BN

اوریا مقبول جان



فتح قسطنطنیہ، زوالِ قسطنطنیہ، فتح قسطنطنیہ


استنبول جو پوری دنیا میں 1923 ء تک قسطنطنیہ کہلاتا تھا۔ وہ نام جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بشارتوں والی احادیث میں ادا ہوا۔ کمال اتاترک اور اسکے سیکولر حواریوں کو اس نام سے اسقدر نفرت تھی کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فوراً ہی اسکا یونانی زبان میں مستعمل نام استنبول رکھ دیا، جو دراصل ایک یونانی محاورے "ستنبولی" سے مختص ہے جسکا مطلب ہے "شہر کے وسط" یا " شہر کی جانب"۔ یہ شہر،مسیحی یورپ کے اتحاد کی آخری علامت ،بازنطینی حکومت کا مرکز تھا جسے پورے یورپ میں "Constantinople" کہا
منگل 25 جون 2019ء

پرانے شکاری اور پرانا جال

پیر 24 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
ستائیس سال بعد ایک دفعہ پھر ویسا ہی جال پھینکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جال کی ترتیب اور گرہ بندی تو پہلے بھی امریکہ میں کی گئی تھی اور آج بھی پسِ پردہ ہدایت کاری کا فریضہ وہی انجام دے رہا ہے۔ لیکن اسوقت تیرہ سالہ افغان جہاد کے رہنما اس جال کی باریکیوں کو نہیں پہچانتے تھے اور دوسری بات یہ کہ انہیں پاکستان کی قیادت پر بہت بھروسہ تھا۔ افغانوں کے دلوں میں عزت و تکریم اور انکی نظروں میں بھروسے کی حیاء جنرل ضیاء الحق شہید کی وجہ سے تھی۔ لیکن اب ویسے ہی
مزید پڑھیے


کنارِ نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم

بدھ 19 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
وہ سرزمین ہے جہاں تاریخ انسانی کے متکّبر، جابر اور ظالم فراعین مصر کے روبرو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی آواز گونجی تھی، وہاں گزشتہ ایک سو سال سے ایک قافلہ حق ہے جوشہادت کی مشعل کو اپنے خون سے روشن کئے ہوئے ہے۔ اخوان المسلمون کا قافلہ۔ جس نے ایک بار پھر محمد مرسی کے خون سے اس قندیل کی لو کو ضو فشانی بخشی۔ شہادتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جن پر آنسو بہاتے اور انکی قربانیوں سے حوصلہ لیتے ہوئے زندگی کے پچاس سال بیت گئے۔ شاعری کی جس کتاب کو میں نے مدتوں اپنے دل کے
مزید پڑھیے


معیشت اور پاکستان میں تحریکوں کا مزاج

منگل 18 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
معیشت کی بدحالی اور طبقاتی استحصال سے معاشروں میں انقلاب کیسے جنم لیتا ہے اور ان میں "انارکی" یعنی افراتفری کیسے پیدا ہوتی ہے، یہ سوال گزشتہ کئی صدیوں سے مفکرین کے اذہان پر دستک دیتا رہا ہے اور افلاطون کی "الجمہوریہ" سے لے کر آج تک لوگ اسکے جواب کی تلاش میں ہیں۔ گذشتہ صدی کی دو کتابیں اس سوال اور اسکے تاریخ میں دیے گئے جوابات کا نچوڑ ہیں۔ انسانی ذہن میں معاشی بدحالی سے جنم لینے والے روّیوں کو دو انقلابات میں تقسیم کیا گیا ہے 1) سوشلسٹ یا کیمونسٹ تبدیلی اور 2) انارکسٹ (Anarchist) تبدیلی۔
مزید پڑھیے


پاکستان میں تحریکوں کا مزاج اور مقاصد

پیر 17 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
انگریزی صحافت، عالمی میڈیا اور بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں نے دنیا بھر اور خصوصاً پاکستان میں تبصرہ نگاروں، تجزیہ کاروں اور دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ پیدا کر دیا ہے جسکا پاکستان کے زمینی حقائق سے تعلق واجبی سا رہ گیا ہے۔ وہ سروے رپوٹوں کے اعداد و شمار، معاشی جائزوں، خطے میں موجود طاقتوں کے مفادات اور عالمی معیشت کے گورکھ دھندوں سے حاصل کردہ معلومات کو سامنے رکھتا ہے اور اس بارہ مسالے کی چاٹ میں اپنی خواہشات کا چورن ملا کر قلم کی طاقت سے ایک "شاندار "تجزیہ برآمد کرتا ہے۔ ایک طویل عرصہ پاکستان کے یہ
مزید پڑھیے




