BN

سعد الله شاہ


دیکھا جو تیر کھا کے


درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم نے جو کچھ بھی کیا اپنی محبت میں کیا گو سمجھتے ہیں زمانے کی ضرورت کیا تھی اس سے پہلے کہ ہم محبت اور ضرورت کی بات کریں کہ کچھ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ہو محبت تو ٹپک پڑی ہے خود آنکھوں سے۔ اے میرے دوست بتانے کی ضرورت کیا تھی۔ ویسے نفرت بھی بہت منہ زور ہوتی ہے۔ بغض و عداوت تو لہجے ہی سے عیاں ہو جاتی ہے۔ اس وقت پورا ملک سابق سپیکر ایاز صادق کی حالیہ گفتگو کے
اتوار 01 نومبر 2020ء

سارے ہی شہر کے چہرے پہ لہو بولتا ہے

جمعرات 29 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
مجھ سا کوئی جہان میں نادان بھی نہ ہو کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو کچھ بھی نہیں ہوں میں مگر اتنا ضرور ہے بن میرے شاید آپ کی پہچان بھی نہ ہو میرے پیارے قارئین!بات آپ کے زاویۂ نگاہ سے بدل جاتی ہے اور پھر جب وہ نقطہ نظر بن جاتا ہے تو آپ اس کو اسی حوالے سے دیکھتے ہیں۔ بات ساری انداز فکر اور سوچ کی ہے جس کے پیچھے آپ کی نیت کارفرما ہوتی ہے۔ میرے پیش نظر مندرجہ بالا پہلا شعر ہے کہ جب کسی نے اس پر روشنی ڈالی اور کہا کہ واہ شاہ
مزید پڑھیے


ایک سرخی اور حالات

منگل 27 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
درد کو اشک بنانے کی ضرورت کیا تھی تھا جو اس دل میں دکھانے کی ضرورت کیا تھی ہم تو پہلے ہی ترے حق میں تہی دست ہوئے ایسے گھائل پہ نشانے کی ضرورت کیا تھی آج تک اخباروں میں شہ سرخی یہی جمی ہے کہ کٹھ پتلیوں کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔ یہ بظاہر ایک سرخی ہے مگر بڑی پہلو دار ہے۔ میں تو پہلی نظر میں ہی ڈر گیا ۔مجھے اپنے ایک دوست یاد آئے جنہوں نے اخبارکے دفتر میں کسی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم سرخی لگا دیتے ہوتے ہیں‘پاس سے میں نے کہا سرخی اتارتے بھی یہی
مزید پڑھیے


سید حسن کے لئے ایک کالم

پیر 26 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
در بہراں گل نو خواستہ سبحان اللہ جلوہ آرا ہے وہ بالواسطہ سبحان اللہ ایسا ہنستا ہوا چہرہ کہیں دیکھا ہی نہ تھا کہہ دیا میں نے بھی بے ساختہ سبحان اللہ آج تو میں کوئی مہکتا ہوا اور رنگ و روشنی سے مزین کالم لکھنا چاہتا ہوں۔ مسکراتے ہوئے چہروں کی بات کرنا چاہتا ہوں وہی کہ میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے‘آپ جانتے ہیں کہ زمستاں کی آمد آمد ہے۔ رات بھیگنے لگتی ہے اور صبح کی ہوا میں خنکی در آئی ہے۔ دوسری طرح محرم اور صفر کے بعد ربیع الاول کے آغاز ہی سے شادیوں کا سیزن
مزید پڑھیے


سیاستدانوں کی کمزوری

اتوار 25 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
جاگتی سی آنکھ سے کتنے خواب دیکھتے دشت پار کر گئے ہم سراب دیکھتے جلوۂ جمال نے راکھ کردیا ہیں کیا سوال سوچتے کیا جواب دیکھتے گویا وسعت دشت تھی سراب کے ساتھ‘ یہی تو کمال ہوتا ہے لیڈرکا کہ آس ٹوٹنے نہ دے‘ امید دلائے رکھے اور قافلے کو لے کر چلتا رہے مگر تابہ کے! کوئی تو حد ہوتی ہے جہاں آ کر کوئی پکار اٹھتا ہے۔ کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے۔ کہ اب تک تو بے چارے یہی سنتے رہے کہ جسے دیکھنی ہو جنت میرے ساتھ آئے۔ اب تو سپنے دیکھ دیکھ کر آنکھیں تھک چکی ہیں۔
مزید پڑھیے



پولیو : عمر بھر کی معذوری!

