افتخار گیلانی


شجاعت بخاری کا قتل ہنوز ایک معمہ


کشمیری صحافت کے درخشاں ستارے شجاعت بخاری کو مرحوم لکھتے ہوئے ابھی بھی قلم لرزتا ہے۔ دو سال قبل 14جون یعنی 29شعبان المبارک کی شام کشمیری صحافت کے اس آفتاب کو ہلال عید کے طلوع ہونے سے پہلے ہی غروب کرادیا گیا۔ کسی کشمیر ی صحافی کو خاموش کرانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا ۔ اس سے قبل بھی کئی صحافیوں کو سرینگر میں موت کے گھاٹ اتا را گیااور ان کے کیس داخل دفتر کئے گئے۔ مگر اس بار امید تھی کہ حکومت اس قتل کی باضابط تفتیش کرکے سازش کرنے والے اور گولیاں برسانے والے افراد کو
منگل 16 جون 2020ء

ہاتھی کی ذات

منگل 09 جون 2020ء
افتخار گیلانی
اردو زبان کے مزاحیہ شاعر مر حو م ساغر خیامی نے کیا خوب کہا تھا۔ نفرتوں کے دور میں دیکھو کیا کیاہوگیا سبزیا ں ہندو ہیں، بکرا مسلمان ہوگیا شاید ان کو خود بھی یہ اندازہ نہیں رہا ہوگا کہ 2008ء میں انکی وفات کے بعد ان کا یہ شعر اتنی جلد بھار ت کے حالات کی اس قدر صحیح عکاسی کریگا۔ سبزیوں کے علاوہ اب تو بندر اور ہاتھی بھی ہندو بنائے گئے ہیں، جن کو گزند پہچانے کی تاک میں خونخوا رمسلمان ہمہ وقت تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ لہذا ان کو بچانے کیلئے مسلمانوں کے سروں
مزید پڑھیے


چین ۔بھارت تنازعہ، چینی ناراضگی کی چار وجوہات……(4)

جمعه 05 جون 2020ء
افتخار گیلانی
بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل نے جب ریاستوں سے متعلق ایک وائٹ پیپر جاری کیا، تو اس میں بھی یہی رقبہ دکھایا گیا۔ 1891ء میں پہلی مردم شماری کے وقت ریاست کا رقبہ 80,900 مربع میل دکھایا گیا تھا۔مگر 1911ء کی مردم شماری میں رقبہ بڑھا کر 84,258مربع ریکارڈ کیا گیا۔مردم شماری کے کمشنر کی رائے پر 1941میں اس رقبہ کو گھٹا کر 82,258مربع میل کردیا گیا۔1951ء میں پہلی مردم شماری کے وقت اسی کو دہرایا گیا۔ البتہ 1961ء کی مردم شماری میں ریاست کے رقبہ کو بڑھا کر 86,024 مربع میل دکھایا گیا۔یہ جغرافیہ کہاں سے حاصل ہوا، ایک
مزید پڑھیے


چین ۔بھارت تنازعہ، چینی ناراضگی کی چار وجوہات……(3)

جمعرات 04 جون 2020ء
افتخار گیلانی

اپنے اردگرد 14میں سے 13ممالک کے ساتھ چین سرحدی تنازعہ سلجھانے کی تگ و دو کررہا تھا ، تاکہ اسکی پوری توجہ معاشی ایشوز کی طرف مرکوزرہے۔ صرف بھارت واحد ملک تھا ، جس کے ساتھ سرحدی تنازعات کے سلسلے میں کوئی میکانزم موجود نہیں تھا۔ راجیو گاندھی کے دورہ کے دوران سرحدی تنازعات کو سلجھانے کیلئے دونوں ملکوں کے فارن دفاتر میں مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دئے گئے۔ 1993ء میں وزیر اعظم نرسہما راوٗ نے اس سعی کو اورآگے لیجاکر سرحدوں کو پرامن رکھنے کے ایک معاہدہ پر دستخط کئے۔ اس کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجی پارٹیاں ہتھیاروں
مزید پڑھیے


چین ۔بھارت تنازعہ، چینی ناراضگی کی چار وجوہات

بدھ 03 جون 2020ء
افتخار گیلانی
سابق آرمی چیف نے ریٹائر ہونے کے بعد حکمران کانگریس کے خلاف سیاسی محاذکھولا تھا، حتّٰی کہ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا۔اس وجہ سے کانگریسی زعما کا خیال تھا کی اس رپورٹ کے کچھ اقتباسات افشا کرکے جنرل سنگھ کو ٹھکانے لگایا جاسکتا ہے۔ شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پرت در پرت ظاہر ہونے والی ٹی ایس ڈی کی سرگرمیاںفارن آفس کے ہوش اڑا دیںگی اور ہمسایہ ممالک کے بارے میں بھارت کی فوجی اور خارجہ پالیسی کے تضاد کو بے نقاب کردیں گی۔ رپورٹ کے
مزید پڑھیے