تیری بربادیوں کے مشورے ہیں

بدھ 12 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ صدی کے ترقی پسند سامراج دشمن اور موجودہ صدی کے روشن خیال سامراج دوست دانشور جو اسلام اور مسلمانوں کی تضحیک و تمسخر کے لیے طرح طرح کے تاریکی چٹکلے تخلیق کرتے تھے، یوں لگتا ہے آج وہ خود ان تاریخی چٹکلوں کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ ایک تاریخی چٹکلہ جسے بچپن سے سنتے سنتے کان پک چکے ہیں وہ یہ تھا کہ "جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو مسلمان اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ سوئی کے ناکے پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں"۔ اس احمقانہ اور بے جوڑ بات کا اطلاق
مزید پڑھیے


ججوں کا ضابطۂ اخلاق

منگل 11 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کی عدالتوں میں روزانہ کروڑوں گواہ اس مالک کائنات کو حاضر و ناظر جان کر اپنی اپنی مذہبی کتابوں پر ہاتھ رکھ کر قسم اٹھاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اسی طرح کے حلف کی روایت انگریز کے زمانے سے چلی آ رہی تھی جس میں ضیاء الحق نے ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ "اگر میں جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار"۔ شروع شروع میں پولیس کے روایتی گواہ جو مثلِ مقدمہ دیکھ کر سچ جھوٹ ملا کر بیان دیا کرتے تھے وہ بہت ہچکچائے، لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ اسکے عادی
مزید پڑھیے


جمہوریت کی بالادستی میں قتل و غارت کے 119سال

پیر 10 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
میں آج تک اس پانچ سالہ بچے کا چہرہ نہیں بھول سکا اور لگتا ہے کہ موت تک وہ چہرہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا یہ الفاظ آئندہ امریکی انتخابات میں ڈیمو کریٹ پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شریک سیٹھ مولٹن(seth moultan)کے ہیں۔ اکتالیس سالہ مولٹن میسی چوسٹ ریاست سے امریکی کانگریس کا رکن ہے۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ 2002ء میں سکینڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے فوج میں بھرتی ہوا اور ورجینیا کے ٹریننگ سکول سے تربیت کے بعد وہ براہ راست صدام حسین کے عراق پر حملے کے لئے بھیج
مزید پڑھیے


عید اور امت مسلمہ

بدھ 05 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
کیا کسی کو خبر ہے کہ پوری دنیا میں تقریبا چھبیس کروڑ مسیحی ایسے ہیں جو 25 دسمبر کو کرسمس یعنی سیدنا عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا دن نہیں مناتے۔ رقبے کے حساب سے دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں یہ آبادی کا 77 فیصد ہیں جبکہ یوکرین، رومانیہ، بیلاروس، یونان، سربیا، بلغاریا، جارجیا، قبرص اور بوسنیا، میں یہ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ انہیں راسخ العقیدہ (Orthodox) عیسائی کہا جاتا ہے۔ یہ چھبیس کروڑ عیسائی کرسمس کو قدیم جولین(Julian) کیلنڈر کے مطابق مناتے ہیں۔ یہ رومن بادشاہت کے زمانے کا کیلنڈر ہے جسے جولیس سیزر
مزید پڑھیے


جمہوریت کا سو سالہ سفر :ہٹلر سے نریندر مودی تک

منگل 04 جون 2019ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ ستر سال سے یہ سب سنتے ہوئے کان پک گئے ہیں کہ وہ دیکھو ہمارے پڑوس میں ایک ملک بھارت ہے، ہمارے جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ویسا ہی کھانا کھاتے ہیں، گانے سنتے ہیں، ہماری طرح کی رسم و رواج رکھتے ہیں، اکثریت نسلی طور پر بھی ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارے مزاج بھی ایک جیسے ہیں، مگر ان سب مشترکات کے باوجود، وہاں فوج حکومت کا تختہ الٹ کر برسر اقتدار نہیں آتی، وہاں جمہوریت کا پہیہ چلتا رہتا ہے، وہاں سسٹم پٹری سے نہیں اترتا۔ پھریہ دانشور خود ہی اس سب کی
مزید پڑھیے