BN

راوٗ خالد



احتساب یا انتقام


ایک ہنگامہ بپا ہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی، کسی کو شکوہ ہے اسکے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، کوئی اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دے رہا ہے۔ کسی کو لگتا ہے کہ یہ سارا نظام دھڑام سے گر جائے گا۔ ہر کسی کا اپنا انداز ہے صورتحال کو دیکھنے کا۔ جو لوگ احتساب کے عمل کے متاثرین ہیں انکا خیال ہے کہ یہ سارا عمل ہمیشہ سے مخالفین کو دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے، کوئی جنرل پرویز مشرف کے احتسابی عمل کی دلیل دیتا ہے تو کوئی سیف الرحمان جو کہ میاں
اتوار 23 دسمبر 2018ء

سیاسی بھونچال

اتوار 16 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
جب سے پانامہ، ڈان لیکس وغیرہ کا دور شروع ہوا ہے ملک میں مسلسل سیاسی بھونچال آ رہے ہیں اگر بڑے بھونچال رکتے ہیں تو آفٹر شاک چلتے رہتے ہیں۔ بھلے وہ اپوزیشن ہو یا حکومت سب اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ملک کا سیاسی منظر نامہ بدلنے کی رفتار دیکھ کر بے ساختہ کہنا پڑتا ہے کہ: ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں پانامہ سے شروع ہونے والا ہنگامہ کئی مراحل سے گزر چکا ہے اور اب شاید اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ کسی بھی وقت متوقع ہے۔اس مقدمے کی شنوائی میں سوائے
مزید پڑھیے


متحدہ عرب امارات کے قومی دن کی تقریب

اتوار 09 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
یہ جنوری1993 ء کی بات ہے جب پہلی دفعہ مجھے متحدہ عرب امارات کے دورے کا موقع ملا۔سات کے قریب قومی اخبارات کے صحافیوں کو یو اے ای کی حکومت نے دورے کی دعوت دی تھی۔ اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد جہاں دنیا بھر میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ یو اے ای میں بھی اس بارے میں خاصی تشویش پائی جاتی تھی۔ لیکن العین میں مقیم پاکستانیوں نے ہمارے ہاں رائج توڑ پھوڑ کاروایتی طریقہ احتجاج اختیار کیا۔ انہوں نے العین میں واقع ایک ہندو مندر پر حملہ کیا
مزید پڑھیے


Uٹرن اور 100دن

اتوار 02 دسمبر 2018ء
راوٗ خالد
امید تھی کہ وزیر اعظم عمران خان کے یوٹرن والے بیان پر کچھ دن لے دے ہو گی اور پھر یہ طوفان تھم جائے گا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود تنقید کرنے والے چپ ہورہے ہیںاور نہ ہی عمران خان کے بیان کی وضاحت دینے والے خاموش ہونے کو تیار ہیں۔ ڈکشنریاں کھل چکی ہیں ہر کوئی اپنے مطلب کے مطابق اسکے معنی نکال رہا ہے۔ کسی کو یہ ایک بہت ہی گھنائونا کام لگتا ہے کوئی اسے تزویری سوچ کہہ رہا ہے کہ جب لیڈر کو اپنے غلط ہونے کا گمان گزرے تو اسکے صحیح راستے پر آنے
مزید پڑھیے


مسٹر ٹرمپ کی عالمی رسوائی

اتوار 25 نومبر 2018ء
راوٗ خالد
ہمارے پاس کوئی اوباما،ٹرمپ، بش یا کلنٹن جج نہیں ہے، ہمارے ججز برابری کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ امریکی چیف جسٹس جان رابرٹس نے یہ جواب صدر ٹرمپ کے سپریم کورٹ کے تارکین وطن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے بعد ہرزہ سرائی کے جواب میں دیا۔صدر ٹرمپ اپنے عامیانہ بیانات اور روّیے کے باعث آئے دن کسی نہ کسی کے ہاتھوں اپنی درگت بنوا رہے ہوتے ہیں۔امریکی تاریخ کے مسٹر ٹرمپ پہلے صدر ہیں جن کی ملکی سطح اور عالمی رسوائی کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے رکنے کے کوئی
مزید پڑھیے




