BN

محمد عامر خاکوانی



سائنسی تصدیق


صاحبو! سائنس کی افادیت پر تو خیر کوئی کلام نہیں، یہ بڑی دلچسپ بھی ہے۔ ایسی ایسی مزے کی تھیوریز اس میں ملتی ہیں جس کا آدمی پہلے تصور بھی نہیں کر رہا ہوتا۔ ہم نے گریجوایشن سائنس (ڈبل میتھ،فزکس)کے ساتھ کر رکھی ہے، اگرچہ اس کے بعد قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر صحافت میں آ دھمکے ۔ سائنس سے بہرحال محبت بھرا یک طرفہ تعلق ہمیشہ رہا۔یعنی خود آگے سائنس نہیں پڑھی، لیکن اگر کوئی اس کے لئے بضد ہو تو ہم اسے روکتے نہیں۔ ابن انشا نے کہا تھا’’سچ اچھا ، پر سچ کے لئے
منگل 08 جنوری 2019ء

نیا صوبہ، فوری طور پر کیا ہوسکتا ہے ؟

جمعه 04 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
کہتے ہیں سیاست دلفریب وعدوں اور پھر انہیں بھول جانے کا نام ہے۔ کم از کم پاکستانی سیاست میں تو ہم نے یہی دیکھا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا سیاست دان نئے وعدوں کی پٹاری لے کر آتا، اس میں سے دل خوش کن سپنے نکال کر عوام کو سناتا اور پھر ووٹ لے کر چلتا بنتا ہے۔ ووٹروں کو وہ پٹاری اگلے الیکشن میں نظرآتی ہے ،جس میں بے وقوف بنانے کے لئے کچھ نیا طلسمی وعدہ پوشیدہ ہوتا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کے حوالے سے سرائیکیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوتا
مزید پڑھیے


پہلا دن

منگل 01 جنوری 2019ء
محمد عامر خاکوانی
جب یہ سطریں لکھ رہا ہوں، دوہزار اٹھارہ کا آخری سورج ڈوبنے والا ہے۔ زندگی کا ایک اور سال بیت گیا۔یہ کالم آپ سال کے پہلے دن پڑھیں گے۔ 2019ئ، شروع کے چند دن ڈیٹ لکھتے وقت غلطی سے 2018 لکھا جائے گا، پھر نئے سال کے وجود اور اس کی حقیقت پر یقین آ جاتا ہے۔ یہ اور بات کہ بارہ مہینے، باون ہفتے اور تین سو پینسٹھ دن نہایت تیز رفتاری سے گزر جاتے ہیں۔ وقت مٹھی میں قید نہیں رہ سکتا، پھسلتی ریت کی طرح سائیڈسے نکل جاتا ہے، لیکن کبھی تو اسے چھونے کا موقعہ
مزید پڑھیے


کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے ؟

اتوار 30 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ایک اخبارنویس اور کالم لکھنے والے کی حیثیت سے ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ تصویر کے دونوں رخ دیکھے جائیں اور کسی بھی معاملے پر اگرایک سے زائد آرا موجود ہیں تو انہیں ضرور پڑھا، سنا، سمجھا جائے۔ ہر سوچنے، سمجھنے، لکھنے والے کی اپنی رائے ہوتی ہے۔ مختلف اسباب کی بنیاد پر وہ سوچ بنتی ہے، خاندانی پس منظر، تعلیم، اساتذہ، طبعی میلان،نوجوانی میں ایام کس حلقہ فکر میں گزرے؟ پسندیدہ ادیب، شاعر، مفکر اور ان سے بڑھ کر زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات، مشاہدات اور احساسات۔آپ کے والدین کی سیاسی سوچ کیا تھی، یہ فیکٹربڑا
مزید پڑھیے


اب حیرت کیوں نہیں ہوتی؟

جمعه 28 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
چند دن پہلے ایک معروف تجزیہ نگار نے بڑے تاسف سے لکھا کہ اب کسی اہم واقعے پر حیرت نہیں ہوتی ۔ انہوں نے اسے قومی المیہ قرار دیتے ہوئے لکھا،’’ ہم لوگ اداس ہوتے ہیں، خوش ہوتے ہیں، لیکن حیران نہیں ہوتے ۔حیرت اضطراب اور جستجو کو جنم دیتی ہے، حیرت کھو جائے تو جستجو دم توڑ جاتی ہے اور جستجو کی موت بے حسی کا جنم ہے۔‘‘اس تجزیے کے پس منظر میں ایک واقعہ انہوں نے بیان کیا، جس میں ایک صاحب نے میاں نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلہ آنے اور میاں صاحب کے واپس جیل چلے
مزید پڑھیے




