BN

اوریا مقبول جان


مغرب کا عذاب ابھی ختم نہیں ہوا


وہ مالکِ کائنات جس کا اس کائنات پر بلا شرکتِ غیرے اقتدار مسلّم ہے۔ جس کے اشارے سے ہوائیں چلتی، بادل برستے، زمینیں سیراب ہوتی اور فصلیں اُگتی ہیں۔ جس کا دعویٰ ہے کہ ’’ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے زندگی دی‘‘ (الانبیائ: 30)۔ اور ساتھ ہی وہ یہ وارننگ بھی دیتا ہے ’’اگر تمہارے پینے کا پانی زمین میں اُتر جائے تو کون تمہارے لئے صاف پانی لائے گا‘‘ (الملک: 30)۔ جو رحمتوں کی بارشوں کا ذکر فرماتا ہے اور عذاب کے کوڑوں کی نوید بھی سناتا ہے۔ گذشتہ صدی سے ’’تہذیب یافتہ‘‘ مغرب نے بحیثیت مجموعی
اتوار 24 اکتوبر 2021ء مزید پڑھیے

طالبان سے مختلف سلوک کیوں؟

هفته 23 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
قائد اعظمؒ پر فلم بنا کر شہرت حاصل کرنے والے ڈاکٹر اکبر ایس احمد، نوکری کے اعتبار سے سول سرونٹ تھے اور طبیعت و مزاج بھی افسر شاہی جیسا ہی رکھتے تھے۔ جن دنوں وہ کمشنر کوئٹہ تھے تو چمن سے کسی نے انہیں اناروں کی دو پیٹیاں بھیجیں۔ کمشنر صاحب کے ملازمین نے بخوشی پیٹیاں کھولیں تو دونوں پیٹیوں میں اناروں کے ساتھ ساتھ دو عدد ہینڈ گرنیڈ بھی نکلے۔ اکبر ایس احمد صاحب کمشنر بہادر نے فوراً مجھے فون کیا جو اس وقت اسسٹنٹ کمشنر چمن تھا۔ میں نے اس سادہ لوح اچکزئی کو بلایا اور ان گرنیڈوں
مزید پڑھیے


ایک اور ’’نائن الیون‘‘ کا خواب

جمعه 22 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
افغانستان میں امریکہ کی ذِلّت آمیز شکست کے باوجود پاکستان ہی نہیں، بلکہ دُنیا بھر میں امریکی نمک خوار یا ٹیکنالوجی پرست ’’مشرکین‘‘ اپنے خواب و خیال کی دُنیا میں امریکہ کو فاتح قرار دیئے بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں نے ’’پری سکول‘‘ کے زمانے سے امریکی اور یورپی تہذیب و ثقافت کو اوڑھنا شروع کیا تھا اور عمر کے ساتھ ساتھ مغربی طرزِ زندگی کے ہر بُت کو تعریفی نگاہوں سے دیکھا تھا، ایسے لوگوں کے سامنے امریکہ اور اس کی ٹیکنالوجی کا ’’بُت‘‘ دھڑام سے گر کر کرچی کرچی بھی کیوں نہ ہو جائے وہ اس میں اس کی
مزید پڑھیے


لاہور میں شاہ ولی اللہ ؒکی فکر کا امین

جمعرات 21 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
ایک صاحبِ علم جس کو اللہ نے تقریر کے فن میں بھی مہارت عطا کی ہو،اس کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کی تقریر اس قدر مربوط اور جامع ہوتی ہے کہ اسے بغیر کسی تخفیف و اضافہ،ایک مضمون کی صورت ضبطِ تحریر میں لایا جا سکتا ہے۔صدیوں سے روایت چلی آ رہی ہے کہ لوگ اپنے اساتذہ کی گفتگو کو ذہن میں محفوظ کرتے اور پھر اسے تحریر میں لا کر آنے والی نسلوں کیلئے ایک اثاثہ چھوڑ جاتے۔ افلاطون کی اکثر کتب اس کے اُستاد سقراط کی گفتگو کا نچوڑ ہیں۔ اولیائے کرام اور بزرگانِ دین کی
مزید پڑھیے


ایڈورٹائزنگ: عشوۂ و ناز و انداز کا بازار (آخری قسط)

اتوار 17 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ صدی رونقِ بازار اور گرمئی بازار کی صدی ہے، جسے عرفِ عام میں صارف کی دُنیا "Consumer World" کہا جاتا ہے۔ صارف یعنی اشیاء کو خریدنے یا استعمال کرنے والے کو مسلّمہ تجارتی اُصول کے تحت ’’بادشاہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بزنس ایڈمنسٹریشن اور مارکیٹنگ کی تمام نصابی کتب میں یہ فقرہ آپ کو آغاز میں ہی مل جائے گا۔ "Consumer is the King"۔ خریدار یا صارف بادشاہ ہوتا ہے۔ بادشاہ کی پسند و ناپسند کے مطابق ہی مال تیار کیا جاتا ہے۔ مارکیٹ دراصل نام ہی اس جگہ کا ہے جہاں لوگوں کی پسند کے مطابق مال
مزید پڑھیے



