سعد الله شاہ


لاک ڈائون کب تک؟


موج میں آ کر جب بہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں تنہا تنہا کیوں رہتے ہیں بادل چاند ہوا اور میں سبز رتوں کی جھلمل میں جب شاخیں پھول اٹھاتی ہیں تنہا تنہا کیوں رہتے ہیں بادل چاندا ہوا اور میں آپ سوئے آسمان دیکھتے ہیں تو یقینا شکلیں بدلتے ہوئے بادل‘ ان میں سے جھانکتا ہوا چاند یا پھر دل کی دھڑکن کو محسوس کرتا ہوا آپ کو اپنا وجود سب کچھ اچھا لگتا ہے مگر اس وقت جب آپ آزاد ہوں اور آپ کا تخیل پرواز کرے۔ ظاہر یہ نظارہ کھڑکیوں سے کیا جائے تو اس کا تاثر بہت مختلف
پیر 04 مئی 2020ء

میری اداسی کا سبب

اتوار 03 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی میں محبت ہوں محبت کو بچا لے کوئی میں سمندر ہوں مری تہہ میں صدف ہے شاید موج در موج مجھے آ کے اچھالے کوئی موجودہ لاک ڈائون میں سچ مچ میں اداس ہو گیا ہوں۔ حالانکہ موسم بہت خوشگوار ہے۔ بادل بھی ہیں اور کن من بھی۔ اور لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے، کہ کہتے ہیں کہ جب فصلیں کٹ رہی ہوں تو پھر سونے کی بوند بھی جان لیوا ہوتی ہے۔ کسان کو پتھر کی طرح لگتی ہے مگر اس کی وہی جانتا ہے اور یہی بات دل کو تسلی
مزید پڑھیے


صحافیوں کی تربیت اور ایک درد ناک خبر

هفته 02 مئی 2020ء
سعد الله شاہ
اپنے مطلب کے سوا لوگ کہاں ملتے ہیں اب کے بھی سانپ خزانے کے لئے آئے تھے وائے ان لوگوں نے جنگل بھی جلا ڈالا ہے جو یہاں شہر بسانے کے لئے آئے تھے کیا کیا جائے کہ انسان ہمیشہ اس المیے سے دوچار رہا۔اس پر بات کرنے سے پہلے ایک دلچسپ خبر پر بات ہو جائے کہ عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ انفارمیشن اکیڈمی صحافیوں کی تربیت کے لئے پروگرام ترتیب دے۔ مگر اس سے بھی پہلے میں آپ کے ساتھ اس سے بھی زیادہ دلگداز اور پیارا سا واقعہ شیئر کروں گا۔ ٹی وی کے دنوں میں جب گیت وغیرہ
مزید پڑھیے


کچھ سیاست سے ہٹ کر

جمعرات 30 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
دل وحشی کی یہ حسرت بھی نکالی جائے روشنی جتنی بھی ممکن ہو چرا لی جائے یہ سمندر بھی تو پانی کے سوا کچھ بھی نہیں اس کے سینے سے اگر لہر اٹھا لی جائے آپ بھی جانتے ہیں کہ اصل میں تب و تاب ہی زندگی ہے مگر حسرتیں اس کے ساتھ آکاس بیل کی طرح لپٹی ہوئی ہیں۔ ابھی میں نے اتنا ہی لکھا تھا کہ ہمارے دوست مظفر مرزا کا فون آ گیا کہ میں انہیں اس شعر کا مطلب سمجھائوں جو میں نے اپنے گزشتہ کالم میں درج کیا ہے۔ ان کے تجسس پر مجھے خوشی ہوئی، شعر تو سادہ
مزید پڑھیے


نئی تبدیلی

بدھ 29 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
درد اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی لو جی ’’ہم بھی فارغ ہوئے شتابی سے‘‘۔ نہ جانے یہ ستم ظریف اخبار والے ایسی سرخی کیوں جماتے ہیں کہ عاصم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات، فردوس عاشق فارغ، فارغ لفظ کے اوپر باقاعدہ تخلص والا نشان بھی ڈال رکھا ہے جیسے کہ فارغ محترمہ کا تخلص ہو۔ ویسے محترمہ نے خان صاحب کے حق میں نثری قصیدے تو بہت کہے ہیں اور بعض دفعہ تو انہوں نے
مزید پڑھیے



