BN

سعد الله شاہ



پرندوں کا طواف


مدینہ میں ہمارے شب و روز بہت اچھے گزر رہے ہیں۔ مسجد نبوی میں آتے جاتے راستے میں بیٹھتے ہوئے کبوتروں کو ہم رشک سے دیکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ جانگلی کبوتروں کے ساتھ کچھ سفید کبوتر بھی شامل ہو گئے ہیں مگر وہ اتنے آنکھوں کو نہیں بھاتے جتنے خاکستری کبوتر۔ ان کو دانہ ڈالنے والے بھی ان کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ ساری نسبت کی باتیں ہیں۔ میں جنت البقیع گیا تو وہاں پہرے کی صورتحال ہوتی ہے۔ وہاں دو زائرین مجھے ملے جن سے میں نے جنت کی سردار حضرت فاطمۃ الزھراؓ کی قبر کا پوچھا
جمعرات 25 جولائی 2019ء

تیری میری گل نہیں‘ گل اے حضورؐ دی

پیر 22 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
رہے پیش رو ترا نقش پا مرے مصطفیؐ مرے مجتبیٰ تو ہے روشنی مری آنکھ کی ترا راستہ مرا راستہ مسجد نبویؐ میں معمول میں اتنا رش رہتا ہے کہ مسجد اندر باہر سے بھر جاتی ہے‘ راستے نمازیوں سے لد جاتے ہیں۔ اذان سے بہت پہلے لوگ اپنی جگہ بناتے جاتے اور نوافل ادا کرتے ہیں۔ آنے والے راستے میں رکھے ہوئے کولرز سے آب زم زم پیتے جاتے ہیں۔ کیا تاثیر اس میں آب حیات جیسی۔ یہ آپ پر بھاری نہیں پڑتا۔ اس کے پیچھے بھی معجزہ کارفرما ہے کہ یہ سبیل قیامت تک جاری رہے گی۔ اچھا لگتا ہے
مزید پڑھیے


مدینہ کی خوشبو

جمعه 19 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
16جولائی کو بادو باراں کے جھکڑ میں گھر سے حج کے لئے نکلے مگر گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے ہم مکمل بھیگ گئے یہ مون سون کی پہلی زور دار بارش تھی۔ پورا راستہ بارش ہوتی رہی۔ ایئر پورٹ پر رش تھا۔ اچھا یہ ہوا کہ اس مرتبہ وزارت حج کی طرف سے کچھ ایسا اچھا انتظام تھا کہ اس نامساعد موسم کی ٹینشن یہاں آ کر ختم ہو گئی۔ ایک دو دوست بھی مل گئے اور حج کے ڈائریکٹر ریحان کھوکھر صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔ اچھا لگا کہ وہ حاجیوں سے فرداً فرداً مل رہے تھے کہ اگر کوئی
مزید پڑھیے


ہم ہلے تھے ذرا ٹھکانے سے

بدھ 17 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
ابر اترا ہے چار سُو دیکھو اب وہ نکھرے گا خوب رو دیکھو ایسے موسم میں بھیگتے رہنا ایک شاعر کی آرزو دیکھو پہلے پری مون سون اور اب اصلی مون سون اتر آئی ہے۔ سب کچھ جل تھل ہو گیا ہے۔ یہ ہمارا پانچواں موسم ہے جو ایک دفعہ تو سب کچھ ڈبو دیتا ہے۔ صرف ایک چیزی ہی باقی بچتی ہے جو رات گئے ایسی ٹر ٹر لگاتی ہے یا ٹراتی ہے کہ ہر طرف اسی آواز کا راج ہوتا ہے۔ ویسے تو مینڈک ہی کیا ایسی کئی چیزیں زمین سے نکل کر باہر آ جاتی ہے۔ ہمیں تو بے طرح شہباز
مزید پڑھیے


غم کی دکان کھول کے بیٹھا ہوا تھا میں

پیر 15 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انہیں زندہ سمجھو پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں آج مجھے انہی زندہ لوگوں کی بات کرنا ہے جو دوسروں کے لئے جیتے ہیں اور مایوس اور لاچار لوگوں کی زندگی کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔ مجھے ایک آدھ روز میں حج کے لئے روانہ ہونا ہے۔ ظاہر اس کے لئے تیاری بھی ایسے ہی ہے جیسے امتحان کے آخری دنوں میں کی جاتی ہے۔ عزیز دوست نواز کھرل کااصرار کہ میں عالمی فلاحی اور رفاہی تنظیم المصطفیٰ کی
مزید پڑھیے




