BN

سعد الله شاہ


گرانی اور گراں جانی


دامن چشم میں تارا ہے نہ جگنو کوئی دیکھ اے دوست مری بے سروسامانی کو شیشہ شوق پہ تو سنگ ملامت نہ گرا عکس گل رنگ ہی کافی ہے گراں جانی کو بے چارے عوام پر گرانی کا بوجھ لادا جا رہا ہے کہ آخر کمر کب تک بوجھ برداشت کرے گی۔لوگ اب کراہنا شروع ہو گئے ہیں۔ میرے گھر میں بجلی کا بل اٹھارہ ہزار پانچ صد روپے آیا ہے اب گیس کا بل بھی ہزاروں میں آتا ہے۔ آخر ہماری گراں جانی کب تک۔ لیجیے ابھی تو ہم بل پر بلبلا رہے تھے کہ تازہ خبر سامنے پڑی ہے کہ بجلی مزید
منگل 21 جولائی 2020ء

دنیا کی تیزی اور لاک ڈائون

پیر 20 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ایک جگنو ہی سہی ایک ستارا ہی سہی شبِ تیرہ میں اجالوں کا اشارہ ہی سہی ہم کو جلنا ہے بہرطور سحر ہونے تک اک تماشہ ہی سہی ایک نظارہ ہی سہی میں برسوں سے ایک شخص کو دوڑتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ دیکھ کے تھک گیا ہوں وہ دوڑ دوڑ کر نہیں تھکا۔ اس کا یہ معمول ہے کہ وہ محلے سے دوڑ کر گزرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لمبی چھڑی ہوتی ہے اور وہ پسینہ میں شرابور سیدھا سڑک پر نہیں بھاگتا بلکہ کوٹھیوں کے آگے لگے گھاس پر سے ہوتا ہوا جاتا ہے۔ کبھی کبھی سڑک
مزید پڑھیے


مون سون اور ہم

اتوار 19 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ابر اترا ہے چار سو دیکھو اب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھو سرخ اینٹوں پہ ناچتی بارش اور یادیں ہیں روبرو دیکھو اس وقت مون سون شروع ہے اور پاکستان میں زبردست بارشوں کا امکان ہے اور ان بارشوں کے نتیجہ میں جو کچھ ہو گا وہ بھی سب کو معلوم ہے۔ حکومت کے مون سون سے نمٹنے کے سارے دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ مگر آج میں روٹین سے ہٹ کر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں تاکہ میرے قارئین مون سون کے حوالے سے کچھ نہ کچھ جان سکیں کہ موسموں کا یہ سائکل نہایت دلچسپ ہے۔ ہوا یوں کہ
مزید پڑھیے


جبرِ ناروا کا موسم

هفته 18 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
روئے سخن نہیں تو سخن کا جواز کیا بن تیرے زندگی کے نشیب و فراز کیا یہ شہر سنگ ہے یہاں ٹوٹیں گے آئینے اب سوچتے ہیں بیٹھ کے آئینہ ساز کیا میرے پیارے قارئین !اس سے پہلے کہ میں آپ کو اپنے کان درد اور اس کے علاج کا دلچسپ واقعہ سنائوں‘ ذرا سی بات بلاول کے حوالے سے ہو جائے کہ وہ ان دنوں خبروں میں بہت نمایاں ہیں ان کی بات میں کوئی طرحدار پہلو ہوتا ہے جو کشش رکھتا ہے۔ مگر آج ہم اس پر اداس ہیں طالبان کے سابقہ ترجمان احسان اللہ احسان نے ٹویٹر پر بلاول کو قتل
مزید پڑھیے


اندھوں کی بستی اور ظلم کی سیاہی

بدھ 15 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گل صبح تری باس کہاں رکھیں گے خود ہی روئیں گے ہمیں پڑھ کے زمانے والے ہم بھلا رنج و الم پاس کہیں رکھیں گے خواب خوش نما کا احساس اور پھر احساس زیاں کا قلق دونوں ہی جان لیوا ہوتے ہیں ایک روگ وصل کی طرح اور دوسرا فرقت کی جاں کنی کی طرح۔ خیر موضوع سے پہلے دو تین پیاری پیاری اور دلگداز خبریں جو ہمارا دامن پکڑے ہوئے ہیں۔ وہی دامان یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے میں چاہتا ہوں کہ ان خبروں کی نشاط انگیزی کو میرے قارئین بھی محسوس کریں اور
مزید پڑھیے



