BN

افتخار گیلانی



بھارت میں تامل سیاست کا مستقبل


20ویں صدی کے اولیں عشروں میں جہاں جنوبی ایشیا ء میں تاج برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے لئے رائے عامہ منظم ہوچکی تھی، وہیں کئی طبقات میں یہ احساس بھی قوی ترہوتا جارہا تھا کہ انگریزوں کے جانے کے بعد وہ دوسرے استعمار یعنی ہندو اعلیٰ ذاتوں خصوصاً برہمنوں کے رحم و کرم پر ہونگے اور پاور اسٹرکچر میں انکی حصہ داری محض خواب ہی رہ جائیگی۔ اسکے سد باب کیلئے جن تین لیڈروں نے آواز بلند کی ، ان میں قائد اعظم محمد علی جناح،جنوبی بھارت میں دراوڈ تحریک کے خالق ای ، وی ، راماسوامی عرف پیریاراور معروف
منگل 14  اگست 2018ء

آسام سے کشمیر: مسلمانوں کے سروں پر لٹکتی شہریت کی تلوار…2

بدھ 08  اگست 2018ء
افتخار گیلانی

جغرافیائی اعتبار سے صوبہ آسام تین حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ لور (نشیبی) آسام جو مغربی علاقہ ہے، اَپر (بالائی) آسام جو مشرقی علاقہ ہے اور بارک ویلی جو جنوب میں واقع ہے۔ 2014ء کے پارلیمانی انتخابات میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاست کے 14 میں سے سات پارلیمانی حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔ اسکے دو سال بعد بی جے پی نے ریاستی اسمبلی میں بھی اکثریت حاصل کرکے حکومت بنا لی۔ آسام کی آبادی کے تناسب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک قبائلی ریاست ہے جہاں
مزید پڑھیے


عمران خان سے ملاقات اور تہاڑ جیل کے ڈنڈے…2

هفته 04  اگست 2018ء
افتخار گیلانی
کچھ اسی طرح کی صورت حال یہاں دیگر اداروں پر بھی لاگو ہوتی ہے ۔ ایک سفارتی ضیافت کے موقع پر میں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (جو اب سابق ہیں) سے پوچھا تھا کہ آخر عدالتیں وزیر اعظم کا احتساب کرنے سے کیوں گھبراتی ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ استحکام کو احتساب کی خاطر قربان نہیں کیا جاسکتا۔یہ شاید ایک اور انتہا ہے۔ مگر پاکستانی سیاستدانوں ، میڈیا اور دیگر اداروں کے ذمہ داران سے عرض ہے کہ دونوں میں توازن رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر وزیر اعظم ہی حالت تذبذب میں ہو تو وہ انتظامیہ
مزید پڑھیے


عمران خان سے ملاقات اور تہاڑ جیل کے ڈنڈے

منگل 31 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
پاکستان میں ووٹروں کی اکثریت نے زمام اقتدار تحریک انصاف کے قائد عمران خان کے سپرد کر دی ہے۔ خان صاحب کے ساتھ میری بالمشافہ ملاقات صرف ایک باردو منٹ سے بھی کم وقفہ کی رہی ہوگی، مگر اس کے اثرات میرے جسم پر کئی سال تک نمایا ں رہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک کزن کی شادی میں شرکت کی غرض سے فروری 2001 ء میں پاکستان کے دورے کے دوران بزرگ صحافی مجید نظامی کی نیاز حاصل کرنے کیلئے میں ان کے دفتر نوائے وقت بلڈنگ پہنچا۔ پاکستان میں یہ میرا آخری دن تھا اور اگلے روز صبح
مزید پڑھیے


پاکستان میں ڈوگرہ راج کے پاسبان

منگل 24 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
کشمیر میں ’’ڈوگرہ راج کی واپسی‘‘ کے عنوان سے میرا پچھلا کالم کئی افراد کو گراں گزرا ہے، جس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی تھی، کہ ادھم پور سے ہندو قو م پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر جیتندر سنگھ کو وزیر اعلیٰ بنانے کی کوشش شروع ہوچکی ہیں۔ تاکہ کشمیر میں مسلم اکثریتی آبادی کو مزید نیچا دکھاکر احساس کمتری میں مبتلا کرایا جائے۔ حیر ت ہے کہ شدید رد عمل اور لعن و طعن کے پیغامات مقبوضہ کشمیر یا جموں سے نہیں بلکہ پاکستان، آزاد کشمیر اور یورپ میں مقیم چند افراد
مزید پڑھیے