دل کا معاملہ اور فردوس عاشق اعوان

اتوار 14 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
یہ کیسی پوسٹ لگائی گئی ہے کہ نوٹ کو ہاتھ لگانے کے بعد اسے اچھی طرح صابن سے دھوئیں پھر تفصیل میں کیا کچھ نہیں لکھا گیا کہ نوٹ کس کس ہاتھ میں جاتے اور کون کون سے جراثیم یہ اٹھاتے ہوئے آپ کے پاس آتے ہیں۔ میں تو پوسٹ پڑھ کر حیران رہ گیا کہ لوگ تو ایسے ہیں جو ہاتھ دھو کر نوٹ کو چھوتے ہیں۔ ہاتھ دھو کر نوٹوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور بعض تو نوٹوں پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ یہ تو نہایت مشکل کام ہے کہ نوٹ کو چھو کر جراثیم کش صابن
مزید پڑھیے


کرکٹ اور تعصب

هفته 13 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
دل سے کوئی بھی عہد نبھایا نہیں گیا سر سے جمال یار کا سایہ نہیں گیا ہاں ہاں نہیں ہے کچھ بھی مرے اختیار میں ہاں ہاں وہ شخص مجھ سے بھلایا نہیں گیا معاملہ کسی انسان کا ہو یا ملک کا یہ محبتیں انسان کے بس میں نہیں ہوتیں۔ یہاں بے اختیاری اور سرشاری کام کرتی ہے۔ سبز ہلالی پرچم دیکھ کر اندر باغ کھل اٹھنا اور چاندنی چٹک جانا ایک فطری عمل ہے۔ میں صرف زمین اور مٹی کی بات نہیں کر رہا کہ اس میں نظریہ گندھا ہوا ہوا ہے اور اس کا خمیر بھی خاص ہے اپنی ترکیب میں سوچ
مزید پڑھیے


مطافِ حرف

بدھ 10 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
طبیعت ناساز تھی زاہد محمود کا اصرار کہ تقریب میں بطور مہمان مجھے شرکت کرنا ہے۔ میں نے بہت معذرت کی مگر ہائے یہ محبت کرنے والے کیسے ہوتے ہیں! کہنے لگا’’اگر آپ نہ آئے تو میں رو دوں گا‘‘ نہ جانے کا ہر جواز اس نے اڑا کر رکھ دیا۔ پیارے دوست فرخ محمود کو ساتھ لیا اور تقریب میں پہنچا۔ ندیم رائو بھی ہمراہ تھے۔ یہ تو وہاں جا کر کھلا کہ یہ تو مقصود علی شاہ کے نعتیہ مجموعہ’’مطافِ حرف‘‘ کی تقریب پذیرائی ہے سٹیج پر روشن ستارے جلوہ گر تھے۔ ایک دم احساس جاگا کہ یہاں
مزید پڑھیے


کچھ مزے کی باتیں اور بابر اعظم

اتوار 07 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
وہ کچھ سنتا تو میں کہتا مجھے کچھ اور کہنا تھا وہ پل بھر کو جو رک جاتا مجھے کچھ اور کہنا تھا غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ کہا کچھ تھا ،وہ کچھ سمجھا مجھے کچھ اور کہنا تھا وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا کہ بعض اوقات طنز اور تشنیع اتنی بلیغ ہوتی ہے کہ سمجھ میں نہیں آتی۔ پھر کیا ہوتا ہے لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ خود پر غصہ آتا ہے کہ ابلاغ نہیں کر سکے۔ اب اس کا کیا شکوہ کہ دوسری طرف سے بات قبول ہی نہیں کی گئی۔ کئی دوستوں نے میرے
مزید پڑھیے


بام روشن ہیں ماہتاب کے ساتھ

هفته 06 جولائی 2019ء
سعد الله شاہ
نہ کوئی شک ہے باقی نہ ستارا کوئی اے مرے یار مرے دل کو سہارا کوئی تم سے وابستہ کیا ہم نے امیدوں کا جہاں جز تمنا نہ رہا اور ہمارا کوئی پر جائیں تو جائیں کہاں کہ تمنا کا دوسرا قدم بھی تو نہیں ہوتا۔ اس وقت تو ورلڈ کپ کا ہنگام ہے مگر کیا کریں کہ ہماری امیدیں اور تمنائیں ماند ہی نہیں پڑیں۔ بلکہ ان پر مردنی سی چھا گئی ہے۔ کس کس کے لئے ہم نے جیتنے کی دعائیں نہیں کیں اور یہ کوئی ترک عشق کی بھی دعا نہیں تھی کہ حالی کی طرح کوئی کہتا کہ ’’دل چاہتا
مزید پڑھیے