ڈاکٹر حسین پراچہ



کنفیوژن سے باہر نکلیں


ایک غلطی ہم کر چکے ہیں‘ دوسری غلطی کی گنجائش نہیں۔گزشتہ روز اسلام آباد میں مقیم طب کی دنیا میں شہرت یافتہ پاکستانی امریکن ڈاکٹر سے کورونا کی تباہ کاریوں کے بارے میں تفصیلی بات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے نہایت دردمندی اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پاکستان میں ہمارے پاس ضائع کرنے کو دن تو دور کی بات گھنٹے بھی نہیں۔ اگر خدانخواستہ اس وقت لمحوں نے خطا کی تو ہمیں اس کا ناقابل تلافی خمیازہ بھگتنا ہو گا۔ عرض کیا ڈاکٹر صاحب حل کیا ہے؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ فوری ایکشن ماہر طبیب
جمعرات 02 اپریل 2020ء

قیدیوں کی بھی فکر کیجیے

منگل 31 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
زنداں کے ساتھیوں نے قید خانے میں حضرت یوسفؑ سے خوابوں کی تعبیر پوچھی جو آپ نے وضاحت و صراحت کے ساتھ بتا دی۔ پھر قرآن کے الفاظ میں سنیے کہ حضرت یوسف نے کیا فرمایا۔پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا۔ اس سے یوسف علیہ السلام نے کہا’’اپنے رب(شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب(شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا۔ موت کا ذائقہ تو ہر انسان نے چکھنا ہے
مزید پڑھیے


سنجی پئی حویلی

جمعرات 26 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تنہائی ایک ایسی کیفیت ہے جس کی خواہش ہر بڑے شاعر‘ ہر بڑے فلسفی اور ہر سچے صوفی نے ضرور کی ہے۔ شاید اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا لینے کے لئے تنہائی ضروری ہے۔ مرشد اقبال نے کہا تھا ؎ دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب! کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو مرتا ہوں خامشی پر‘ یہ آرزو ہے میری دامن میں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو انگریزی کے سب سے بڑے شاعر اور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپئر نے اپنے کسی صاحب مرتبہ درباری کردار کی زبانی سرکار دربار کی
مزید پڑھیے


صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

منگل 24 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
مشکلات میں گھری کسی حکومت کے لئے اس سے بڑی کیا نعمت ہو گی کہ اپوزیشن مائل بہ تنقید نہیں مائل بہ تائید ہو۔ مگر اس کا کیا کیجیے کہ جب جناب وزیر اعظم کے اردگرد ایسی دانش اجتماعی پھیلی ہوئی ہو جس کا ایک ادنیٰ شاہکار ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے اس بیان میں دیکھا جا سکتا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے آپشنز ختم ہو گئے تو پھر لاک ڈائون ہو گا۔ اللہ نہ کرے کہ آپشنز ختم ہوں اور یہ مرحلہ آئے کہ ع صبحدم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا وزیر اعظم
مزید پڑھیے


حقیقت پسندانہ تقریر مگر تاخیر سے

جمعرات 19 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
گزشتہ شب جناب وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کا ٹیلی ویژن پر اعلان ہوا تو میں نے پاس بیٹھے ہوئے بیٹے سے ایک پیش گوئی کی۔ میری آدھی پیش گوئی تو بالکل درست ثابت ہوئی مگر باقی آدھی پوری نہ ہو سکی۔ دل سے صدا آئی اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی میں قارئین کے اشتیاق کا زیادہ امتحان نہیں لینا چاہتا میری پیش گوئی تھی کہ آج جناب عمران خان اپنی تقریر کو صرف کرونا وائرس تک محدود رکھیں گے ہو بہو سچ ثابت ہوئی مگر ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا تھا
مزید پڑھیے