کیسے کہہ دوں کہ تھک گیا ہوں میں

منگل 28 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
کس نے سیکھا ہے نقش پا رکھنا پیر اٹھایا تو آ گیا رکھنا وقت روکے تو میرے ہاتھوں پر اپنے بجھتے چراغ لا رکھنا یہ زمین انہی کی ہے جن کے حوصلے ہیں زیادہ۔ کامیابیاں اور کامرانیاں آخر انہی کے قدم چومتی ہیں جو بندشوں اور رکاوٹوں کی پروا کیے بغیر اپنا سفر روکتے نہیں بلکہ اس کو منزل بنا لیتے ہیں۔ راہ میں مشکلات اور دشواریاں تو آتی ہیں۔ ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ گراں اور یا پھر جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر’’والا معاملہ‘‘جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر
مزید پڑھیے


فن کی دنیا سے کچھ مزے کی باتیں

پیر 27 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
تو رکے یا نہ رکے فیصلہ تجھ پر چھوڑا دل نے در کھول دیئے ہیں تری آسانی کو جس میں مفہوم ہو کوئی نہ کوئی رنگِ غزل سعدؔ جی آگ لگے ایسی زباں دانی کو آج موضوع بدلتے ہیں کہ شاید فضا بدلے۔ بہر حال بات کرتے ہیں تھوڑی سی آرٹ کی اور ادب کی۔ ایک زبان ہوتی ہے اور ایک زبان دانی۔ مگر سب سے زیادہ اہم وہ معنی و مفہوم ہوتا ہے جو زبان کے پیکر میں رکھا جاتا ہے۔ کالرج کا یہ کہنا بلا شبہ اہمیت کا حامل ہے کہ ڈکشن یعنی زبان اورکانٹینٹ یعنی مواد آپس میں ہم آہنگ ہو
مزید پڑھیے


کچھ باتیں کچھ گزارشات

اتوار 26 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کون دیکھے گاتہہ آب نظارے سارے سخت مشکل تھی مگر نام خدا کے آگے رکھ دیے ایک طرف میں نے سہارے سارے اس میں کیا شک ہے کہ دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی مشکل وقت ہے اور ہمیں بھی اسی آفت کا سامنا ہے جس نے بڑی بڑی معیشتوں کو برباد کر کے رکھ دیا ہے اور ہر جگہ نفسا نفسی کی حشر سامانی ہے ایسی آفات میں انسان لاچار و بے بس ہے۔ بس ایک سہارا باقی بچتا ہے کہ جس نے ہمیشہ باقی رہنا ہے یقینا انسان کا اسباب و عوامل پر
مزید پڑھیے


حالیہ منظر نامے کے کچھ دلچسپ پہلو

هفته 25 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
تمہارے ساتھ رہنا ہے مگر ایسے نہیں رہنا تمہیں گر کچھ نہیں سننا ہمیں بھی کچھ نہیں کہنا بھولا بسرا شعر عمران خاں کے اس بیان پر یاد آیا کہ کورونا کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ مئی کا وسط مشکل وقت‘ سمارٹ لاک ڈائون کی طرف جانا ہو گا‘ کیا کیا جا سکتا ہے دنیا کی تاریخ بدل رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ کوئی تاریخ بدل رہا ہے۔ یہ تو خیر انہوں نے حوصلہ افزا بات کی کہ بحران سے نکلنے کے بعد پاکستانی تیزی سے اوپر جائے گا۔ شاید ایسے ہی جیسے سیلاب کے بعد زمینیں زیادہ ذرخیز ہو
مزید پڑھیے


پرندوں کی دنیا اور ہم

جمعه 24 اپریل 2020ء
سعد الله شاہ
ترے اثر سے نکلنے کے سو وسیلے کیے مگر وہ نین کہ تونے تھے جو نشیلے کئے ادھر تھا جھیل سی آنکھوں میں آسمان کا رنگ ادھر خیال نے پنچھی تمام نیلے کیے لاک ڈائون کے دنوں میں علی الصبح سیر کو نکلتا ہوں تو پہلا تعارف پرندوں سے ہوتا ہے صبح کاذب کے جب روشنی سپیرے کی صورت اترتی ہے تو پرندے کی صدا کانوں میں پڑتی ہے۔ شاید چڑیا پہلے بولتی ہے یا کوئی اور پرندا ‘ بہرحال پرندوں کی آوازیں شامل ہوتی جاتی ہیں حتیٰ کہ کوا بھی آن دھمکتا ہے جب صبح سانس لیتی ہے تو سبزہ و پیڑ پودے
مزید پڑھیے