افتخار گیلانی


ڈینیل پرل کے اصل قاتل اور امریکی انتظامیہ


اکتوبر1994ء کی ایک دوپہر، بھارتی وزارت داخلہ کے ہیڈکوارٹر نارتھ بلاک میں افراتفری مچی ہوئی تھی۔ وزارت داخلہ کی بیٹ کورکرنے والے دیگر صحافیوں کے ساتھ میں بھی نارتھ بلاک کے کوریڈور میں خبر یں تلاش کرنے کیلئے آپہنچا تھا۔ تقریباً20سے زائد ڈویژنوںپر مشتمل یہ وزارت دہلی میں کام کرنے والے صحافیوں کیلئے خبروں کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مگر جس طرح وزارت خارجہ میں ایک اعلیٰ عہدیدار باضابطہ طور پر ترجمان کے بطور متعین ہوتا ہے اور سبھی آن ریکارڈ یا آف ریکارڈ بریفنگز کیا جاتا ہے، وزارت داخلہ میں اس طرح کا کوئی میکانز م موجود نہیں ہے۔
منگل 14 اپریل 2020ء

صحت ، قومی و انسانی سلامتی

منگل 07 اپریل 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے ماہ جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مشیروں کے ساتھ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے لاک ڈاون کرنے پر غور کررہے تھے ،انھیں بتایا گیا کہ وبائی امراض سے نپٹنے سے متعلق قوانین میں اسطرح کے کسی اقدام کی گنجائش نہیں ہے۔ یہی صورت حال پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان اور بنگلہ دیش حکومت کو بھی درپیش تھی۔ جنوبی ایشیا کے یہ تینوں ممالک ابھی بھی برطانوی دور اقتدار میں بنے 1897ء کے قانون Epidimic Diseases Act پر عمل پیرا ہیں۔ پچھلے135برسوں میں وقتاً فوقتاً وبائی امراض کے پھوٹنے کے باوجود، حکومتوں نے
مزید پڑھیے


نیرو، وائرلوجسٹ سے گفتگو ، صحت و قومی سلامتی

منگل 31 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
کہتے ہیں کہ شہنشاہ نیرو کے زمانے میں سلطنت روم میں سخت قحط آن پڑا۔ نیرو کا 13سالہ دور حکومت54)سے 68عیسوی) اسکی اپنی والدہ و اہلیہ کے قتل، بے جا اسراف، شہر روم کی آگ زنی کیلئے تاریخ میں خاصا بدنام ہے۔ قحط کا مقابلہ کرنے کیلئے عمائدین نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ بحری جہازوں کو مصر اور دیگر ممالک میں بھیج کر گندم منگوائی جائے، تاکہ فاقہ زدہ عوام کو راحت مل سکے۔ جہاز روم سے روانہ تو ہوئے، مگر واپسی پر ان پر گندم کے بجائے، مصر کے ریگستانوں کی باریک ریت لدی ہوئی تھی
مزید پڑھیے


کرونا چیلنج: بھارتی صوبہ کیرالا سے استفادہ کی ضرورت

منگل 24 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
پچھلے دنوں جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پہل کرکے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم سارک کے رکن ممالک کے سربراہان کی ویڈیو کانفرنس بلانے کی تجویز دی، ذرائع کے مطابق نئی دہلی کے مقتدر حلقوں اور کھٹمنڈو میں مقیم تنظیم کے سیکرٹریٹ کے افسران نے مشورہ دیا تھاکہ بھارت کے جنوبی صوبہ کیرالا کے وزیر اعلیٰ پینایاری ویجایان کو بھی اس میں شامل کیا جائے، تاکہ رکن ممالک ان کے تجربات سے استفادہ کرسکیں۔ چونکہ اس کانفرنس کا انعقاد متعدی مرض کا علاج ڈھونڈنے یا کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے سے زیادہ مودی
مزید پڑھیے


دوبئی کی شہزادیاں ، بھارت اور عرب حکمرانوں کی قربتیں

بدھ 18 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
اگلے آٹھ دن جہاز بحیرہ عرب کے پانیوں کو چیرتا رہا۔ چھٹے دن ملاحوں نے اطلاع دی کہ ایک کشتی خاصی دور سے ان کا پیچھا کر رہی ہے اور اس میں سوار افراد دوربین سے مسلسل ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ جہاز نے اب بھارت کے گوا کے ساحل کی طرف تیزی سے بڑھنا شروع کیا، جہاں چند امریکی اہلکار ان کے منتظر تھے۔ مگر اگلے روز بھارتی کوسٹ گارڈ کے چند ہیلی کاپٹروں نے جہاز کے اوپر نیچی پروازیں کیں۔ 4اور5مارچ کی رات کو اسلحہ بردار کشتیوں اور ایک جنگی جہاز نے یاٹ کو چاروں
مزید پڑھیے