کشمیر :ڈ وگرہ راج کی واپسی اور شمالی اتحاد

بدھ 18 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
مگر پچھلے تین برسوں میں ایسا لگا کہ مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے ساتھ مل کر اس کو تار تار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ بیک ڈور سے غیر ریاستی ہندو مہاجرین کو رہائشی پرمٹ دینا، علیحدہ پنڈت کالونیاں بسانا ، آخری ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم ولادت پر تعطیل کے لئے اسمبلی سے قرارداد پاس کروانے کی کوششیں کشمیریوں کو ان کی سیاسی بے وزنی کا احساس دلانے کی آخری حد تھی۔ مگر پھر بھی ڈو مور کے مطالبوں کو تسلیم کرتے کرتے بھی وہ
مزید پڑھیے


کشمیر :ڈ وگرہ راج کی واپسی اور شمالی اتحاد

منگل 17 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
پاکستان میں جہاں حکومت، سیاسی جماعتیںاور عوام انتخابی گہماگہمیوں میں مصروف ہیں، وہیں جموں و کشمیر کے سیاسی افق پر بڑی دوررس تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ جن سے خطہ میں حالات مزید ابتر اور سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ 19جون کو ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے یکایک وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) سے حمایت واپس لیکر مخلوط حکومت کے خاتمہ کا اعلان کردیا۔ اسی کے ساتھ ریاستی گورنر این این ووہرا نے حکومت کی زمام ِ کار سنبھالی۔ یہ چوتھی مرتبہ ہے جب گورنر این این
مزید پڑھیے


پاکستان کے عام انتخابات اور بھارت

منگل 10 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
پاکستان میں عام انتخابات کی مہم اب اپنے عروج پر ہے۔ 25جولائی کو ہونے والے انتخابات پر جہاں دنیا بھر کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں، وہیں بھارت میں بھی حکومتی حلقے اور تجزیہ کار ان پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ پچھلے انتخابات کے برعکس پاکستان کے موجودہ انتخابی عمل سے یہاں ایک طرح سے تذبذب کی سی کیفیت ہے۔ ماضی میں چونکہ اقتدار کی دیوی نواز شریف کی مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے گرد ہی گردش کرکے کسی ایک کی چوکھٹ پر بیٹھتی آئی ہے، اس لیے ا ن کی پالیسیوں اور ان کے لیڈروں سے متعلق
مزید پڑھیے


بھارت - پاکستان کے سیاستدان اور ڈنمارک …(2)

بدھ 04 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
معلوم ہوا کہ کہ معمر اسپیکر صاحب روزانہ دس کلومیٹر کی مسافت سائیکل کے ذریعہ طے کرکے اپنے دفتر پہنچتے ہیں۔ ان سے بھی میں نے سوال کیا تھا کہ ان کا ملک بد عنوانی سے کیسے پاک ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی نظام میں بد عنوانی کی گنجائش نہیں ہے۔ مثال کے طور پر انتخابی مہم چلانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کو قومی خزانے سے رقم دی جاتی ہے۔ لائکے ٹافٹ نے بتایا کہ ’’اس کا طریقہ کاریہ ہے کہ سابقہ الیکشن میں جو پارٹی قومی او رعلاقائی سطح پر
مزید پڑھیے


بھارت - پاکستان کے سیاستدان اور ڈنمارک

منگل 03 جولائی 2018ء
افتخار گیلانی
جہاں پاکستان میں انتخابی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے، وہیں بھارت میں بھی شاید وزیر اعظم نریندر مودی اگلے سال مئی کا انتظار کرنے کے بجائے قبل از وقت انتخابات کا بغل بجائیں گے۔ ان کے حواریوں کے حوالے سے جو خبریں چھن چھن کر آرہی ہیں، ان کے مطابق پارٹی اور اتحادیوں کو انتخابات کی تیاری کا حکم دیا گیا ہے۔ بھارت میں مڈل کلاس جو حکمرا ن بھارتیہ جنتا پارٹی کیلئے ریڑھ کی حیثیت رکھتا تھا، معیشت کی ابتری اور نوٹ بندی کی وجہ سے مودی سے خاصا ناراض ہے۔ اس سے پہلے یہ طبقہ کسی
مزید پڑھیے