BN

راوٗ خالد



جنرل پرویز مشرف


آرٹیکل چھ کے تحت آئین کی پامالی کے حوالے سے سابق صدر اور آرمی چیف جنرل ریٹائرڈپرویز مشرف کا ٹرائیل خصوصی عدالت میںمکمل ہوا اور اسکا فیصلہ بھی سنا دیا گیا اس حوالے سے بہت سے تبصرے اور رد عمل آ رہے ہیں جس میں سب سے سخت بیان انکے اپنے ادارے کی طرف سے آیا۔ اسکی شدت اور غصے کو مجھے سمجھنے میں اس لئے دقت نہیں ہو رہی کہ جب جنرل مشرف نے ملک میں مارشل لاء لگایا تھا اور چیف ایگزیٹو کا عہدہ سنبھالا مجھے سرکاری نیوز ایجنسی (اے پی پی) کے فارن ایڈیٹر ہونے کے ناطے
جمعه 20 دسمبر 2019ء

گلو بٹ خوش ہوا

اتوار 15 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
آج گلو بٹ بہت خوش ہے، اسکی باچھیں کھلی ہوئی ہیں اور وہ اٹھلاتا پھر رہا ہے۔ایک وجہ تو اسکی خوشی کی یہ ہے کہ ہزاروں کی تعدا میں اسکے بھائی بند کالے اور سفید کوٹ میں پیدا ہو چکے ہیں اور وہ آئے دن کسی ہسپتال، سڑک، گلی، عدالتوں غرضیکہ ہر جگہ دندناتے پھرتے ہیںاور موقعہ پر ہی سستا اور فوری انصاف فراہم کرتے ہیں جسکے بارے میں وطن عزیز کی ہر حکومت غریب عوام کے ساتھ وعدہ کرتی رہی ہے لیکن ستربر سوں میں اسکے آثار بھی نظر نہیں آ رہے۔ سب سے بڑی وجہ گلو بٹ کے
مزید پڑھیے


سموگ ہی سموگ

جمعه 13 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
لاہور تو سموگ کا شکار ہے ہی لیکن یہاں ہر منظر دھندلا رہا ہے،ہر طرف سموگ ہی سموگ ہے۔ ایک ایسے مرحلے پر جب ملک کی معاشی حالت کے بارے میں بین الاقوامی ادارے خیر کی خبر دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار اور حکومتیں پاکستان کے اندر سرمایہ کے لئے امڈے چلے آ رہے ہیں۔ گزشتہ چار روز سے روس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد موجود ہے جو دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کر رہا ہے۔ سیاحت کے حوالے سے پاکستان دنیا کے پسندیدہ ترین ملکوں میں سے ایک بن چکا ہے۔
مزید پڑھیے


جمہوریت پسند

اتوار 01 دسمبر 2019ء
راوٗ خالد
پہلا سیاسی احتجاج جو دیکھا اور میں اس کا حصہ بھی تھا لیکن شعوری طور پر اس لئے نہیں گردانتا کہ میری عمر اس وقت ایسی تھی جب سیاسی معاملات کی سمجھ بوجھ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے اور خاص طور پر جمہوریت اور آمریت کے فرق کو تو با لکل نہیں سمجھ سکتا تھا۔یہ جنرل ایو ب خان کے چل چلائو کا دور تھا انہوں نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لئے 1969 میں ملک بھر میں ٹرین مارچ کا آغاز کیا۔ میں جدید پرائمری سکول گوجرہ میں پانچویں جماعت کا طالبعلم تھا۔ سکول میں پتہ چلا کہ
مزید پڑھیے


مزاحمتی سے علالتی بیانئے تک

اتوار 24 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان کی فرسٹریشن بلا وجہ نہیںہے۔ انہوں نے اپنی سیاست کا آغازبے لاگ انصاف کے نعرے سے کیا اور طاقتور اور کمزور کے لئے ایک قانون کی بات کی۔2018ء کاا نتخاب انصاف کے ساتھ احتساب کے نعرے سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ اپوزیشن جو بھی الزام لگائے لیکن انکو بھی پتہ ہے کہ انتخابات میں انہوں نے جیتنے کے لئے الیکٹیبل کا سہارا لیا تھا اور یہی کام عمران خان نے کیا۔ الیکٹیبل سے سیانی مخلوق کہیں نہیں پائی جاتی۔ وہ بر وقت جیتنے والی پارٹی میںجانے کی حس سے مزّین ہیں اور انہیں کسی کو بتانے
مزید پڑھیے




دو نظام عدل!