محرومی صرف وعدوں سے دور نہیں ہوتی

جمعه 21 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان میں مختلف حوالوں سے وسائل سے محرومی اور اس حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی فرسٹریشن کی سطح بہت بلند ہے۔ جس کسی سے بات ہو، اس کے پاس ایک ایسی دردناک کہانی ملے گی، جسے سن کر دل دکھ سے پھٹنے لگے۔اخبارنویسوں کا مختلف علاقوں کے قارئین سے رابطہ رہتا ہے، وہ اپنے دکھ ، درد شیئر کرتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ شائد کہیں شنوائی ہوجائے۔ ادھر ہمارا وہ حال ہوچکا کہ بقول شاعر ایک روز کا رونا ہو تو رو کے چین آوے ہر روز کے رونے کو کہاں سے جگر آوے سرائیکی وسیب کے
مزید پڑھیے


انتخاب آپ کو کرنا ہے

منگل 18 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
ٹی وی چینلز پہلے ہی زیادہ دیکھنے کو جی نہیں چاہتا تھا، عزت ماب چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم سے پڑوسی ممالک کے چینل مکمل طورپر بند ہوگئے، ہمارے لئے ایک آپشن اور کم ہوگئی۔ پیمرانے جس مستعدی اورولولے سے اس پر عمل درآمد کرایا، اس سے حیرت ہوئی ، یقینا اس پھرتی کے پیچھے کچھ اور فیکٹرز بھی پس پردہ کارفرما ہوں گے۔ پاکستانی انٹرٹینمنٹ چینلز کو اس سے یقیناً فائدہ پہنچے گا۔ اس پابندی کے چکر میںمگر سپورٹس اورڈاکومینٹری چینل بھی بین ہوگئے۔پاکستانی ڈرامہ چینلزکو مجبوراً کبھی چند منٹ کے لئے دیکھنا پڑے تو وحشت ہونے
مزید پڑھیے


جو راستے میں ہمت ہار بیٹھے

اتوار 16 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
آج کا کالم ایک شاندار کتاب کی نذر ہے۔’’حرفِ شوق‘‘ اردو کے لافانی نثرنگار مختار مسعود کی آخری کتاب ہے۔’’ آواز دوست ‘‘جیسی سحرانگیز کتاب سے تین عشرے قبل ان کا سفر شروع ہوا۔ اللہ نے پہلی تخلیق ہی کو غیر معمولی پزیرائی بخشی۔ اس کے درجنوں ایڈیشن فروخت ہوچکے ہیں، شائد ہی کوئی باذوق ہوگا، جس نے ’’آوازِ دوست ‘‘کو نہ پڑھا ہو۔ ’’سفرنصیب ‘‘ دوسری کتاب تھی ،اس میں ان کے سفری مشاہدات ہیں۔ ’’لوح ایام‘‘مختار مسعود کی ایک اور غیر معمولی کتاب ہے۔ انقلاب ایران کے دنوں کا چشم کشا مشاہدہ ۔ لوح ایام ایسی کتاب
مزید پڑھیے


Devil,s Advocate

جمعه 14 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
کتابیں پڑھنا ہمارا شوق، مشغلہ اور اب تو پیشہ ورانہ ضرورت بھی ہے۔ کتاب پڑھنے کا عمل کسی بیرونی موسم کا محتاج نہیں،ہر رُت میں بھلا لگتا ہے۔ دل میں بہار کا موسم چل رہا ہو تو مطالعہ کی سرشاری اور لذت سَوا ہوجاتی ہے۔ خزاں کی حزن آلود، اداس رُت کچھ اور اندازکی چیزیں پڑھنے پر اکساتی ہے، دھیمی موسیقی کے ساتھ جس کے سُر دل کی تاروں کو چھیڑیںاوراداسی دھل جائے۔یہ سب اپنی جگہ، مگر سردیوں کی گلابی شامیںاوریخ بستہ راتو ں میں کتابیں پڑھنے کا کچھ اپنا ہی لطف ہے۔ کسی ایسی یخ
مزید پڑھیے


معاشی ماڈل جسے کامیاب ہونا چاہیے

اتوار 09 دسمبر 2018ء
محمد عامر خاکوانی
دو دن پہلے شائع ہونے والے اپنے کالم میں لکھا کہ پاکستان میں دو طرح کے معاشی ماڈل یا سکول آف تھاٹ اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا وہ جو کلاسیکل کیپیٹل ازم کاحامی ہے یعنی ملک میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیاجائے، سرمایہ داروں کی حوصلہ افزائی ہو، حکومت کاروبار نہ کرے اور مارکیٹ کو آزاد چھوڑ دے۔بڑھتی ہوئی معاشی سرگرمی سے نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، معیشت ترقی کرے گی جس کے ثمرات نچلی سطح تک بھی پہنچ جائیں گے۔ یہ وہ ماڈل ہے جسے فالو کر کے پورے مغرب نے ترقی کی، ملائشیا، برازیل، بھارت جیسی ابھرتی بڑی معیشتیں
مزید پڑھیے