قومی ہم آہنگی کا نظارہ

اتوار 18 نومبر 2018ء
راوٗ خالد
کچھ دن پہلے چیف آف آرمی سٹاف کے صاحبزادے رشتہ ازدواج میں بندھ گئے۔ والدین کے لئے یہ ایک اہم اورانتہائی خوشی کا لمحہ ہوتا ہے لیکن ہماری سیاسی تاریخ کی بھی یہ ایک بہت اہم تقریب ثابت ہوئی۔ اب تک فوج اور اس سے متعلقہ اداروں کے بارے میں ناقدین سیاستدانوں کو تقسیم کر کے اپنا کام نکالنے اور جمہوریت کو بدنام کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے چلے آئے ہیںلیکن آرمی چیف کے صاحبزادے کے ولیمہ کی تقریب اس سارے تاثر کی نفی کر رہی تھی۔ ایک ایسی قومی ہم آہنگی اور یگانگت کی فضا تھی کہ بے اختیار
مزید پڑھیے


پولیس اور فوجداری نظام عدل

جمعرات 15 نومبر 2018ء
راوٗ خالد
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گزشتہ ہفتے کچھ فوجداری اپیلوں کی سماعت کے دوران پولیس کے طریقہ تفتیش اور فوجداری مقدمات میں مجموعی خرابی کے حوالے سے بہت اہم نکات اٹھائے۔انہوں نے سزائے موت پانے والے قتل کے مجرم کی سزا معطل کرتے ہوئے کہا کہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ صرف کرائے کی شہادتوں پر کسی کی جان نہیں لی جا سکتی۔پولیس کی طرف سے اہم فوجداری مقدمات کی تیاری میں نالائقی اور بھرتی کے گواہوں کے ذریعے کیس ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کی خاص طور پر جسٹس کھوسہ نے نشاندہی کی۔ ہمارے ہاں پولیس کی کارکردگی
مزید پڑھیے


حکومتیں بچ گئیں!

اتوار 11 نومبر 2018ء
راوٗ خالد

وزیر اعظم عمران خان کے بقول حالیہ دھرنے کو پر امن طریقے سے ختم کرنے میں کامیابی کی وجہ سے حکومتیں بچ گئیں ۔ وزیر اعظم کی طرف سے اس قسم کے بیان کے بعد بہت سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ دو بنیادی سوال یہ ہیں کہ کیا دھرنا حکومتیں گرانے کے لئے تھا؟ اگر نہیں تھا تو وزیر اعظم نے اتنا بڑا دعویٰ کس بنیاد پر کیا؟اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم ملک کی سب سے باخبر شخصیت ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ اس لئے جو دعویٰ یا بیان اس شخصیت سے منسوب ہوتا
مزید پڑھیے


کچھ بھی نہیں بدلا

جمعه 09 نومبر 2018ء
راوٗ خالد
یہ پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی کی بات نہیں بلکہ بر صغیر پاک و ہند میں بسنے والے مسلمانوں کے دینی قائدین کاقصہ ہے۔ دو سو سال سے مسلمان جس قسم کی تقسیم کا شکار ہوئے ہیں اس میں کمی آنے کے بجائے ہمیں نئی صورتوں میں تقسیم در تقسیم کا سامنا ہے۔ علامہ اقبال ؒنے انیسویں صدی میں کہا: فرقہ بندی ہے کہیںاور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں اکیسویں صدی میں قدم رکھے ہوئے ہمیں دو دہائیاں ہونے والی ہیں لیکن اس حوالے سے کچھ بھی نہیں بدلا بلکہ صورتحال مزید گھمبیر ہو
مزید پڑھیے


نفرت کب تک

اتوار 04 نومبر 2018ء
راوٗ خالد
ستر کی دہائی کے آخری سالوں سے ہم نفرت کی ایسی فصل بوتے چلے آ رہے ہیں جس نے ہماری نسلوں کو مکمل لپیٹ میں لے لیا ہے اور اسکی وجہ سے ہم معاشی میدان سے لیکر انسانی ترقی کی دوڑ میں قرون وسطیٰ کے دور میں جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔یہ نفرت ہم نے سیکھی نہیں بلکہ کبھی بین الاقوامی طاقتوں کی ضرورت اور کبھی برادر اسلامی ممالک کی باہمی کدورتوں کی وجہ سے ہمیں عطا ہوئی ہے۔ہم نے بھی کبھی اس بارے میں غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہم نفرت کی ایک ایسی آگ میں
مزید پڑھیے