دوبئی کی شہزادیاں ، بھارت اور عرب حکمرانوں کی قربتیں

منگل 17 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
مارچ 2018۔نئی دہلی کے پاور گلیاروں میں خبریں گشت کر رہی تھیں ، کہ ستمبر 2016کی طرز پر بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائک کی ہے۔ اس بار یہ اسٹرائک بحیرہ عرب میں کسی جگہ کی گئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی دہلی میں عدم موجودگی اور پورے ایک ہفتے ساحلی صوبہ گوا کے دارالحکومت پانا جی میں ڈیرہ ڈالنے سے خبرو ں کو اور بھی تقویت مل رہی تھی۔ ملک کی سمندری حدود کرا س کرکے یہ آپریشن بحری افواج کے بجائے کوسٹ گارڈز نے کیا تھا۔ خبریں یہ بھی تھیں
مزید پڑھیے


افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن (2)

بدھ 11 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
افغانستان کو کٹھ پتلی حکمرانوں کے حوالے کرنے کے بجائے ایک عوامی و وسیع البنیاد حکومت کیوں نہیں بنائی گئی؟ اسلام آباد میں امریکی سفیر ٹام سیمنس کے مطابق رچرڈسن نے افغانستان کی تعمیر نو اور معاہدہ کے عملدرآمد کے صورت میں کابل کی طالبان حکومت کو تسلیم کروانے پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق طالبان کو جو چیز سب سے زیادہ کھٹک رہ تھی ، وہ یہ تھی کہ کابل پر ان کا کنٹرول ہونے کے باوجود، اقوام متحدہ میں افغانستان کی سیٹ شمالی اتحاد کے پاس تھی۔ اس معاہدہ کے ایک ماہ بعد ہی
مزید پڑھیے


افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن

منگل 10 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
17اپریل 1998، کی ایک خنک دار صبح کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ائیر پورٹ پر ایک امریکی طیارہ نے لینڈ کیا۔ تقریباًدو دہائیوں کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 1996ء میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد عالمی برادری نے افغانستان کو تو پوری طرح سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیا تھا۔ ائیرپورٹ پر افغانستان میں پاکستانی سفیر عزیر احمد خان اور طالبان کے اعلیٰ راہنما امریکی مہمان کے استقبال کیلئے رن وے پر کھڑے تھے۔ افغانستان میں امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لکدر براہمی کی ناکامی
مزید پڑھیے


بھارت: ہندو مسلم فسادات، وہی قاتل وہی منصف

بدھ 04 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
خیر میں علاقے میں پہنچا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ پہلوان صاحب وہیں کرسی پر براجمان تھے ، جب ان کو معلوم ہوا کہ میں بس ڈاکومنٹ واپس کرنے آیا ہو توانہوں نے میرے ساتھ آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ دروازہ پر دستک دی تو معلوم ہوا کہ دستاویزات کا مالک مسجد میں نمار ادا کرنے گیا ہوا ہے۔ میں بھی مسجد میںجاکر نماز میں شامل ہوگیا۔ میں جب نماز مکمل کر رہا تھا ، تو محسوس ہوا کہ کئی آنکھیں مجھے بغور دیکھ رہی ہیں۔ میں پچھلے کئی روز سے اس علاقے میں اپنے سینئر اور
مزید پڑھیے


بھارت: ہندو مسلم فسادات، وہی قاتل وہی منصف

منگل 03 مارچ 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت میں فرقہ وارانہ فسادات کا برپا ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 1947ء میں آزادی کے بعد سے پچھلے 73سالوں میں ملک کے طول و عرض میں 58400فسادات پھوٹ پڑے ہیں۔ بڑے فسادات جہاں 50یا اس سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے کی تعداد لگ بھگ 110 کے قریب ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2008ء سے 2018ء کے دس سالوں کے وقفہ کے درمیان کم و بیش 8ہزار فسادات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔یعنی ایک طرح سے ملک میں ہر روز دو فسادات ہوئے ہیں۔ ان سبھی فسادات میں پولیس کا رول حالیہ دہلی
مزید پڑھیے