ایڈورٹائزنگ: عشوۂ و ناز و انداز کا بازار

هفته 16 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
زنِ بازاری جسے عرفِ عام میں ’’طوائف‘‘ اور بازاری زبان میں ’’رنڈی‘‘ کہا جاتا تھا، انسانی تہذیب کے اوّلین دَور سے اپنی شکلیں، رُوپ اور انداز بدلتی رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جسم فروشی انسانی تاریخ کا پہلا پیشہ، دھندا یا کاروبار ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں لطافت، باریکی اور نفاست آتی گئی، یوں جسم فروشی جو اس دھندے کا اصل مقصد تھا، وہ سات پردوں میں چھپا دیا گیا اور بازارِ حُسن کے ظاہری ماحول کو رنگین، دلچسپ اور دلآویز بنانے پر تمام توانائیاں صرف کر دی گئیں۔ برصغیر پاک و ہند میں طوائف کے
مزید پڑھیے


عورت مارچ سے عائشہ ٹِک ٹاکر تک

جمعه 15 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پرویز مشرف دَور کی اخلاق باختگی اور اس کی باقیات کا گہرا اور مہیب سایہ میٹھے زہر کی طرح پاکستانی اخلاقیات پر ایسا مسلّط ہوا ہے کہ اس کا بھیانک روپ اب آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ تہذیبوں پر اثر انداز ہونے اور انہیں اخلاقی طور پر تباہ کرنے کیلئے دُنیا میں اصولوں پر مبنی ایک ایسا طریقِ کار اختیار کیا جاتا رہا ہے، جو جنسیات کے میٹھے زہر میں لپٹا ہوتا ہے۔آج سے صرف دو سو سال قبل تک دُنیا کی کوئی تہذیب، ثقافت اور معاشرت، شرم و حیاء اور اخلاقی اُصول و ضوابط سے خالی
مزید پڑھیے


ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے حاسدین

جمعرات 14 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پوری دُنیا کی نگاہیں پاکستان کی طرف تھیں، بھارت ایٹمی دھماکے کر چکا تھا اور دُنیا یہ سمجھ رہی تھی کہ اب کسی بھی وقت پاکستان ایٹمی دھماکہ کر کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونے والا ہے، جن کے پاس ’’ایٹم بم‘‘ ہے۔ چاغی مرکزِ نگاہ تھا۔ ہر خاص و عام کو ان تیاریوں کا اندازہ تھا جو کسی بھی ایسے بڑے واقعے کیلئے ضروری ہوا کرتی ہیں۔ دالبندین کا بازار، اس کے گردونواح کے پہاڑ، اور وسیع ریگستان، سیکورٹی فورسز کے جوانوں میں گھرے ہوئے تھے۔ راس کوہ کا پہاڑ کئی سال پہلے ہی سے مقامی لوگوں
مزید پڑھیے


تعفن زدہ گٹر

اتوار 10 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
جدید سیکولر، لبرل میڈیا اوراس کے زیرِ اثر سوشل میڈیا کے مشترکہ ’’گٹر‘‘ کی بدبو اور تعفن سے وہ خاتون اسقدر تنگ آئی ہوئی تھی کہ ایک طویل صبرآزمازندگی، بلیک میلنگ اور اذیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ایک دم پھٹ پڑی کہ سب غلاظت اور گند تو میرے ہی ٹک ٹاک پارٹنر کا ہے۔ وہ سارے دانشور، صحافی ، ادیب، حقوقِ نسواں کے این جی او زادے جو مینارِ پاکستان کے واقعے کے بعد سے پاکستانی معاشرے کے خلاف ایک مقدمہ قائم کیے ہوئے تھے، ہر روز اسے بدنام کرتے تھے، ان سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ
مزید پڑھیے


پاکستان کی ضمیر فروش اشرافیہ

هفته 09 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
جس طرح آج سے بیس سال قبل گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد امریکہ کے عسکری اور سول ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے اورپھر ایک نتیجے پر پہنچے کہ ’’پاکستان کی مدد کے بغیر، افغانستان میں داخل ہونا ایک ڈراؤنا خواب ہوگا‘‘۔ ویسے ہی آج افغانستان سے نکلنے کے بعد، امریکی اسٹبلشمنٹ اس خوف کا شکار ہے کہ کہیں چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت اسقدر مضبوط نہ ہوجائے کہ ہمیں پاکستان سے دیس نکالا مل جائے۔ اگر کبھی ایسا ممکن ہوا تو یہ امریکی منصوبہ بندی کے ستر سالوں کی سب سے بڑی ناکامی اور امریکی اثر
مزید پڑھیے








اہم خبریں