عمران خان اور سرکاری ملازمین

منگل 14 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنی محبت میں کیا گو سمجھتے ہیں زمانے کی ضرورت کیا تھی ہو جو چاہت تو ٹپک پڑتی ہے آنکھوں سے اے مرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی آج ہم خان صاحب کے حق میں ایک کالم لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر اس سے پہلے دو پیاری سی خبریں سامنے آ گئیں اور ہم بے کل ہو گئے۔ نظرانداز کریں گے تو دل میں حسرت اظہار رہ جائے گی۔ اخبار کے صفحۂ اول پر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مرتبہ ماسک کے ساتھ تصویر نظر نواز ہوئی ہے۔ لکھا ہے کہ ٹرمپ نے پہلی مرتبہ ماسک پہن
مزید پڑھیے


حکومت کی ترجیحات اور کارکردگی

اتوار 12 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
چند لمحے جو ملے مجھ کو تیرے نام کے تھے سچ تو یہ ہے کہ یہی لمحے مرے کام کے تھے پڑھنا پڑی ہم کو بھی کتاب ہستی باب آغاز کے تھے جس کے نہ انجام کے تھے زندگی سمجھ میں آ جائے تو زندگی کرنا بھی آ جاتا ہے مگر یہ ہے اک بجھارت سی‘ وہی کہ کس لئے آئے تھے اور کیا کر چلے والا معاملہ ہے۔ ذوق کی اس غزل کا مطلع بھی تو لاجواب ہے۔لائی حیات آئے ‘ قضا لے چلی چلے۔ اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے۔ ویسے بھی خوشی کو غم کے طویل فقرے میں رموز
مزید پڑھیے


حکومت کی بے بسی اور درپردہ ایجنڈا

هفته 11 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
جو بھٹکتا ہے مری راہ بنا جاتا ہے ورنہ بستی میں کہاں سیدھا چلا جاتا ہے یہ کیا ہے کہ سیدھا چلنے کا زمانہ ہی نہیں اور راست دیکھنے کا‘وہی کہ ’’الٹا لٹکو گے تو سیدھا نظر آئے گا‘‘ حالات نے ہر شے کی ہیت قذائی بدل کر رکھ دی ہے۔ سچی بات تو یہ ہے موجودہ ابتری میں بندہ منیر نیازی کی طرح ہی سوچتا ہے۔ عادت ہی بنا لی ہے تونے تو منیر اپنی ۔ جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا۔ ایک ہی طرح کے دگرگوں حالات دیکھ کر بندہ اکتا تو جاتا ہے بلکہ بعض معاملات میں
مزید پڑھیے


آٹے کی پرانی قیمت بحال ہو گی؟

جمعرات 09 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
کوئی پلکوں پہ لے کر وفا کے دیے دیکھ بیٹھا ہے رستے میں تیرے لئے اپنی مٹھی میں کوئی بھی لمحہ نہیں اور کہنے کو ہم کتنے برسوں جیے ابھی ہی کی بات لگتی ہے کہ ہم رنگ و بو کے موسم میں یونیورسٹی آئے اور اس بات کو لگ بھگ چالیس سال گزر چکے۔ پلکوں پر جگنو اور ستارے چمکتے تھے اور آنکھوں میں کہکشائیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے عملی زندگی میں آ گئے اور اب نوبت باایں جا رسید کہ لمحات تلخی سے بھر گئے۔ اور شام ہوتے ہی اڑ گئے پنچھی۔ وقت جتنا بھی تھا پرایا تھا۔ رومانس کا دورانیہ
مزید پڑھیے


اپنی روش نرالی ہے

هفته 04 جولائی 2020ء
سعد الله شاہ
کتنا نازک ہے وہ پری پیکر جس کا جگنو سے ہاتھ جل جائے مجھے بہت ہی انوکھا تجربہ ہوا۔ مجھے بھوک نے ستایا تو میں شاہ عالمی میں ایک ہوٹل میں آن بیٹھا اور بیرے سے مینیو پوچھا۔ بیرے سے پہلے قریب ہی بیٹھا مالک بولا ’’بائو جی!آپ ہمارے کوفتے ٹرائی کریں۔ ظاہر ہے کوفتے قیمے سے بنتے ہیں۔ اس لئے کوفتے کھانے میں سراسر رسک ہے۔ میں نے انکار میں سر ہلایا تو ہوٹل کا مالک کہنے لگا۔بائو جی ہم جدی پشتی کوفتے بناتے ہیں۔ آپ ایک دفعہ کھا لیں۔ ہمارے کوفتے کی خوبی یہ ہے کہ آپ اس چوک سے
مزید پڑھیے