چین ۔بھارت تنازعہ، چینی ناراضگی کی چار وجوہات

منگل 02 جون 2020ء
افتخار گیلانی
لداخ کے لہیہ قصبہ کے مکین بزرگ نوانگ زیرنگ ایک چلتی پھرتی انسائیکلوپیڈیا تھے۔ دس سال قبل جب لہیہ میں ان سے ملاقات ہوئی، تو وہ اپنی عمر نوے سال بتارہے تھے۔ چند برس قبل انکا انتقال ہوا۔ اس پیرانہ سالی میں وہ 1962ء کی بھارت،چین جنگ کے قصے کچھ ایسے بیان کرتے تھے ، جیسے کل کے واقعات ہوں۔ ان کی بات چیت تاریخ کے کچھ ایسے دریچے کھول دیتی تھی، جو صفحات پر آنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس جنگ کے دوران انہوں نے دولت بیگ اولدائی کے مقام پر بھارتی فوج کیلئے پورٹر اور گائیڈ
مزید پڑھیے


فتوے، ارطغرل اور ٹیپو سلطان

بدھ 27 مئی 2020ء
افتخار گیلانی
جس طرح کے فتوے آجکل بعض علماء ارطغرل ڈرامہ سیریل کے حوالے سے صادر کر رہے ہیں، مجھے یاد آتا ہے کہ نوے کی دہائی کے اوائل میں شہید ٹیپو سلطان پر مبنی سیریل کو بھی کچھ اسی طرح نشانہ بنایا گیا تھا۔ ارطغرل پر نشانہ کچھ زیادہ ہی ہے کیونکہ نوجوان نسل اس میں اپناروشن اورتابناک ماضی ،حمیت اور تہذیب وثقافت تلاشنے لگی ہے۔ بھگوان گڈوانی کی ناول دی سورڈ آف ٹیپوسلطان پر سیریل بنانے کا بیڑا معروف بالی ووڈ اداکار اور ہدایت کار سنجے خان نے اٹھایا تھا۔ وہ خود ہی ٹیپو سلطان کا کردار بھی نبھا رہے
مزید پڑھیے


قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

جمعرات 21 مئی 2020ء
افتخار گیلانی
گو کہ مودی نے آتے ہی وزیر اعظم ہاوس میں افطار کا سلسلہ تو بند کروادیا، مگر صدر پرناب مکھرجی نے صدارتی محل میں اس کو موقوف نہیں کیا تھا۔ 2017ء تک اپنی مدت صدارت ختم ہونے تک ا نہوں نے اس سلسلہ کو جاری رکھا۔ تمام ممالک کے سفراٗ ، اپوزیشن لیڈران و دیگر افراد اس میں شرکت تو کرتے تھے، مگر پروٹوکول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مودی نے کبھی بھی اس میں شرکت نہیں کی۔ مگر ایک یاد و وزیر حکومت کی نمائندگی کرنے پہنچ جاتے تھے، جو صدر کی ہال میں آمد پر ان
مزید پڑھیے


قصہ دہلی کی افطار پارٹیوں کا

منگل 19 مئی 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت کی موجودہ حکمران ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1998ء میں پارلیمانی انتخابات کے دوران اشوکا روڑ اپنے ہیڈ کوارٹر میں پہلی اور آخری افطار پارٹی دی تھی۔ اٹل بہاری واجپائی ابھی اپوزیشن لیڈر ہی تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اس تقریب میں پہنچا تو دیکھا کہ پارٹی آفس کے وسیع و عریض لان میں شامیانہ لگا ہوا تھا ، جس کے دروازے پر خود واجپائی اور چند دیگر لیڈران ٹوپی پہنے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ ابھی افطار میں آدھا گھنٹہ باقی تھا، مگر شامیانہ کے اندر چائے سموسہ اور کھجوروں کا دور
مزید پڑھیے


بھارت، طالبان اور امریکی ثالثی

بدھ 13 مئی 2020ء
افتخار گیلانی
افغانستان کے حوالے سے نئی دہلی کی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ دوحہ امن معاہدے پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر خارجہ جے شنکر نے اس کو بالی ووڈ کی ایک مشہور فلم پاکیزہ کے ساتھ تشبیہ دی۔ لکھنئو کے مسلم کلچر اور ایک طوائف کی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کی پروڈکشن پر ڈائریکٹر کمال امروہی کو 16سال صرف کرنے پڑے۔ گو کہ فلم باکس آفس پر ہٹ ہوگئی، مگر اسکی ریلیز سے چند روز قبل ہی اس کی مرکزی اداکارہ مینا کماری چل بسی۔ نئی دہلی میں بھی چند حلقے
مزید پڑھیے