کرونا وائرس سے اخلاقی وائرس تک

منگل 17 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
اس وقت ساری دنیا ڈری اور سہمی ہوئی ہے۔ بھیانک اور اچانک موت کا خوف انہیں اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ کیا گورے کیا کالے‘ کیا چینی کیا امریکی‘ کیا یورپی کیا ایشیائی غرضیکہ زمینی سیارے پر کوئی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ اللہ کی آخری کتاب میں واضح کر دیا گیا ہے کہ موت اٹل ہے نہ ایک پل آگے نہ ایک پل پیچھے۔ وہ اپنے معینہ وقت پر آئے گی اور اپنے ہدف کو اپنے ساتھ لے جائے گی۔ ذرا سورۃ نسا کی 78ویں آیت کا زور بیان دیکھیے۔ ’’تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آئے گی
مزید پڑھیے


کتابوں کا قرض

جمعرات 12 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
کتابوں پر لکھنے کا ارادہ کیا تو معاً ڈاکٹر محمود احمد غازی یاد آ گئے۔ ڈاکٹر غازی صاحب علم بھی تھے صاحب ذوق بھی ۔کتاب بینی اور کتاب نویسی غازی صاحب کی زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ تھا۔ جب سعودی عرب سے واپس آ کر میں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں ملازمت کا آغاز کیا تو غازی صاحب یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے مگر افسری کے زعم سے تہی دامن تھے۔ ان سے قربت ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ پروفیسر غازی تقریباً ہفت زبان تھے۔ وہ اردو اور فارسی کے علاوہ انگریزی اور عربی میں مکمل روانی کے
مزید پڑھیے


کرونا وائرس:کتنا بڑا خطرہ؟

منگل 10 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
ایک امریکی مصنف ڈین کوئنز کا ایک چونکا دینے والا ناول 1981 The Eyes of Darkness میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس ناول کی کہانی کے مطابق ایک ماں کا اکلوتا بیٹا ایک ٹورسٹ گائیڈ کے ہمراہ کئی دوسرے امریکی لڑکوں کے ساتھ کیمپنگ پر گیا۔ یہ گائیڈ بہت اچھی شہرت کا حامل تھا اور گزشتہ 16برس سے نوجوانوں کو دیہاتی وپہاڑی علاقوں میں لے کر جاتا تھا اور نوجوانوں کو جہاں سخت جان مشقوں سے گزارتا وہاں ان کے لیے دلچسپ مصروفیات کا بندوبست بھی کرتا تا ہم اس بار نہ جانے کیا ہوا کہ ٹورئس گائیڈ اور
مزید پڑھیے


عورت مارچ کا ہنگامہ

جمعرات 05 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
میری خاتون اینکر کولیگ نے برہمی سے کہا کہ ہم تو آپ کو اچھا خاصا ماڈرن سمجھتے تھے مگر آپ بھی اندر سے مولوی نکلے۔ میں نے پوچھا کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگیں آپ عورتوں کی آزادی کے خلاف ہیں۔ جواباً عرض کیا بی بی! میں عورتوں کی آزادی کے نہیں بے حیائی کے خلاف ہوں۔ گزشتہ برس کے عورت مارچ کا غالب پلے کارڈ تھا۔ میرا جسم میری مرضی۔ ایک پوسٹر پر نیم عریاں لباس میں ملبوس ایک لڑکی کو نہایت بے ہودہ طریقے سے بیٹھے ہوئے دکھایا گیا تھا جس کے نیچے یہ طنزیہ جملہ درج تھا کہ لو
مزید پڑھیے


دو تاریخی لمحے

منگل 03 مارچ 2020ء
ڈاکٹر حسین پراچہ
تاریخی لمحے قوموں کی قسمت بدل دیتے ہیں بشرطیکہ ان کی قدرو قیمت کو کماحقہ پہچانا جائے۔25فروری 1989ء افغانستان کی حالیہ تاریخ کا وہ پہلا تاریخی لمحہ تھا جب غیور افغان قوم کے سربکف مجاہدین نے ایک سپر پاور کو ناکوں چنے چبوائے ‘اسے ہزیمت سے دوچار کیا اور اسے اپنی مقدس سرزمین سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔سپر پاور کے نکل جانے کے بعد جب قومی مفاہمت اور ایک متفقہ حکومت کے قیام کا مرحلہ آیا تو اس میں افغان قوم بالغ نظری اور دور اندیشی سے کام نہ لے سکی۔ لہٰذا ملک میں خانہ جنگی شروع ہو
مزید پڑھیے