جمعه 22 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
وزیر اعظم عمران خان بہت جز بز ہو رہے ہیں کیونکہ بظاہر انکی مرضی کے خلاف میاں نواز شریف کو ملک سے باہر جانے کی لاہور ہائیکورٹ نے اجازت دیدی ہے۔ہزارہ موٹروے کے افتتاح کے موقع پر انہوں دو کی بجائے ایک نظام عدل رائج کرنے کی بات کی اور اس کے لئے انہوں نے موجودہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ اور انکے بعد بننے والے چیف جسٹس گلزار احمد سے اپیل کی کہ وہ اس نظام کوطاقتور اور کمزور کے لئے یکساں بنانے میں مدد کریں اسکے لئے حکومت تمام وسائل مہیا کرنے کو تیار ہے۔ اسکے جواب میں
مزید پڑھیے


جمہوریت کا درد

اتوار 17 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
جب بھی کوئی پارٹی بلکہ شخصیت اقتدار سے باہر ہوتی ہے جمہوریت خطرے میں پڑ جاتی ہے اور سب ہارنے والے قائدین کے پیٹ میں جمہوریت کا مروڑ اٹھنے لگتا ہے جیسے کہ آجکل مولانا فضل الرحمٰن کو ہو رہا ہے کہ اصلی تے وڈی جمہوریت ملک سے نا پید ہو گئی ہے اور انہوں نے اسکی بحالی کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انکا مشن تو بہت جلد مکمل ہونے والا ہے اور انکو اسی جمہوریت پر گزر بسر کرنا ہوگی اور چار سال بعد شاید انکو دوبارہ موقع ملے کہ جس قسم کی جمہوریت انکو درکار ہے وہ قائم کر
مزید پڑھیے


سب چلے جائیں گے

جمعه 15 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
سب اہتمام ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن دھرنا ختم کر گئے ہیں، میاں نواز شریف کو حکومت نے ایک دفعہ چار ہفتوں کے لئے ملک سے باہر جا کر علاج کرانے کی اجازت دیدی ہے جس میں یہ لچک بہر حال موجود ہے کہ وہ اس دوران صحتمند نہ ہو پائیں تو اپنے قیام کو طول دے سکتے ہیں، یہ قیام کتنا طویل ہو سکتا ہے اس بارے میں کوئی اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک میاں نواز شریف کا مکمل چیک اپ نہیںہو جاتا اور ڈاکٹر انکی بیماری کے حوالے سے حتمی تشخیص نہیں
مزید پڑھیے


جانا ٹھہر گیا!

اتوار 10 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
نواز شریف جا رہے ہیں اورپتہ نہیں مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بھی اسی ہفتے چلے جائیں گے اور شاید دسمبر تک آصف زرداری بھی خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لیں۔ کیا مولانا فضل الرحمٰن کا اس ساری سیاسی ہجرت کے اہتمام سے کوئی تعلق ہے، شاید ابھی یہ ثابت کرنا مشکل ہو لیکن مولانا فضل الرحمٰن جس شدّ و مد سے نواز شریف اور آصف زرداری کی کرپشن مقدمات میں گرفتاری اور سزا کے حوالے سے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بات کرتے ہیں اس سے انکا اپنے ان دو پرانے حکومتی
مزید پڑھیے


جمہوریت ناپائیدار کیوں؟

جمعه 08 نومبر 2019ء
راوٗ خالد
تاریخی طور پر دیکھیں تو ہمارے ہاں کبھی انتخابات منصفانہ،غیر جانبدارانہ اور شفاف ہوئے ہیں اور نہ ہی کوئی حکومت عوام کی نمائندہ مانی گئی ہے بھلے وہ میاں نواز شریف کی دو تہائی اکثریت والی ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ سب کچھ مشکوک بنانے والے ہمیشہ جمہوری عمل پر بظاہر یقین رکھنے والے اسکاحصہ بننے والے، انتخابات میں حصہ لینے، کئی بار حکومتیں کرنے والے سیاستدان ہیں۔ جنہوں نے انتخابی عمل کے بارے میں ہارنے کے بعد بہت واویلا کیا لیکن اسکی اصلاح کے لئے جب بھی موقع ملا کچھ نہیں کیا بلکہ اس کو اپنے حق میں
مزید پڑھیے