هفته 24 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
ہم ہیں پھولوں جیسے بچے ہم ہیں سب کو پیارے اپنے دم سے گھر ہے روشن ہم ہیں آنگن تارے آنگن آنگن تارے میرے پیارے قارئین!مندرجہ بالا مکھڑا بچوں کے ایک رنگ رنگ پروگرام آنگن آنگن تارے۔ کے ٹائٹل سانگ کا ہے جسے آغا ذوالفقار خاں نے پی ٹی وی سے پیش کیا تھا۔ امجد بوبی نے اس کی کمپوزیشن کی تھی اور ارم حسن نے پہلی مرتبہ گایا اور اس کے بعد عمیر ضیا اور حدیقہ کیانی نے بھی اسے دہرایا۔مجھے وہ سب ننھے منے بچے ایک ایک کر کے یاد آ رہے ہیں۔ یہ 1992ء کی بات ہے اب تو وہ بچے
مزید پڑھیے


ووٹ کو عزت صرف مشرف نے دی

جمعه 23 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
توڑ ڈالے ہیں جو دریا نے کنارے سارے کوئی دیکھے گا تہہ آب نظارے سارے نظر انداز کیا میں نے بھی دنیا کو اور دنیا نے بھی قرض اتارے سارے دریا اپنے کناروں میں بہتا اچھا لگتا۔ جب یہ بپھر جائے تو اپنے ہی کنارے توڑ دیتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی تباہی کا باعث بنتا ہے۔ گرنا تو اسے پھر بھی سمندر میں ہوتا ہے’’میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا’’کہہ کر احمد ندیم قاسمی نے وحد الوجود کی جانب ہی اشارہ کیا ہے۔ میں تو مگر دریا تک ہی بات محدود رکھوں گا۔ یہ دریائے سندھ ہے جس کی
مزید پڑھیے


Life witachout Limits

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
پھول خوشبو کے نشے ہی میں بکھر جاتے ہیں لوگ پہچان بناتے ہوئے مر جاتے ہیں جن کی آنکھوں میں آنسو، انہیں زندہ سمجھو پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں میرے پیارے قارئین! آج سیاست پر ہرگز بات نہیں ہوگی کیونکہ میں ان لوگوں کے حوالے سے کچھ تحریر کرنے جارہا ہوں جو واقعتاً زندہ لوگ ہیں انسان کو انسان سمجھتے ہوئے اس کے دکھ درد کا احساس رکھتے ہیں۔ جن کی آنکھوں کا پانی مرا نہیں ہے۔ اصل میں یہی لوگ اس قوم کا اثاثہ ہیں جی میں سمندری میں ہونے والے سیمینار کا تذکرہ چھیڑوں گا جو عتیق الرحمن
مزید پڑھیے


چاند پر پلاٹ

پیر 19 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ

مجھ کو میری ہی اداسی سے نکالے کوئی

میں محبت ہوں محبت کو بچا لے کوئی

میں سمندر ہوں مری تہہ میں صدف ہے شاید

موج در موج مجھے آ کے اچھا لے کوئی

آج تو ہم نے سیا ست پربات نہیں کرنی۔ آج نفرت نہیں بلکہ محبت کی بات ہو گی۔ وجہ یہ کہ میرے سامنے ایک ایسی انوکھی اور دلچسپ خبر ہے کہ جس نے سب کو حیران کر دیا کہ جھنگ کے ایک رانجھے نے بیوی کے لئے چاند پر پلاٹ خرید لیا ہے۔ یعنی بیوی کے ساتھ محبت ہو تو ایسی ہو اور یہ پہلا شخص ہے کہ جس نے
مزید پڑھیے


کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
سعد الله شاہ
کسی کی نیند اڑی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے ٹائٹینک نے Titanicکے ڈوبنے کا منظر تو آپ سب نے دیکھا ہو گا۔وہ اگرچہ فلم ہے پھر بھی ہولناکی دیکھی نہیں جاتی۔ میں آپ کو اداس نہیں کرنا چاہتا۔اخبار تو مجھے پڑھنا پڑتا ہے اور کافی کچھ دیکھنا ہوتا ہے کہ اگر آپ پڑھ کر کالم نہیں لکھتے تو آپ کو بھی کوئی نہیں پڑھتا۔زیادہ پڑھ پڑھ کر آنکھیں تھک جاتی ہیں۔ آنکھوں کے سامنے دھند سی آنے لگی ہے شاید آنکھیں
مزید پڑھیے