی جیت کا فارمولہ ایک ہی ہے ، ذاتی ووٹ جمع اُس پارٹی کا ووٹ جس کی متعلقہ انتخابات میں ہوا چل رہی ہو۔ فیصل حیات جبوآنہ اور اعظم چیلہ دونوں ہی مکمل طور پر اپنے ووٹرز کی امیدوں پر پورا نہیں اترے، یہی وجہ ہے کہ عوام ایک سے تنگ آتے ہیں تو دوسرے کے پاس چلے جاتے اور دوسرے سے مایوس ہوتے تو پہلے کے پاس لوٹ آتے ہیں ۔ اس لحاظ سے اس بار عوام کی مایوسی کا شکار ہونے کی باری فیصل جبوآنہ کی ہے اور عوام کو سبز باغ دکھانے کا کام اعظم چیلہ کر رہے ہیں ۔ دونوں ہی کو ایک دوسرے کی مخالفت کا ووٹ پڑتا ہے ۔تحریک انصاف کے امیدوار میاں اعظم کو اب علاقے کی اہم شخصیت مولانا مسرور نواز جھنگوی کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے ان کے پلڑے میں وزن بڑھ گیا ہے۔ اب دیکھئے اس بار پی پی 125 سے فیصل جبوآنہ لوگوں کا دل جیت پاتے ہیں یا میاں محمد اعظم کامیاب قرار پاتے ہیں ۔ جھنگ کا دوسرا حلقہ پی پی 127 اور بھی دلچسپ ہے ۔یہاں ن لیگ کے مہر محمد اسلم بھروانہ اور تحریک انصاف کے محمد نواز بھروانہ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ 2018 میں جب اسلم بھروانہ آزاد حیثیت میں تحریک انصاف کے نواز بھروانہ کے مد مقابل آئے تھے تو محض چار سو ووٹوں کی برتری سے جیت پائے تھے۔ اسلم بھروانہ آزاد حیثیت میں جیت کر تحریک انصاف میں آ گئے انہیں ایک عدد وزارت سے نوازا گیا مگر ایک سال بعد وزارت واپس لے لی گئی۔وزارت واپس لے لینے کارنج انہوں نے دل میں رکھا، شکوے کچھ اور بھی بڑھے، جب موقع آیا تو انہوں نے منحرف ہونے میں ایک منٹ نہ لگایا۔ اب ن لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ اسلم بھروانہ معروف سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ، خود بھی چار مرتبہ ایم پی اے رہ چکے ہیں، چھوٹے بھائی سلطان سکندر بھروانہ بھی صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہو چکے ہیں ۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے نواز بھروانہ یوں تو سادہ شخصیت کے مالک ہیں ، سیاسی قد کاٹھ بھی اسلم بھراوانہ جیسا نہیں ہے۔ لیکن گذشتہ انتخابات میں اسلم بھروانہ کو ٹکر دینے کا اعتماد انہیں حاصل ہے۔ تحریک انصاف کا ٹکٹ اور بلے کا نشان بھی انہیں سپورٹ کرتا ہے۔ اس کے باوجود کچھ دن پہلے تک ان کی مہم کچھ پھیکی پھیکی سی تھی۔ لیکن پھر ایک ایسی پیش رفت ہوئی کہ ان کا پلڑا اچانک وزنی ہو گیا ہے۔ ہوا یہ ہے کہ پیر آف سیال شریف صاحبزادہ قاسم سیالوی نے نہ صرف تحریک انصاف اور نواز بھروانہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے بلکہ بڑھ چڑھ کر ان کی انتخابی مہم میں حصہ بھی لے رہے ہیں ۔ ان کے مریدین کا یہاں ایک وسیع حلقہ موجود ہے جس کی وجہ سے نواز بھروانہ کا گراف اچانک اوپر چلا گیا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور معروف سیاسی شخصیت شیخ وقاص اکرم نے بھی اپنا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان دونوں شخصیات کی حمایت کے بعد تحریک انصاف کی پوزیشن کافی مستحکم ہو گئی ہے ۔ دوسری طرف توازن برقرار رکھنے کے لیے ن لیگ نے بھی شاہ جیونہ کے گدی نشین مخدوم فیصل صالح حیات کی حمایت تو حاصل کی ہے مگر پھر بھی قاسم سیالوی کی تحریک انصاف کے لیے حمایت کا وزن زیادہ ہے۔ امکان یہی ہے کہ اس حلقے میں بھی سخت مقابلہ ہو گا، جو بھی جیتے گا محض چند سو ووٹوں سے ہی جیت پائے گا۔ ایک بات قابل غور ہے کہ ہر حلقے میں ضمنی انتخابات کے اپنے ڈائنامکس ہیں اور گرائونڈ پرعمران خان کے سازش کے بیانیہ کا تذکرہ خاص دکھائی نہیں دیتا۔ گویا ضمنی انتخابات میں امیدواروں کی جیت اور ہار کا تعین عمران خان کے امریکی سازش کے بیانیے پر نہیں بلکہ کئی دیگر عوامل کی بنیادپر ہونا ہے۔ شہروں میں شاید صورتحال مختلف ہو، دیہاتوں میں تو انتخابی جیت یا ہار کی وجہ مختلف ہو گی۔